جموریت، آمریت اور دانشور - عادل فیاض

چند دانشوروں نے نئی منطق پیش ہے کہ وقت کا حکمران ملک کو لوٹے، عوام کی فلاح کے بجائے لندن میں اپنی جائیدادیں بنائیں لیکن کسی کو یہ اختیار نہیں کہ عدالت میں جا کر اس سے پوچھے کہ حضور والا آپ نے یہ سب کیوں کیا؟

ایسا نہیں کہ وہ آمریت کو درست سمجھتے ہیں بلکہ جمہوریت پر پورا یقین رکھتے ہیں اور عوام کی آزادی رائے پر بھی ان کا پورا ایمان ہے، مگر وہ چاہتے ہیں کہ عوام کا منتخب کردہ نمائندہ اگر وقت کا سب سے بڑا آمر بن جائے، تو کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اس کی آمریت کے خلاف آواز اٹھائے۔ جلسے جلوس کا اہتمام کرے، کیونکہ خدشہ ہے کہ اس سے تیسری قوت فائدہ اٹھاتی ہے۔

اس کی تاویل میں وہ پہلی مثال ذوالفقار علی بھٹو صاحب کی دیتے ہیں کہ اپوزیشن اگر جمع نہ ہوتی تو بھٹو صاحب کی آمریت کا سورج غروب نہ ہوتا۔ ان کے ظلم کا بازار گرم اور مخالفین کا قتل عام جاری و ساری رہتا، ایک نہ ایک دن سارے مخالفین وہ ختم کر دیتے، اور یوں جمہوریت کو وہ اکیلے چلاتے رہتے۔

جمہوریت مضبوط ہوگی جمہوری رویوں سے، مخالفین کو برادشت کرنے سے، الیکشن سسٹم شفاف بنانے سے، جماعتوں میں انتخابات کروانے سے، جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے بجائے باصلاحیت اور ایمان دار لوگوں کو ٹکٹ دینے

جمہوریت کا سبق دیتے یہ دانشور بھول جاتے ہیں کہ خود بھٹو صاحب نے ایوبی آمریت کی کوکھ سے جنم لیا تھا۔ کسی بھی قیمت پر اقتدار کا حصول ان کے پیش نظر تھا، چاہے اسکندر مرزا کو قائداعظم سے بڑا لیڈر قرار دینا پڑے، چاہے ایوب خان 'ڈیڈی' کہلائیں، یا پھر ملک کی ہی قربانی دینی پڑے۔ عوام نے ان کے بجائے شیخ مجیب الرحمٰن کو منتخب کیا تھا لیکن بھٹو صاحب کی تربیت چونکہ ایوب خان اور یحیٰی خان نے کی تھی، لہٰذا انہوں نے بھی عمران خان کی طرح اقتدار کی کرسی پر اپنا بنیادی حق سمجھا، اس کی پرواہ کیے بغیر کہ ملک دو لخت ہوجائے گا۔ پھر ملک دولخت ہی ہوا لیکن ان کو کوئی فرق نہ پڑا، ہاں البتہ "جمہوریت" کو انہوں نے ضرور بچا لیا۔

دانشوروں کی ضد ہے عوام بھٹو صاحب کے اپوزیشن کے خلاف ظالمانہ اقدامات، سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کے قتل، بلوچستان میں آپریشن اور سرحد و بلوچستان کی صوبائی حکومتوں کے خاتمے، اخبارات و رسائل کی بندش اور 1977ء کے الیکشن میں ریکارڈ دھاندلی پر اُف تک نہ کرتے۔ اپوزیشن ان مظالم پر آواز بلند نہ کرتی تو "بھٹو جمہوریت" کی بساط نہ لپیٹی جاتی۔ اس میں بھی یہ بات پس پشت ڈال دی جاتی ہے کہ ضیاء الحق کے آنے کے ذمہ دار بھٹو صاحب تھے۔ اپنے ظالمانہ اقدامات کے باوجود وہ حد درجہ خوداعتمادی کا شکار تھے، اس لیے اپوزیشن سے معاہدے پر دستخط کے بجائے بیرون ملک چلے گئے، وہ ایسا نہ کرتے تو شاید معاملہ دوسرا ہوتا۔ ضیاء الحق کے آنے سے نقصان تو اپوزیشن کا بھی ہوا۔ بھٹو دور میں مار بھی کھائی اور اقتدار بھی نہ ملا۔ یہ بات بھی کافی دلچسپ ہے ضیا الحق کے آس پاس بھٹو صاحب کے دوست بھی اقتدار کے مزے لوٹ رہے تھے، جو بھٹو دور میں جموریت کے دلدادہ تھے، اور ستم ظریفی یہ ہے کہ آج پیپلزپارٹی کی اگلی صفوں میں اسی ضیاء الحق کے ساتھی بیٹھے ہیں۔

یہی معاملہ کم و بیش نوازشریف صاحب کے ساتھ پیش آیا۔ انہوں نے بھی آمریت کی کوکھ سے جنم لیا۔ جنرل ضیاء الحق اور جنرل جیلانی نے ان کی پرورش کی، انہی نے اقتدار سے نوازا، اور یہ تو محض غلط فہمی ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ مخالف ہیں، پچھلی حکومت میں ہی وہ کالا کوٹ پہنے یوسف رضا گیلانی کے خلاف سپریم کورٹ میں پیش ہوئے تھے۔ یہ بتانے کی شاید ضرورت نہیں کہ کس کے کہنے پر اور کس کی خوشنودی کے لیے۔ میاں صاحب بھی بھٹو صاحب کی طرح آمرانہ ذہن رکھتے ہیں۔ مخالفین پر تشدد اور ڈٹ کر کرپشن گویا ان کا حق ہے، لیکن دانشوروں کی ضد ہے کہ عدالت میں ان کو کھڑا کر کے نہ پوچھا جائے کہ میاں صاحب ملک کو کیوں لوٹا؟

ایک بات البتہ ضرور کہنی چاہیے کہ عدلیہ نے آمریت کے طرح عوام سے ظلم کیا، اور ان کی محنت پر پانی پھیر دیا۔ میاں صاحب کو نااہل کیا لیکن ایک کمزور بنیاد پر، حالانکہ ان کے خلاف مضبوط دلائل موجود تھے۔ کمزور دلیل پر نااہل کر کے میاں صاحب کو مظلوم بنا دیا گیا۔ یہی کام پہلے آمریت کرتی تھی کہ عوام جن حکمرانوں سے تنگ آ جاتے، آمریت ان کو مظلوم بنا کر پھر سے ان میں جان ڈال دیتی۔

اگر ایسے دانشوروں کا مقام مجروح نہ ہو تو عرض کریں کہ آپ نے جمہوریت کو بچانے کی جو منطق نکالی ہے، وہ درست نہیں ہے۔ جمہوریت کیسے مضبوط ہوگی؟ جواب تو سادہ سا ہے، اگر کوئی سمجھے، نہ سمجھنا چاہیے تو کیا کیا جا سکتا ہے۔

جمہوریت مضبوط ہوگی جمہوری رویوں سے، مخالفین کو برادشت کرنے سے، الیکشن سسٹم شفاف بنانے سے، جماعتوں میں انتخابات کروانے سے، جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے بجائے باصلاحیت اور ایمان دار لوگوں کو ٹکٹ دینے۔ کرپشن کے خاتمے اور میرٹ کو یقینی بنانے سے۔ مگر اس کے بجائے دانشور چاہتے ہیں کہ آمریت کی کوکھ میں پلے لیڈروں کو جمہوریت کا چولا پہنا کر، سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کی مدد سے اقتدار لے کر، ملک میں خاندانی بادشاہت قائم کر کے لوگوں کو بیوقوف بنائیں، مگر جمہوریت بچانی ہے تو ان کا احتساب نہ کیا جائے۔ اب لولی پاپ کا دور گزر چکا ہے، اب تو بچے بھی نہیں لیتے۔ آپ دینے چلے ہیں سوشل میڈیا کے دور کی عوام کو؟

Comments

عادل فیاض

عادل فیاض

عادل فیاض اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے میڈیا سیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سیاست، مذہب، کرکٹ، بحث و مباحثہ سے شغف رکھتے ہیں. مستقبل میں میڈیا کو اسلامائز کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.