سراج الحق کی پانامہ گگلی - اختر علی تابش

آخر کار نواز شریف کے اقتدار کا تیسرا سورج بھی غروب ہو گیا بلکہ اب کی بار تو پستی کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوب گیا. تین دہائیوں سے سیاسی وکٹ پر شاندار بیٹنگ کرنے اور اقتداری چھکوں کی ہیٹ ٹرک کرنے والے کامیاب ترین سیاسی کھلاڑی کو اعلیٰ عدلیہ کے "پانچ سرا" (یہ سعید اجمل کے دوسرا کی ایڈوانس شکل ہے) نے نہ صرف کلین بولڈ کر دیا بلکہ انجرڈ کرکے پویلین واپس بھیج دیا. بڑا ٹف میچ رہا، ن لیگ اور تحریک انصاف میں. عمران خان نے تقریباً ہر "یارکر" پر آؤٹ کا نعرہ بلند کرتے ہوئے امپائر کی طرف دیکھا. کروڑوں تماشائی بھی عمران خان کی اپیل پر "میدان" میں موجود ایمپائر کی طرف دیکھتے کہ شاید اب انگلی اٹھا دے، مگر ہر بار مایوسی ہوتی. پھر ایک دن سراج الحق "پانامہ گگلی" کی اپیل لے کر تھرڈ ایمپائر کے پاس گئے. ایمپائرز نے بہت دیر تک یعنی بہت دنوں تک اس "پانامہ گگلی" کو مختلف زاویوں سے دیکھا اور آخرکار نواز شریف کو آؤٹ قرار دے دیا. تحریک انصاف لاکھ جشن منائے، لیکن سچ یہی ہے کہ اس جیت کا ہیرو سراج الحق ہی ہے.

نوازشریف کے نااہل ہونے سے حکومت مخالف جماعتوں میں خوشیاں رقص کناں ہیں اور عوام کو الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے یہ بتانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ملک کی ترقی کی راہ میں واحد رکاوٹ نواز شریف ہی تھے، وہ نہیں رہے تو اب سب ٹھیک ہے، حالانکہ یہ صرف ابتدا ہے، ابھی بہت ساری رکاوٹیں باقی ہیں.

ایک دن سراج الحق "پانامہ گگلی" کی اپیل لے کر تھرڈ ایمپائر کے پاس گئے. ایمپائرز نے بہت دیر تک یعنی بہت دنوں تک اس "پانامہ گگلی" کو مختلف زاویوں سے دیکھا اور آخرکار نواز شریف کو آؤٹ قرار دے دیا. تحریک انصاف لاکھ جشن منائے، لیکن سچ یہی ہے کہ اس جیت کا ہیرو سراج الحق ہی ہے.

ہاں! ایک اہم پیش رفت نظر آتی ہے کہ اب انصاف جاگ گیا ہے. اور یہ نقارہ ہے کہ اب عوام کی تکلیفوں کا بھی کچھ مداوا ہوگا. لیکن عدلیہ کا ابھی بہت سارا کام باقی ہے. ابھی تو جو ان سیاستدانوں نے غریب عوام کا پیسہ لوٹ کر باہر کے بنکوں میں اپنے لیے جہنم کا ایندھن جمع کر رکھا ہے. ابھی تو اس کا حساب باقی ہے.

یہ بھی پڑھیں:   سابق وزیر اعظم نواز شریف کا بیرون ملک علاج: ایئر ایمبولینس اتنی مہنگی کیوں؟

یہ احتساب صرف میاں نوازشریف خاندان کا ہی نہیں بلکہ ہر کرپٹ انسان کا ہونا چاہیے، چاہے وہ کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ ہو، فوجی ہو، دین کا پرچار کرنے والا ہو، عدلیہ کا جج ہو، یا کسی بھی ادارے میں عوام کے خزانے پہ بیٹھا کالا ناگ ہو. سب کو کٹہرے میں لایا جائے اور ان کے حلق میں انصاف کی انگلی ڈال کر عوام کی امانتیں اگلوائی جائیں. لیکن ایسا ہوتا مجھے تو دور تک بھی نظر نہیں آتا.

اگلے الیکشن بھی قبل از وقت ہوتے نظر آتے ہیں. مگر اگلی حکومت میں بھی کوئی نیا اور محب وطن چہرہ نظر نہیں آتا. وہی پرانے اقتداری بھوکے ایوانوں میں دکھائی دے رہے ہیں جن کے جبڑوں سے عوام کا لہو ٹپک رہا ہے. ہو سکتا ہے عمران خان اقتدار میں آ کر عوام کا مسیحا بنے مگر جس گاڑی کو وہ لے کر ایوان اقتدار کی طرف بڑھ رہا ہے، اس گاڑی میں بھی بےشمار ڈاکو سوار ہو گئے ہیں بلکہ یہ "انصافین ٹرانسپورٹ " اغوا ہو چکی ہے. اور یوں آنے والے وقت میں عوام ایک بار پھر لٹتے اور زخم کھا تے نظر آ رہے ہیں.

اپنی جاگتی عوام سے بس اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ اب کی بار ذرا سوچ سمجھ کر کسی حقیقی صادق اور امین کا انتخاب کیجیے گا. اب کی بار کسی پارٹی یا شخصیت کو نہیں بلکہ اپنے ملک کو ووٹ دیجیے گا، اپنے آپ کا انتخاب کیجیے گا.