مسلمان زوال پذیر کیوں؟ - محمد احمد رضا ایڈووکیٹ

دنیا میں جہاں بھی نظر ڈالیں، مسلمان پٹتے نظر آ رہے ہیں۔ اپنے ملک میں ہوں یا پردیس میں، خون ناحق انہی کا بہتا ہے۔ صبح و شام، جمعہ و عیدین پر مسلمانوں کی نصرت، غلبے اور دشمنوں کو نیست و نابود کر دینے والی دعاؤں کے دوران ہی دنیا میں کہیں نہ کہیں مسلمانوں کے خون سے ہولی جاری رہتی ہے۔ آخر اس کی کیا وجہ ہے؟ آخر غلطی، خامی، کوتاہی کدھر ہے کہ امام کعبہ سے لے کر ایک چھوٹے سے گاؤں میں مٹی سے بنی مسجد کے امام و نمازیوں کی دعائیں بھی اثر نہیں کرتیں؟ کیوں؟

ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں یہودیوں کی کل آبادی ایک کروڑ 38 لاکھ 54 ہزار ہے یعنی اس وقت ہر ایک ہزار فرد کے مقابلے میں صرف 1.93 یہودی ہیں۔ دوسرے الفاظ میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ عالمی آبادی میں ہر 518 لوگوں میں صرف ایک شخص یہودی ہے یعنی ہر ایک ہزار میں صرف دو!

اس کے مقابلے میں مسلمانوں کی آبادی دیکھیں تو اس وقت کل 1.8 بلین یعنی ایک ارب 80 کروڑ مسلمان ہیں اور وکی پیڈیا کے مطابق دنیا کی آبادی کا 24 فیصد حصہ مسلمان ہے۔ ہر یہودی کے مقابلے پر تقریباً 130 مسلمان ہیں۔ پھر ہمارے بجائے یہودی کیوں دنیا پر غلبہ رکھتے ہیں؟ وجہ ہے صرف اور صرف تعلیم!

مسلمان جب تک تعلیم، تحقیق، سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں مضبوط تھے، دنیا پر انہی کی حکمرانی تھی لیکن آج مسلمان تعلیم سے دور ہیں۔ حقیقی کتاب قرآن کو فقط مرنے جینے کے موقع پر ثواب کی خاطر چند منٹ پڑھتے ہیں، گویا اپنے سے بوجھ اتارا ہے۔ کیا قرآن میں تسخیر کائنات اور غور و فکر کا حکم نہیں آیا؟

مسلمان جب تک تعلیم، تحقیق، سائنس، ٹیکنالوجی کے میدان میں مضبوط تھے تو دنیا میں ان کی حکمرانی تھی لیکن آج مسلمان تعلیم سے اس قدر دور ہیں کہ اپنے قرآن کو بھی فقط کسی کے مرنے پر بطور ثواب چند منٹ کے لیے تیز تیز پڑھ کر اپنے سر سے فرض اتارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کیا قرآن میں دشمن کے مقابلے میں پہلے سے اپنے ہتھیار تیار رکھنے کا حکم نہیں؟ گو کہ یہ اس تحریر کا موضوع نہیں۔ یہاں مقصد صرف موجودہ حالات میں یہودیوں کے مقابلے میں مسلمانوں کی تعلیمی حالت بیان کرنا ہے۔

چند سال پہلے کے اعداد و شمار کے مطابق تمام اسلامی ممالک میں جامعات کی تعداد پانچ، چھ سو ہے۔ مسلمانوں کی آبادی ذہن میں رکھیں اور جامعات کی تعداد سے تقسیم کر لیں۔ اندازہ ہو جائے گا کہ ہم تعلیم کے میدان میں کس قدر پستی کا شکار ہیں، یہ تقریباً بیس لاکھ مسلمانوں کے لیے ایک یونیورسٹی کا تناسب بنتا ہے۔ اس کے مقابلے میں صرف امریکہ میں 5 ہزار 700 کے قریب یونیورسٹیز ہیں۔ بھارت میں یہ تعلیم 9 ہزار کے قریب ہے۔ پاکستان میں تقریباً 20 کروڑ کی آبادی کے لیے نئے بجٹ میں تقریباً 35 ارب روپے ہائیر ایجوکیشن یعنی اعلیٰ تعلیم کے لیے ہیں۔ جبکہ اسرائیل، جس کی کل آبادی ایک کروڑ کے قریب ہے، اس کا تعلیمی بجٹ 45.5بلین ڈالرز ہے۔ تعلیم کے میدان میں اس پستی کا نتیجہ یہ ہے کہ اس وقت دنیا میں عیسائی شرح خواندگی 90فیصد ہے اور مسلم شرخ خواندگی 40 فیصد جبکہ یہودیوں میں یہ شرح 100 فیصد ہے۔ مسلم دنیا میں صرف دو فیصد مسلمان یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ مسلم دنیا میں سے ایک ملین یعنی 10 لاکھ مسلمانوں میں سے صرف 230 سائنسدان بنتے ہیں جبکہ صرف عیسائی دنیا میں 5 ہزار ۔ سائنس، ٹیکنالوجی، علم، ادب اور فلسفے کے میدان میں یہودیوں کی دوڑ کا اندازہ لگائیں : البرٹ آئن سٹائن یہودی، سگمنڈ فرائیڈ یہودی، کارل مارکس یہودی، پولیو ویکسن بنانے والا جونس سالک یہودی، ہیپاٹائٹس بی کا علاج دریافت کرنے والا برچ بلم یہودی، ایلی میٹیکنی کوف یہودی، اینڈوکرینولوجی کا شعبہ دیکھیں تو اینڈریوبیک یہودی، کونگیٹیو تھراپی کا موجد آرون بیک یہودی، کڈنی ڈایالسس کے شعبے کا موجد ویلم کلوف کم یہودی، حتی کہ قرآن کی پہلی وحی جس موضوع پر نازل ہوئی یعنی انسان کی تخلیق پر جس کو جدید سائنس میں ایمبریولوجی کہا جاتا ہے اس شعبے کو جدید دنیا کے سامنے بطور موجد کے پیش کرنے والا سٹینلی کوہن یہودی ہے۔

یہ فہرست یہاں ختم نہیں ہوتی۔ جدید ایجادات دیکھیں جن کی وجہ سے دنیا میں انقلاب برپا ہوا تو اس کے موجد بھی یہودیوں ہی ہیں: مائیکروپروسیسنگ چپ کا موجد سٹینلی میزر یہودی، نیو کلیئر چین ریکٹر کا موجد لیوسز لینڈ یہودی، آپٹیکل فائبر کیبل کا موجد پیٹر یہودی، ٹریفک لائٹس بنانے والا چارلس اڈلر یہودی، ساؤنڈ موویز کا موجد کسسی یہودی، ٹیلیفون مائیکرو فون کا موجود ایملی برلیز یہودی، ویڈیو ٹیپ ریکارڈر بنانے والا چارلس یہودی ہے۔ دنیا کی بااثر کاروباری شخصیات دیکھیں تو رالف لارن یہودی کی، کوکا کولا یہودی برانڈ، لیوائس جینز بنانے والے یہودی، گوگل سرگئی برین یہودی کی ملکیت اور ڈیل کمپیوٹرز کا مائیکل ڈیل یہودی۔

اس جدید دور میں جہاں دنیا 'گلوبل ولیج' بن چکی ہے، دنیا کی سیاست، معیشت، تعلیم، رہن سہن اور رسوم و رواج پر میڈیا کا اثر نمایاں ہے۔ اس وقت 96 فیصد عالمی میڈیا صرف 6 کمپنیوں کی ملکیت ہے اور وہ تمام یہودیوں کی ہیں۔ سب سے بڑی کمپنی والٹ ڈزنی جو دنیا بھر میں کارٹون بنانے میں بھی مشہور ہے ، امریکہ میں سب سے زیادہ پروڈکشن ہاؤسز اور کمپنیاں اس کی ہیں۔ اس ایک کمپنی کے سات اخبارات، تین میگزینز اور ایک بہت بڑا کیبل نیٹ ورک ہے اور یہ یہودیوں کا ہے۔

دوسری بڑی کمپنی ٹائم وارنر ہے۔ اس کی ملکیت میں ایچ بی او اور امریکہ کا سب سے بڑا پے ٹی وی نیٹ ورک ہے۔ وارنر برادرز سٹوڈیو اسی کمپنی کی ملکیت ہے۔ دنیا بھر میں سب سے زیادہ شائع اور فروخت ہونے والے میگزین جن میں ٹائم میگزین، سپورٹس الیسٹریٹڈ، پیپل، فارچیون ہیں اور یہ کمپنی بھی یہودیوں کی ہے۔

تیسری بڑی کمپنی وائی کوم ہے، یہ بھی یہودیوں کی ملکیت ہے۔پیراماؤنٹ پکچرز بھی اسی کی ملکیت ہے۔ بیشتر امریکی فلمیں اس کی پروڈکشن ہیں۔اس کے علاوہ دنیا کا مشہور چینل ایم ٹی وی بھی اس کی ملکیت ہے، پھر بچوں کا پسندیدہ چینل نکلوڈین بھی۔

اندازہ کریں کہ یہودی ہمارے دماغ اور نفسیات کو کس حد تک کنٹرول کرکے اپنی مرضی سے چلا رہے ہیں۔ وہ ہمارے بچوں کے دماغ میں اتنے گھس چکے ہیں کہ ڈزنی اور نکلوڈین کو دیکھے بغیر بچے سوتے نہیں۔ آپ اگرچہ میری بات پر یقین نہ کریں لیکن میری گزارش پر صرف ایک بار خود اپنے بچے کے ہمراہ یا اکیلے کسی اچھے سائیکاٹرسٹ کو وزٹ کر لیں اور اس سے پوچھ لیں کہ یہ کارٹون، ویڈیو گیمز، فلمیں ہماری اور ہمارے بچوں کی نفسیات اور ذہنوں پر کس قدر اثر انداز ہو رہی ہیں۔ کیا ان کارٹونز اور ویڈیو گیمز سے بچے کچھ نہیں سیکھتے؟ اگر ماہر نفسیات آپ کو مثبت جواب دے اور اس کے افسوسناک نتائج بیان کرے تو پھر میرا سوال ہے کہ کیا آپ کے بچے کی تربیت آپ کر رہے ہیں یا لاکھوں میل دور بیٹھ کر یہودی؟ آپ بچوں کو جدید دنیا کی 'تفریح' ضرور دیں لیکن کم از کم یہ نگرانی ضرور کریں کہ آپ کا بچہ اس وقت کیا سوچ رہا ہے اور کیا سیکھ رہا ہے؟ میں قطعاً ان چیزوں کے خلاف نہیں، یہ سب بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم اندازہ کریں کہ یہودیوں کے مقابلے میں ہم مسلمان کس قدر پستی کا شکار ہیں؟ آج ہم اپنے قبلہ کی سمت درست دیکھنے کے لیے جس کمپاس کے محتاج ہیں، وہ بھی ہم بنانے کے قابل نہیں ہیں۔

بہرحال، چوتھی بڑی کمپنی نیوز کارپوریشن ہے اور اس کی ملکیت فاکس چینل کے پاس ہےاور فاکس چینل کیسا ہے یہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ اور اسی کمپنی کی ملکیت ٹوئنٹی ایتھ سینچری فاکس فلم سٹوڈیو ہے اور فلموں کے شوقین جانتے ہیں کہ فلمیں بنانے میں یہ سٹوڈیو کس قدر نمایاں ہے؟ پانچویں میڈیا کمپنی ڈریم ورکس ہے جس کو بنانے والے بھی یہودی ہیں۔

یہودی اس میدان میں کتنے مضبوط ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مشہور اداکار و ڈائریکٹر میل گبسن نے جب "پیشن آف کرائسٹ" بنائی تو یہ فلم یہودیوں کے حق میں نہیں تھی۔ اس پر میل گبسن کے خلاف ایسا طوفان کھڑا کیا گیاکہ اس سے پہلے کے بڑے ہدایت کار اور اداکار میل گبسن کا آج جو حال ہے وہ خود دیکھ لیں اور یہودیوں کی طاقت کا اندازہ لگا لیں۔

مختصراً یہ کہ ہالی ووڈ میں بننے والی فلموں میں سے جو باکس آفس پر ہٹ ہوتی ہیں، ان میں 70فیصد یہودیوں کی ملکیت ہوتی ہیں۔ ناظرین فلمیں دیکھیں یا نہ دیکھیں، گناہ کہیں یا تفریح، یہ الگ مسئلہ ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ الیکٹرانک میڈیا کا یہ میدان جس میں نیوز چینل، نیوز میگزین، فلم سٹوڈیوز، پروڈکشن ہاؤسز، کارٹون اور فلمیں شامل ہیں، سب یہودیوں کی ملکیت ہیں اور مسلمان شاید اس بحث میں مبتلا ہیں کہ شلوار کا پائنچا کہاں تک رکھا جائے تو مسلمانی برقرار رہتی ہے؟ مزید دیکھنا چاہیں تو امریکہ میں شائع ہونے اور بکنے والے اخبار جو روزانہ کروڑوں کی تعداد میں فروخت ہوتے ہیں، انٹرنیٹ پر سرچ کریں اور دیکھ لیں کہ وہ کس کے ہاتھوں میں ہیں۔ آج ہر شخص کے پاس اسمارٹ فون ہے، کبھی سرچ کرکے دیکھ لیں کہ دنیا کی بڑی ویب سائٹس میں سے کتنی مسلمانوں کی ہیں؟ سائٹس تو دور کی بات، یقیناً آپ کی نظر میں وہ انٹرنیشنل سروے بھی ہوں گے جن سے واضح ہوتا ہے کہ مسلمان انٹرنیٹ پر سب سے زیادہ کیا سرچ کرتے ہیں؟

آخر ہم مسلمانوں کو بحیثیت معاشرہ، قوم اور امت کب غیرت آئے گی؟ ہم کب قرآن کی ان آیات پر عمل کریں گے جو ہمیں علم و عمل کی طرف بلاتی ہیں؟ درحقیقت، یہ ہماری خام خیالی ہے کہ ہم پر کوئی ظلم کر رہا ہے، اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے والے ہم خود ہی ہیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com