پنچایت کا فیصلہ، دانشور اور ہماری عدالتیں - ابوبکر قدوسی

میرے مخاطب یہاں سوشل میڈیا کے "دانش ور" ہیں کہ جو ہر دم اپنی روشن خیالی کا باجا بجاتے رہتے ہیں اور اس شور میں کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی. ان کا کہنا کہ اسلام کی سزائیں وحشیانہ ہیں. ابھی کل ایک صاحب، جو کینیڈا میں بیٹھ کر فیس بک پر دانشوری بگھارتے ہیں، کا لکھنا تھا "بہیمانہ اسلامی شریعت"، تو ان دانش وروں سے سوال ہے کہ اسلامی شریعت تو ہوگئی "بہیمانہ"، یہ جو آپ کا عدالتی نظام ہے جو مکمل روشن خیالی پر مبنی ہے اور اسے چلانے، بنانے والے تمام کے تمام روشن خیال ہیں، عام لوگوں کو اس پر اعتماد کیوں نہیں؟
لوگ کیوں کر اپنے معاملات ہر ممکن حد تک اپنے ہاتھوں حل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں؟
دیکھیے نا، جج حضرات عمومی طور پر روشن خیال، لبرل اور دین سے بہت حد تک دور ہیں، گو سب نہیں.
وکلاء حضرات میں بھی یہی صورت ہے، گو یہاں بھی بہت سے دین دار افراد موجود ہیں، لیکن بات اکثریت کی ہے.
عدالتی نظام بیشتر انگریز کا چھوڑا ہوا.
تفتیش کا نظام آج بھی انگریز کے دیے ہوئے خطوط پر گامزن.

تازہ واقعے نے پھر سے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ مولوی کی بات، اس کا مطالبہ تو ہوا "دقیانوسی"، آپ پر لوگوں کو اعتماد کیوں نہیں؟
خبر آئی ہے کہ پنجاب میں ایک خاتون کے ساتھ ایک آدمی نے زنا کاری کی، اس کے لواحقین نے پولیس میں جانے کے بجائے خود سے بدلہ لینے کا فیصلہ کیا، اور پنچایت کے شرمناک فیصلے کے بعد مجرم کی بہن کے ساتھ ویسے ہی زیادتی کر ڈالی.

سوال یہ ہے کہ اسلام ہوتا، حدود اللہ نافذ ہوتیں تو کیا ایسا ممکن تھا؟
جی ہاں! حدود اللہ نافذ ہوتیں اور اسلامی عدالتیں کام کر رہی ہوتیں تو یہ معاملہ دو چار دن میں نپٹ جاتا. اگر مجرم تھا تو سزا ہو جاتی اور اگر محض الزام تھا تو الزام لگانے والوں پر حد قذف کے کوڑے برس رہے ہوتے، لیکن یہاں کا عدالتی نظام کہ جس میں انصاف گاہے سو برس میں بھی نہیں ملتا. مظلومین کو یقین ہوتا ہے کہ عدالت میں گئے تو پہلے پولیس والوں کے پاس جانا ہوگا، جہاں بنا رشوت کے آپ ایف آئی آر بھی درج نہیں کروا سکتے، اور اس کے بعد بھی انصاف کے حصول کے لیے پولیس کو مسلسل پیسہ دینا پڑتا ہے. فریق ثانی یعنی ملزمان اس دوران متاثرہ فریق سے کہیں زیادہ پیسہ بہا رہے ہوتے ہیں. اگر اس مرحلے سے عافیت سےگزر بھی جائیں تو آگے عدالتی نظام کا آکٹوپس درجنوں بازو اور بیسیوں منہ کھولے آپ کا منتظر ہوتا ہے. آپ بچیں گے بھی تو کیسے؟

یہی وجہ ہے کہ ہمارے دیہاتوں اور گاہے شہروں میں مظلومین اپنے لیے انصاف اپنے زور بازو سے ہی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اس کو انتقام کہتے ہیں، اور اس سے ہی انسانی جبلت کے ابلتے تقاضے سرد ہوتے ہیں.

اس کیس میں بھی یہی ہوا ہے کہ ملک کے نظام انصاف پر کوئی اعتماد نہ تھا، سو خود ہی عدالت رچا کر فیصلہ کر لیا گیا. بےحد شرمناک فیصلہ کہ جس پر زمین پھٹ جائے، آسمان کا سینہ شق ہو جائے، لیکن شور احتجاج، دکھ اور تاسف جو بھی ہے چند روز کی بات ہے، پھر یہی روز و شب اور یہی دن اور رات جہاں راوی چین ہی چین لکھتا ہے. ہم ان حادثات کے عادی ہو چکے ہیں.

لیکن سوال تو اپنی جگہ منہ کھولے کھڑا ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟
ماسوائے اس کے کیا سبب ہے کہ عدالتی نظام پر، سزا کے نفاذ پر، انصاف پر لوگوں کا اعتماد اٹھ چکا. یہاں مجرم بھی جب عدالت جاتے ہیں تو وکٹری کا نشان بنا کے جا رہے ہوتے ہیں. بھلے انہوں نے ملک و قوم کے اربوں روپے کھا لیے ہوں.

ابھی پچھلے برس گوجرنوالہ میں ایک شادی پر بےتحاشا ہوائی فائرنگ ہوئی، اتنی زیادہ کہ میڈیا پر اس کی فلمیں آ گئیں، ملزمان پکڑے گئے، اگلے روز ان کی ضمانت ہو گئی. جب دونوں ضمانت پر عدالت سے باہر آ رہے تھے تو حسب معمول وکٹری کا نشان بنا رہے تھے، لیکن ایک جملہ جو ان عام سے ملزمان نے کہا، میں اسے تاریخی سمجھتا ہوں.گو غلط بات تھی، لیکن تاریخی اس بنا پر کہ حقیقت کے چہرے سے نقاب الٹا دیا. " معزز ملزم " نے فرمایا:
"مجھے اس فیصلے کا یقین تھا کیونکہ عدالتی نظام کی خبر تھی"
لیجیے سمیٹیے اور اس "نشان حیدر" کو سنبھال کے رکھیے.