باپ، بچے اور بدسلوکی - خواجہ مظہر صدیقی

ایک زوردار تھپڑ کی گونج نے مجھے اپنی طرف متوجہ کیا تھا. ہم مری کے ایک بڑے ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے آئے ہوئے تھے. ہم نے کچھ دیر پہلے کھانے کا آرڈر لکھوایا تھا. ہماری میز کے دائیں جانب ایک مختصر فیملی کھانے میں مصروف عمل تھی. یہ فیملی تین بچوں اور میاں بیوی پر مشتمل تھی. چھ سات سالہ بچے کی کسی غلطی پر باپ نے اسے ایک زور دار تھپڑ رسید کیا تھا.. بارہ تیرہ برس کے بڑے بیٹے نے مداخلت کی اور صرف اتنا کہا "بابا"...، باپ نے ایک تھپڑ اس بڑے بیٹے کو بھی جڑ دیا. اس دوسرے تھپڑ کی گونج کو بھی پورے ہال نے سنا... ہم چونکہ ان کے بلکل قریب بیٹھے تھے. اس لیے ہمیں تھپڑ کی آواز زیادہ اونچی سنائی دی. ایک باپ کے ہاتھوں دو بیٹوں کی پٹائی پر ریسٹورنٹ کا ماحول خاصا رنجیدہ ہو گیا تھا. سب کی نظریں اس میز کے ننھے بچوں پر جمی تھیں. بچے روتے ہوئے سسکیاں بھی بھر رہے تھے. غصے سے بھرا باپ فیملی اور کھانا چھوڑ کر ہال سے باہر نکل گیا...

میں نے اکثر مواقع پر دیکھا ہے کہ ایک باپ جو بہت کم وقت کے لیے بچوں کے ساتھ ہوتا ہے. ان اوقات میں بھی وہ بچوں کے ساتھ ڈکٹیٹر والا سلوک کرتا ہے. بچوں کو ڈانٹ ڈپٹ کرتا ہے. یہاں تک کہ گالی گلوچ اور ہاتھ اٹھانے سے بھی گریز نہیں کرتا... جب کہ ایک ماں کس خوبی و مہارت سے، صبر و تحمل سے اور بہترین حکمت و دانش سے پورے چوبیس گھنٹے بچوں سے ڈیل کرتی ہے. ایسی عظیم ماؤں کو سلام ہے. کہ وہ ہر طرح کی صورت حال میں بچوں سے حسن سلوک، شفقت اور محبت سے پیش آتی ہیں. ماں ہر لمحے صبر کا دامن پکڑے رکھتی ہے. بچے اسے بہت تنگ اور عاجز کرتے اور خوب ستاتے بھی ہیں. ہر وقت ناک پر دم کیے رکھتے ہیں. آٹھ دس مختلف مزاج اور طبیعت کے بچوں کو ایک ماں بہت خوب صورتی سے بنا مار پیٹ کے اور گالی گلوچ کے اپنے ساتھ چمٹائے رکھتی ہے. ایک ماں بچوں کو خود سے جدا نہیں کرتی اور بچوں کے ناز اور نخرے اٹھاتی ہے. بہت نرمی سے پیش آتی ہے. لاڈ اور پیار کرنا نہیں چھوڑتی.. سراپا شفقت کا مظاہرہ کرتی ہے. وہ بچوں سے تنگ آتی اور نہ اوازاری اور بے زاری دکھاتی ہے. پھر باپ کیوں کچھ وقت کے لیے بچوں کی ننھی منی غلطیوں سے درگزر نہیں کرتا؟ بچوں سے غلطیاں ہوتی ہیں مگر انہیں سدھرنے کا موقع دیتے رہنا چاہئے. بلآخر بچے ٹھیک ہو ہی جاتے ہیں.

یہ بھی پڑھیں:   آپکی محبت کے منتظر - امم فرحان

مری کے ریسٹورنٹ میں باپ کی سفاکیت کے بے رحم منظر نے ہمیں اداس کر دیا.. آپ سوچیں گے کہ شاید ہم بچوں پر ہاتھ اٹھانے کے خلاف ہیں. ہم سمجھتے ہیں کہ معمولی غلطیوں پر بچوں کو بیچ ہزار لوگوں کے یوں رسوا کرنا کوئی دانشمندی نہیں. بچے اگر کچھ غلط بھی کرتے ہیں تو باپ کو درگزر سے کام لینا چاہئے،انہیں الگ سے سمجھانے اور نصیحت کے لیے حکمت و دانائی کا سہارا لے، نا کہ وہ سب کے سامنے بچوں پر تشدد کرنا شروع کر دے. آخر ماں بھی تو بچوں کے ساتھ رہتی ہے اور بچوں کی پسند و نا پسند کا خیال رکھتی ہے. وہ دن بھر کے کاموں سے نہ تو اکتاتی ہے اور بچوں کی جائز و نا جائز فرمائشوں کو پورا بھی کرتی ہے. ایک باپ کو بھی بچوں کو دوست کا کردار ادا کرنا چاہئے،نا کہ وہ خوف اور دہشت کی علامت بنے. اس واقعہ کے رونما ہونے کے بعد ہم نے بے دلی سے کھانا کھایا اور اس بے رحم باپ کو کوستے ریسٹورنٹ سے باہر نکل آئے.

Comments

خواجہ مظہر صدیقی

خواجہ مظہر صدیقی

خواجہ مظہر صدیقی بچوں کے ادیب، کالم نگار، تربیت کار و کمپیئر ہیں۔ تین کتابیں بعنوان نئی راہ، دھرتی ماں اور بلندی کا سفر، شائع ہو چکی ہیں۔ تجارت پیشہ ہیں، ملتان سے تعلق ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.