ریڈ رائیڈنگ ہڈ - نصرت یوسف

مقامی سپر مارکیٹ کے کیش کاؤنٹر پر بنی قطار میں وہ مجھ سے کچھ انچ کے فاصلے پر ہی کھڑی تھی. خواتین و حضرات کی جداگانہ قطار کا تصور یہاں نظر نہ آرہا تھا. سچی بات تو یہ ہے کہ نہ خواتین میں وہ جھجک باقی رہی ہے اور نہ حضرات ٹھٹکتے ہیں، دونوں ہی کی تبدیلی نے میرے آگے کھڑی لڑکی کو بےجھجک انداز میں کھڑا کر رکھا تھا۔ وہ بظاہر سترہ، اٹھارہ کے سن میں ہی لگتی تھی۔ میری بیوی سے دو تین برس چھوٹی، لیکن اس سے کہیں زیادہ زندہ دل۔ اس کی خوبصورت ہنسی اور انداز بڑا ہی دل موہ لینے والا تھا۔ بلاشبہ کتنی نگاہیں اس پر ٹکی تھیں مگر انسان اب اتنا ماہر ہو چکا ہے کہ بظاہر مجھ سمیت کسی کی نگاہ کی خیانت عیاں نہ تھی۔ وجود کو اسکین کرتی نظریں، ان دیکھی ریڈیائی لہروں کی مانند ہو چکی ہیں جو کام تو کر جاتی ہیں لیکن دکھائی نہیں دیتیں۔

قطار کے آگے بڑھنے کی رفتار بہت دھیمی تھی، مگر اردگرد کے رنگ برنگے پیکر کوفت کو دھیما رکھے ہوئے تھے، میرے لیے سب سے زیادہ دلچسپ سترہ اٹھارہ تھی جو قطار میں میرے آگے تھی۔ اس کی سفید قمیض کی لمبائی جدید فیشن کے حساب سے گھٹنوں سے بھی اوپر تھی، جس پر تاش کے پتے مخصوص ترتیب سے بنے تھے، بوٹے سے قد کو اونچا کرنے کے لیے ہیل کا سہارا لیا گیا تھا، سفید جالی کا دوپٹہ ایک کندھے پر خواہ مخواہ ہی کا تکلف بنا ہوا تھا، بھری بھری اجلی بانہوں میں آستینیں ناحق ہی موجود تھیں، آستین کے کپڑے کو محض مونڈھے اور کلائی سے ہی جوڑنے کی زحمت کی گئی تھی، بازوؤں میں چمکتی مہندی کا نمونہ عمدہ تھا۔ تاش کے پتے بنے تھے، میرے ہونٹ سترہ اٹھارہ کا لباس اور بانہوں کا یکساں نمونہ دیکھ کر بےاختیار سیٹی کے انداز میں سکڑ گئے.

وہ قطار سے باہر ہو کر کبھی دائیں نکل جاتی تو کبھی بائیں، ایسے جیسے گیس کے ذرات مستقل حالت اضطراب میں گھومتے رہتے ہیں، وہ بھی ہاتھ میں پکڑی سامان کی ٹوکری کو پینڈولم کی مانند جھلاتی دیسی ریڈ رائیڈنگ ھڈ (red riding hood) کا کردار ادا کر رہی تھی۔ مگر ریڈ ڑائیڈنگ ھڈ سر تا پا لباس میں ڈھکی تھی، لمبا چغہ نما لباس سے کچھ کچھ سنہری بالوں کے لچھے جھانک رہے تھے، ٹخنوں سے اونچے لباس کے نیچے جرابیں پہن کر کھلے حصے کو ڈھانپا گیا تھا لیکن گھات لگائے بھیڑیے نے پھر بھی اس کو نہ بخشا، وہ اس کو راستہ میں نہ گھیر سکا تو وہاں گھیرا جہاں وہ خطرے کا سوچ بھی نہ سکتی تھی. یہ اس کی نانی کا گھر تھا، بھیڑیے کو اگر محض انسانی وجود کے ذائقہ کا لطف لینا ہوتا تو وہ ذائقہ اسے نانی کے شکار سے بھی مل جاتا، مگر کہانی بتاتی ہے کہ اسے نانی کے لاغر اور ضعیف وجود سے کوئی رغبت نہ تھی، اسے نرم ملائم کھال اور بال والی ریڈ رائیڈنگ ھڈ میں دلچسپی تھی، اسے رواں خون اور چمکتی آنکھیں اپنی طرف کھینچ رہی تھیں، چال کا بانکپن اس درندے کو ندیدہ بنا رہا تھا۔ اس کی عیار خصلت کومل سی، سنہرے لچھوں والی بچی کیا سمجھ پاتی، اس کا سارا دیہان تو اپنی نرم نرم انگلیوں سے پھول چننے پر تھا، اس کو تو کسی بھیڑیے کا خوف بھی چھو کر نہ گزرا تھا، لیکن بس اس نے ایک غلطی کر دی تھی. اس نے نصیحت نہ مانی تھی، محبت اور خیرخواہی سے کہے الفاظ بھلا کر ان کے برخلاف عمل کیا تھا، اور پھر اس کا خمیازہ اسے بھگتنا ہی تھا، مگر چونکہ یہ ایک فئیری ٹیل تھی جس میں بڑی سے بڑی بھول اور غلطی کا مداوا ہو سکتا ہے، سو ریڈ رائیڈنگ اور اس کی نانی بھی بچ گئی تھیں، فرشتوں کی مانند مدد اس بھیڑیے سے بچانے کے لیے اس کے پاس آگئی تھی اور ان سب کی زندگی اتنی ہی پر مسرت واپس سے ہو چکی تھی جیسی وہ ہمیشہ سے تھی۔

میں قطار میں کھڑا دیسی ریڈ رائیڈنگ ھڈ کو دیکھتا یہ سب سوچ رہا تھا، مجھے بھی اس کے لباس پر بنے تاش کے پتے اپنی طرف کھینچ رہے تھے، ہاتھوں میں پھول تو نہ تھے لیکن اس نے جو خوشبو لگائی تھی، وہ جنگل سے چنے پھولوں سے کہیں زیادہ مسحورکن تھی جو اس ننھی ریڈ رائیڈنگ ھڈ نے چنے تھے، اس کے سنہرے لچھوں جیسے بال بالکل بھی نہ ڈھکے تھے، بےاختیار اپنی بیوی کے سیاہ بال میرے تصور میں ابھرے تو دل کو بیوی خاصی دقیانوسی لگی جو ابھی تک مشرقی رنگ میں اٹکی ہوئی تھی۔
"بلیچ سے اپنے بالوں کا کباڑہ نہیں کرنا میں نے" کبھی کا کہا بیوی کا جملہ آج بہت ہی زہر لگا، حالانکہ ایسے کتنے ہی نظارے ہر روز آنکھوں کے آگے سے گزرتے ہیں، کتنے ہی "ریڈ رائیڈنگ ھڈ'' کی مانند وجود اردگرد متحرک رہتے ہیں لیکن کوئی نہیں جانتا کہ کب اور کس وقت کسی بھی عمل کی اثر پذیری مثبت یا منفی بڑھ جائے، مجھے بھی 'سترہ اٹھارہ' اس نادان لڑکی کی مانند لگی جس نے کہنا نہیں مانا تھا، اور میں خود کو اس شریّ طاقت کا نمائندہ لگا جو گھات لگا چکا تھا.

قطار کھسک کر خاصے آگے جا چکی تھی، میں نے ایک گہری سانس لے کر جینز کی جیب میں وائبریٹ کرتا سیل فون نکالا، اسکرین پر نگاہ پڑتے ہی بوریت کا احساس ہوا، "زوجہ کالنگ" بےاختیار نظر ایک بار پھر دیسی ''ریڈ رائیڈنگ ھڈ'' (جسے پہلے میں نے سترہ اٹھارہ کا نام دیا تھا) کی طرف اٹھی جو اب پھر نصیحت بھلائے تھی، کیا دلنشیں لہجہ تھا اس کا، کس انداز سے اس نے رقم تھماتے بالوں کو جھٹکا تھا، میں نے بھرپور دلچسپی سے اسے دیکھا۔ لہریں میرے اندر دوڑ گئیں۔ بیوی کا فون میں نے کاٹ دیا۔
کچھ دیر بعد ''ریڈ رائیڈنگ ھڈ'' میرے آگے سے جا چکی تھی، اب میری باری تھی، میں نے سامان کی باسکٹ کاؤنٹر پر رکھتے خارجی دروازے سے نکلتے اس کی سفید قمیض کو چیونگم چباتے ہوئے دیکھا، پشت پر بنا تاش کا اکاّ، دل، اینٹ اور کندھے سے لٹکتا دوپٹہ قدم بہ قدم دور ہو رہا تھا۔ مجھے یقین تھا کہ اس کے اردگرد ایک میں ہی نہیں بہت سے تھے، جن کے ناخن لمبے اور کھال کھردری ہو چکی تھی، اور کتنے ایسے تھے جن کے شکاری پنجے نرم کھال کو بھنمبھوڑنے کے لیے بے تاب تھے۔

جلد ہی میں بھی بل ادا کر کے اسٹور سے باہر آ گیا، سامان گاڑی میں رکھتے فون پھر بجا، مخصوص ٹیون تھی اب کہ فون مجھے بور نہ لگا، نور کا تھا، اس سے بات کرتے میں کسی بات پر ہنس دیا،
''او میری ریڈ رائیڈنگ ھڈ، آرہا ہوں میں!!ـ"
اپنا ہی جملہ مجھے خود ہی محظوظ کر گیا۔ بارش اسی لمحے شروع ہو گئی تھی، اپنی پسندیدہ غزل دہراتا ہوا میں محتاط ڈرائیونگ کر رہا تھا۔ سامنے ہی بیکری تھی، "ریڈ رائیڈنگ ھڈ" اس نام سے مجھے کچھ دیر قبل کے سپر مارکیٹ میں گزرے مناظر یاد آگئے.

بےاختیار میں نے شکر کیا کہ میری بیوی نور ایسی "ریڈ رائیڈنگ ھڈ" ہے جو نصیحت سنتی ہے، وہ نصیحت جو سلامتی ہے، جو دنیا کی تمام عورتوں کو گھات لگائے سفاک لمحوں سے محفوظ رکھنے کے لیے آسمان سے اتاری گئی ہے، ورنہ تاش کے پتوں والے لباس میں ملبوس "ریڈ رائیڈنگ ھڈ" کی طرح وہ بھی ہیجان اور ہوس کے طوفان میں گھری رہتی۔
مگر سنیے "ریڈ رائیڈنگ ھڈ" کا قصور بھی کم نہیں، کتنی ہی بھیڑوں کو، بھیڑیا بھی ریڈ رائیڈنگ ھڈ کے نظارے ہی بنا جاتے ہیں۔

Comments

نصرت یوسف

نصرت یوسف

نصرت یوسف جامعہ کراچی سے فارغ التحصیل ہیں. تنقیدی اور تجزیاتی ذہن پایا ہے. سماج کو آئینہ دکھانے کے لیے فکشن لکھتی ہیں مگر حقیقت سے قریب تر. ادب اور صحافت کی تربیت کے لیے قائم ادارے پرورش لوح قلم کی جنرل سیکریٹری ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.