مہاتیر محمد کے دیس میں (1) - راجہ ماجد معظم

ترکی اور ملائیشیا میرے پسندیدہ ملک ہیں۔ عرصہ دراز سے خواہش تھی کہ ان ممالک کا سفرکیا جائے اور اپنی آنکھوں سے دونوں جدید اسلامی ممالک کی معاشی اور معاشرتی اصلاحات کو دیکھ سکوں۔ یہ مارچ 2017ء کی بات ہے جب میں دوبئی میں ہونے والی عالمی کانفرنس کی تیاری میں مصروف تھا۔ مختلف ممالک میں ہونے والے اجلاسوں اور علمی مجلّات سے باخبر رکھنے والی ویب سائٹ 'شبکہ ضیاء' کی طرف سے ایک ای میل وصول ہوئی جس میں لکھا تھا کہ جولائی میں ملائیشیا کے صوبے قدح میں ایک عالمی کانفرنس ہو رہی ہے، جس میں عربی زبان کے فروغ میں موجودہ حالات کے تحدیات اور ان کے نمٹنے کے حوالے سے تحقیقی مقالات پیش کیے جائیں گے۔ میں نے اس موقعے کو غنیمت جانتے ہوئے فوری طور پر ایک تحقیقی مقالہ تیار کیا اور کانفرنس کے منتظمین کو بھیج دیا۔ چند دنوں کے بعد جواب موصول ہوا کہ میرا مقالہ کانفرنس کے لیے منتخب کرلیا گیا ہے اور رجسڑیشن کے لیے 200 ڈالر فیس اور دیگر لوازمات پورے کرنے کو کہا گیا ہے۔ میں نے جلد ہی فیس کی ادائیگی اور دیگر لوازمات مکمل کرلیے۔ شنگھائی میں موجود ملائیشیا کے قونصل خانے سے ویزا لگوایا اور جہاز کے ٹکٹ بک کروا لیے۔

22 جولائی 2017ء کی رات کو میری فلائٹ تھی۔ میں رات دس بجے شنگھائی ائیر پورٹ پہنچ گیا۔ چیک ان اور بورڈنگ پاس کے مراحل سے گزر کر میں انتظار گاہ میں بیٹھا تھاکہ اسی اثنا میں جیا تنگ یونیورسٹی شنگھائی کے ڈاکٹر علی سے میر ی ملاقات ہو گئی۔ یہ ملائیشیا کے راستے پاکستان جا رہے تھے۔ موصوف ایک خوش مذاج اور محبت کرنے والے انسان ہیں۔ ہم انتظار گاہ میں کافی ٹائم مختلف موضوعات پر گفتگو کرتے رہے۔ جہاز کی روانگی کا وقت ہوا تو ہم بچھڑ گئے کیونکہ ان کی سیٹ اور میری سیٹ کافی دور تھی۔ ہم 23 جولائی کی صبح کولا لمپور کے بین الاقوامی ائیرپورٹ پر پہنچ گئے۔ یہ ائیر پورٹ تمام سہولیات سے آراستہ ہے۔ وسیع وعریض رقبے میں پھیلا ائیر پورٹ صفائی ستھرائی کا بہترین نمونہ ہے۔ جگہ جگہ نماز پڑھنے کے لیے مصلے اور طہارت خانے نظر آئے۔ ائیر پورٹ کا عملہ بھی خوش اخلاق اور تعاون کرنے والا ہے۔ میں نے اور ڈاکٹر علی نے مل کر کولا لمپور شہر دیکھنے کا پروگرام بنایا۔ ہم نے ایئر پورٹ سے بس لی اور شہر میں داخل ہو گئے۔ سب سٍے پہلے ہم نے شہر کے وسط میں واقع کے ایل سنٹرل میں پہنچے اور ایک شاپنگ مال میں چائے وغیرہ پی کر جامع مسجد اور ایک تاریخی پارک کو دیکھا۔ اس کے بعد ہم ٹوئن ٹاور پہنچے۔ یہ بلند وبالا جڑواں ٹاور سن 1998ء سے 2004ء تک دنیا کے سب سے بلند ٹاور تصور کیے جاتے تھے۔ شہر کی میٹرو ٹرین انتہائی جدید اور صاف ستھری ہے۔ ٹکٹ بھی سستا ہے۔ اس وقت میٹرو ٹرین کی نو لائنز کام کر رہی ہیں۔شہروں میں چلنے والی بسیں بھی جدید سہولیات سے آراستہ ہیں اور ٹکٹ کا نظام بھی جدید نظام پر استوار ہے۔ شام پانچ بجے ڈاکٹر علی کی پاکستان فلائٹ تھی لہذا وہ ایک بجے ائیرپورٹ کی طرف روانہ ہو گئے اور میں نے ہوٹل میں کمرہ بک کروایا، نماز ظہر اداکی ، کھانا کھایا اور کچھ دیر آرام کرنے کے بعد میں پھر شہر کی طرف نکلا۔ کولا لمپور ٹاور دیکھا۔ یہ ٹاور 421 میٹر اونچا ہے۔ عید اور رمضان کا چاند دیکھنے کے لیے کمیٹی کا اجلاس اسی ٹاور میں ہوتا ہے۔ اس ٹاور سے پورے شہرکا نظارہ کر سکتے ہیں۔ قومی مسجد کولا لمپور کی ایک خوبصورت مسجد ہے۔ ویسے تو شہر کی ساری ہی مساجد خوبصورت اور تمام سہولیات سے آراستہ ہیں لیکن قومی مسجد کی شان ہی نرالی ہے۔ یہ مسجد 1965ء تعمیر ہوئی۔ اس کی چھت کھلی چھتری کی طرح لگتی ہے اور اس کے مینار 73 میٹر بلند ہیں۔ مسجد کے احاطے میں پارک ہے۔ مسجد کی اندر خواتین کا ایک درس چل رہا تھا۔ مسجد کے امام صاحب ملایا زبان میں انھیں قرآن کا درس دے رہے تھے، مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آیا لیکن ان کے انداز سے لگ رہا تھا کہ وہ قرآن کی تفسیر بیان کررہے تھے۔ مسجد میں نماز عصر ادا کی اور اس کے بعد قومی میوزیم’ چائنہ ٹاؤن’لٹل انڈیا اور دیگر علاقوں کو دیکھنے کا موقعہ ملا۔ ملائیشیا میں چائینہ اور انڈیا کے تجارتی لوگ جگہ جگہ نظر آتے ہیں۔ پوچھنے سے معلوم ہواکہ یہ لوگ عرصہ دراز سے یہاں تجارتی غرض سے آباد ہیں اور مقامی آبادی میں گھل مل گئے ہیں۔ ملائیشیا کے مقامی لوگ پرامن اور مہذب ہیں۔ کھانے کے رسیا ہیں۔ ملک کی بڑی آبادی انگریزی بول اور سمجھ سکتی ہے۔

مغرب اور عشاءکی نمازیں ہوٹل میں ہی ادا کیں اور اس کے بعد نیند کی آغوش میں چلا گیا۔ صبح پانچ بجے آنکھ کھلی، نماز فجر ادا کی لیکن جب میں نے کھڑکی سے باہر جھانکا تو باہر اندھیرا تھا۔ مجھے سمجھ نہیں آئی یہ کیا مہاجرا ہے۔ چونکہ چین اور ملائیشیا کے ٹائم میں کوئی فرق نہیں ہے لہذا میں نے چین کے ٹائم کے حساب سے نماز ادا کی۔ بعد میں پوچھنے سے معلوم ہواکہ ادھر تو 6 بجے نماز کا ٹائم شروع ہوتا ہے اور 7 بجے طلوع الشمس ہے۔ خیر ناشتہ وغیرہ کرکے میں ائیر پورٹ کی طرف نکل گیا۔ آج مجھے ملائیشیا کے صوبے قدح کے دارالحکومت الور سیتار جانا تھا۔ یہ وہی الور سیتار ہے جہاں ملائیشیا کے عظیم قائد جناب مہاتیر محمد 10 جولائی 1925ء کو پیدا ہوئے۔ مہاتیر کے والد ہندوستان کی ریاست کیرالہ سے ہجرت کرکے ملایا میں آباد ہوئے تھے۔ ملائیشیا کے قیام سے قبل صدیوں سے جنوب مشرقی ایشیا کا وہ علاقہ جسے آج جزیرہ نما ملائیشیا کہا جاتا ہے ملایا کہلاتا تھا۔ مہاتیر محمد کے والد نے ایک ملایو خاتون سے شادی کی تھی اور ملایا کی ریاست قدح میں سکونت اختیار کی جہاں مہاتیر کی ولادت ہوئی۔ مہاتیر کے والد محمد بن اسکندر ایک اسکول ٹیچر تھے۔ مہاتیر ایک محنتی اور با ادب طالبعلم تھے۔ انگریزی زبان کی فصاحت و بلاغت میں وہ زمانہ طالبعلمی میں ہی اپنا لوہا منوا چکے تھے۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران جب ملایا پر جاپانیوں کا قبضہ ہوگیا اور انگلش میڈیم اسکول بند کروا دیے گئے تو مجبوراَ مہاتیر کو تعلیم درمیان میں چھوڑنا پڑی۔ اس دوران وہ اپنے گھر کو مالی مدد فراہم کرنے کے لئے کافی اور کیلے کا جوس بیچا کرتے تھے۔

جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد وہ دوبارہ اپنی تعلیم جاری رکھنے میں کامیاب ہوئے اور سیکنڈری اسکول کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا۔ جس کی وجہ سے انھیں سنگاپور کے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج میں داخلہ مل گیا۔ جہاں ان کی ملاقات اپنی مستقبل کی شریک حیات ہاشمہ محمد علی سے ہوئی۔ طبی تعلیم کے ساتھ ساتھ مہاتیر نے صحافت کا کورس بھی مکمل کیا اور مقامی رسالے سنڈے ٹائمز میں مضامین لکھنا شروع کیے۔ میڈیکل کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد مہاتیر نے اپنے آبائی علاقے میں کلینک کھول لیا۔

31 اگست 1957ء کو جب ملایا نے برطانوی تسلط سے آزادی حاصل کی تو اس وقت مہاتیر محمد ایک بتیس سالہ نوجوان ڈاکٹر تھے۔ ابتدا میں مہاتیر نے جب سیاست میں حصہ لینا شروع کیا تو ان کی شہرت ایک قوم پرست ملایو رہنما کے طور پر تھی۔ ملایو کمیونٹی کی نمائندہ جماعت یونائٹڈ ملایو نیشنل آرگنائزیشن تھی جو کہ دنیائے سیاست میں اُمنو کے نام سے جانی جاتی ہے۔ مہاتیر آزادی کے بعد اُمنو میں مقبول ہونے لگے تھے۔ مگر انھیں 1959ء کے عام انتخابات کے لئے پارٹی کی جانب سے امیدوار نامزد نہیں کیا گیا تھا۔ جس کی وجہ مہاتیر محمد اور ملائیشیا کے بانی تنکو عبدالرحمن (جنھیں بابائے ملائیشیا بھی کہا جاتا ہے) کے درمیان اختلافات تھے۔

آزادی کے بعد مہاتیر نے ملایا میں برطانوی اور کامن ویلتھ فوجی دستوں کی موجودگی کی مخالفت کی تھی اور تنکو عبدالرحمن کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ جس کے بعد سے اُمنو کی سیاست میں دو مخالف بلاک وجود میں آگئے۔ مہاتیر بلاک اور تنکو عبدالرحمن بلاک۔ 16 ستمبر 1963ء کو ملایا، سنگاپور اور دو آزاد ریاستوں صباح اور سراواک کے آپس میں الحاق کے نتیجے میں ملائیشیا کا قیام عمل میں آیا۔ جس کے بعد قوم پرست سیاست کو مزید فروغ حاصل ہوا اور مہاتیر کی مقبولیت میں بھی اضافہ ہوگیا۔ 1964ء کے عام انتخابات میں مہاتیر کو اُمنو کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑنے کا موقع ملا اور انھیں کامیابی حاصل ہوئی۔ انتخابات کے ایک سال بعد سنگاپور ملائیشیا سے علیحدہ ہوگیا۔ جس کے ساتھ ہی ملائیشیا کی سیاست کا رخ بھی تبدیل ہوگیا۔

1969ء کے انتخابات میں مہاتیر محمد کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ مہاتیر اور تنکو عبدالرحمن کے اختلافات شدت اختیار کرگئے تھے جس کی وجہ سے تنکو نے مہاتیر کو پارٹی سے نکال دیا۔ ملائیشیا کے دوسرے وزیر اعظم تُن عبدالرزاق مہاتیر کو دوبارہ سیاست میں واپس لے کر آئے۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ لفظ تُن دراصل ملائیشیا کا اعلی ترین خطاب ہے جو کہ تمام وزرائے اعظم کے ناموں کے ساتھ لگایا جاتا ہے۔ مہاتیر کو بھی وزیر اعظم بننے کے بعد سے تُن مہاتیر محمد کہا جاتا ہے۔ جبکہ تُنکو بھی ایک خطاب ہے جو کہ بابائے ملائیشیا تُنکو عبدالرحمن کے لئے مخصوص ہے۔ سیاست میں واپسی کے ساتھ ہی مہاتیر کا ایک بار پھر سے سیاسی سفر شروع ہوگیا۔ ملائیشیا کا وزیراعظم بننے سے قبل مہاتیر کے پاس مختلف وزارتوں کے قلمدان بھی رہے۔ ملائیشیا کے تیسرے وزیرِ اعظم تُن حسین بن عون کے مستعفی ہونے کے بعد 16 جولائی 1981ء کو مہاتیر محمد نے ملائیشیا کے چوتھے وزیراعظم کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔

مہاتیر نے تقریباَ 22 سال ملائیشیا پر حکمرانی کی اور اپنے ملک کو تیسری دنیا کے ممالک کی صف سے نکال کر صفِ اول میں لاکھڑا کیا۔ آج بھی دوسری قومیں مہاتیر اکنامک ماڈل سے استفادہ کرتی ہیں اور مہاتیر کی پالیسیوں کی روشنی میں اپنے راستوں کا تعین کرتی ہیں۔ اپنے دورِ حکومت میں مہاتیر کے بادشاہوں اور عدلیہ سے بھی اختلافات رہے۔ مہاتیر نے ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں کرنسی کے بحران کا بھی سامنا کیا اور اس بحران سے خوبصورتی کے ساتھ نکلنے میں بھی کامیاب ہوئے۔ اکتوبر 2003ء میں وزارتِ عظمی سے دستبرداری کے بعد مہاتیر نے سیاست سے تقریباَ کنارہ کشی اختیار کرلی تھی۔ مگر 2009ء میں انھوں نے دوبارہ اُمنو میں شمولیت اختیار کرلی۔ گو کہ وہ ملائیشیا کی پارلمنٹ کا حصہ نہیں مگر ملائیشیا کی سیاست میں آج بھی ان کا موثر کردار ہے۔ مہاتیر ایک اعلی پائے کے لکھاری بھی ہیں۔ ان کی مشہور تصانیف میں مَلے ڈائلمہ، دی وے فارورڈ، ملائیشین کرنسی بحران، اے ڈاکٹر اِن دی ہاؤس اور اے نیو ڈیل فار ایشیا شامل ہیں۔ چند سال پہلے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد نے ملائیشیا کے اس عظیم قائد کی معاشی، معاشرتی ، دینی اور سیاسی خدمات کے اعزاز میں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری دی۔

(جاری ہے)

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • بہت اچھا اور حقائق کی بنیاد پر لکھا گیا مضمون ہے. میں پچھلے 9 سالوں سے یہاں ملائشیا میں مقیم ہوں اور آپ کا مضمون پڑھ کر بہت اچھا لگا کہ آپ نے حقائق پر مبنی ملائشیا کا تعارف کروایا. مہاتیر صاحب نے البتہ حال ہی میں امنو چھوڑ کر اپنی پارٹی بنا لی ہے جس کی وجہ کرپشن کیس میں ان کا حالیہ پرائم منسٹر نجیب سے اختلاف تھا.

    ملائشین سیاست کے علاوہ سماج پر بھی اپنا مشاہدہ ضرور شئیر کیجیے گا. شکریہ