مسلم نوجوانوں کی ذمہ داریاں - داؤد نبی

ملت اسلامیہ اس وقت بے شمار مسائل و مشکلات میں گھری ہوئی ہے۔ نوجوان نسل لادینی افکار و نظریات کے پیچھے لگ گئی ہے، معاشرہ تیزی کے ساتھ زوال و پستی کی طرف گامزن ہے اور اس میں تیزی سے خرابیاں جنم لے رہی ہیں۔ رسم و رواج، نام و نمود اور مادہ پرستی سے پھوٹنے والے امراض وبا کی صورت میں پھیلتے جا رہے ہیں۔ علم و ہنر سے دوری، بے پروائی اور اخلاقی گراوٹ جس طرح عام ہوتی جا رہی ہے، دینی معاملات اور شعائر کو جیسے روندا جا رہا ہے، اس سے یہی لگتا ہے کہ اب مسلمان مسلمان نہیں رہا۔

ان حالات میں ہمت، جوش اور ولولے سے وہی کام کر سکتا ہے جس میں دریا کی روانی کا زور اور آبشار کا شور ہو۔ یہ ہمت اس وقت پیدا ہو سکتی جب ملت اسلامیہ کے نوجوان میدان عمل میں اتریں۔ طوفانوں کا رخ موڑنے کے لیے جس ہمت، جوش اور جذبے کی ضرورت ہے اس کے ساھت ساتھ تجربہ، معلومات، دانائی، تدبر اور استقلال بھی لازمی ہے۔ یہ چیزیں بزرگوں میں موجود ہیں لیکن وہ گرم خون کو درکار ہے، وہ ان کے پاس نہیں۔

اس لیے مسلمان نوجوانوں کو، خواہ وہ کسی بھی جگہ ہوں، یہ ہرگز نہیں بھولنا چاہیے کہ وہ ایک باعزت، پروقار، خوددار اور غیرت مند ملّت اور انسانیت کو فلاح و کامیابی سے ہمکنار کروانے والی قوم کا فرد ہے۔ اس کو یہ بات ہمیشہ زیرنظر رکھنی چاہیے کہ مقصد حیات کیا ہے؟ اور اُسے بھٹکے ہوئے انسانیت کو راہ راست کی طرف بلانا ہے، انسانیت کے مسائل کو سلجھانے کی خاطر جدوجہد کرنی ہے۔ مگر یہ کام آسان نہیں، یہ بندگی اور عشق کا نہایت نازک معاملہ ہے۔ معبود و عبد کا معاملہ، خدائے غیور اور بندۂ مومن کا معاملہ جو ادنی سا شائبہ کسی غیر کا، کسی غیر تہذیب کا اور غیر اسلامی نظریات کا گوارہ نہیں کرتا۔ بلکہ غیر کے سائے سے بھی اس نازک عشق و محبت کے شیشے میں بال آتا ہے۔ غیروں کے شعار و عادات کو رشک و لالچ کی نگاہ سے دیکھنا کمزور ایمان کی علامت ہے۔ حالات اور زمانے کی رو سے متاثر ہو کر ایک مسلمان کے دل میں یہ خیال آسکتا ہے، وہ دوسروں کی بےمہار زندگی کو للچائی نظروں سے دیکھ سکتا ہے۔ بعض اوقات مسلم نوجوان خارجی اثرات، غیر اسلامی افکار و نظریات اور غیروں کی بودوباش سے متاثر ہوکر اپنی اقدار اور قومی سرمائے کو حقیر سمجھنے لگتا ہے، جو مسلم نوجوان کی شان کے خلاف ہے جن کے سینوں میں لااله الاالله کا شعلۂ جوالہ بھرا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کاش میں بےگناہ ثابت نہ ہوتا - ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

ایسے لوگ جو غیروں کے، یا یوں کہیے کہ جدید لادینی افکار و نظریات سے متاثر ہوچکے ہیں، ان کے ذہن و دماغ میں غیر اسلامی خیالات و رجحانات کے جراثیم سماچکے ہیں، ان سے ملت اسلامیہ کو کسی خیر کی اُمید نہیں بلکہ وہ ملت کے لیے باعث ننگ و عار بن رہے ہیں۔ خیر کی اُمید اور میدان عمل میں کودنے کی توقع تو ان سے ہے جن کا عقیدہ توحید، رسالت اور آخرت مضبوط ہے۔ جو اپنی جان کی سوغات پیش کرسکتے ہیں مگر دین و ملت کا سودا نہیں۔ جو مادہ پرستی کے بازار میں ہزار بار مرسکتے ہیں لیکن اپنی دیانت، امانت، صداقت و عزیمت کا سودا نہیں کرسکتے۔ ایسے نوجوانوں کے دلوں میں یہ وسوسہ تک نہیں آتا کہ کچھ مغرب زدہ اور نام نہاد روشن خیال لوگ انہیں قدامت پرست یا fundamentalists کہیں۔ اُمت مسلمہ کے نوجوانوں کی یہی وہ جماعت ہے جس سے اس ملت کی تمنائیں وابستہ ہے۔ انہی جوانوں کے کارناموں سے ملت اسلامیہ کے ارادوں میں حرارت، گرمی، قوت اور توانائی پیدا ہو سکتی ہے۔

خود ہمارا معاشرہ جس زوال و پستی کا شکار ہے اس کو سنبھالنے کے لیے بھی اسی خون کی ضرورت ہے۔ ہدایت و رہنمائی تو جہاں دیدہ و تجربہ کار پیردانا کی ہو، عمل و تگ دو نوجوان کی ہو۔ اور جب یہ دونوں چیزیں جمع ہو جائیں گی تو اُمت مسلمہ نہ صرف یہ کہ زوال و پستی کی غار سے نکل کر آئے گی بلکہ قیادت و امامت کا اپنا فریضہ ادا کرنے کے لیے پھر سے تازہ دم ہوجائے گی۔

لہٰذا وقت کی ضرورت ہے کہ مسلم نوجوان علم و عمل کی دولت سے لیس ہو۔ اس وقت پوری دنیا میں انسانی ہمدردی و اخوت کا احساس و شعور معدوم ہو چکا ہے اور کوئی اگر اس کو زندہ کرسکتا ہے تو وہ ہیں نوجوان۔ اپنے کام اور مقصد کو مفید تر بنانے کے لیے اُمت مسلمہ کے نوجوانوں کو چاہیے کہ بزرگوں سے رہنمائی حاصل کریں اور ان کے تجربات سے فائدہ اُٹھائیں، بھرپور فائدہ اُٹھائیں۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ اپنے نفس کو قابو کرکے اپنی جوانی کی قدر پہچانیں اور اس کی ناقدری و غلط استعمال سے بچیں کیونکہ ضائع ہونے کے بعد دولت واپس نہیں ملتی۔