آرٹیکل 62 اور 63، ایک معمّہ یا؟ - وقاص احمد

ہمارے کچھ بڑے دانشور، کالم نگار حضرات جب دین کے نظام اور بعض قانونی پہلو پر بات کرتے ہیں تو ان کا وطیرہ یہی ہوتا ہے کہ دین کی اصل اور بنیادی بات کو چھوڑ کر فرقہ وارانہ اور فروعی معاملات کو اجاگر کیا جائے اور عوام کو شعوری یا غیر شعوری طور پر کنفیوز کیا جائے، شکوک اور ابہام کوپھیلایا جائے۔ چونکہ یہ حضرات حوالہ جات (References) علماء کے بعض اختلافات کے دیتے ہیں، اس لیے موقع پر یہ لوگ مباحثہ میں بظاہر کامیاب ہوجاتے ہیں اور مجمع میں تالی بھی پٹوا دیتے ہیں۔ یہ لوگ دین کی وہ تشریحات اور تعبیرات جس میں پاکستان میں پائے جانے والے اسلامی مسالک میں کوئی اختلاف نہیں یا معمولی اختلاف ہے، اُن سے نہایت چالاکی سے دامن بچاتے ہوئے ایسا شور شرابہ کرتے ہیں کہ جیسے کھیل کے میدان میں تماشائی گول ہونے کے بعد کرتے ہیں۔

حالانکہ بحیثیت مسلمان صحافی و کالم نگار کو پہلے بنیادی اسلامی اصول سمجھنا چاہیے اور پھر اپنے قارئین اور سامعین کو سمجھانا چاہیے۔ مسئلے کی غرض و غایت کا فہم حاصل کرنا چاہیے۔ اگر معلومات نہیں ہے تو صحافت کا یہ اصول ہے بات کرنے یا قلم اٹھانے سے پہلے مسئلے کی تہہ میں اترا جائے، ماہر لوگوں یعنی علماء کی رائے لی جائے۔ پوچھا جائے کہ رسول اللہ ﷺ کے احکامات اور اکابر صحابہؓ کا اُس موضوع پر کیا مؤقف تھا۔ پھر اس کے بعد اگر معاشرے میں، رائج نظام میں، آئین و قانون میں کوئی کمی، سقم، پیچیدگی یا غلطی نظر آئے تو اسے اجاگر کر کے حل بھی تجویز کرنے کی کوشش کی جائے۔ یہ ہونا چاہیے کسی معتبر اورمقبول اینکر و صحافی و دانشور کا کام۔ بڑے صحافیوں اور کالم نگاروں کا دین کے معاملات میں تھوڑا سا بھی گہرائی میں اترے بغیر سطحی تجزیہ کرنا میرے نزدیک افسوسناک ہونے کے ساتھ سا تھ خطرناک بھی ہے۔

آئین کا آرٹیکل 62 اور 63 آجکل اسی قسم کی گفتگو کا ہدف ہے۔ بعض صحافی ن لیگ کو کوس بھی رہے ہیں کہ ماضی قریب میں ان کے پاس آرٹیکل 62 اور 63 کی ’متنازع‘ شقیں ختم کرنے کا نادر موقع تھا جس کا وہ آج شکار ہوئے ہیں۔ حالانکہ شکار تو وہ Representation of the People Act, 1976 کی شق 99 (1) (f) کے بھی ہوئے ہیں، تو کیا اسے بھی ختم کر دیا جائے جس کی رو سے اگر کوئی امیدوار اپنے اثاثے چھپائے گا تو وہ امانت دار نہیں کہلائے گا؟

فی الحال اس مضمون میں آرٹیکل 62 کے حوالے سے ہی بات کرتے ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 62کی ’’متنازع ‘‘شقیں کچھ یوں ہیں:
کہ کوئی شخص پارلیمنٹ کا رکن بننے یا چنے جانے کا اہل نہیں ہوگا۔ اگر:
(د) وہ اچھے کردار کا حامل نہ ہو اور عام طور پر احکام اسلام سے انحراف میں مشہور ہو۔
(ہ) وہ اسلامی تعلیمات کا خاطرخواہ علم نہ رکھتا ہواور اسلام کے مقرر کردہ فرائض کا پابند نیزکبیرہ گناہوں سے مجتنب نہ ہو۔
(و) وہ سمجھدار، پارسا نہ ہو، اور فاسق ہو،اور ایمان دار و امین نہ ہو اور اس حوالے سے کسی عدالت سے سزا یافتہ ہو۔

ایک نامور صحافی نے اپنے کالم میں ’’اچھے کردار‘‘ اور ’’اسلامی تعلیمات کے خاطر خواہ علم‘‘ پر اسی طرح کی بحث کرنے کی کوشش کی ہے اور کہا کہ اچھا کردار کیا ہے، کیا نہیں؟۔ کون Define کرے گا؟، یہ certificate کون دےگا۔ اسی طرح ’’خاطر خواہ علم‘‘ کا مطلب کیا ہے؟ عالم کے لیے ’’خاطر خواہ کا علم‘‘ کچھ اور اور عام آدمی کے لیے کچھ اور ہوتا ہے۔ باتوں کو الجھا کر ایسے سوال کھڑے کیے گئے جس میں سے بہتوں کے جوابات ذرا سی محنت پر مل جاتے ( اگر نیت صاف ہو تو)۔

ٹی وی پر ایک پروگرام میں ’’صادق و امین‘‘ پر بات کی گئی اور کہا گیا کہ یہ القاب رسول اللہ ﷺ کو مکہ والوں نے دیے تھے اور بجا طور پر کہا گیا کہ ایسی شخصیت نہ کبھی دنیا میں پہلے کبھی آئی اور کبھی آئے گی۔ لیکن اسی بات کے تسلسل میں یہ بات بھی کہی گئی کہ چونکہ آرٹیکل 62 انھی ناممکن تقویٰ اور معیارات کی بات کرتا ہے، اس لیے ان شقوں کو نکال دینا چاہیے۔

گو کہ اس بات میں وزن ہے کہ آرٹیکل 62 کے میں بعض الفاظ کے حدود اربعہ کی وضاحت ضروری ہے لیکن اسے ختم کرنے کی بات وہی لوگ کر تے ہیں جو ان الفاظ کے قانونی مطلب اور اس حوالے سے اسلامی تاریخ سے نابلد ہیں۔ ان کے خیال میں یہ مسئلہ تاریخِ اسلامی جس میں صدیوں پر محیط دنیا کے بڑے حصے پر حکومت بھی شامل ہے، کبھی Discuss نہ ہوا ہوگا اور اس کا حل نکالنے کی کبھی کوشش نہ کی گئی ہوگی۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اسلامی قانون و فقّہ کتابوں سے نکل کر دنیا میں عملاً کبھی قائم و رائج نہیں رہا یا اس کے اصول و قوانین معاذ اللہ انسانی نفسیات، زمینی حقائق، اخلاقی حساسیّت اور قانونی پیچیدگیوں کا احاطہ نہیں کرتے۔ یہ گمان و خیال کیوں آتا ہے یہ ہم مسلمانوں کا گھمبیر مسئلہ ہے۔

یاد رکھیں! کہ اسلام کے ان بہترین زمانوں میں بھی جن کو ہم خیرالقرون کہتے ہیں، کردار کا حقیقی مطلب الگ اور قانونی مطلب الگ تھا۔ جھوٹ ذاتی زندگی، عام محفلوں میں بولا جائے یا عدالت کے سامنے گواہی طلب کرنے پر بولا جائے، گناہ تو دونوں صورتوں میں ہے۔ لیکن اس کی شدت اور گراوٹ میں فرق حقیقی معنوں میں بھی ہے اور قانونی معنوں میں بھی۔ اسلامی قانون میں اگر عدالت میں جھوٹی گواہی یا غلط الزام ثابت ہو جائے تو قذف کی سزائیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   سفر اعجاز ﷺ سے کرتار پور بارڈر تک - حسین اصغر

ڈاکٹر اسرار احمد ؒ نہایت خوبصورتی سے سمجھاتے تھے کہ ایک ایمانِ حقیقی ہوتا ہے، یہ کس کے دل میں کتنا ہے وہ اللہ ہی جانتا ہےحتٰی کہ دوسرا انسان کسی کے بظاہر اچھے عمل کو بھی دیکھ کر اندازہ نہیں لگا سکتا کیونکہ اللہ ہی نیّتوں کا حال جانتا ہے۔ ان باتوں کا فیصلہ دنیا کی عدالت میں نہیں ہوسکتا۔ لیکن ایک ہوتا ہے قانونی ایمان جو غیر مسلم ہونے کی صورت میں زبان کے کلمہ شہادت ادا کرنے سے اور کسی مسلمان گھرانے میں پیدا ہوجانے سے خودبخود حاصل ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد آپ کو سارے اسلامی حقوق کے اہل ہوجاتے ہیں۔ حقیقی تقویٰ میں آپ کا حال جیسا بھی ہو، آپ کو اسلامی حقوق حاصل ہوجاتے ہیں جیسے کسی بھی نوکری یا عہدے کےاسلامی کوٹے میں شامل ہوسکتے ہیں۔ مرد مسلمان کی شادی مسلمان عورت ہے ہو سکتی ہے، زکوٰۃ فطرے کے حقدار ہو سکتے ہیں، آپ حج پر جاسکتے ہیں، مرنے پر آپ کی تدفین اسلامی طریقے سے ہوگی وغیرہ۔

ایک اور مثال سے سمجھیں۔ ایک باپ کے دو بیٹے ہیں۔ ایک گناہ گار ہے لوگوں کے سامنے علانیہ گناہ کرنے والا ہے حتی کہ باپ کو تنگ کرنے والا ہے اور ایک بیٹا نیک پرہیزگار، باپ کا فرمانبردار۔ بتائیے! باپ کے مرنے کے بعد جائیداد میں اسلامی عدالت بٹوارہ کیسے کرے گی؟ جی ہاں برابری کی بنیاد پر، کیوں کہ قانونی طور پر دونو ں بیٹے برابر ہیں اور اسلامی قانون یہ بات جانتا ہے کہ سچا نہ ہونے، امانت دار نہ ہونے، اچھے کردار کا حامل نہ ہونے کے حقیقی تقاضوں کو پرکھنا تقریباً ناممکن ہے اس لیے اس میں کوشش بھی کرنا بےسود اور معاشرے اور نظام کو چلانے کے لیے سعی لا حاصل ہے۔ ہاں قانونی تقاضوں کو پرکھنے کے اصول کچھ اور ہیں جیسے اوپر بتایا گیا کہ جھوٹےالزام لگانے کی باقاعدہ سزا موجود ہے۔

فرض کریں کہ ایک علاقے میں ایک شخص ہے جو جھوٹا اور خائن مشہور ہے۔ لوگ اس پر اعتبار نہیں کرتے۔ اس میں یہ بھی اضافہ کرلیں کہ اس کی بدسلوکی سے اس کی بیوی نے اس سے خلع بھی لے لی ہے اور وہ زبان کا گندا بھی ہے۔ اب فرض کر لیں کہ وہ شخص اس علاقے کے کونسلر کا الیکشن لڑنا چاہتا ہے لیکن جب اس کا مقدمہ کسی ایسے جج کے سامنے پیش ہو جو نہ اس شخص کو جانتا ہو نہ اس علاقے کو تو کیا وہ اس بات پر فیصلہ کرے گا کہ لوگ اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ اس کے سابقہ سسرال کی اس کے بارے میں کیا رائے ہے (خاص طور پر اس پر آشوب زمانے میں) یا شواہد پر کرے گا۔ لوگ اگرچہ سچ کہہ رہے ہوں گے کہ یہ شخص ایسا ہے ویسا ہے، لیکن جج بھی یہ گمان رکھے گا کہ لوگ جھوٹ بول رہے ہوں۔ اور اس شخص سے کسی وجہ سے بغض رکھتے ہوں، بیوی کا بھی شاید کوئی مسئلہ ہو۔ اب کیا جج اس قسم کی تحقیقات میں پڑ جائے یا شکایت کنندہ سے یہ کہے کہ اگر شک سے پاک کوئی ثبوت ہے تو لاؤ۔

قصہ مختصر اسلامی قانون یہ جانتا ہے کہ قانونی طور پر کیا ضروری ہے اور کیا غیر ضروری، اور عدل کے لیے کیا احتیاطیں ضروری ہیں؟

یہی وجہ ہے نواز شریف کا الیکشن کمیشن میں اثاثے نہ بتانا اور پارلیمنٹ میں جھوٹی تقریر کرنا ’’قانونی جھوٹ‘‘ کے زمرے میں آجاتا ہے اور اس قسم کی خیانت اور کذب بیانی کو ہی آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 میں کور کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس لیے لبرل طبقات کو پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ضروری ابہام دور ہونے چاہییں لیکن شقوں کو ہی ختم کرنے کی خواہش اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ٹھیک نہیں۔

1. میں سمجھتا ہوں کہ 62 کی شق (د) میں میں اچھے کردار کے قانونی مطلب کی وضاحت ضروری ہے۔ اور اچھے کردار کی جانچ کے قانونی طریقہ کار کی وضاحت لازماً ضروری ہے۔ اچھے کردار کا مطلب برے کردار کا نہ ہونا بھی ہوتا ہے اس لیے شق (د) کو شق (و) کے ساتھ ہی جوڑ دینا چاہیے جس میں لکھا ہے کہ ’۔۔۔۔ اور اس حوالے سے کسی عدالت سے سزا یافتہ ہو ‘ ۔ اصل میں شق (و) کا یہ حصہ ہی اچھے کردار کے نہ ہونے، اسلامی قوانین سے انحراف اور صادق و امین نہ ہونے کے معاملے میں ٹھوس ثبوت فراہم کرے گا۔ جیسے جب یہ کسی عدالت سے ثابت ہوجائے کہ اثاثے چھپائے گئے ہیں تو پھر 62اور 63 کے تحت ممبر پارلیمنٹ کو نااہل قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس حوالے سے تو مجھے کوئی ابہام یا پیچیدگی نظر نہیں آتی۔

2.شق (د) کا یہ حصہ کہ ’’۔۔۔ عام طور پر احکام اسلام سے انحراف میں مشہور ہو‘ ‘ بہت اہم ہے لیکن اس کے قانونی پہلو کی عملی تعبیر ایسے ہی ممکن ہے کہ امیدوار متفق علیہ عقائد اور ارکانِ اسلام کے وجوب کا قائل ہو اور اس کے برعکس کسی بات کا ثبوت نہ ہو۔ اس سلسلے میں کوئی فارم بھی پُر کروا یا جاسکتا ہے۔ اگر امیدوار کے خلاف ناقابلِ تردید، شک سے پاک ثبو ت دے دیئے جائیں جس کی کوئی وضاحت نہ پیش کی جاسکتی ہو تو اسے نااہل کرنے کی کاروائی کی جائے۔ اس حوالے سے قذف (جھوٹے الزام ) کا قانون بھی لاگو کیا جائے گا۔ واضح رہے اسلامی قانون یہ جانتا ہے کہ قانونی طور پر کیا ضروری ہے اور کیا غیر ضروری۔ اسلامی قانون ضروری احتیاطوں کو بھی سب سے بہترین طور پر جانتا ہے۔ زنا کی سزا میں چار میں سے کسی ایک کی بھی گواہی کمزور ہو تو سزا تو دور کی بات الزام لگانے والے کو لینے کے دینے پڑ سکتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ حضرت علیؓ اپنا کیس قانون کی نظر میں مطلوبہ گواہی اور دستاویز نہ ہونے کی وجہ سے ہار گئے تھے گرچہ اسوقت آپ امیر المؤمنین تھے۔ ان جرات مند قاضی کے بارے میں ہمارے لبرل اور اسلام سے خائف طبقات کیا کہیں گے جنہوں نے اسلامی قانون اور شریعت کا علم رکھنے کے بعد ہی اس کے تقاضوں کا عَلَم بلند رکھا۔

یہ بھی پڑھیں:   عدالت سے پہلے عدالت کا سلسلہ کب تک؟ حبیب الرحمن

اسی طرح عدالت میں، پارلیمنٹ میں، پبلک میں جھوٹ بولنے کے علاوہ بعض گناہ، فحاشی و عریانی کے کام یا بعض فرائض کا اعلانیہ نہ ادا کرنا بھی ’’اچھے کردار کے قانونی مطلب‘‘ اور ’’احکام اسلام سے انحراف‘‘ کے زمرے میں آسکتا ہے لیکن ان امور میں واضح قانون سازی ہونی چایئے جو آئین کی ان شقو ں کی وضاحت کرے۔

3.شق (ہ) کے دوسرے حصے یعنی ’’۔۔۔۔ اور اسلام کے مقرر کردہ فرائض کا پابند نیزکبیرہ گناہوں سے مجتنب نہ ہو‘‘ میں ان گناہ کبیرہ کی فہرست بنانا ضروری ہے جنکا قانونی اطلاق ہو سکتا ہے۔ وہ گناہِ کبیرہ تو لازمی شامل ہوں گے جس میں قرآن و سنت میں یا خلفائے راشدین کے زمانے میں حدود و تعزیرات تھیں۔ لیکن مسلمان حکمران کو اختیار حاصل ہے کہ وہ مسلمانوں کے اجتماعی نظام و ماحول کو اسلام کی روح کے مطابق رکھنے کے لیے قانون سازی کرے۔ باقی یہ بات کہ کسی نے قوانین کی خلاف ورزی کی یا نہیں، یہ ثابت کرنے کا طریقہ کار وہی ہوگا جو معروف عدالتی طریقہ کار ہوتا ہے۔ قذف کا قانون یہاں بھی ایکٹو رہے گا۔

ہم جانتے ہیں کہ والدین کی نافرمانی یا غیبت گو کہ بہت بڑےگناہ ہیں لیکن ان پر کسی حد یا تعزیر کا مجھے علم نہیں ہے۔ چونکہ یہ معاملات قانوناْ حل نہیں ہوسکتے اس لیے شق (ہ) کے بارے میں بعض اعتراض ٹھیک ہوتے ہیں جو بعد میں پورے قانون کو ختم کرنے کی دلیل بن جاتے ہیں۔ لیکن میں بھی ایک سوال کرتا ہوں کہ کیا کسی بھی امیدوار نے کسی دوسرے امیدوار کو اس بات پر چیلنج کیا کہ یہ والدین کا نافرمان ہے یا اس کی زبان پر گالیاں ہوتی ہیں؟ شکایت کرنے والے مخالفین بھی جانتے ہیں کہ ان کو ثابت کرنا عدالت میں مشکل ہوتا ہے۔

البتہ ایک صورت یہ ہوسکتی ہےکہ ایک فارم پُر کروا لیا جائے جس میں کبیرہ گناہوں کو چھوڑنے کا عزم و ارادہ اور توبہ کے نکات ہوں۔ یہ صرف اس لیے کہ امیدوار کو ایک بار پھر احساس ہو کہ وہ مسلمان ہے اور پاکستانی عوام کے امور کا امین و ذمہ دار بننے کا شائق ہے۔ لیکن اس فارم کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوگی۔

4.شق (ہ) کے پہلے حصے یعنی ’’وہ اسلامی تعلیمات کا خاطرخواہ علم نہ رکھتا ہو۔۔۔‘‘ کے حوالے سے مسئلہ بہت آسان تھا جسے خوامخواہ الجھایا گیا۔ دینی حلقوں میں یہ بات معروف ہے کہ عام آدمی یعنی غیرِ عالم پر اتنے ہی دین کا علم فرض ہے جو اس کی زندگی میں روزانہ کے حوالے سے ضروری ہو۔ اس حوالے سے بعض چیزوں میں سختی کرنا ضروری ہے۔ ایک نصاب بنایا جاسکتا ہے جو انٹرویو میں یا سوالنامے میں پوچھا جاسکتا ہے۔ کسی کو ارکانِ اسلام، بنیادی عقائد و فرئض کا علم بھی نہ ہو اور انسان اسلامی جمہوریہ پاکستان کی پارلیمنٹ کے ممبر بننے کا خوہشمند بھی ہو نہایت بے تکی بات ہے۔

غرض کہ یہ کہہ کر جان چھڑانے کی کوشش کرنا کہ اس ملک میں فرشتوں کے روپ میں شیطان دیکھنے کو ملتے ہیں، ہر طرف جھوٹ و بہتان طرازی ہے، فرقہ واریت ہے گو کہ ایک ٹھیک بات ہے، مگر لفظوں کی جادوگری اور Subjective تنقید کے بہاؤ میں یہ Objective نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا کہ قوانین نہ بنائیں جائیں اور ان پر عمل کی کوشش نہ کی جائے۔ یہ تو ایسے ہی ہے کہ جس طرح کچھ عرصے پہلے نواز شریف نے فرمایا تھا کہ کرپشن اتنی ہے کہ اگر کرپشن کی تحقیقات میں پڑا جائے تو ملک کی ترقی کے کام کیسے کیے جائیں گے۔ ملک کے سابق وزیر اعظم کے منہ سے یہ بات سن کہ سر دیوار سے مارنے کو جی چاہتا ہے۔

Comments

وقاص احمد

وقاص احمد

کراچی یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز اور سنہ2000 سے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں خدمات سرانجام دینے والے وقاص احمد ایک دنیا دیکھ چکے ہیں۔ مشرق وسطیٰ ، مشرقِ بعید اورآسٹریلیا کے سفر کر چکے ہیں ۔مطالعہ کا شوق تو بچپن سے تھا لیکن گزشتہ کئی برسوں سے باقاعدہ فلسفۂ دین،احیائے دین کی تحاریک، فلسفہِ اخلاق ، سیاست، احتساب اور تاریخ کے موضوعات ان کی تحقیقات اور فکر کا حصہ ہیں۔ اس حوالے سے علمائے کرام اور دینی اسکالرز کے بے شمار دروس اور لیکچرز میں شرکت کر چکے ہیں۔ ان سے ٹوئٹر پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.