بھارت، اسرائیل گٹھ جوڑ - قادر خان یوسف زئی

دنیا کی دو انتہا پسند مملکتوں کے وزرا ء اعظم کا پاکستان کے خلاف اتحاد جنوبی ایشیا سمیت عالمی امن کے لئے خطرے کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے۔ بھارت کی ہندو انتہا پسند حکومت کے وزیر اعظم نریندر مودی اور صہونیت کے پیروکار مسلم دشمن اسرائیلی حکومت کے وزیر اعظم بنجامن نتن ہاہو کا گٹھ جوڑ مسلم امہ کے خلاف مفادات کا ملاپ ہے۔ بھارتی وزیر اعظم، اسرائیل کے ساتھ25برس سفارتی تعلقات کے قیام کی سالگرہ پر تل ایبب پہنچے تو انھیں امریکی صدر کو دیئے جانے والاپروکوٹول دیا گیا۔ اسرائیل جانے والے بھارت کے پہلے وزیر اعظم کا استقبال اسرائیلی وزیر اعطم نتین یاہو اور ان کی کابینہ وزرا سمیت ملک کی 50سے زیادہ اہم شخصیات نے کیا۔ اسرائیل وہ ملک ہے جس نے بھارت کو پاکستان کے خلاف 71کی جنگ میں جنگی ساز و سامان کو لدے بحری جہاز کے ذریعے پہنچایا۔ کارگل کی جنگ میں اسرائیل نے بھارت کی بھرپور مدد کی اور جدید ترین آلات جنگ دیئے، کارگل جنگ میں اسرائیل نے پاک فوج کی پوزیشنز کی سیٹلائٹ تصاویر بھارت کو مہیا کیں، گزشتہ سال بھارت نے اسرائیل سے ایسے حساس رڈار حاصل کئے جو گھنے جنگل میں بھی انسانوں اور گاڑیوں کی نقل و حرکت کا پتہ چلا سکتے ہیں، یہ رڈار لائن آف کنٹرول پر نصب کیے گئے۔اس کے علاوہ بھارت اسرائیل سے میزائل دفاعی نظام، اواکس طیارے خرید چکا ہے پہلے اسرائیل، بھارت کو خفیہ طور پر مہلک جنگی ساز و سامان دیتا تھا، لیکن اب اسرائیل امریکہ کے بعد بھارت کو ہتھیار مہیا کرنے والا دوسرا بڑا ملک بن چکا ہے، گذشتہ پانچ سال میں اسرائیل نے ہر برس اوسطاََ ایک ارب ڈالر کے ہتھیار بھارت کو فروخت کئے۔مودی کے دورے سے قبل بھارت اور اسرائیل ایرو سپیس انڈسٹری کے ساتھ ڈیڑھ ارب ڈالر کے سودے کا معاہدہ کیا تھا، جبکہ اسرائیلی کمپنی رفائیل کے ساتھ ایک بڑا معاہدہ ہوا، جس میں بھارت کے چار بحرہ جہازوں پر براک میز ائل نصب کرنے کا 630ملین ڈالر کا معاہدہ ہوا تھا۔یہ معاہدے اسرائیل کی دفاعی تاریخ کی سب سے بڑی فروخت کہلائی گئی۔

اہم ترین بات یہ ہے کہ بھارت نے اپنی ماضی کی خارجہ پالیسی میں مکمل تبدیلی پیدا کرلی۔ حالاں کہ بھارت نے1947میں اسرائیل کی مملکت کے قیام کے لیے فلسطین کی تقسیم کی قرار داد کی مخالفت کی تھی، لیکن تین برس بعد اسرائیل کو تسلیم کرلیا تھا۔ عرب، اسرائیل تنازع میں بھارت کی خارجہ پالیسی واضح طور پر عرب نواز رہی۔ اسرائیل سے مکمل سفارتی تعلقات1992میں قائم ہوئے۔بھارتی جنتا پارٹی شروع ہی سے اسرائیل کی حامی رہی ہے۔ اور نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد اسرائیل، بھارت تعلقات مزید گہرے ہوئے۔یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ بھارت سے اہم شخصیات نے جب بھی فلسطینی خطے کا دورہ کیا، توپہلے فلسطین ہی گئے۔ بھارتی صدر پرنب مکھر جی، وزیر خارجہ سشما سواج اور ایس ایم کرشنا اسرائیل کا پہلے باضابطہ دورہ کرچکے ہیں، لیکن بھارت کے انتہا پسند وزیر اعظم نے موجودہ دورے میں فلسطین کو نظر انداز کردیا، حالاں کہ مئی کے مہینے میں دہلی میں فلسطینی صدر محمود عباس کے ساتھ وزیر اعظم مودی کی ملاقات ہوچکی تھی، لیکن حالیہ دورے میں وہ کسی فلسطینی لیڈر سے ملاقات نہیں کریں گے اور اسرائیل کے دورے تک ہی خود کو محدود رکھیں گے۔ یہ اسرائیل پرستی کی سب سے بُری مثال ہے۔ بھارت عموماََ اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں اس قدر ظاہری کبھی گرم جوش نہیں رہا تھا، کیونکہ بھارتی عوام کی بڑی تعداد خلیج کے ممالک میں کام کرتی ہے اور قیمتی زر مبادلہ بھارت کو ملتا ہے۔ لیکن خلیجی ممالک کے درمیان اختلافات اور امریکہ کی جانب جھکاؤ کی وجہ سے بھارت کو کھلا موقع مل گیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ اپنے خفیہ تعلقات کو ظاہر کردے۔ حالیہ امریکی دورے میں امریکہ کی جانب سے بھارت سے یہی مطالبہ تھا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو بڑھاوا دے۔ اسرائیل اور امریکہ کے نزدیک حماس یا لشکر طیبہ میں کوئی فرق نہیں، اس لئے حالیہ اسرائیلی دورے میں مسلم دشمن وزیر اعظم نتین یاہو نے پاکستان کے خلاف بھارت کی غیر مشروط اور مکمل مدد کرنے کا اعلان کیا۔ اسرائیلی وزارت خارجہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل مارک صوفر نے مقبوضہ بیت المقدس میں کہا کہ بھارت اور اسرائیل دونوں کو دہشت گردی کا سامنا ہے اور اسرائیل بھارت کو پاکستان سے درپیش دہشت گردی سے نمٹنے میں مکمل مدد دے گا۔مارک صوفر نے کہا کہ اسرائیل نے کبھی اپنے عزائم نہیں چھپائے کہ وہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے بھارت کی مکمل اور غیر مشروط حمایت کرتا ہے، بھارت کو نہ صرف پاکستان بلکہ اندرون ملک بھی دہشت گردی کا سامنا ہے، جس کا حالیہ تاریخ میں مشاہدہ کیا گیا ہے۔اسرائیلی وزارت خارجہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ لشکر طیبہ ہو یا حماس دونوں میں کوئی فرق نہیں، نہ ہم نے پہلے ان دونوں تنظیموں میں کوئی فرق کیا نہ آج کرتے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں پر استعمال ہونے والی پیلٹ گنیں بھی اسرائیل سے لی گئیں جن کے ذریعے وہ مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی لہر کو دبانے میں مصروف ہے۔ مقبوضہ علاقے میں نوجوان مظاہرین پر پیلٹ گنوں کے بے دریغ استعمال سے اب تک ہزاروں نوجوان اور بچے بینائی سے محروم ہوچکے ہیں۔ واضح رہے کہ خود اسرائیل فلسطینی مظاہرین کے خلاف پیلٹ گن استعمال کرنے سے گریزاں ہے کیوں کہ اسے خدشہ ہے کہ عرب ملکوں کے علاوہ یورپ اور امریکا میں بھی اس کا شدید ردعمل ہوگا اور وہ غیر معمولی دباؤ میں آجائے گا اس کے برعکس بھارت کو کسی کا خوف نہیں ہے، وہ مقبوضہ کشمیر میں پیلٹ گن آزادی سے استعمال کررہا ہے۔ کشمیری نوجوانوں کی بینائی سے محرومی کی خبریں بھی عالمی میڈیا میں آچکی ہیں لیکن پاکستان کے سوا کسی اور ملک نے اس پر اپنے ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔

1950ء میں بھارت کے وزیراعظم جواہر لال نہرونے یہ کہہ کر کہ''اسرائیل ایک حقیقت ہے''اسرائیل کوخودمختارریاست تسلیم کرلیاتھا۔لیکن عوامی دباؤاور سیاسی مفادات کی وجہ سے باقاعدہ سفارتی تعلقات 42 سال تک خفیہ رکھے۔چنانچہ 1992ء میں بھارت نے پہلی مرتبہ اسرائیل میں سفارت خانہ کھولا،جس کے بعد مستقل سفارتی،اقتصادی اور دفاعی تعلقات بڑھنا شروع ہوئے۔1997میں اسرائیل کے ساتویں صد ر عیزوایزمان پہلے اسرائیلی صدر تھے جنہوں نے بھارت کا دورہ کیا اور انڈیا کیساتھ اسلحے کی ڈیل کی۔اس کے بعد1999 میں کارگل جنگ کے موقع اسرائیل نے کھل کر بھارت کی حمایت اور مددکی، جس کا اقرار 2008ء میں اسرائیلی سفیر نے بھی کیا۔2000ء میں اسرائیلی نیوی نے بھارتی نیوی کے ساتھ مل کر بحیرہ عرب میں سمندری مشقیں کیں اور اسرائیل نے بھارت کو پانی کے اندر ہتھیار لے جانے والے میزائل فروخت کیے۔2000ء میں دونوں طرف سے اعلیٰ سطح کے وفود کا تبادلہ ہوا اور پہلی بار بھارتی وزیر خارجہ جسونت سنگھ نے تل ابیب کا دورہ کیا، اس دورے کے موقعے پر جسونت سنگھ نے کہا تھا کہ بھارت‘ اسرائیل تعلقات میں پیشرفت شعوری تبدیلی ہے۔بی جے پی کے پہلے دورِ حکومت میں بھارت‘ اسرائیل تجارت کا حجم 67 کروڑ 50 لاکھ ڈالر سے تین گنا بڑھ کر دو اعشاریہ ایک ارب ڈالر ہو گیا تھا۔بھارت اسرائیل تعلقات اس قدر گہرے ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کا سالانہ حجم پچھلے پانچ سال سے چار ارب ساٹھ کروڑ ڈالر ہے۔ 2007ئسے دونوں ملک آزاد تجارت معاہدے پر مذاکرات کر رہے ہیں اور اسرائیلی وزیر تجارت نے 2013ء میں کہا تھا کہ اگر معاہدہ طے پا گیا تو دونوں ملکوں کے درمیان سالانہ تجارتی حجم دس ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔ معاہدہ طے نہ پانے کی وجہ بھارت کے تحفظات ہیں کہ اس سے مقامی صنعت متاثر ہو گی۔ اس کے علاوہ بھارتی خفیہ ایجنسی''را ''بھی شروع سے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتی ہے۔90کی دہائی میں پاکستان نے را اور موساد کے پاکستان مخالف خفیہ تعلقات پر اس وقت آواز اٹھائی جب سیاحت کے نام پر دو اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے اہلکار مقبوضہ کشمیر میں آئے،ان میں سے ایک کو کشمیری مسلمانوں نے مار دیا اور ایک کو اغواکرلیا تھا۔نریندرمودی حکومت کے آنے کے بعدسیاسی اور دفاعی سطح پر اسرائیل کے ساتھ بھارتی تعلقات میں ماضی کی نسبت دوگنا اضافہ ہوا ہے۔اس کااندازہ اس سے لگایا جاسکتاہے کہ2014 میں یہودیوں کے خاص تہوار''چانوکا''کے موقع پر مودی نے عبرانی زبان میں

نیتن یاہو کوٹوئٹر پر مبارکبادی،جواب میں نیتن یاہو نے ہندی میں مودی کا شکریہ بھی ادا کیا۔

سوویت یونین، بھارت کو ہتھیار فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک رہا ہے، لیکن سوویت یونین کے خاتمے کے بعد بھارت کو اپنے جنگی جنون کے لئے نئی منڈی کی تلاش تھی اور اس کے لیے بھارت نے اپنے مفادات کے خاطر امریکہ کی جانب ہاتھ بڑھایا جسے دوغلی پالیسی رکھنے امریکہ نے فوراََ تھام لیا اور اس وقت امریکہ، بھارت کو سب سے زیادہ ہتھیار دے رہا ہے۔ حالیہ امریکہ دورے میں جس طرح بھارت، امریکہ بغل گیر ہوئے اور حریت پسند رہنما صلاح الدین کو عالمی دہشت گرد قرار دیا۔ اس پر پاکستان نے احتجاج بھی کیا۔ امریکہ اپنی دوغلی پالیسیوں کے سبب، پاکستان کی حمایت سے دور ہوتا جارہا ہے۔ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے کردار کو تسلیم بھی کرتا ہے، تعریف بھی کرتا ہے، لیکن ڈو مور کے مطالبے سے بھی باز نہیں آتا۔ امریکہ کے جان میکن او ر سینیٹرز نے چیف آف آرمی اسٹاف قمر باجوہ سے ملاقات میں پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف کوششوں و کردار کی تعریف بھی کی اور جنوبی وزیر ستان کا دورہ بھی کیا۔ لیکن دوسری جانب بھارت کو علاقے کا چوہدری بنانے کے لیے پاکستان کے ملنے والی فوجی امداد میں کمی اور مطالبات کی فہرست بھی سامنے رکھتا ہے۔ امریکہ و اسرائیل کو چین کے نئے اقتصادی عالمی منصوبے کی کامیابی سے خوف ہے۔ پاکستان کیونکہ اس منصوبے کا اہم اتحادی ہے اس لئے پاکستان کو اپنے دباؤ میں لانے کے لئے ایک جانب، افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کروارہا ہے تو دوسری جانب بھارت کو مسلسل شہ دے رکھی ہے، لائن آف کنٹرول کی مسلسل خلاف ورزیوں اور مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم اور سات لاکھ بھارتی فوجیوں کی بربریت کو نظر انداز کر رکھا ہے۔

اسرائیل، پاکستان کو اپنی ریاست کی توسیع کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے پاکستان کے ایٹمی پاور بننے کو کبھی برداشت نہیں کیا گیا اور ماضی میں ایک وقت ایسا بھی آیا کہ اسرائیل نے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کی اور بھارت کے فوجی اڈوں کو استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا، لیکن پاک فوج کی جانب سے بروقت اقدامات کی وجہ سے اسرائیل اپنے منصوبے کو شرمندہ تعبیر نہیں کرسکا۔ اسرائیل متعدد بار کوشش کرچکا ہے کہ پاکستان، اسرائیل کو تسلیم کرلے، لیکن روز اول سے پاکستان کے اصولی موقف میں تبدیلی نہیں آئی۔ پاکستان نے فلسطین پر اسرائیل کے جابرانہ ہر اقدام کی مذمت کی۔ اور بیت المقدس کی آزادی کے لیے کھل کر اظہار کیا۔ یہاں سب سے اہم بات یہ ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد آباد ہے۔ بھارتی مسلمان، تیسرے نمبر پر عالمی آبادی میں شمار کئے جاتے ہیں۔ اسرائیل کے ساتھ، ہندو انتہا پسند حکومت کے تعلقات سے فلسطینی مسلمانوں کی آزادی پر بھی ضرب پڑے گی۔ بھارتی مسلمان یقینی طور پر اسرائیل کے ساتھ، اپنی حکومت کے حق میں نہیں ہیں، لیکن جس طرح بھارت میں ہندو انتہا پسندی کو فروغ دیا جارہا ہے اور مسلمانوں کو چوتھے درجے کا شہری بنا کر ان پر عرصہ حیات تنگ کیا جارہا ہے، اس سے بھارتی مسلمانوں میں ہندو انتہا پسند بھارتی حکومت کے خلاف مسلسل نفرت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بھارت کا یہ رویہ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ، دلت، عیسائی اور دیگر ہند و نچلی ذاتوں کے ساتھ بھی روا رکھا جارہا ہے، جس سے بھارت میں علیحدگی پسند تحریکوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس وقت 31سے زائد مسلح علیحدگی پسند تحریکیں، بھارتی سرکار کے لیے مشکلات کا سبب بنی ہوئی ہیں، بھارت کی عوام کو ایک وقت کا کھانا بھی میسر نہیں، رہنے کے لیے گھر نہیں، بڑی تعداد فٹ پاتھ پر ہی نسل در نسل بد ترین زندگی گزار رہی ہے۔ عام انسان کا معیار زندگی، غربت کی بدترین مثالوں میں سے ایک ہے۔ بھارتی عوام کو زہریلی شرابوں اور سنیماؤں میں فحاشی کے فروغ میں مصروف رکھا ہوا ہے۔ بھارت کی اسمبلیوں میں گینگ وار سے تعلق رکھنے والوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ مہنگائی اور صحت کے شعبوں میں بھارتی عوام پس کر رہ گئی ہے۔ ٹیکس کلچر مضبوط ہونے کے باوجود بھارتی عوام کو ریلیف نہیں ہے۔ بھارت عوام کی خون پسینے کی کمائی صرف اپنے جنگی جنون پر خرچ کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ بھارت، اپنے فوجیوں کو اچھا کھانا دینے کے بجائے ہتھیار دینے پر زیادہ توجہ مرکوز رکھتی ہے۔

بھارت نے اپنے جنگی جنون میں اس قدر اضافہ کردیا ہے کہ بھارتی شہریوں اور میڈیا تک کو ’ پاکستان ‘ فوبیا ہوگیا ہے۔ بھارت کے جھوٹے اور بلند بانگ دعوے خود ان کا میڈیا اور اپوزیشن جماعتیں رد کردیتی ہیں۔ پاکستان کے خلاف الزام تراشیوں کو اپنا وطیرہ بنا لیا ہے۔ پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کی ناپاک خواہش لئے، افغانستان کی سرز مین سے پاکستان میں مسلسل دہشت گردی کرارہا ہے۔ بھارتی ہٹ دھرمی اور بے غیرتی کی ایک مثال کلبھوشن یادو ہائی پروفائل کیس ہے، جس میں پہلے بھارت نے کلبھوشن یادو کو تسلیم کرنے سے انکار کیا پھر جب پاکستان کی عدالت سے پھانسی کی سزا ہوئی تو دوڑتا ہوا، عالمی عدالت انصاف جا پہنچا۔

بھارت کی اسرائیل پالیسیوں کو، ایران کی جانب سے بھی پسند نہیں کیا جا رہا ہے۔ کیونکہ ایران، اسرائیل کے وجود کے خلاف گذشتہ کئی عشروں سے صف آرا ہے۔ اسرائیل، بھارت گٹھ جوڑ میں ایک دوسرا اہم پہلو چین کی جانب سے بھی اسرائیلی دفاعی صنعت کو پرکشش ترغیبات دی جا چکی ہیں اور کئی دفاعی منصوبوں پر اسرائیل اور چین مل کر کام کررہے ہیں، جس کی وجہ سے بھی بھارتی سرکار کی اسرائیل نوازی غیر موثر ہوسکتی ہے، جب اسرائیل اور چین اشتراک سے دفاعی معاہدے بڑھتے چلے جائیں گے۔اسرائیل کی ایروا اسپیس انڈسٹریز کا دعوی ہے کہ چین میں ان کی صنعت خالصتاََ سول مقاصد کے لیے ہے کیونکہ چین اگلے دو عشروں میں اپنے ہوائی اڈوں کی تعداد کو دوگنا کرکے60تک لے جانا چاہتا ہے۔ اسرائیل چین کو بھی اسلحہ فراہم کررہا ہے، روس کے بعد اسرائیل، چین کو اسلحہ فراہم کرنے والا دوسرا بڑا ملک گمان کیا جاتا ہے۔

روس کے تعلقات پاکستان کے ساتھ مسلسل بہتری کی جانب گامزن ہے۔ امریکہ کی جانب سے پاکستان کو نظر انداز کئے جانے کی پالیسی کے بعد، پاکستان نے بھی نئے بلاک میں پیش قدمی کی۔ گوکہ پاکستانی فوج کا اسلحہ کا زیادہ انحصار امریکہ پر کرنا پڑتا تھا، پاکستان نے امریکہ سے اپنا انحصار کم کرکے روس کی جانب مرکوز کردیا ہے۔ MI 35ہیلی کاپٹرز کا روس کی جانب سے پاکستان کو دیئے جانے کی یقین دہانی سے یقینی طور پر پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں میں مزید اضافہ ہوگا۔ کیونکہ روایتی جنگ میں MI 35ہیلی کاپٹر ٹینک شکن کا کام دینے کے ساتھ ساتھ دشمن کے پیش قدمی پر ٹینکوں کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔بھارتی ہندو انتہا پسند وزیر اعظم کے اسرائیلی دورے کو کافی بڑھا چڑھا کر پیش کیا جارہا ہے اور بھا رتی میڈیا ایسے سفارتی کامیابی قرار دے رہے ہیں، تاہم اس گٹھ جوڑ میں اہم صورتحال افغانستان میں بھارتی ’ را ‘ ایجنٹس کا داعش اور افغان ایجنسی خاد کے لیے کام کرنے کے علاوہ اسرائیل کی بد نام زمانہ ایجنسی موساد کا بھی شامل ہونا ہے۔ جو مسلسل پاکستان کے خلاف سازشیں کررہے ہیں۔

بھارت، دراصل مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے ظلم کو چھپانے اور اپنے سات لاکھ سفاک فوجیوں کی موجودگی کے جوا ز پر پردہ ڈالنے کے لیے پاکستان کے خلاف، بے بنیاد پروپیگنڈا اور سازش رچا نے میں مصروف ہے۔ بد قسمتی سے پاکستان کی سیاسی جماعتیں موجودہ صورتحال میں پاکستان کی سا لمیت و بقا کے خلاف ہونے والے سازشوں کے خلاف صف آرا اور یک جہتی کا مظاہرہ کرنے کے بجائے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں مصروف ہیں۔ تاہم پاک فوج کا تازہ بیان سامنے آچکا ہے، ان کے نزدیک سب سے پہلے پاکستان کا تحفظ ہے۔ اور پاک فوج مستعدی کے ساتھ اندرونی خلفشار و سیاسی اکھاڑ پچھاڑ کے باوجود شمالی مغربی سرحدوں کے ساتھ مشرقی سرحدوں اور سمندری حدود کا بھرپور دفاع کررہی ہے۔ بھارت، اسرائیل گٹھ جوڑ چاہے جتنا بھی کامیاب ہوجائے، لیکن پاکستانی عوام اپنی پاک افواج کے ساتھ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح دشمن کے سامنے جان ہتھیلی پر رکھ اپنی سرزمین کا دفاع کرنا جانتے ہیں۔ہماری بری، فضائی اور بحری افواج دنیا میں بہترین عسکری طاقت مانی جاتی ہے۔ جدید ترین اسلحے اور روایتی جنگ سمیت غیر روایتی ایٹمی جنگ تک کے لیے سرزمین پاکستان کے دفاع اور اپنے ایٹمی اثاثوں کی حفاظت کرنا آتا ہے۔ ساتھ ہی کشمیری عوام کی حمایت جاری رکھنے کا عزم ایک ایک پاکستان کے دل میں ہے اور آزادی کشمیر اور بیت المقدس کی آزادی کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ کرنے سے پاکستانی قوم پیچھے نہیں ہٹے گی اور یہ بات، بھارت اور اسرائیل اچھی طرح جانتے ہیں۔