کہاں ہیں خالد اور ایوبی، مسجد اقصیٰ کی پکار - خطبہ جمعہ بیت اللہ

تعارف خطيب

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن السدیس سعودی عرب کے صوبہ قصیم کے  قصبہ البکیریۃ میں 1962ء کو پیدا ہوئے۔   12 سال کی عمرمیں قرآن مجید حفظ کر لیا۔  1979ء میں ہائرسیکنڈری  کی ڈگری المعھد العلمی ریاض سے  فرسٹ ڈویژن میں حاصل کی ،1983ء میں شریعۃ میں بی اے کیا۔محمد بن سعود اسلامک یونیورسٹی سے 1987ء میں ماسٹرز کیا۔  1995ء میں ام القریٰ یونیورسٹی سے شریعہ میں پی ایچ ڈی مکمل کی۔ 1995ء کو دبئی سے قراء کے مقابلہ میں ’’ممتاز اسلامی شخصیت‘‘ کا ایوارڈ حاصل کیا۔ 22شعبان 1404ھ یعنی 8 اکتوبر 1983ء کو کعبہ کے امام اور خطیب مقرر ہوگئے۔ کعبہ میں پہلی نماز عصر کی پڑھائی ۔15 رمضان کو حرم میں پہلا خطبہ جمعہ دیا۔ 17 جمادی الثانی 1433ھ کو آپ امور حرمین شریفین  حرم ِ مکی ومدنی کے وزیر متعین ہو گئے۔ آپ کی خطابت میں عربی کی فصاحت بولتی ا ور قرآنی تلاوت کانوںمیں  بڑا منفرد اور شیریں رس گھولتی ہے۔کئی کتابیں تصنیف فرما چکے ہیں۔ زیادہ تر ’’اصلاح امت ‘‘کے موضوعات پر اور بعض اصول فقہ کے موضوعات پر ہیں۔    خطبات کی کئی  کتابیں چھپ چکی ہیں اور بعض  کے اردو ترجمے بھی ہو چکے ہیں۔ ائمہ حرمین ہی میں نہیں پورے عالم ِ اسلام کی ہر دلعزیز شخصیت ہیں۔پاکستان تشریف لائے تو لوگ آپ کی زیارت کیلئے ٹوٹ پڑے۔ آپ  پیغام ٹی وی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین بھی ہیں۔

پہلا خطبہ:

ہر طرح کی تعریف اللہ ہی کے لیے ہے۔ ہم اسی کی حمد وثنا بیان کرتے ہیں، اسی پر بھروسہ کرتے ہیں اور اسی سے معافی مانگتے ہیں۔ اسی نے مسجد اقصیٰ کے علاقے کو بابرکت بنایا ہے، اسی نے نافرمانوں کو نامراد کیا کیا ہے۔ میں اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں اور ان گنت نوازشوں پر اس کی حمد وثنا بیان کرتا ہوں۔ شاعر کہتا ہے:

’’بلا توقف تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، پھر تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، پھر تعریف اللہ ہی کے لیے ہے۔ ہر وقت شکر اسی کے لیے ہے، شکر بھی اسی کے لیے، شکر بھی اسی کے لیے ہے۔‘‘

میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہی اپنے بندے کو راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ لیجانے والا ہے۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے پیارے نبی سیدنا محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ کی رحمتیں، برکتیں اور سلامتی ہو آپ ﷺ پر، صحابہ کرام پر، تابعینِ عظام پر اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں پر۔

بعدازاں! اے بندگانِ الٰہ!

اللہ سے یوں ڈرو، جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے۔ اطاعت گزار بنو تاکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور بشارتوں کے مستحق ٹھہرو۔ فرمانِ الٰہی ہے:

’’یقیناً جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور عمل صالح کر رہے ہیں عنقریب رحمان اُن کے لیے دلوں میں محبت پیدا کر دے گا‘‘ (مریم: 96)

’’پرہیزگاری اور حمد وثنا کا بیان بہترین تجارت ہے جو مشکل اوقات میں انسان کے کام آتی ہے اور قبر میں اترنے کے بعد تو انسان کو ان ہی چیزوں کی جزا ملتی ہے جنہیں اس نے اپنی زندگی میں اپنایا ہوتا ہے۔‘‘

اے مسلمانو!

جو شخص تاریخ کے واقعات پر نظر دوڑاتا ہے اس کی آنکھ اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم حکمت پر آن ٹھہرتی ہے۔ یہ حکمت اللہ تعالیٰ کا چناؤ اور انتخاب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں میں حضرت جبریل کو چنا، انسانوں میں سے انبیاء کو چنا، انبیاء میں سید الانبیاء محمد ﷺ کو چنا اور جگہوں میں سے حرمین شریفین اور مسجد اقصیٰ کو چنا۔ اللہ رب العالمین نے مسجد اقصیٰ کو بلندی اور پاکیزگی سے متصف فرمایا۔ فرمانِ الٰہی ہے:

’’اور ابن مریم اور اس کی ماں کو ہم نے ایک نشان بنایا اور ان کو ایک سطحِ مرتفع پر رکھا جو اطمینان کی جگہ تھی اور چشمے اس میں جاری تھے‘‘ (مؤمنون: 50)

مؤمن بھائیو!

توحید ورسالت کی گواہی کے بعد جب اہم ترین اسلامی فریضہ، یعنی نماز، کا حکم نازل ہوا تو اس میں بیت المقدس کی طرف رخ کرنے کا کہا گیا۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ مکہ مکرمہ کے تیرہ برس اور مدینہ منورہ کے پہلے سترہ مہینے اسی کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے رہے۔ پھر قرآن کریم میں مسجد حرام کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرنے کا حکم نازل ہو گیا۔ ان دونوں مسجدوں کا تعلق بہت پرانا، گہرا، دینی اور تاریخی ہے۔ یہ زمین پر پہلی دو مسجدیں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے بنایا گیا تھا۔ حدیث میں آتا ہے کہ

سیدنا ابو ذر غفاری نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول! زمین پر سب سے پہلے کون سی مسجد تعمیر کی گئی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: مسجد حرام! انہوں نےپوچھا: اس کے بعد کون سی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’مسجد اقصیٰ‘‘ سیدنا ابو ذر نے دریافت کیا کہ مسجد حرام بنائے جانے کے کتنے عرصے بعد مسجد اقصیٰ بنائی گئی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’چالیس سال بعد‘‘ (بخاری)

شیخ الاسلام ابن تیمیہ ﷫ فرماتے ہیں:

’’مخلوقات اور احکام الٰہیہ کی ابتدا مکہ مکرمہ سے ہوئی اور بیت المقدس کو اللہ تعالیٰ نے میدان حشر بنایا۔ تمام لوگ بیت المقدس میں اکٹھے ہو جائیں گے اور وہیں حشر کا میدان ہو گا۔ حدیث میں آتا ہے کہ حشر کی جگہ اور حشر کے بعد منتشر ہونے کی یہی جگہ ہے ۔ یہ وہ مسجد ہے جو تمام شریعتوں میں مقدس ہے، تمام انبیا نے اس کا احترام کیا ہے اور اس میں اللہ کی چاروں کتابوں کی تلاوت کی گئی ہے۔زبور، تورات، انجیل اور قرآن ‘‘

اسی طرح فرماتے ہیں:

’’مذکورہ دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ انبیا کی حکومت شام میں تھی اور اسی میں حشر ہو گا۔ سب لوگ بیت المقدس کے قریب اکٹھے ہوں گے اور وہیں تمام لوگوں کو اکٹھا کیا جائے گا۔ زمانے کے آخری حصے میں اسلام شام کے علاقے میں مضبوط ترین ہو گا اور مکہ مکرمہ بیت المقدس سے زیادہ فضیلت والی جگہ ہے۔‘‘

اللہ اکبر! یہ ہے ان دونوں مسجدوں کا ایمانی اور تاریخی تعلق۔ دونوں نبوت کی جگہیں ہیں اور دونوں دنیا کی افضل ترین جگہیں۔

اے امت ایمان!

دینِ اسلام نے اس تعلق کو مضبوط تر اور اس رشتے کو مزید طاقتور بنایا ہے۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے:

’’سفر کر کے جانا صرف تین ہی مسجدوں کے لیے درست ہے۔ مسجدِ حرام، مسجدِ اقصیٰ اور میری یہ مسجد (یعنی مسجد نبوی)‘‘ (بخاری)

اسی طرح فرمایا:

’’مسجد حرام میں پڑھی گئی ایک نماز دوسری جگہوں میں پڑھی گئی ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہے اور میری اس مسجد (یعنی مسجد نبوی) میں پڑھی گئی ایک نماز دوسری جگہوں پر پڑھی گئی ایک ہزار نماز کے برابر ہے اور مسجد اقصیٰ میں پڑھی گئی ایک نماز پانچ سو نمازوں کے برابر ہے۔‘‘ (طبرانی)

بھلا مسلمان اس سرزمین سے تعلق کیوں نہ جوڑیں جبکہ یہ انبیا اور رسولوں کی سرزمین ہے۔ اسی پر ابراہیم ، اسحاق ، یعقوب ، یوسف ، لوط ، داؤد ، سلیمان ، صالح ، زکریا ، یحییٰ ، عیسیٰ رہے اور اسی بنی اسرائیل کے بہت سے ایسے انبیاء بھی رہے کہ جن کا ذکر ہم نہیں پاتے۔

یہ بھی پڑھیں:   لوگوں نے پوچھا ہے - مفتی منیب الرحمن

اے امتِ اسلام!

؁05 ہجری میں مسلمانوں نے بیت المقدس کو فتح کیا۔ وہاں کے پادریوں نے کہا کہ ہم بیت المقدس کی کنجیاں خلیفۃ المسلمین حضرت عمر بن خطاب کے علاوہ کسی اور کے سپرد نہ کریں گے۔ ہم اپنی کتابوں میں ان کا ذکر پاتے ہیں۔ چنانچہ حضرت عمر مدینہ منورہ سے تشریف لائے اور بیت المقدس کی کنجیاں حاصل کیں۔

تاریخ میں روشن لفظوں سے لکھا ہے کہ حضرت عمر نے کوئی چرچ، کلیسہ، عبادت گاہ گرائی اور نہ کوئی گھر توڑا، بلکہ دوسروں کی عبادت گاہیں سلامت رکھیں اور اہل علاقہ کے لیے عمومی امان کا عہد نامہ لکھا اور لوگوں کو اس پر گواہ بنایا۔ تاریخ گواہ ہے کہ مسلمان دورِ حکومت میں یہودی اور عیسائی ایسی بہترین زندگی گزارتے رہے، جس کی مثال کسی دوسرے دورِ حکومت میں نہیں ملتی۔ وہ مکمل آزادی کے ساتھ اپنی عبادت سرانجام دیتے رہے۔

اسلام اعتدال اور میانہ روی کا دین ہے، عدل وانصاف کا دین ہے۔ یہ انتہا پسندی اور دہشتگردی کا یا ظلم وزیادتی اور جنگوں اور فتنوں کا دین نہیں ہے۔ شاعر کہتا ہے:

’’اے قدس! غم زدہ نہ ہو! ہماری آنکھوں میں محبوب ﷺ کا سایہ ہے اور ہمارے دلوں میں جنت کی امید ہے۔ حرمین کے خادم مسجد اقصیٰ کو دشمن کے قبضے میں ناپاک ہوتا نہیں دیکھ سکتے۔‘‘

اے مؤمنو!

تاریخ زمانے کے لیے آئینہ ہے، یہ حال میں ماضی دکھانے والا دریچہ ہے اور یہی حال میں مستقبل دکھانے والی کتاب ہے۔ تاریخ میں کوئی ایسا مسئلہ نہیں گزرا کہ جس کے بارے میں ہماری شرعی نصوص، تاریخی حقوق اور تہذیبی وابستگی یوں اکٹھی ہو گئی ہوں، جس طرح اس مسئلے میں یہ اکٹھی ہیں۔ یہ ہمارا سب سے بڑا اسلامی مسئلہ ہے۔ تازہ مسائل یا لڑائیوں میں اسے بھلانا نہیں چاہیے۔

یہ پہلا قبلہ، تیسری مقدس مسجد اور آپ ﷺ کی جائے معراج کا مسئلہ ہے۔ یہ اقصیٰ مبارک کا مسئلہ ہے کہ جو ہر مسلمان کے دل میں رہنا چاہیے اور اس کے بارے میں کوئی سودہ بازی یا دستبرداری کی بات نہیں ہونی جاہیے۔

تاریخ میں یہودیوں کے کرتوت اہل اسلام سے پوشیدہ نہیں اور گزشتہ دنوں میں انہوں نے جو قتل وغارت کی ہے یہ ان کے رویوں اور دل کے کالے کرتوتوں کی کھلی دلیل ہے۔

گزشتہ حالات پر تو آنکھیں نم ہو جاتی ہیں اور دل افسوس میں ڈوب جاتا ہے۔ سنو! ہماری مقدسات کے بارے میں کوئی سودہ بازی قابل قبول نہیں! ہمارے دین کے معاملے میں کوئی پیچھے ہٹنا روا نہیں۔

حالیہ حالات نے ہمارے پرانے زخم پھر سے تازہ کر دیے ہیں۔ کہاں ہیں خالد اور صالح؟ کیا ہمارے مقدس مقات مسلسل چیختے رہیں گے، کیا ہمیں قدس ہمیشہ ہی بلاتی رہے گی، فلسطین مدد کا منتظر رہے گا اور اقصیٰ مدد کے لیے پکارتی رہے گی؟ اور ہم اپنی زندگی میں مگن ہی رہیں گے، ہمیں کبھی سکون بھی نصیب ہو گا یا یوں ہی بہتے بہتے ہمارے آنسو خشک ہو جائیں گے؟ شعر میں ہے:

’’میں نے کہا: اے اقصیٰ تجھے سلام! اس نے کہا: کیا صلاح الدین واپس آ گئے ہیں؟ اس کے آنسو بہہ رہے تھے اور وہ کہہ رہی تھی: مجھے نیزوں نے توڑ دیا ہے، یہودیوں کے ظلم نے مجھے پیس دیا ہے اور میری سرزمین ان کے لیے کھل گئی ہے۔‘‘

اے امت اسلام!

اے فلسطین کی مقدس زمین پر ثابت قدم جوانو! اے عزت، بلندی، قربانی اور ثابت قدمی کی زمین پر جہاد کرنے والو! ہم تمہیں اس سرزمین سے پکارتے ہیں کہ جو امت اسلامیہ کو جوڑنے والی ہے۔

اللہ کی قسم! کہ جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں! مسجد اقصیٰ ظالم، جابر اور سرکش یہودیوں کے ہاتھوں میں دیکھ کر ہمارے دل افسوس سے بھر جاتے ہیں اور ہماری نیندیں اڑ جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ اسے مسلمانوں کے قبضے میں واپس لوٹا کر ہماری آنکھیں ٹھنڈی فرمائے! آج جو اس میں ہو رہا ہے اسے دیکھ کر ہمارے دل افسوس اور غم سے بھر جاتے ہیں۔ مسجد اقصیٰ کا مسئلہ ہمارا مسئلہ ہے، مسجد اقصیٰ کی مصیبت ہماری مصیبت ہے اور مسجد اقصیٰ کی مشکل ہمارے دلوں مشکل ہے۔

تو صبر کرو! اے مجاہدو! صبر کرو! تمہارے بابرکت جہاد نے عزت، نصرت اور پاکیزگی کی روشنائی سے عصر حاضر کی شاندار ترین مثال رقم کی ہے۔ تم بڑے ہی بابرکت لوگ ہو! اللہ کی حفاظت کرے! تم بہادر سپوت ہو! تم نے امت میں پھر سے امید جگا دی ہے اور اپنی باتوں کو عمل سے سچ کر دکھایا ہے۔

جب تک تم اللہ کے دین کی نصرت کرتے رہو گے تب تک ہی نصرت سے خوش رہو۔ فرمانِ الٰہی ہے:

’’ہم پر یہ حق تھا کہ ہم مومنوں کی مدد کریں‘‘ (روم: 47)۔

مبارک ہو! آپ کو اپنی جانیں اللہ کی راہ میں پیش کرنا مبارک ہو۔ ہم تہہ دل سے تمہارے لیے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ تمہارے شہدا کی شہادت قبول فرمائے اور تمہارے بیماروں کے لیے جلد آنے والی شفا اور عافیت عطا فرمائے!

اللہ سے ناامید نہ ہونا! نصرت آ رہی ہے۔ ان شاء اللہ! امت اب عمل اور باقاعدہ محنت کے مرحلے میں داخل ہوا چاہتی ہے۔ اب اصولی موقف اپنائے جائیں گے کیونکہ الفاظ اور انتظار کسی کام نہیں آ سکتے۔

یہ بھی پڑھیں:   رب کو راضی کیسے کریں ؟ ڈاکٹر بشری تسنیم

امت کے احوال درست کرنا اور اسے مشکلات سے نکالنا ساری امت اسلامیہ کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ امت کو چاہیے کہ وہ عقیدہ اور علم، عقل اور حکمت کے ساتھ تیزی سے آگے بڑھے، تاکہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچ ہو جائے جو اس نے ہم سے کیا ہے۔

ہم پر امید ہیں کہ امت کی مصیبتیں گرما کے بادلوں کی طرح جلد ہی بکھر جائیں گی۔ نصرت تو اسلام اور اہل اسلام ہی کے لیے ہے۔ اہل اسلام اس خوشخبری سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کر لیں۔ ہم اللہ تعالیٰ ہی سے نصرت اور عزت کا سوال کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمارے عقیدے کی، قیادت کی اور مقدس مقامات کی دشمنان اسلام سے حفاظت فرمائے! میرا رب دعا سننے والا اور دعا قبول کرنے والا ہے۔

فرمان باری تعالیٰ ہے:

’’اللہ ضرور اُن لوگوں کی مدد کرے گا جو اس کے دین کی مدد کریں گے اللہ بڑا طاقتور اور زبردست ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے منع کریں گے اور تمام معاملات کا انجام کار اللہ کے ہاتھ میں ہے‘‘ (حج: 40-41)۔

اللہ مجھے اور آپ سب کو قرآن وسنت میں برکت عطا فرمائے! آیات اور حکمت میں نفع پہنچائے۔ میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔ اپنے لیے، آپ کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے اللہ عظیم وجلیل سے ہر گناہ کی معافی مانگتا ہوں۔ آپ بھی اسی سے معافی مانگیے۔ وہ عفو ودرگزر کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ:

تعریف اللہ ہی کے لیے ہے۔ وہی پاکیزہ ترین ہستی ہے۔ وہی زمین سے حرمین اور بیت مقدس کو منتخب کرنے والا ہے۔ میں درود وسلام بھیجتا ہوں اللہ کے بندے اور رسول، ہمارے نبی محمد ﷺ پر۔ آپ ﷺ کی آپ، صحابہ کرام اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں پر۔

بعدازاں!

اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو! اور خوب جان لو کہ سب سے سچا کلام اللہ کی کتاب ہے اور بہترین طریقہ نبی اکرم ﷺ کا طریقہ ہے۔ خود ایجاد کردہ عبادتیں بدترین اعمال ہیں۔ ہر نئی عبادت بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔

اے مسلمان بھائیو!

یہ بات تو طے ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ سعودی عرب جب سے وجود میں آیا ہے، اس وقت سے لے کر آج تک مسلمانوں کے مسائل اور مسجد اقصیٰ کے مسائل حل کرنے، اس کا دفاع کرنے اور زبانی اور عملی طور پر اس کی حفاظت کرنے میں سب سے آگے ہے۔ یہ مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس کے متعلق کسی معاملے میں پیچھے نہیں رہتا۔

یہ ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے اس بابرکت ملک کے حکمرانوں کے سر پر ڈالی ہے کہ وہ حرمین شریفین کی خدمت کریں اور امت اسلامیہ کے مسائل کو حل کریں۔ اسی ذمہ داری کو پورا کرنے میں خادم الحرمین پیش پیش ہیں اور آج مسجد اقصیٰ کے حوالے سے خادم الحرمین کی جانب سے کی جانے والی پیش رفت اسی استعداد کی دلیل ہے۔

اللہ کا شکر ہے کہ فلسطین کے ثابت قدم شہریوں پر ہونے والا ظلم ختم کرنے میں ان کی کاوش کو حیران کن پذیرائی ملی۔ یہودیوں کی طرف سے ان پر ہونے والا ظلم ختم ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ خادم الحرمین کے اس کام کو اس کے حسنات میں شامل فرمائے اور انہیں مزید نصرت اور تائید سے نوازے!

اے مسلمانو! اور اے فلسطینیو! تمہیں مبارک ہو! اس عظیم فتح اور شاندار نصرت کی۔ ظلم اور محاصرے کے خاتمے کی۔

اللہ اکبر! اللہ اکبر! یہ ہیں نصرت کی کرنیں آسمان میں لہرا رہی ہیں اور اس کی خوشبو ہر جگہ پھیل رہی ہے۔

اسی طرح امت کی عوام اور حکمرانوں کا اس مسئلے میں شامل ہونا اور فلسطینی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا بڑا خوش آیند ہے اور ہم اس کی وجہ سے بڑے پر امید ہیں۔

بلادِ حرمین کو بھی مبارک ہو۔ اللہ اس کی حفاظت فرمائے! اس نے سے بڑی ہی مثبت پیش قدمی کی ہے۔ مسلمانوں کا حق حاصل کرنے کے لیے اور مسجد اقصیٰ مبارک کو محفوظ کرنے عظیم اقدام کیا ہے۔ تاکہ لوگ مکمل آسانی اور اطمینان کے ساتھ عبادت کر سکیں اور مسجدوں کی پاکیزگی بحال رہ سکے۔ تاکہ عالمی امن وسلامتی قائم ہو سکے۔ مسجد اقصیٰ میں جانا اور وہاں مکمل امن وسلامتی کے ساتھ نماز ادا کرنا ہر مسلمان کا شرعی حق ہے۔

اللہ کے فضل سے یہ کام ہو گیا اور اس میں نہ میڈیائی مبالغہ آرائی نظر آئی، نہ صحافتی زیادتی اور نہ الیکٹرانک جنگ۔ اس مسئلے کو فرقہ واریت میں الجھایا گیا نہ اس میں دہشتگردانہ طریقے کو اپنایا گیا جس سے حرمین شریفین کے امن وامان کو ایسے امور کا خطرہ لاحق ہو کہ جن کی نہ دین میں کوئی گنجائش ہے اور نہ اصول ومبادی میں اس کی کوئی اجازت ہے۔

ہم تمام مسلمانوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اس نازک مرحلے میں اپنا فرض ادا کریں۔ فرمان الٰہی ہے:

’’مومن تو ایک دوسرے کے بھائی ہیں‘‘ (حجرات: 10)

’’سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو‘‘ (آل عمران: 103)

تمام اہل اسلام کا فرض ہے کہ مسجد اقصیٰ اور فلسطین میں اپنے بھائیوں کی ہر طرح سے مدد کی کوشش کریں اور ان کے لیے نصرت اور ثابت قدمی کی دعا کریں۔

’’یہ اس نبی کا پہلا قبلہ ہے کہ جس کے دین کے بعد پچھلے تمام ادیان ختم ہو گئے۔ اس میں سرکش شیر بن گیا ہے۔ وہ اپنے دل میں دشمنی اور عداوت لیے ہوئے ہے اور اس کا سینہ حسد سے کھول رہا ہے۔ جبکہ اقصیٰ درد بھری نظریں لیے ادھر اُدھر دیکھ رہی ہے۔ اس کا صحن جھلس رہا ہے۔ اے قدس! صبر کر! آپ کی نصرت آنے والی ہے! اے قربانیوں کے شہر! چور ہمیشہ بزدل ہی ہوتا ہے‘‘

اللہ تعالیٰ آپ کی کاوشوں کو بابرکت بنائے! آپ کی مرادیں پوری فرمائے! میرا رب رحیم اور بڑا نرم ہے۔

ترجمہ: محمد عاطف الیاس

نظر ثانی: حافظ یوسف سراج

بشکریہ، پیغام ٹی وی۔

Comments

محمد عاطف الیاس

محمد عاطف الیاس

عاطف الیاس مغل نے ام القریٰ یونیورسٹی، سعودی عرب سے گریجویشن جبکہ لیڈز یونیورسٹی سے ایم اے انگلش کیا۔ اسلامی فکر وتہذیب میں ایم فل یو ایم ٹی، لاہور سے جبکہ لیڈز یونیورسٹی سے لسانیات میں بھی ایم فل کیا۔ سعودی عرب میں پڑھنے اور بیس برس گزارنے کے باعث عربی زبان وادب اہل زبان کی طرح بولتے اور سمجھتے ہیں۔ پیغام ٹی وی کے ریسرچ ڈیپارٹمنٹ سے بطور ریسرچ سکالر اور مترجم وابستہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.