پرانا پاکستان بمقابلہ نیا پاکستان - سلمان اسلم

عمیر جلیاوالا سے متعارف ہوئے چند ہی دن ہوئے ہوں گے۔ وہ ایک موٹیویشنل سپیکر ہیں۔ نوجوانوں پر کام کر رہے ہيں اور "دی سکول آف لیڈرشپ" کے روح رواں ہیں۔ ایک دوست کے کہنے پر ان کی ویڈیوز دیکھنا شروع کیں۔ دیکھتے ہوئے ایک وڈیو میں موجود فقرے پر بڑی حیرت ہوئی، وہ تھا "ہمارے نئے پاکستان کا خواب پرانے پاکستان سے بھی برا ہے۔" یہ وہ فقرہ تھا جس نے مجھے حیرت میں ڈال دیا اور تشویش ہونے لگی کہ آخر نئے پاکستان کا خراب پرانے پاکستان سے برا کیسے ہو سکتا ہے؟ آئیے عمیر صاحب کی نظر سے دیکھتے ہیں۔

تاریخ کے اوراق الٹیں اور 60ء کی دہائی میں جائیں۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان کے ترقی یافتہ دارالحکومت کراچی میں ملکہ برطانیہ روڈ پر بلاخوف و خطر گھومتی تھیں۔ اور آج ایک سائیکل چلانے والا بھی پہلے مارشل آرٹ سیکھتا ہے تبھی اپنا دفاع کر پاتا ہے۔ "ٹرینیں تاخیر سے آنے والوں کا انتظار نہیں کرتیں" ایک وقت تھا یہ فقرہ ہمارے اشتہاروں کی زینت ہوا کرتا تھا۔ اب پاکستان ریلوے کی "شان" کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ ایک وقت تھا پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن دنیا کی بہترین ایئرلائنز میں شمار ہوتی تھی۔ ہر چھ منٹ میں دنیا کے کسی نہ کسی حصے میں پی آئی اے کا کوئی طیارہ پرواز بھرتا یا اترتا تھا۔ جدید بوئنگ طیارے رکھنے والے اولین اداروں میں سے ایک پی آئی اے کا عملہ بغیر کسی بین الاقوامی کورس کے خدمت اور مہمان نوازی کی وہ داستانیں رقم کرتا تھا جو ہزاروں سالوں سے ہماری ثقافت کا حصہ ہے۔ اب جو اس قومی ادارے کا حال ہےوہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ تب ہم کھیل کے میدان میں بھی کسی سے پیچھے نہ تھے، جہاں گئے بادشاہ بن گئے۔ ہاکی کے تخت پر سالوں قابض رہے لیکن آج ورلڈ کپ اور اولمپکس کے لیے بھی کوالیفائی نہیں کر پاتے۔ اسکواش میں کسی کو دہائیوں تک سر اٹھانے کا موقع نہیں دیا لیکن آج کہیں نام نہیں۔ کرکٹ میں ہم نئی جدتوں کے علمبردار تھے، آج ناقابل بھروسہ ہیں۔چل گئے تو آسٹریلیا کو ہرا دیا، نہ چلے تو زمبابوے سے بھی شکست۔

تب صفائی ہماری ایمان کا نصف حصہ تھی، شاید اب گھر کے اندر بھی کسی کسی کو نصیب ہے، گلی محلے کی صفائی تو چھوڑ ہی دیں۔ کبھی ملک میں اسلامی نظام کے قیام کی جدوجہد کرتے تھے تو آج سوچتے ہیں کہ اسلامی نظام سے تو بینک ڈوب جائیں گے۔ مذہب کا حال یہ ہوگیا ہے کہ محبوب کو قدموں میں بٹھانے والے تعویذ چل رہے ہیں۔ فیض دینے اور وقت کے قطب و ابدال کہلوانے والے بھی ایسے ہیں کہ الامان الحفیظ۔ کہیں تھپڑ مار کر فیض بانٹا جا رہا ہے تو کہیں عورتوں کو گلے لگا کر گندے تالاب میں نہا کر، کہیں ہاتھ ملانے پر کرنٹ ٹرانسفر کرکے وجد طاری کیا جاتا ہے تو گالم گلوچ بھی مرشد کا فیض عام ہے۔ اب یہاں لوگوں کا ایمان سبزیوں، پھلوں یا بکریوں پر مقدس نام ابھرتا دیکھ کر تازہ ہوتا ہے۔ ایمان کی شرط یہ ہے کہ کوئی تصویر فیس بک پر شیئر کی جا رہی ہے یا نہیں۔

افسوس کہ نئے پاکستان میں ہم ایک نامعلوم ذہنی بیماری یا انتشار کا شکار ہو چکے ہیں۔ ہم غلط، غیر قانونی اور غیر اسلامی کام کرکے فخر محسوس کرتے ہیں۔ ایک موٹر سائیکل پر پانچ بندے بٹھا کر لے جاتے ہیں اور پھر احمقوں کی طرح سینہ پھلا کر دوسروں سے پوچھتے ہیں دیکھ، تیرے بھائی نے کیسے بائیک چلائی؟۔ یہی نہیں موٹر سائیکل پر ڈیپ فریزر لاد تے ہیں اور ساتھ موبائل فون پر گفتگو بھی کرتے جاتے ہیں۔ منہ میں نسوار یا گٹکا ڈال کر بچوں پر غصہ نکالتے ہیں کہ کوئی ڈھنگ کا کام بھی کیا کرو۔ گلی کے نکڑ پر، پان کے کھوکھے پر یا کسی ڈھابے پر دوسروں کے نکمے پن کے رونے روتے ہیں۔ بچوں سے اظہار محبت انہیں چھرّوں والی پستول ہاتھ میں تھما کر کرتے ہیں۔

ایسے میں نئے پاکستان کا خواب کیا ہوگا؟ ہم چند ہندسی عدد کی محدود سوچ رکھنے والے لوگ ہیں۔ ہمیں کچھ آتا ہو یا نہیں مگر ہمیں ایک وائٹ کالر نوکری چاہیے، پانچ سے چھ عدد والی تنخواہ اور چار پہیوں والی گاڑی وغیرہ وغیرہ مگر کبھی ان سے پوچھیں کہ ملک و قوم کے لیے کیا کر رہے ہیں؟ جواب الٹا ملے گا۔ پوچھیں کرپشن کیوں کرتے ہو؟ تو بولیں گے سبھی کرتے ہیں، میں نے کیا تو کیا ہوگا؟ یہی سوچ، یہی ذہنیت ہمارے اندر بچپن سے پلتی رہتی ہے اور پچپن تک قائم رہتی ہے۔ ہم زیر تربیت بچوں کو سکھاتے ہی نہیں کہ ملک اور وطن کیا ہوتے ہیں؟ ذمہ داری کیا ہوتی ہے؟ ہمیں صرف سکھایا جاتا ہے کہ پیسے کیسے کمانے ہیں کیونکہ پیسہ ہی ہماری اصل کامیابی ہے اور زندگی کا مقصد بھی۔

یہ تھا پرانا پاکستان اور نیا پاکستان، اگر تھوڑا سنجیدگی سے اور عقل کو استعمال کرکے سوچیں تو عمیر صاحب کی باتیں حرف بہ حرف تسلیم کریں گے کیونکہ یہ ایک حقیقی عکس ہے، جو ہمارے سامنے کوئی نہیں رکھتا۔ ہم تبدیلی اور نئے پاکستان کی تعمیر صرف باتوں میں چاہتے ہیں، عملی قدم اور عملی اظہار اگر کسی حد تک کر بھی رہے ہیں تو صحیح سمت میں نہیں۔ ہمارے ذہنوں میں آج بھی یہی بات اٹکی ہوئی ہے کہ کوئی الہ دین کا چراغ لے کر آئے گا، ہم اسے رگڑیں گے اور نئے پاکستان کی تعمیر کرنے والا جن حاضر ہو جائے گا اور ایک لمحے میں ہمارے لیے نیا اور تبدیل شدہ پاکستان بنا دے گا۔ اگر نئے پاکستان کا خواب یہی ہے تو بہت معذرت کے ساتھ مجھے اپنا پرانا پاکستان واپس چاہیے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com