جدید مغربی فکر کی تاریخی اساس - فیصل ریاض شاہدؔ

قدیم یونانی اور رومی فکر اور اس کے اثرات سے قطع نظر اگر ہم جدید مغرب پر بات کریں تو پچھلے چھ سو سالہ مغربی الحادی فلسفے کا حاصل صرف ایک لفظ ہے، "ہیومن ازمHumanism-" یعنی انسان پرستی!

انسان پرستی سے مراد یہ ہے کہ قابل پرستش معبود صرف اور صرف انسان ہے! جدید مغربی فکر میں انسان کو عبد سے اٹھا کر معبود کا رتبہ دے دینا مغرب کی وہ سنگین غلطی ہے جس کا ازالہ ممکن نہیں ہے۔ اسی فکر کا نتیجہ ہے کہ آج یورپ منافقت اور الحاد کا سب سے بڑا حامی اور داعی بن گیا، وہاں کی اقدار اور ترجیحات بدل گئیں، مقصد حیات بدل کر رہ گیا اور حقیقی وروحانی خوشگواری ناپید ہو کر رہ گئی۔

سب سے پہلے یہ سمجھنا چاہیے کہ الحاد کیا ہے۔ الحاد(Atheism) دراصل اس زہنی مرض کا نام ہے جس میں انسان پر مادی ترقی اور تسخیر کائنات کا ایسا بھوت سوار ہو تا ہےکہ وہ اپنی چھوٹی سی عقل دانی کو عقل کلی مان لیتا ہے اور اسے پیمانہ و معیار ِ حق و باطل قرار دیتا ہے (
Human is the measure of all things
)، ناصرف مابعد طبیعات، روحانیات، اخلاقیات اور اقدار سے اس کا ایمان اٹھ جاتا ہے بلکہ ایسا مریض وجود باری تعالیٰ کا ہی انکار کر دیتا ہے،نبوت و رسالت، جزاء وسزا، جنت اور دوزخ، جنات، ملائک اور غرض ہر قسم کے مذہبی عقائد و نظریات اور تعلیمات اس کی نظر میں بے معنی ہو کر رہ جاتے ہیں۔ وہ اہل مذہب کے اجتماعی فہم کو جہالت سمجھتے ہوئے ناصرف اسلام بلکہ تمام مذاہب کی مطلق فکر کو ہی رد کر دیتا ہے۔

نظریہ الحاد پر ایمان لانے والوں کے مختلف طبقات اور مختلف نام ہیں۔ عام طور پر انہیں دہرئیے اور ملحدین کہا جاتا ہے۔ بقول ملحدین، وہ کسی بھی مذہب کے پیروکار نہیں ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ملحدین کا مذہب اور اوڑھنا بچھونا سائنس ہے۔ سائنس پرستی میں ملحدین اس حد تک آگے نکل چکے ہیں کہ صرف انہی حقائق کو تسلیم کرنے پر آمادہ ہیں کہ جنہیں سائنس نے ثابت کیا ہو، جس شے سے سائنس کو کوئی واسطہ نہیں، ملحدین بھی اس سے دستبردار ہیں۔ یہ بات تو روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ سائنس کا تعلق طبیعات یعنی مادے سے ہے، مابعدطبیعات (Metaphysics) سائنس کا موضوع ہی نہیں، لہذا سائنس اس حوالے سے کوئی رائے قائم کرنے سے بھی قاصر ہے مگر ملحدین اس قدر مذہب دشمن واقع ہوئے کہ جہاں سائنس خاموشی اختیار کرے، اسے یہ لوگ انکار پر محمول کرتے ہیں۔ مثلا وجود باری تعالیٰ سائنس کا موضوع نہیں اس لیے سائنس واضح طور پر نہ تو وجود باری تعالیٰ کا انکار کرتی ہے اورنہ اقرار۔۔۔لیکن ملحدین انکار پر مصر ہیں۔

الحاد اور سائنس پرستی جدید مغرب کی ہر فکر، ہر نظرئیے اور ہر زہن کا خاصہ ہے۔ مغرب نے الحاد کو اچانک سے قبول نہیں کر لیا، بلکہ اس کے پیچھے ایک مکمل تاریخ ہے، جس سے گزرکرمغرب آج اس نہج تک پہنچا ہے۔

ہیومن ازم کی بات ہو رہی تھی۔ ہیومن ازم وہ نظریہ ہے جس نے جدید الحاد کی بنیاد رکھی۔ بہ یک وقت ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ الحاد کا فی الواقع پہلا اظہار ہیومن ازم کی شکل میں ہوا۔ بات جو بھی ہے یہ ثابت شدہ اور تسلیم شدہ امر ہے کہ مغرب ہیومن ازم کا سب سے منبع اور مرکز ہے۔ عالم یہ ہے کہ پچھلے پانچ سو سال میں مغرب سے نکلنے والے ہر نظرئیے، ہر فکر اور خاص طور پر ہر "جدید علم(Modern Science)" کی رگوں میں ہیومن ازم (انسان پرستی ) کا خون دوڑ رہا ہے۔گویاہیومن ازم اس درخت کا تنا ہے جو "انکار وحی اور الحاد" کے بیج سے پھوٹا ہے۔ سوشل سائنسز کے تمام جدید علوم اسی تنے کی شاخیں ہیں۔ سوشل سائنسز کے "ثمرات" کو کھول کر دیکھیں تو بیچ میں سے وہی "الحادی بیج" برآمد ہو جائے گا۔

یورپ کی گزشتہ اڑھائی ہزار سالہ فکری تاریخ پڑھنے لائق ہے۔ عیسائیت کے فروغ کے بعد پانچویں صدی عیسویں سے پندرہویں صدی عیسویں تک کا عہد مغرب میں ڈارک ایجز، تاریک زمانہ اور ظلماتی دور کے ناموں سے یاد کیا جاتا ہے۔ پندرہویں صدی عیسویں میں یورپ میں نشاۃ ثانیہ (Renaissance)اور خودساختہ بیداری پیدا ہوئی جو پندرہویں سے سولہویں صدی عیسویں تک محیط ہے۔ اس کے بعد ایج آف ریزن (Age of Reason) کا دور شروع ہوا اور عقل پرستی کا خوب نام ہوا۔ عقلیت کا دور سترہویں صدی سے اٹھارویں صدی کے وسط تک پھیلا ہوا ہے۔ ایج آف ریزن کے بعد یورپ میں نام نہاد روشنی خیالی(Enlightenment) اور ماڈرن ازم(Modernism) کا عہد شروع ہوتا ہے جو انیسویں صدی میں یورپ کے صنعتی انقلاب اور بے دریغ سائنسی ترقی کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ ماڈرن دور یا ماڈرن ازم یعنی جدیدیت کے بعد آج ہم جس زمانے میں رہ رہے ہیں یہ پوسٹ ماڈرن ازم یعنی "ماڈرن ازم کے بعد" کا زمانہ ہے۔ ان تمام ادوار میں اگرچہ یورپ کے فکری نعرے بدلتے رہے مگر ان نعروں میں انکار وحی، انکار مذاہب اور مادیت پرستی کی روح مستقل طور پر موجود رہی۔ مذہب بیزاری، بلکہ مذہب انکاری کا نام چاہے ماڈرن ازم رکھ لیا جائے یا پوسٹ ماڈرن ازم، اس سے حقیقت میں کچھ فرق نہیں پڑتا۔ اہل علم و فکر خوب جانتے ہیں کہ یورپ پچھلے پانچ چھ سو سال سے مسلسل زمانہ جاہلیت میں ہے۔یورپ کی نشاۃ ثانیہ سے لے کر دور حاضر کے فلسفے تک، ہر مغربی فلسفہ انکار وحی پر مشتمل ہے۔ مارٹن لوتھر کی تحریک اصلاح مذہب سے لے کر دور حاضر میں یورپی مذہب بیزاری تک ہر فکر، ہر فلسفہ مبینہ طور پر الحاد کا سہولت کار ہے۔

آج ہم جس دور میں ہم رہ رہے ہیں، فلسفے کی زبان میں اسے پوسٹ مادڑن ایج کہا جاتا ہے۔ یعنی وہ زمانہ جو ماڈرن زمانےسے بھی دو ہاتھ آگے ہو۔ پوسٹ ماڈرن ازم کامطلب ہے ماڈرن ازم کے بعد۔۔۔ یہ کیا ہے؟ اسے سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ ہم ماڈرن ازم کا مطالعہ کریں لیکن ماڈرن چونکہ قدیم کا الٹ ہے اس لیے سب سے پہلے ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ مغرب میں قدیم سے مراد کیا ہے، تب ہی ہم اس قابل ہوں گے کہ ماڈرن ازم اور پوسٹ ماڈرن ازم کے صحیح مفہوم کو سمجھ پائیں۔

جہاں مشرق مذاہب کی سرزمین رہا ہے، وہاں مغرب فلسفے کی اماجگاہ ہے۔ جیسے مشرق میں یکے بعد دیگرے مختلف مذاہب نمودار ہوتےاور مٹتے رہے ہیں، ایسے ہی مغرب میں تھیلیز (طالیس ملیطی) سے سقراط، سقراط سے ارسطو، ارسطو سے رینے ڈیکارٹ اور ڈیکارٹ کے بعد کانٹ، ہیگل اور آج کے زمانے تک مختلف فلاسفہ نے اپنے اپنے فلسفے پیش کئے ہیں۔ مشرق میں جہاں مختلف مذاہب خصوصا اسلام نے زندگی گزارنے کا اپنا ایک مستقل نظریہ حیات پیش کیا ہے وہاں مغربی فلاسفہ نے بھی زندگی کے مختلف پہلووں اور جہتوں سے بحث کی ہے اور اپنا اپنا نظام فکر پیش کیا ہے۔ لیکن مشرقی مذاہب اور مغربی فلسفوں کے درمیان جو بنیادی فرق ہے، وہ یہ ہے کہ تین الہامی مذاہب یعنی یہودیت، عیسائیت اور اسلام کے علاوہ تمام مذاہب اور تمام فلسفے"وحی کی رہنمائی" سے محروم رہے ہیں۔ پھر چونکہ یہودیت اور عیسائیت بھی اصلی حالت میں موجودہ نہ رہ پائے اس لیے ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ دنیا میں وحی کا نمائندہ صرف اور صرف اسلام ہے، اور مد مقابل میں جتنے بھی مذاہب اور فلسفے ہیں، سب کے سب وحی سے محروم ہیں۔ خصوصا مغربی فلسفیانہ فکر نا صرف وحی سے محروم، بلکہ وحی سے انکاری بھی ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ قرون وسطیٰ(Medieval Ages) میں اسلام دنیا کا حاکم مذہب تھا۔ مسلمان سائنسدانوں اور اہل علم و فکر نے بڑی بڑی جامعات اور مدارس کی صورت میں علم کے چراغ جلا رکھے تھے۔ ان یونیورسٹیز میں دور دراز سے ناصرف مسلمان، بلکہ مختلف مذاہب اور فلسفوں سے تعلق رکھنے والے لوگ کھنچے چلے آتے تھے۔ مختصریہ کہ اسلام اور مسلمانوں کا بول بالاتھا۔ یورپ اس زمانے میں کیچڑ میں ڈوبا ہوا تھا۔ اہل یورپ مسلمانوں کی ترقی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے اور دل ہی دل میں جہاں مسلمانوں کی عظمت کے معترف تھے وہاں ان کے دلوں میں بھی یہ خواہش پیدا ہوئی کہ وہ بھی مسلمانوں کی طرح ترقی کریں، علوم کے چراغ روشن کریں اور جس طرح چہار سو مسلمانوں کی عظمت کے ڈنکے بج رہے تھے، ان کی ویران بستیاں بھی محلات میں بدل جائیں۔

یہ اور ان کے علاوہ دیگر بہت سے عوامل تھے، جنہوں نے اہل یورپ کو بیدار کر دیا۔ یورپی اقوام نے بھی ٹھان لی کہ وہ از سر نو "کتابیں اپنے آباء کی"اور "علم کے موتی" تلاش کر کے انہیں پھر سے زندہ کر دیں گے۔گویا اہل یورپ میں ایک فکری انقلاب کی لہر دوڑ گئی۔ اسی فکری انقلاب اور ترقی کے خواب کے زمانے کو یورپی تواریخ میں "رینی سینس" یعنی نشاۃ ثانیہ کا نام دیا گیا ہے۔

فروغ عیسائیت سے لے کر نشاۃ ثانیہ تک قریبا ہزار سال کی یورپی تاریخ، ان کے ہاں "ڈارک ایج" یعنی تاریک زمانہ کہلاتا ہے۔ اہل یورپ اس ہزار سالہ دور کو تاریک زمانہ صرف اس وجہ سے نہیں کہتے کہ یورپ مادی وسائل کے اعتبار سے کوئی پسماندہ خطہ تھا بلکہ اس کی وجوہات علمی نوعیت کی ہیں۔ دراصل یورپ میں قدیم ہی کو ڈارک ایج کہا جاتا ہے۔ لیکن قدیم کو تاریک کہنا کسی منطق پر بھی درست بات نہیں، پھر ایسا کیونکر ہوا کہ اہل مغرب نے اسے تاریک دور قرار دے دیا؟

یہ بات سمجھنے کیلئے ہمیں رینی سینس کے بعد کے ادوار کا مطالعہ کرنا ہو گا، جب یورپ پر ماڈرن ازم کا بھوت سوار ہوا اور جب انہوں نے قدیم کو تاریک سے بدلا۔ دراصل یورپ میں عیسائیت کے فروغ سے قبل یونانی فلاسفہ کا بہت نام تھا۔ ہر خاص و عام فلسفے کا عین اسی طرح شوقین تھا جس طرح ہمارے ہاں لوگ مذہب اور مسلکی مباحث سے شغف رکھتے ہیں اور خصوصا جس طرح آج سائنس کی پرستش کی جارہی ہے، قرون سابقہ میں فلسفے کی پرستش کی جاتی تھی۔ تھیلیز، انیگزیمینڈر، انیگزیمنیز، زینوفنیز، ہرقلیٹس، پارمینیڈیز، زینو میلس، ایمپی ڈوکلز، انیکسا غورس، لیوسی پس، ڈیقراطیس، فیثاغورت، فیلولاس، پروٹا غورس، گاجیاس وغیرہ وہ فلاسفہ تھے جو سقراط سے پہلے ہو گزرے ہیں۔ ان کے بعد سقراط، افلاطون اور ارسطو وغیرہ تو بہت زیادہ مشہور ہوئے۔ غرض عیسیٰ علیہ السلام سے پہلے یورپ میں متعدد فلاسفہ ہو گزرے ہیں۔ لیکن عیسائیت کے فروغ کے بعد یورپی قوم مذہب کے رنگ میں رنگ گئی اور ایک ہزار سال تک یورپ کی فکر پر مذہب کا غلبہ رہا۔ مغربی فکر پر مذہب کی اسی چھاپ کی وجہ سے جدید یورپی فکر، جو مذہب سے بیزار ہے، جو مذہب کو جہالت اور محض قصے کہانیاں گردانتا ہے اور جو الحاد کا داعی ہے، نے اس ہزار سالہ دور کو مدرسیت / ڈارک ایج کا نام دیا اور ڈارک ایج کے علوم یا فلسفے کو میڈیول فلسفہ یا قرون وسطیٰ کا فلسفہ کہا گیا۔ ڈارک ایج کے مشہور فلاسفہ میں مندرجہ ذیل نام شہرت کے حامل ہیں۔

Avicenna (Ibn Sina) (980 - 1037) Persian
Anselm, St. (1033 - 1109) Italian
Abelard, Peter (1079 - 1142) French
Averroes (Ibn Rushd) (1126 - 1198) Spanish-Arabic
Maimonides (1135 - 1204) Spanish-Jewish
Albertus Magnus (c. 1206 - 1280) German
Bacon, Roger (c. 1214 - 1294) English
Aquinas, St. Thomas (1225 - 1274) Italian
Scotus, John Duns (c. 1266 - 1308) Scottish
William of Ockham (Occam), (c. 1285 - 1348) English

پندرہویں صدی میں یورپ حصول علم کی طرف توجہ مبذول کرتا ہے لہذا اس عہد کو بیداری، نشاۃ ثانیہ اور رینی سینس کا عہد کہا گیا۔ یورپ میں رینی سینس کو بیداری اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ ان کے ہاں مذہبی فکر درحقیقت خواب غفلت تھا، جس سے یورپی قوم بیدار ہو ئی اور اس نے ترقی کا عزم مصمم کیا۔ یہاں یورپ نے ٹھوکر یہ کھائی کہ مذہب کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ جان لیا اور اسے پیچھا چھڑانے کے طریقوں پر غور کرنا شروع کر دیا۔ گویا ایک جہالت سے نکلنے کیلئے یورپ دوسری اور زیادہ سنگین قسم کی جہالت کی طرف بڑھ گیا۔ رینی سینس کے مشہور فلاسفہ کے نام یہ ہیں۔

Erasmus, Desiderius (1466 - 1536) Dutch
Machiavelli, Niccolт (1469 - 1527) Italian
More, Sir Thomas (1478 - 1535) English
Bacon, Sir Francis (1561 - 1626) English

نشاۃ ثانیہ وہ دور تھا جب یورپ میں انسان پرستی یعنی ہیومن ازم کے خدوخال نمایاں ہونے شروع ہوئے۔ نشاۃ ثانیہ کی اہم خصوصیات کو مندرجہ ذیل نکات کی شکل میں بیان کیا جا سکتا ہے۔

1۔ اس دور میں انسان کو مرکز کائنات تسلیم کئے جانے کا رواج ہوا اور کائنات کے ہر معاملے کو انسان کے تناظر میں دیکھا جانے لگا۔ گویاوحی کی بجائے انسان حق اور سچ کاواحد پیمانہ قرار دیا جانے لگا۔ یعنی اہم یہ نہیں کہ خدا کیا فرماتا ہے، اہم یہ ہے کہ انسان کیا چاہتا ہے۔ انسان کی اس حیثیت کو مشکوک سمجھا جانے لگا جو خدا نےمتعین کی اور ایک خود ساختہ اہمیت کو فروغ دیا جانے لگا، جس میں انسان کو عبد نہیں بلکہ معبود بنانے پر غور ہوا۔ اسی کا نام آگے چل کر انسان پرستی پڑا۔(ہیومن ازم کی فکر میں کیا کیا خرابیاں ہیں، اس پر ان شاء اللہ کسی دوسری تحریر میں روشنی ڈالی جائے گی)

2۔ ڈارک ایج میں عوام الناس مذہبی رنگ میں رنگے ہوئے تھے اور ان پر عیسائیت کی گہری چھاپ تھی لیکن نشاۃ ثانیہ میں اس مذہبی عقیدت میں کمی واقع ہونا شروع ہو گئی۔ اگرچہ اس دور میں خدا کے وجود اور مابعد طبیعات کاسرے سے انکار نہیں کیا گیا مگر مذہبی عقائد و معمولات پر ایمان رکھنا محض واجبی حد تک رہ گیا۔ مذہب بیزاری عام ہونے لگی اور روحانیت کا زور ٹوٹنے لگا۔ مادیت پرستی کی ایک لہر تھی جو نشاۃ ثانیہ میں تمام یورپ میں دوڑ گئی۔

3۔ یہ بات کہ آخرت کی زندگی غیر یقینی ہے، جانے مرنے کے بعد کوئی زندگی ہو نہ ہو، اسی زمانے میں مشہور ہوئی اور اسی دنیا کو جنت بنانے کی آرزو کی جانے لگی۔ چنانچہ دنیا کو بہتر سے بہترین بلکہ دنیا ہی میں جنت بنانے کی فکر شروع ہوئی۔

4۔ یہ خیال بھی اسی زمانے میں مشہور ہوا کہ خدا کی دو کتب ہیں۔ ایک انجیل اور دوسری فطرت۔ لہذا انجیل کے ساتھ ساتھ فطرت کا مطالعہ بھی ضروری ہے۔ بعض لوگ اس سے دو ہاتھ آگے بڑھ کر یہ کہنے لگے کہ انجیل کو فطرت کی روشنی میں پڑھنا اور سمجھنا چاہیے۔ یعنی نیچریت کو باقائدہ طور پر جواز فراہم کیا جانے لگا۔مشہور سائنسدان گلیلیو بھی اسی نکتہ نظر کا حامی تھا۔

5۔ فطرت کے مطالعے پر زور محض علم کیلئے نہیں دیا گیا بلکہ اس سے مقصود یہ تھا کہ انسانی اختیار میں لامحدود وسعت پیدا کی جا سکے اور کائنات کو انسانی ارادے کے تابع کر دیا جائے۔ تسخیر کائنات کا جنون نشاۃ ثانیہ کی اہم ترین خصوصیت ہے۔ اس کی رو سے انسان کیلئے طاقت(کسی بھی قسم کی طاقت) کا حصول اہم ترین فریضہ ہے تاکہ وہ اپنے اختیار کو لامحدود حد تک وسیع کر کے خدا کے مد مقابل آ سکے یا کم سے کم اس کا ہمسر قرار پا جائے۔

حاصل یہ کہ نشاۃ ثانیہ حقیقت میں بیداری نہیں بلکہ مزید گمراہی تھی۔ اس دور میں کسی بھی فکر کو عوامی سطح پر حتمی طور پر قبول نہیں کیا گیا بلکہ مختلف قسم کے نظریات تھے، جنہیں پیش کیا گیا، جن پر غور کیا گیا، ان میں سے بعض پر زیادہ زور دیا گیا اور بعض کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا۔

نشاۃ ثانیہ کے بعدیورپ میں ایج آف ریزن(Age of Reason) کا دور شروع ہوتا ہے۔ ڈارک ایج اور رینی سینس کے بعد ایج آف ریزن یعنی عقلیت پرستی کا زمانہ یورپی تاریخ کا اہم ترین دور ہے کیونکہ یہی وہ زمانہ ہے جو تمام جدید مغربی افکار اور فلسفوں کا جواز فراہم کنندہ ہے۔ ایج آف ریزن کے نامور فلاسفہ میں مندرجہ ذیل نام شامل ہیں۔

Hobbes, Thomas (1588 - 1679) English
Descartes, René (1596 - 1650) French
Pascal, Blaise (1623 - 1662) French
Spinoza, Baruch (Benedict) (1623 - 1677) Dutch-Jewish
Locke, John (1632 - 1704) English
Malebranche, Nicolas (1638 - 1715) French
Leibniz, Gottfried Wilhelm (1646 - 1716) German

ایج آف ریزن عقلیت پرستی اور تجربیت پرستی کے افکار کی دعوت دیتا ہے۔ اس کی حدود سترہویں صدی سے اٹھارویں صدی کے وسط تک پھیلی ہوئی ہیں۔ اس زمانے میں اہل یورپ یہ فیصلہ کر چکے تھے کہ انسان کی جدوجہد کا میدان یہ مادی کائنات ہے اور اس کا مقصد حیات تسخیر فطرت یا تسخیر کائنات ہونا چاہیے۔ اس دور کی اہم ترین خصوصیت یہ ہے کہ اس زمانہ میں یہ بات تسلیم کر لی گئی تھی کہ وحی کی بجائے عقل انسانی ہی واحد معیارِ حق و باطل اور واحد پیمانہ ہےجس پر ہر شے کو تولا جانا چاہیے۔ جو بات عقل کی دسترس میں نہ ہو وہ مشکوک ہے۔ ڈیکارٹ اور نیوٹن اس فکر کے دو اہم ترین امام ہیں۔ تیسرا اہم ترین نام ڈیوڈ ہیوم کا ہے جس کے مطابق ہر اس شے کو جسے حسی تجربے اورحواس خمسہ کی دسترس میں نہ لایا جا سکے، شک کی نگاہوں سے دیکھنا چاہیے۔ یہی رجحان آگے چل کر فرانس کے فلسفی کونت کے نظریہ ثبوتیت اور انگریزوں کے نظریہ منطقی اثباتیت کی شکل میں ظاہر ہوا۔

ایج آف ریزن کے غالب افکار کو مندرجہ ذیل نکات کی شکل میں لکھا جا سکتا ہے۔

1۔ وحی نام کی کوئی شے وجود نہیں رکھتی۔

2۔ عقل انسانی ہی واحد پیمانہ ہے اور انسان کی رہنمائی کیلئے عقل انسانی ہی کافی ہے۔

3۔ انسان کی تمام جدوجہد کا مقصد و محور تسخیر کائنات ہونا چاہیے۔

4۔ اس عہد میں مغرب روح اور روحانیت کے معنی ہی بھول گیا۔ اس کے چار اطراف میں مادیت ہی مادیت رچ بس گئی۔

5۔ حسی تجربے کو علم کی اساس قرار دے دیا گیا۔ جو شے حواس خمسہ سے باہر ہوئی یعنی مابعد طبیعات، وہ مشکوک ہو کر رہ گئی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یورپ بڑی تیزی کے ساتھ مذہب سے جان چھڑانے کی کوشش میں لگ گیا۔

فلاسفی بیسکس ڈاٹ کام کا مقالہ نگار لکھتا ہے کہ

The Age of Reason saw a continuation of the move away from theology and faith-based arguments, and marks the shaking off of medieval approaches to philosophy such as Scholasticism, in preference for more unified philosophical systems like Rationalism and British Empiricism. The advances in science, the growth of religious tolerance and the rise of philosophical liberalism also led to a revival in Political Philosophy in general. Along with the Age of Enlightenment of the 18th Century, which the Age of Reason gave rise to, it is also know as the Early Modern period.

ایج آف ریزن کے بعد یورپی تاریخ میں تحریک تنویر(Age of Enlightenment)اور ماڈرن ازم (Modernism)کا آغاز ہوا۔ اس دور کے اہم فلاسفہ کے نام یہ ہیں۔

Berkeley, Bishop George (1685 - 1753) Irish
Voltaire (François Marie Arouet) (1694 - 1778) French
Hume, David (1711 - 1776) Scottish
Rousseau, Jean-Jacques (1712 - 1778) Swiss-French
Smith, Adam (1723 - 1790) Scottish
Kant, Immanuel (1724 - 1804) German
Burke, Edmund (1729 - 1797) Irish

یعنی روشن خیالی ایک فکری تحریک تھی جس کا آغاز فرانس، برطانیہ اور جرمنی سے ہوا اور جس کے اہم ترین اہداف میں شخصی آزادی، جمہوریت اور عقل کو معاشرے کی بنیادی اقدار کے طور پر حاصل کرنا تھا۔ بلکہ خاص طور پر کہنا چاہیے کہ تحریک تنویر یعنی روشن خیالی کی تحریک مادر پدر آزاد "فری ڈم"، مساوات، مادی ترقی اور جمہوریت کی اس فکر کا تسلسل تھی جس کی بنیاد نشاۃ ثانیہ میں رکھی گئی۔

ماڈرن ازم سے پہلے بے شمار فکری موضوعات زیر مطالعہ اور زیر غور تھے۔ یہ بات انتہائی توجہ طلب تھی کہ آفاقی سچائیوں، معروضی سچ اور حقیقت مطلقہ کی اہمیت و حیثیت کیا ہے۔ یہ موضوعات تو قدیم یونان سے ہی چلے آ رہے تھے لیکن مدرسیت (ڈارک ایج) میں ان موضوعات کو زیادہ نہیں چھیڑا گیا۔ جرمن مشہور فلسفی کانٹ کے تمام فلسفے کا خلاصہ صرف اتنا نکلا کہ حقیقت مطلقہ اگرچہ موجود ہے لیکن عقل محض سے اس کا ادراک نہیں کیا جا سکتا، اس کا علم حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ یعنی اس نے حقیقت مطلقہ تک پہنچنے کی کوشش کو غیر اہم قرار دے دیا اورایک ایسا راستہ بنا دیا جس پر چل کر بعد کے زمانے میں حقیقت مطلقہ ہی سے انکار کر دیا گیا۔

ماڈرن ازم یعنی جدیدیت کے حامی فلسفیوں نے مذہبی دعوں کو محض اس وجہ سے رد کر دیا کہ وہ ان کی خود ساختہ سائنسی کسوٹی پر پورے نہیں اترے تھے۔ جدیدیت نے عوامی زندگی کے تقریبا تمام شعبوں کو یکسر الٹ کر رکھ دیا۔ مثلا قومی ریاست یا قومیت کا تصور اسی فکر کے بطن سے نکلا جس کے نتیجے میں امریکہ اور یورپ کے ملکوں میں آزاد ریاستیں قائم ہوئیں اور لبرل جمہوریت کو خاصہ فروغ حاصل ہوا۔

اخلاقی محاز پر جدیدیت نے ہر اچھائی اور برائی کا مفہوم ہی الٹ کر دیا۔ مفادپرستی(Utilitarianism)کا تصور عام ہوا جس کے مطابق فائدے کو ہی بنیادی اخلاقیات قرار دیا گیا۔ صرف وہی کام اچھا سمجھا گیا جس سے مادی و مالی فائدہ حاصل ہو سکے اور صلہ رحمی، محبت اور بھائی چارے کو پتھر کے دور کی باتیں قرار دیا گیا۔ اس کے نتیجے میں یورپ میں شدید اخلاقی بحران پیدا ہو گیا۔ جدید فحاشی و عریانی، عورت کی آزادی (Feminism)کے جواز پر زور دینے والی تمام تحریکوں کا جنم جدیدیت ہی کے نطفے سے ہوا ہے۔

جدیدیت کے حوالے سے یہ باتیں زہن نشین کر لیں کہ جدیدیت ان افکار پر ایمان لانے کے مترادف ہے۔

1۔ "لا الہ الا انسان وانا افضل البشر"

2۔ خدا اب قصہ پارینہ ہوا، ہمیں خدا کی ضرورت نہیں بلکہ ہمیں اب خدا سے کوئی مطلب ہی نہیں رہا۔

3۔ ہر طرح کی جائز و ناجائز آزادی ہمارا بنیادی حق ہے جسے دنیا کی کوئی طاقت تو کیا خدا بھی ہم سے چھین نہیں سکتا۔

4۔ ہر انسان برابر ہے، عالم جاہل، چھوٹے بڑے، مرد وظن اور کوئی بھی تقسیم قابل قبول نہیں اگرچہ وہ تقسیم کتنی ہی عقلی، کتنی ہی مذہبی اور کتنی ہی منطقی کیوں نہ ہو۔

5۔ ہر شے کا پیمانہ انسان ہے۔ انسان اور عقل انسانی ہی معیار حق ہیں۔

6۔ جدیدیت ہی کے عہد میں جمہوریت کو مقدس گائے بنا کر پیش کیا گیا اور کہا گیا کہ جمہوریت ہی انسان کے دکھوں کا مداوا ہے۔ میں جمہوریت پر صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ انسان پر جتنا ظلم اس جمہوریت نے ڈھایا ہے اور تاریخ میں انسا ن کے ساتھ جتنا بڑا دھوکہ جمہوریت کے نام پر کیا گیا ہے، اگر آپ اس کی نوعیت اور شدت کا اندازہ کر لیں تو سکتہ طاری ہو جائے۔

غرض جدیدیت میں حضرت آدم ؑ سے لے کر اپنے زمانے تک ہر نظرئیے کو الٹ کر رکھ دیا گیا۔ برے کو اچھا اور اچھے کو برا بنا لیا گیا۔ یہ عہد سائنسی ترقی کے نشے میں دھت تھا۔ اس عہد میں فلاسفہ اور عوام الناس میں وہ سب بکواسات عین مقصد حیات بن گئے جو نشے میں دھت افراد کا خاصہ ہوتی ہیں۔

ہمارے زمانے میں کوئی ایک بھی شعبہ حیات ایسا نہیں جو جدیدیت سے خطرناک حد تک متاثر نہ ہوا ہو۔ ہمارے تمام مذہبی، سیاسی، معاشی، معاشرتی، اقتصادی، ادبی، تعلیمی، روحانی اور غرض تمام انفرادی و اجتماعی افکار جدیدت سے متاثر ہیں۔

ماڈرن ازم کے بعد یورپ پوسٹ ماڈرن ازم یعنی مابعد جدیدیت کا نظارہ کرتا ہے۔مابعد جدیدیت کا زمانہ 1960ء سے شروع ہوتا ہے۔اسے کو دو لفظوں میں بیان کرنا ہوتو اتنا کافی ہے کہ مغرب کا انسان زمانہ جاہلیت میں بھی اتنا جاہل نہیں تھا جتنا آج کے دور میں ہے۔ مابعد جدیدیت کے مرکزی نکتہ کو سمجھ لیا جائے اور اس کا اطلاق سیکھ لیا جائے تو یورپ کے تمام افکار کے عقدے وا ہو جاتے ہیں۔

سادہ لفظوں میں پوسٹ ماڈرن ازم وہی بات کہتا ہے جو صدیوں پہلے زمانہ قبل مسیح میں، سوفسطائی فلسفی پروٹا غورس نے کہا تھا،

“Which is True for you is True for you and which is True for me is True for me, There is no absolute Truth.”

یعنی جسے آپ سچ سمجھتے ہیں وہ آپ کیلئے سچ ہے اور جو جسے میں سچ سمجھتا ہوں وہ میرے نزدیک سچ ہے کیونکہ کسی بھی آفاقی سچائی اور معروضی حقیقت کا کوئی وجود نہیں۔

پوسٹ ماڈرن ازم یہ بات ان الفاظ میں دہراتا ہے کہ کوئی بھی نظریہ یا سچ، پورا سچ یا آفاقی و حتمی سچ نہیں ہے۔ ہر سچ اضافی ہے۔ جب مابعد جدیدیت کے حامیوں سے کہا جائے کہ اس اصول پر تو آپ کا یہ جملہ بھی آفاقی یا عالمگیر سچ نہیں، بلکہ محض آپ کیلئے سچ ہے تو کہتے ہیں کہ نہیں، بلکہ


All truth is relative*
*except this statement.

یعنی مابعدجدیدیت کسی بھی نظرئیے کو حتمی اور مطلق نہیں مانتی بلکہ یہ سرے سے نظریہ دینے کے خلاف ہے۔ دراصل مابعد جدیدیت مذہبی، سماجی، سیاسی، ادبی، اخلاقی غرض ہر معاملے میں بغاوت اور انحراف کے رجحان کا نام ہے۔

مغربی فکر کے بنیادی خاکے کو انتہائی اختصار کے ساتھ پیش کرنے کے بعد میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ مغربی کو سمجھنے کیلئے فلسفہ اور تاریخ فلسفہ کا علم ناگزیر ہے۔ ہمارے ہاں اہل علم و دانش جب مغرب پر تنقید کرتے ہیں تو عموما ان کا اندازروایتی ہوتاہے۔ ہمیں یہ بات زہن نشین کر لینی چاہیے دور حاضر میں اسلام کی جنگ کسی مذہب یا مغرب میں خصوصا عیسائیت سے نہیں بلکہ یہ زمانہ الحاد کا زمانہ ہے، ہماری جنگ لادینیت سے ہے۔ دوسرے الفاظ میں ہماری جنگ مغربی زہن کی بنیادی ساخت سے ہے جو اس وقت تمام عالم کو بڑی تیزی کے ساتھ اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔

آخر میں جرمن فلسفی نطشے کے الفاظ سنا دینا چاہتا ہوں جس پر غور کرنا سب سے پہلے ہمارے علمائے کرام کی ذمہ داری ہے۔

وہ کہتا ہے

God is dead. God remains dead. And we have killed him.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */