"تسلی" ہے بڑی چیز جہان تگ و دو میں - ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

بدھ کی صبح دفتر کے لیے نکلا. گاڑی کے اسپیڈو میٹر پینل پر نگاہ پڑی تو پیٹرول کی سوئی نصف پر تھی. یہ بات ذہن میں تھی کہ تیل کی ترسیل کرنے والے ٹینکرز کے مالکان نے ہڑتال کر رکھی ہے اور سارے ملک میں تیل کی سپلائی بند ہے. اسی اثناء میں اس پیٹرول پمپ کے قریب پہنچ گیا جہاں سے روٹین میں پیٹرول بھروایا کرتا ہوں. سوچا پیٹرول فل کروا لوں، اس سے قبل کہ سارے شہر میں جابجا "یہاں پیٹرول ختم ہے" کے بورڈ لگ جائیں.

گاڑی پیٹرول پمپ کی طرف گھمائی ... لیکن یہ کیا؟ پیٹرول ڈلوانے کے لیے گاڑیوں کی ایک کثیر تعداد پہلے سے وہاں پر موجود تھی. میں نے دائیں بائیں نظر دوڑائی تو گاڑیوں کی اوٹ سے پمپ سپروائزر برآمد ہوتا دکھائی دیا. اس نے. بھی مجھے دیکھ لیا. اس کے چہرے پر شناسائی بھری مسکراہٹ ابھری، لیکن مجھے اندازہ ہو گیا کہ اس مسکراہٹ میں خیر مقدم سے زیادہ بےبسی کا عنصر نمایاں تھا. وہ قریب آیا اور سلام دعا کے بعد کہنے لگا کہ ابھی ٹائم لگے گا آپ کی باری آنے میں اور پیٹرول بھی صرف 500 روپے کا ڈل سکے گا، "اوپر" سے یہی آرڈر ہے.

میں نے گاڑیوں کی طویل قطار پر ایک اچٹتی نگاہ ڈالی اور دل میں سوچا کہ اتنے انتظار کے بعد بھی 6 لیٹر پیٹرول ہی ملنا ہے تو کیا فائدہ. اس دوران میری گاڑی کے پیچھے اور گاڑیاں بھی پارک ہو چکی تھیں. میں نے جیسے ہی گاڑی قطار سے باہر کی جانب موڑی، جھٹ سے ایک دوسری گاڑی نے اس کی جگہ لے لی. میں وہاں سے نکلا اور سیدھا دفتر چلا آیا. سوچا گھر واپس جاتے ہوئے ایک کوشش اور کر لوں گا.

سہ پہر ڈھلے جب لیپ ٹاپ پر تازہ ترین صورتحال کے لیے معروف نیوز ویب سائٹ کو کلک کیا تو معلوم ہؤا کہ حکومت سے کامیاب مذاکرات کے بعد آئل ٹینکر مالکان نے ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے. شام کو گھر جاتے ہوئے پیٹرول بھروانے کا خیال دل میں آیا تو سوچا کہ ابھی تو نصف ٹنکی بھری ہے، اب اتنی بھی کیا ایمرجنسی. ایک آدھ دن تک ڈلوا لیں گے. ڈرائیو کرتے ہوئے جب صبح والے پمپ سے گزرا تو وہاں معمول سے بھی کم رش تھا. بس اکا دکا گاڑی آ جا رہی تھی.

غور کیجیے، صرف ہڑتال ختم ہونے کا اعلان ہؤا، پیٹرول ابھی پہنچا نہیں تھا پیٹرول پمپ پر، لیکن اس اعلان پر ہی گاڑیوں کی بھیڑ چھٹ گئی. صبح جنہیں یہ فکر تھی کہ صرف آدھ ٹنکی ایندھن باقی ہے وہ اب اس اطمینان میں ہیں کہ ابھی تو نصف ٹینک ہی استعمال ہؤا ... گویا تشویش کی جگہ تسلی نے لے لی.

یہ بھی پڑھیں:   کشمیرمیں کرفیو: پاکستان کی کاوشیں بے ثمر کیوں؟ علی حسنین نقوی

اس "تسلی" کی موجودگی یا کمی انسانی نفسیات کا نہایت اہم پہلو اور فکر و عمل کا نہایت مضبوط داعیہ ہے. انسان کی بقا دو باتوں پر منحصر ہے، ضرورت کی تکمیل اور یہ اطمینان کہ جب بھی ضرورت پیدا ہو گی وہ پوری بھی ہو گی. آخرالذکر، طویل المدت سروائول کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے.

انسانی معاشرے میں تمام سسٹم ان ہی دو بنیادوں پر ڈیزائن کیے جاتے ہیں .... کچھ حصہ فوری ضرورت کا ہوتا ہے لیکن ایک بڑا حصہ اس اعتماد پر مشتمل ہوتا ہے کہ جب بھی ضرورت ہو گی یہ ہو جائے گا. مثلاً، ہم بینک میں رقم جمع کرواتے ہیں. بینک اس میں سے ایک بڑا حصہ تجارت و صنعت اور دیگر منفعت بخش پراجیکٹس کو قرض کی صورت جاری کر دیتے ہیں. بینک کے کھاتہ دار جب چاہیں اپنی جمع شدہ رقم میں سے کچھ نکلوا کر اپنے استعمال میں کا سکتے ہیں. چند ایک کھاتہ دار پوری رقم بھی لے جائیں تو فرق نہیں پڑتا. بینک بھی یہ تاثر قائم رکھتا ہے کہ جو جب چاہے اپنی رقم لے سکتا ہے. لیکن ایسا ممکن نہیں ہوتا کیونکہ بینک تو اس رقم کو قرض کی صورت آگے بڑھا چکا ہوتا ہے. اگر اس کے نصف کھاتہ دار بھی بیک وقت اپنی رقم واپس لینے آ جائیں تو بینک کے پاس انہیں دینے کے لیے پیسے نہیں ہوں گے. حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا اس لیے بینک کا کام بھی چلتا رہتا ہے اور کھاتہ دار بھی مطمئن رہتے ہیں. ایسی صورت کبھی پیدا نہ ہو اس کے لیے بینک اپنی مالی حالت کے متعلق مثبت پبلسٹی کرتے رہتے ہیں.

کچھ ایسا ہی معاملہ ممالک اور ان کے عوام کا بھی ہے. عوام کا اعتماد اور اطمینان، ملک کو استحکام بخشتا ہے اور عوام کے لیے امید اور خوشحالی کی راہ استوار کرتا ہے. اگر کہیں ایسی صورتحال پیدا ہو جائے کہ عوام کو ملک کے حوالہ سے ناامیدی اور تذبذب میں مبتلا کر دیا جائے تو عوام اپنا اعتماد کھو بیٹھتے ہیں اور ملک اپنی منزل. بیرون ملک امیگریشن کے لیے سفارت خانوں کے سامنے لگی قطاریں ہوں، دبئی اور دیگر مقامات پر پراپرٹی کی خریداری ہو یا پھر سرمائے کی بیرون ملک منتقلی ... سب ہی ملک کے مستقبل پر عوام کے متزلزل یقین کی علامات ہیں. جیسے جیسے یہ خلیج بڑھتی ہے حالات خراب ہوتے چلے جاتے ہیں. سب سے بڑا مسئلہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے ملک میں قانون کا نفاذ اور متفقہ مرکزی اتھارٹی کا نظام کمزور پڑنے لگتا ہے. یوں تو تیسری دنیا کے ممالک کو عام حالات میں بھی اس چیلنج کا سامنا رہتا ہے جہاں عوامی خواہشات اور دستیاب وسائل میں بُعد موجود ہوتا ہے لیکن اب اس طرح کی صورتحال کو اسٹریٹیجک مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے. بلکہ بسا اوقات تو اسے باقاعدہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے تاکہ عوام کا حوصلہ ہی ٹوٹ جائے. ایسی حالت میں کسی بھی قوم شکست دینا نہایت آسان ہو جاتا ہے. پاکستان کے حوالہ سے ہی دیکھ لیں. ہر وقت کی نوحہ گری نے ہمیں کہاں پہنچا دیا ہے. گویا سب برائیاں پاکستان میں ہی ہیں اور وہ بھی تمام دنیا میں سب سے بڑھ کر.

یہ بھی پڑھیں:   جنرل اسمبلی میں حسینہ واجد کے الزامات، حقیقت کیا ہے؟ آصف محمود

آپ ترقی یافتہ ممالک میں چوری، ڈاکہ، قتل، اغوا، زیادتی وغیرہ کے اعدادوشمار دیکھیں، حیران رہ جائیں گے. 2014/15 میں صرف امریکہ میں بچوں کے اغوا کے ذیل چار لاکھ سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے. لیکن وہاں ایسا شور نہیں مچتا کیونکہ عوام کو یہ اطمینان ہوتا ہے کہ حکومت اس صورتحال کے تدارک کے لیے ضرور کچھ کرے گی. ہمارے ہاں حکومت سے متعلق یہ خوش گمانی موجود نہیں اس لیے معاشرے میں انتشار اور مایوسی پھیلانے کو تھوڑا بھی بہت ہو جاتا ہے. عوام کو دادرسی اور بہتری کی ٹھوس امید دلائے بغیر نہ آپ حقیقی مسئلہ سے نمٹ سکتے ہیں اور نہ پراپیگنڈہ کے منفی کا مقابلہ ہی کر سکتے ہی.

امید طویل المدت بقا کا آب حیات ہے. محض اس کی موجودگی رویوں کو مثبت، عمل کو بامعنی اور استقلال کو یقینی بنا دیتی ہے. بے یقینی ہیجان اور تباہی ہے. کل کی فکر "آج" کو بھی خراب کرتی ہے، نتیجتاً آنے والے کل کو بھی.

چلتے چلتے، کیا عجب اگر ہمارے ان سیاستدانوں کو بھی یہ تسلی حاصل ہو جائے کہ بیچ راہ انہیں "گمراہ" نہیں کردیا جائے گا تو وہ اپنے دورِ اقتدار میں جلاوطنی کے لیے نان و نفقہ جوڑتے رہنے کے بجائے اپنے کام پر توجہ دیں. کیا عجب !

Comments

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کی دلچسپی کا میدان حالاتِ حاضرہ اور بین الاقوامی تعلقات ہیں. اس کے علاوہ سماجی اور مذہبی مسائل پر بھی اپنا ایک نقطہ نظر رکھتے ہیں اور اپنی تحریروں میں اس کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.