عمران خان کا اصل امتحان اب ہے - سید معظم معین

عمران خان کا اصل امتحان اب شروع ہوا ہے۔ چار سیٹوں کے دھاندلی سے شروع ہونے والا احتجاج پاناما لیکس کے بعد سراج الحق کے سپریم کورٹ میں جانے سے کرپشن کیس میں بدلا۔ اس وقت اگر یاد ہو تو عمران خان کہا کرتے تھے کہ سپریم کورٹ جانے سے کیا فائدہ ہوگا، وہ اس پر کمیشن بنا دے گی جو وزیر اعظم کے ماتحت کام کرے گا اور نواز شریف ان کو خرید لے گا، اس لیے نواز شریف استعفی دے، پھر اس کے بعد احتساب ہو۔ اس وقت وہ نواز شریف کے جانے کا وقت دنوں نہیں گھنٹوں میں دیا کرتے تھے۔ بہرحال بعد میں عمران خان بھی سپریم کورٹ چلے گئے۔ یوں نواز شریف کو نااہل کرانے میں جماعت اسلامی اور تحریک انصاف دونوں کے کردار کو تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں۔

اب اصل امتحان شروع ہوگا۔ دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان پاناما لیکس کے بقیہ کرداروں اور دیگر کرپٹ عناصر جو ان کی اپنی پارٹی میں بھی شامل ہیں، کے خلاف تحریک جاری رکھتے ہیں یا ایک نواز شریف کو نااہل کروا کر اپنی وزارت عظمی کی راہ ہموار کرنے تک ہی محدود رہتے ہیں۔ اگر احتساب کا دائرہ مزید وسیع نہ ہوا اور احتساب کے بغیر انتخابات کی طرف جایا گیا تو پھر وہی کرپٹ لوگ منتخب ہو کر ایوانوں میں پہنچ جائیں گے اور سانپ اور سیڑھی کا یہ کھیل یونہی جاری رہے گا۔

سراج الحق اس موقع پر پاناما لیکس کے دیگر چار سو کرداروں کے احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں اور یہ تاریخ کی درست سمت ہے. اگر اب عمران خان بھی اس موقع پر ان کی آواز میں آواز ملا کر کرپٹ عناصر کے خلاف یکسو ہو جائیں، خواہ وہ ان کی اپنی جماعت کے اندر ہی کیوں نہ ہوں، تو یہ بہترین موقع ہے کہ کرپٹ مافیا سے جان چھڑا لی جائے۔ مگر اب اگر عمران خان نے بےصبری کا مظاہرہ کیا اور وزارت عظمی کے لالچ میں بغیر احتساب کے انتخابات میں گئے تو وہ اعتماد جو اس وقت عوام کو کرپشن کے خلاف حاصل ہوا ہے، وہ ریزہ ریزہ ہو جائے گا اور پھر دوبارہ سیاستدانوں کی جانب سے احتساب کے نعرے کو ہمیشہ شک کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   یہ دفاعی نہیں تباہی کے اسباب ہیں - حبیب الرحمن

گزشتہ روز اپنی تازہ تقریر میں انھوں نے زرداری اور مولانا فضل الرحمن کے پیچھے جانے کا بھی نعرہ لگایا لیکن اس نعرے کو سچا ثابت کرنا آسان ثابت نہیں ہوگا. یہ پہلے سے مشکل مرحلہ ہوگا کہ اب کرپٹ عناصر بھی اپنی پوزیشنیں سنبھال لیں گے۔ کرپشن کے خلاف جنگ اکیلے اکیلے نہیں لڑی جا سکتی، پوری قوم کو اس کے خلاف متحد کرنا ہوگا اور ایماندار افراد کو یکجا ہونا ہوگا لیکن عمران خان کے لیے سب سے بڑا چیلنج خود ان کی اپنی پارٹی میں موجود کرپٹ عناصر ثابت ہوں گے۔ دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان ان سے کیسے نبرد آزما ہوتے ہیں۔

تو عمران خان کا اصل امتحان اب شروع ہوا ہے۔ اس وقت اپنی پارٹی کے اندر سے بھی کرپٹ عناصر کو باہر پھینکنا ہوگا، اربوں کی کرپشن کرنے والے تحریک انصاف کی پناہ نہ حاصل کرنے پائیں۔ بغیر احتساب کے الیکشن کیچڑ میں ریت ملانے کے مترادف ہے۔ لیکن اگر اس وقت صرف ایک نواز شریف یا شریف خاندان کی نا اہلی تک ہی محدود رہا گیا تو یہ سمجھا جائے گا کہ عمران خان احتساب کے نعرے کو اپنی سیاست چمکانے لے لئے استعمال کرتے رہے اور اصل احتساب ان کا ایجنڈا کبھی نہیں رہا۔

Comments

سید معظم معین

سید معظم معین

معظم معین پیشے کے اعتبار سے مہندس کیمیائی ہیں۔ سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ مشینوں سے باتیں کرتے کرتے انسانوں سے باتیں کرنے کی طرف آئے مگر انسانوں کو بھی مشینوں کی طرح ہی پایا، وفا مگر مشینوں میں کچھ زیادہ ہی نکلی۔ دلیل کے مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.