مادہ پرستی کے طوفان میں انتہاؤں کا سفر - ڈاکٹر رضوان اسد خان

ہم پہلے یہ دیکھ آئے ہیں کہ مغرب نے جب کلیسا کے تسلط سے آزادی حاصل کی تو ان کے معاشرے میں سیکولر ازم کے حوالے سے ردعمل کے طور پر 4 جوہری تبدیلیاں رونما ہوئیں:
1. خدائی علوم کی جگہ مادی علوم کو ترجیح
2. آخرت کی بجائے دنیا کو ترجیح
3. روحانی علاج پر جسمانی علاج کو ترجیح، حتی کہ روح کے وجود کا مکمل انکار
4. اخلاقیات کے الہی معیارات کی بجائے انسانی معیارات کی تقدیس.

اس کے علاوہ جو لوگ مذہب سے مکمل طور پر جان چھڑانے کو تیار نہ تھے، انہوں نے "پروٹسٹنٹ" نام کا نیا فرقہ بنا لیا. "پروٹسٹنٹ" کا مطلب ہے احتجاج کرنا. یہ لوگ گویا پوپ کے "پیغمبرانہ" اختیارات پر احتجاج کے طور پر الگ ہوئے. یہ اس قدر بڑی چھلانگ تو نہ لگا سکے کہ عیسی علیہ السلام کے ابن اللہ ہونے کا ہی انکار کر دیتے، البتہ انہوں نے مادہ پرستی کے بہت سے نکات کو مذہب میں داخل کر دیا. انہوں نے اس تصور پر "احتجاج" کیا کہ انسان حالت گناہ میں پیدا ہوا ہے اور یہ تصور عام کیا کہ خدا انسان سے محبت کرتا ہے اور مادی ترقی دراصل اس کی محبت کی علامت ہے. (عین وہی تصور جو سورۃ الکہف میں دو باغوں والے کا تھا)

اس کے بعد جب یورپ اور بالخصوص برطانیہ نے اپنی سلطنت کو وسعت دی اور نو آبادیاتی نظام اپنایا تو شروع شروع میں تو مقامی آبادیوں، خاص کر مسلمانوں نے خوب مزاحمت کی اور کئی علاقوں میں آزادی کی جنگیں بھی لڑی گئیں اور بے شمار قربانیاں بھی دی گئیں. برصغیر کے تناظر میں دیکھیں تو جب بوجوہ یہ مزاحمت کامیاب نہ ہوئی تو ایک طرح کی مایوسی نے لوگوں کو گھیر لیا اور بطور ردعمل 2 طرح کے طبقات وجود میں آئے:

1. ایک وہ جنہوں نے قابض قوتوں کی جسمانی ہی نہیں بلکہ ذہنی غلامی کو بھی نجات کے لیے ضروری خیال کیا. یہ ان کے مادہ پرستانہ فلسفے سے مکمل طور پر متاثر ہوئے اور اپنے دین کی ہر اس چیز پر تیشہ چلایا جو اس فلسفے سے ٹکراتی تھی. احادیث اور معجزات کا انکار کیا، جہاد کو منسوخ قرار دیا اور مادہ پرستانہ فکر کے مطابق دنیاوی اور سائنسی علوم کے حصول کو ہی راہ نجات قرار دیا.

یہ بھی پڑھیں:   اسلام نے عورت کو عزت دی - حاجی محمد لطیف کھوکھر

2. دوسری طرف مذہبی طبقہ تھا. انھوں نے جب دیکھا کہ طاقت کے استعمال سے بات نہیں بنی تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ دینی تعلیمات کو محفوظ کرنے اور ان کی ترویج کے لیے مزاحمت کو ترک کر کے مکمل بائیکاٹ کی پالیسی اپنائی جائے اور اپنے مدارس میں محصور ہو کر تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا جائے. یوں یہ انگریزی تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی اور ان کے حصول میں مصروف مسلمانوں سے مکمل کٹ گئے. اسی وجہ سے وہ طریقہ بھی "ایجاد" کرنا پڑا کہ اگر کسی دنیا دار کو دیندار بنانا ہے تو اسے اپنے ماحول میں "وقت لگوایا" جائے.

نتیجتاً دو انتہائیں وجود میں آئیں جو مقناطیس کے مخالف قطبوں کی طرح ایک دوسرے کو دھکیلتی رہیں. یہاں تک کہ جب انگریزی قبضے سے نجات کا وقت آیا تو مسئلے کے سیاسی حل کے لیے بھی معدودے چند، "انفرادی" استثنائی صورتوں کے(مثلاً اقبال رح، مودودی رح، شبیر احمد عثمانی رح وغیرہ)، یہ دونوں گروہ اب بھی دو مخالف انتہاؤں پر کھڑے نظر آئے.

پھر یوں ہوا کہ آزادی کے بعد جب اہل جبہ و دستار مدارس کے حصار سے معاشرے میں واپس آئے تو انہیں پتہ چلا کہ دنیا بدل چکی ہے اور یہ کہ اب ان کی معاشرے میں وہ فیصلہ کن اور اعزازی حیثیت برقرار نہیں رہی جو فرنگی قبضے سے پہلے تھی. لوگ اب انہیں وہ "لفٹ" نہیں کرواتے، اپنے فیصلے ان سے نہیں کرواتے. اس بات نے انہیں مزید مشتعل کیا اور ردعمل میں انھوں نے سیکولر گورے کے نقش قدم پر چلنے والوں کے خلاف "تاریک دور" کے کلیسا و پوپ والا رویہ اختیار کر لیا: علماء سے دوری اور ناقدری کو دین سے دوری اور ناقدری قرار دیا گیا، حالانکہ ضرورت اس امر کی تھی کہ مرض کی تشخیص کر کے اس کے مطابق علاج کیا جاتا، لیکن یہاں "ریڈیکل سرجری" کے طریقے کو اپنایا گیا اور یوں یہ خلیج وسیع ہوتے ہوتے اب اس مقام تک پہنچ گئی ہے کہ آج دنیاوی لحاظ سے مستحکم والدین کا بچہ کہیں یہ کہہ بیٹھے کہ میں قرآن و حدیث کا علم حاصل کرنا چاہتا ہوں تو اس کے والدین پریشان ہو جاتے ہیں کہ یہ دنیا میں ترقی کیسے کرے گا.

یہ بھی پڑھیں:   مذہب ،انسان اور مسلمان - شیخ عبدالرشید

دوسری طرف دینی رجحان والے لوگ زبردستی اپنے بچوں کو مدارس کے مخصوص ماحول میں بھیجتے ہیں جہاں وہ جبری دینی تعلیم کے بعد "مذہبی سیکولر" بن کر نکلتے ہیں. یعنی تمام دنیاوی علوم کو "کفریہ" سمجھنے والے.

یہ دین اس قابل تھا کہ امت کے اعلی ترین اذہان اس کا علم حاصل کرتے اور ساتھ ہی دنیاوی "نافع" علوم کو اس کے ساتھ مربوط کر کے دنیا کو ایک منفرد نظام دیتے جو قدیم و جدید کا بہترین امتزاج ہوتا. مگر افسوس، ان دو انتہاؤں کے سیکولرازم نے پہلے ہی فرقہ فرقہ امت کو مزید پھاڑ کر رکھ دیا.

آج کچھ ذہین علماء نے اس تفاوت کا احساس کرتے ہوئے لبرل ازم اور سیکولرازم کی طرف مائل جدید اذہان کو دھتکارنے کے بجائے ایسی درسگاہوں (مثلاً جامعۃ الرشید) کے قیام کی ضرورت کو محسوس کیا ہے جو سب سے پہلے آج کے نوجوان کے دل سے مادہ پرستی کا دجالی زہر نکالتی ہیں. اور یوں لبرل/سیکولر سوچ کا کیڑا اپنی موت آپ مر جاتا ہے. پھر اس کے جدید مسائل کا حل جب قرآن و حدیث سے پیش کیا جاتا ہے تو اس کی آنکھیں اس نور سے چندھیا جاتی ہیں. یوں وہ اس نور سے محض اپنی بصارت و بصیرت کا علاج ہی نہیں کرتا بلکہ خود اسے پھیلانے والا داعی بن کر نکلتا ہے.

(استفادہ - استاذ نعمان علی خان)

Comments

رضوان اسد خان

رضوان اسد خان

ڈاکٹر رضوان اسد خان پیشے کے لحاظ سے چائلڈ سپیشلسٹ ہیں لیکن مذہب، سیاست، معیشت، معاشرت، سائنس و ٹیکنالوجی، ادب، مزاح میں دلچسپی رکھتے ہیں، اور ان موضوعات کے حوالے سے سوالات اٹھاتے رہتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.