کبوتری باز - مہران درگ

چِینا گلُٹیریا دھنک پور کا سب سے مشہور کبوتری باز تھا، اس کی اک عمر کبوتروں کے کھڈوں، بِد ریس کھاڑوں، باجرہ، خشخاس کے چھابڑوں، لٹھوں پٹھوں کی پھنک مکھ کلیاں نلیاں نکالتے نکالتے نکلی، نیلگوں آسمان ِدنیا کے مخروطی دائرے میں دیوانہ وار ِکھڈے کے چکر کاٹتی، اڑان کے ہُڑ ہُڑ ہرنوٹے بھرتی چینے لٹھے لکے کبوتروں کی کبوتریاں. وہ جن کے چھریرے پنجوں کی نلیوں میں پیلے کالے سفید موتیوں کے بنے چھلے چوڑیاں چڑھاتا، ندیدہ جنگلی کبوتریوں کو سدھانے اور ان کو کھوکھے پنجرے پہ بڑے سہولت سے اتارنے پہ اتاور تھا. اس نے چکور جالی دار نیلے کھڈے کے کواڑ وا کیے، پھڑ پھڑ غڑپ! بانسیلی لکڑیوں کے پنجہ دانوں پہ مست کبوتریاں اٹھلا کے سنسنائیں، دھیرے سے برہمی جو در آئی تو نر کبوتر طوطے کی چونچ کی طرح گردن گولائی میں رکھ کر غٹر غوں غٹر غوں کرنے لگے.

یہ لکی کبوتری ہے، سفید پھلن مسک کلی، ابے چلتی ہے تو جیسے میرٹھ کی دَلی دھار ِخارِ خنجر پہ بدک بدک، سہج سہج کے چل نکلی. اسے منڈیر پہ چلتا ہوا دیکھوں تو کہتا ہوں دھت بھڑوی کے! دھنک پور کی کسی کنجری کو تو یوں چہک لہک کے چلنے کا بھی ڈھنگ نہیں آتا. اس نے ناک نتھنے سے بیڑی کا دھوں مارا. مٹی کے تھڑے پہ جب باجرے کا دُنکا پھنکتا ہوں تو میا باپ! چوباز گھوڑی کے ایسے پنجے اٹھا بٹھا مارتی ہے، اس نے فضاء میں انگلیاں نچائیں. رقاصہ کی خم دار صراحی ایسی دراز گردن کی نڑی دائیں بائیں جھل جھل کرتی ہے اور پیر پڑے موتیے گھنگھور چھل چھل کرتے ہیں، جب ہلا پا کر میدان سے اٹھتی ہے تو ہواؤں میں گرہ لگاتی ہے. کلابازیاں! الٹی کلابازیاں سیدھی کلابازیاں! مست جیسے کچھ پری زاد سرور سے سرگم ہواؤں میں اپنے ہی بدن سے اٹھکیلیاں کرے. کیا نخرہ اس میں! گھوڑا نصف مرد تو کبوتری نصف عورت ہے!. اس نے خشخاص کو ہتھیلی پہ انڈیل کر دوسرے ہاتھ کی ہتھیلی سے رگڑ کر پھونک ماری کہ بھوس ہوا میں تیرنے لگی.

شام کا غازہ افق پر پھیلنے کو ہی تھا، دھنک پور میں کبوتر اڑان کا مقابلہ تھا، تین سو کھڈے میدان میں لائے گئے، خلق تل دھرنے کو جگہ نہ دیتی تھی، اس نے اپنے شاگرد کے ساتھ کھڈے کے دونوں بانسوں کو کندھے پہ پھانس کے میدان میں لا رکھا، کواڑ کھولے تو جرمن، ڈینش، تور، شیرازی، سبز چَپ، تور ڈھنڈھے مار، شیت رو، غورہ، زدر جوگی، لال جوگی، سیاہ چَپ، کمکر، سیالکوٹی چوئے، جوں سرے، ٹیڈی، کمگروں،گھڑی مڑی، زاغ کبوتر، چھت والے، لاکھے اور جونسرے کبوتر پھڑ پھڑ کرتے ہوئے باہر کودنے اور بیٹھنے لگے. اس نے دنکا اچھلا، پانی کی سرخ مٹی کی چھاگل پہ سب غول کے غول پل پڑے.

کبوتری کا نر اپنی کبوتری سے پہلے پانی نہیں پیتا، دنکا نہیں کھاتا، اک مرجائے تو دوسرا بھی مرجاتا ہے، وہ بڑبڑایا..!
استاد! نسلی کبوتری کی پہچان کیا ہے؟ شاگرد نے ٹکٹکی لی.
اس کی آنکھ! اس نے سفید لکی مسک کلی کبوتری پکڑی، اور اس کی چونچ پکڑ کر آنکھ دکھانے لگا، آنکھ بڑی ہوگی، اور کالا منکا چھوٹا ہوگا، دائرے میں گلابی سرخی ہوگی.
وہ کیوں استاد؟ شاگرد چہکا!
جب یہ ہوا کے رخ پہ اُڑتی ہے تو منکا سکڑتا ہے اور سورج شعائیں اسے اندھا نہیں کرتیں، اس لیے منکا چھوٹا تو چندھیا نہیں پڑتا، گر آنکھ چھوٹی اور منکا بڑا ہے تو کبوتری بےکار ہے. تیسری ہی اڑان چکر پہ گھبرا چندھیا کر منہ کے بل آ گرے گی.
منحوس! اس نے ہوا میں اچھالا، پھڑ پھڑ کرتی ہوئی پانی کی چھاگل پہ جا بیٹھی..

یہ بھی پڑھیں:   تاریخ کیا بتاتی ہے؟ پروفیسر احمد رفیق اختر

استاد! کبوتری کی عمر کیسے معلوم پڑتی ہے؟
کلیاں! اس کی کلیاں، ڈار سے اس نے دوسری کبوتری پکڑی، اور داہنے پھنک کو مور پھنک کی طرح کھینچ کے ہتھیلی پر پھیلا دیا.
گنو!
ایک دو تین چار پانچ چھ سات، استاد! سات!
یہ سات ماہ کی ہے! اس نے اچھالا، ابھی بچی ہے، ابھی کچی ہے، پھڑ پھڑ کرتی وہ کھڈے میں جا بیٹھی!
یہ کھڈا! اس نے اشارہ کیا، کبوتریوں کا کعبہ ہے. اور میں ان کا مجازی! جب اڑان دنگل لگتا ہے نا، تو نصف سال ان کو اپنے کعبے کے اردگرد ہواؤں میں دائرے میں اڑاتے ہیں، بہت اونچا اڑاتے ہیں. وہ دائرے میں تیرتی ہیں. ان کے پھنک اک دوسرے سے آہنگ ہو کے جھل جھل کرتے ہیں. سفید احرام پہنے ہوئے وہ اپنے کعبے کا طواف کرتی ہیں.

یہ دنیا کبوتری مقابلہ ہی تو ہے، سب فہم نگہ کی آب و تاب کا دید کا ہے، یادداشت کا ہے، ضبط کا ربط کا ہے، اڑان کا ہے، طواف کا ہے، ہم کبوتری باز کبوتری کو یادداشت دیتے ہیں، تمھیں معلوم دنیا پھانس کا جال ہے؟ اس نے کبوتر پکڑنے والا دستی مثلث دو کمانوں والا جال لہرایا، اسے "دوزخا" بولتے ہیں! کیا سمجھے؟ کبوتریوں میں عزت داؤ پہ ہے، یک رنگے کھڈے یک رنگے میدان یک رنگے کبوتر جب فضاء میں آپس میں مخلوط ہوکر دائروں میں پانچ لمحوں تک تیرتے ہیں، ہلا شیری پڑی!

ڈیڑھ ڈیڑھ سو کے دوکھڈے کل ملا کے تین سوکبوتر فضاء میں اٹھے، اور تیرنے لگے، سیٹیاں پڑنے لگیں، چیخیں،گالیاں،
ہٹ حرامزدای، اڑ حرامزادی، ہے کنجری اُدھر نہ اتریو ہڑ ہڑ!
اک طوفان ِ بدتمیزی اٹھا کہ تھمتا نہ تھا، چینے گلٹیریا نے پگڑی اتارکے دے اچھالی ہوا میں، ہاااااا ہوووووو!جھپٹ کر پھراچھالی ،ہاااااا ہووووو.. ہڑہڑ حرامزادی، دے سیٹی پہ سیٹی چیخ پہ چیخ!
پگڑیاں اچھلنے لگیں، لمحےختم ہو رہے تھے، کبوتر نیچے کی اڑان کرنے لگے تھے، جہاز کی طرح لینڈنگ گیر رن وے پہ اترنے کے لیے زمیں کے قریں ہونے لگے، دونوں جانب سے لالچ کو چوگا پھینکا گیا، چینے گلٹریا کے کبوتر، ظرف، ضبط، لالچ، بھوک، گھر، کھڈے کے جو کچے تھے حریف کے کھڈے پہ اترنے لگے، حریف نے دوزخا سنبھالا دے کر کبوتریوں پہ مارا، پھانس کر وہیں بھنبھوڑنے لگا، اپنے کعبہ، اپنے کھڈے کے گرد طواف اور حطیم و حرم سے بےوفا ہونے کی سزا تو یہی مثلثی " دوزخا " ہے! پچاس عوض فی کبوتری، کل ملا کر دو ہزار فدیہ دے کر اپنے کبوتر چھڑوائے! اور تلملاتا دانت پیستا رہ گیا، لگا جھاگ اڑانے، گالیاں بکنے، حرامزدایاں چوگا حرام! لعنت! لعنت،

یہ بھی پڑھیں:   رنگ باتیں کریں - نورین تبسم

استاد! شاگرد نے ڈرتے ڈرتے پوچھا، تو اب ان کو ذبح کرکے کاٹ کھائے گا؟
کھلاڑی، کبوتری باز، کبھی اپنی کبوتری نہیں کھاتا، وہ غرایا. کاش کاٹ سکتا، یہ ہم پہ حرام ہیں، ہم ان پہ چیختے تھوکتے اور گالیاں بکتے دوزخے ڈال کر بھنبھوڑتے ہیں. سو ہم پہ ان کا گوشت حرام ہے.

آج کھیل ہارا تو ادھم ہوگیا، سخت باؤلا، فشار میں ابلتا ہوا گھر محلے کی نکڑ پہ پہنچا، دیکھا اس کی عورت سفید کرتے پاجامہ اور پراندہ میں چھت پہ کھڑی ٹہل رہی ہے، اس کی آنکھ کا ڈھیلا پھیلا، سفیدی اتر آئی، لگا جھاگ اڑانے، ہے حرام زادی، اس نے پگڑی پکڑ اچھال ماری ہوا میں، دوبارہ جھپٹ کر پھر گالی دی، ہے کتیا، ہے کنجری، ہے نحش، ہڑ ہڑ!، نیچے اتر! دھک سے اپنے ڈربے نما کھڈے گھر میں داخل ہوا، سہمی سہمی پیر پہ پیر رکھتی سیڑھیاں اترتی تھی، مسک کلی کبوتری، اس کے پیروں میں چندن کی پایل چھن چھن کرتی تھی، ہے حرامزادی، نیچے اتر، قمیض کے بٹن کھلتے تھے، سیڑھی کے اک اک اترتے زینے پہ چندن پایل چھن چھن کرتی تھی اور ہر چھن چھن پہ گالی کا آہنگ طبلِ دل کی تھاپ پہ پڑتا اور اس زراغ کبوتری کا دل ڈگ ڈگ کرتا تھا، وہ باؤلا کبوتر سر گولائی میں رکھ غڑ غوں کرتا تھا، ہے کتیا، ہے کتیا، اور ادھر آستین آستین کا اک اک بٹن کھلتا تھا. اس نے قمیض کا دوزخا بنا کر ہوا میں دے اچھالا، جھپٹ کر عورت کو طوق دے کر اٹھا کے پٹخا، بستر پہ سفید لکی کبوتری فضاء میں کلابازی کھا کر دھڑم سے آئی، لگا اس کو دوزخا اندر بھنھوڑنے، اس کے پھنک کسمسا کے رہ گئے، اس کی کلیاں کاٹنے لگا، اس کی آنکھ موٹی تھی، کالا منکا چھوٹا تھا، گلابی غازہ وہ نسلی تھی، سورج آگے آنکھ لگی، منہ ول آتی تھی، آنکھ سے پانی بہتا تھا، گالی دیتا تھا، پَر پَر پھنک نچوڑتا تھا، جھڑکتا تھا، اس نے اس کے نیچے سے قوت متجمع کی.

شاگرد نے جھاتی ماری، استاد!
جی میں بڑ بڑایا
کبوتری تو کھڈے پہ تھی، اور تو تو کہتا تھا،
"کبوتری باز کبھی کبوتری نہیں کھاتا، یہ ہم پہ حرام ہیں، ہم ان چیختے تھوکتے اور گالیاں بکتے جال دوزخے ڈالکر بھنبھوڑتے ہیں! سو ہم پر ان کا گوشت حرام ہے."

وہ ہکلایا
پپ پر استاد
استاد؟
یہ ..یہ ..کیا استاد؟ سس سفید کک کبوتری ِ ح ح حرام نیں.؟
کک
یہ یہ.. کیا استاد؟

اس کی بدھی میں کچھ نہ آیا.

Comments

مہران درگ

مہران درگ

بنیاد مکران کیچ پُنل سے، مقیم شہر، گور گرد گرما و گدا ملتان، تعلیم زرعی گریجویٹ، شاعر اور شاعری، درویش اور درویشی دونوں پسند، جدید نظم، جدید و قدیم نثر، فکشن، افسانوی ادب، تصوف، رد الحاد، دلچسپی کے موضوع تھے، ہیں اور رہیں گے. ابھی بھی سمجھتا ہوں کوکھ مادر میں ہوں کہ بہت سی گرہیں ابھی باقی ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!