پانامہ کیس کے بعد - علی عمران

پانامے سے جو مسئلہ اٹھا تھا، وہ اقامے کی تنخواہ، جو نہیں لی، مگر ڈیکلئر بھی نہ کی، کی وجہ سے وزیراعظم صاحب کی نااہلی پر منتج ہوگیا ہے.

یہ بات بجائے خود اس قابل ہے کہ اس پر قوم خوب توجہ رکھے. عین ممکن ہے کہ اس سلسلےمیں تیزی لانے اور میاں صاحب کو انجام تک پہنچانے میں "عدلیہ کے شفاف انصاف" کے علاوہ کچھ اور بھی چھپا ہوا ہو.

دوسری طرف بین الاقوامی خاص کر ملک کے اردگرد واقع خطوں میں تبدیلی کی لہر کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے. مثلاً افغانستان کا معاملہ ہی دیکھ لیں. روس اور امریکہ دونوں نے ہی افغانستان میں ملٹری اپریشنز کرنے سے پہلے پاکستان کی مضبوط پارلیمانی راہنماؤں کو دور کرنا ضروری سمجھا ہے.

اگرچہ میاں صاحب اس معاملےمیں شاہ سے بڑھ کر شاہ کے وفادار ثابت ہوئے ہیں، تاہم یہ حقیقت ہے کہ ان کا تعلق اسٹیبلشمنٹ سے کبھی اچھا نہیں رہا اور ایسے معاملات میں اگر کسی وجہ سے براہ راست آرمی نہ بھی سہی، تو بھی امریکہ کی خواہش ہوگی کہ ایک مضبوط پالیمانی بیک گراؤنڈ رکھنے والے وزیر اعظم کی بجائے اسٹیبلشمنٹ کا بندہ ہو. کم از کم اس کا اسٹیبلشمنٹ سے کوئی مسئلہ نہ ہو کہ کل کلاں حبِ علی سے زیادہ بغضِ معاویہ میں ہی سہی، لیکن امریکی مفادات کو نقصان نہ پہنچا دے.!
سو ضروری ٹھہرتا ہے کہ قوم اگلا قدم خوب دیکھ بال کر اٹھائے.!

باقی جہاں تک اس کا ظاہری اثر ہے، اس بناء پر کہ اس سے ملک میں عدل و انصاف کی بنیادیں مضبوط ہوئی ہے، ایک اچھی بات ہے..دوسری طرف نواز شریف صاحب کے بعد جس طرح مریم نواز کی صورت میں اسی خاندان کو دوبارہ ملک کےناتواں کندھوں پر سوار کرانے کی کوشش ہورہی تھی اور نواز صاحب جس طرح کئی معاملات میں ڈکٹیٹر بن کر، خاص طور پر سی پیک کے بارے میں پورے ملک کے مطالبے کے باوجود مغربی روٹ کو مؤخر بلکہ سادہ الفاظ میں نظرانداز کرکے مشرقی روٹ کو فرعونانہ انداز میں آگے بڑھا رہے تھے، وہ کسی بھی طرح ایک ملکی وزیر اعظم کے مناسب رویہ نہیں تھا، بلکہ ان سے پنجاب کا وزیر اعلٰی بن کر معاملے کو دیکھنے والا رویہ ہی سمجھ میں آرہا تھا.

یہ بھی پڑھیں:   میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا - حبیب الرحمن

اس کے علاوہ قدم قدم پر اسلام پسندوں کو جس طرح بے وجہ دہشت گرد ڈیکلئر کرا کر مار دیا گیا، اور وزیرستان کی عوام کو جس طرح سالوں تک بےگھر کرکے ان کے مظلوموں کی بددعائیں لیں، وہ بھی آں جناب کی کشتی ڈبونے کو کافی شافی ہیں.اور ہمیں تو یہ تکوینی اسباب بہت قوی نظر آتے ہیں!

عدالت نے جس طرح اس فیصلے میں "کافی پھرتی " دکھائی ہے، لازمی ٹھہرتا ہے کہ کم ازکم اپنی ساکھ بچانے کی خاطر ہی باقی پانامہ لیڈرز اور ان سیاستدانوں کی اسی طرح سوموٹو ایکشن لے کر خبر لے، جیسے موجودہ معاملےمیں کیا..وگرنہ خود عدالت ہی متنازع بن کر رہ جائے گی..اگر نواز شریف صاحب صرف اقامے کی رقم انتخابات میں شو نہ کرانے پر نااہل قرار پاتے ہیں، تو مسٹر ٹین پرسنٹ جیسے احباب تو اس سے کہیں زیادہ کے مستحق ہیں..

اس تناظر میں اب بےحد ضروری یہ ہے کہ جماعت اسلامی نے جو "احتساب سب کا " کا نعرہ بلند کیا ہے، اس کو زور و شور سے چلایا جائے. اس احتساب کو حقیقی اور منصفانہ بنانے کے لئے پورے جوہڑ کو ہی صاف کیا جائے.
پانامہ کیس کو ایک اچھی ابتداء سمجھ کر تمام ہی سیاسی بچہ جمہوروں کا مکمل احتساب کیا جائے.
ورنہ نون لیگ کے ہمارے سپورٹر بھائیوں کا دعویٰ نہ چاہتے ہوئے بھی درست ہی ثابت ہوگا.
اللہ تعالٰی اسلام اور اہل پاکستان کی خیر کرے! آمین!

Comments

علی عمران

علی عمران

علی عمران مدرسہ عربیہ تبلیغی مرکز کے فاضل ہیں۔ تخصص فی الافتاء کے بعد انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں اسلامک کمرشل لاء میں ایم فل کے طالب علم ہیں. دارالافتاء والاحسان اسلام آباد میں خدمات انجام دے رہے ہیں، جہاں افتاء کے علاوہ عصری علوم پڑھنے والے طلبہ اور پروفیشنل حضرات کو دینی تعلیم فراہم کی جاتی ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.