اندھیرے میں نور کی ایک کرن - خالد ایم خان

مجھے رات کی تاریکی میں نور کی ایک کرن دکھائی دی، ایک ایسی نور کی کرن جس نے یکلخت اندھیری سیاہ رات کو اپنے شکنجوں میں جکڑ کر ہر جانب مسحور کُن اُجالا سا کردیا۔ نور کی ایک ایسی کرن، ایک ایسی روشنی جس کے انتظار میں ہم عرصہ سے اپنی نگاہیں جمائے بیٹھے تھے۔ بلا شک رات بہت طویل تھی، ایک ایسی سیاہ اندھیری رات جو ہمارے روشن اُجالے کو نگل چکی تھی، جو آہستہ آہستہ کسی عفریت ہی کی مانند اب ہمارے دل ودماغ پر بھی اپنا قبضہ جما چکی تھی۔ ہم اپنا سب کچھ ہار چکے تھے، سب کچھ حتیٰ کے ہم نے اپنے ایمان بھی بیچ کھائے۔ بے ایمانی کا طوق گلے میں ڈال کر ہم زندہ لاشوں کی مانندہر اُس حرام کے لُقمے کو کھانے پر مجبور کردیے گئے تھے کہ جن کی بنیادان اندھیروں کے خالقوں نے رکھی کہ جنہوں نے عرصہ دراز سے ہمارے اوپر یہ اندھیرے مسلط کئے۔ اچانک ایک دیے کی لو کہیں سے روشن ہوئی اور بڑھتے بڑھتے نور کی ایک ایسی کرن میں تبدیل ہوگئی کہ جس کے بعد ہمیں محسوس ہونے لگ چکا ہے کہ اب اندھیرا چھٹنے کو ہے، اب زنجیریں ٹوٹنے کو ہیں، اب غلامی کا طوق اُترنے کو ہے، اب زندانوں کی خیر نہیں، بقول فیض

جو دریا جھوم کے اُٹھے ہیں اب تنکوں سے نہ ٹالے جائیں گے

ایک ایسی منزل جس کی نوید ہمیں سُنا دی گئی ہے، بے انتہا انتظار کے بعد آخر کار پاکستان کی عوام کو ایک فیصلہ ایسا سننے کو ملا جس میں انصاف کے تقاضے محترم جج صاحبان نے بھرپور انداز میں اپنی پوری ایمانداری کے ساتھ پورے کئے۔ جس کے لیے راقم اعلیٰ عدلیہ کے تمام محترم جج صاحبان کو دل کی گہرائیوں سے سلیوٹ پیش کرتا ہوں اور یہ سلیوٹ آپ لوگوں کو صرف میری طرف ہی سے نہیں بلکہ پوری قوم کی جانب سے پیش ہوا ہے۔ آپ لوگوں نے پاکستان کی تاریخ میں کرپشن کے اوپر ایک تاریخ ساز فیصلہ صادر کیا ہے ایک ایسا فیصلہ جو حاکم وقت کے خلاف تھا اور ہم جانتے ہیں کہ یہ سب کچھ اتنا آسان نہ تھا۔ یقیناً آپ پر بے انتہا پریشر تھا لیکن جس خوبصورت انداز میں آپ لوگوں نے اس تمام کیس کو ہینڈل کیا وہ لائق تحسین ہے، اور ساتھ ہی ساتھ جے آئی ٹی ممبران کو اس لمحہ فراموش کردینا ضرور زیادتی ہوگی جنہوں نے انتہائی دباؤ میں صاحبان اقتدار کے چمچے چیلوں کی دھمکیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے جس ایمانداری سے حقائق کے مطابق رپورٹ مرتب کی وہ بھی لائق تحسین ہے۔ کریڈٹ تو بنتا ہے اور یہ کوئی معمولی بات نہیں، یہ کوئی عام فیصلہ نہیں، یہ تو ایسے ہی ہے کہ جیسے اندھیرے میں نو ر کی ایک کرن سی دکھائی دی ہو ہمیں۔

سیاہ اندھیری رات میں دکھائی دی جانے والی اس نور کی کرن کا تمام تر سہرا آپ لوگوں کے سر جاتا ہے آپ لوگ بلا شبہ آج کے ہیرو کہلائے جانے کے لائق ہیں آپ کی جانب سے صادر کیا جانے والا یہ تاریخی فیصلہ بنیاد بنے گا اُن تما م فیصلوں کا جو کہ اس ملک میں کرپشن سے نجات کی خاطرلیے جائیں گے۔ کیوں کہ ایک نواز شریف ہی کرپٹ نہیں تھا اس ملک میں، بھرا پڑا ہے یہ ملک کرپٹ اور بے ایمان لوگوں سے۔ جناب جاوید چوہدری صاحب نے کچھ دنوں قبل ہی کہا تھا کہ گٹھڑی کُھلنے کو ہے، لیکن بھائی جاوید چوہدری صاحب گٹھڑی کھل چکی ہے، اب اس گٹھڑی میں سے مزیدکیا برآمد ہوگا اس پر ہم سب کی نگاہیں مرکوز ہیں۔

ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ اس گنگا میں سب نہائے ہوئے ہیں ہاتھ دھونا تو بہت دور کی باتیں ہیں۔ کس کس نے مال کھایا ہے سب سامنے آنا چاہیے، ابھی تو کرپشن کے بے تاج بادشاہ کرپشن کی اس گنگا میں ڈبکی لیے بیٹھے ہیں، مت بھولیں کہ بڑے بڑے نامور سیاستدان، ادیب اور صحافی بھی اس حمام میں ننگے ہیں، جنہوں نے ہر دور میں کبھی اس ملک کی عوام کو آنے والے ان دیکھے طوفانوں کی دھمکیاں دیں تو کبھی زلزلے آجانے سے ڈرایا دھمکایا۔ دیکھ لیں دنیا والے کہ نہ ہی کوئی زلزلہ آیا اور نہ ہی کوئی طوفان،ایک خاندان اپنے کیے کی سزا پاچکا ہے باقی بھی اپنی باری کا انتظار کریں اُلٹی گنتی شروع ہو چکی ہے۔ وقت حساب آن پہنچا ہے انشاء اللہ، اب محترم جج صاحبان کی ذمہ داریاں مزید بڑھ چکی ہیں۔ جس فیصلے نے محترم جج صاحبان کا اعتماد ملک کی عوام کے اوپر بحال کیا ہے، اُس اعتماد کو قائم رکھ پانے کی خاطر اعلیٰ عدلیہ کے فاضل جج صاحبان کو آہنی ارادوں کے ساتھ پاکستان کو ان کرپٹ مافیاؤں سے نجات دلانے کی خاطر اہم رول ادا کرنا ہوگاکو۔اب ملک کی تقدیر کے خلاف کھیلنے والے ایک ایک فرد کو چُن چُن کر اس گندگی کے دریا سے نکال کر عوامی کٹہروں میں کھڑا کرنا ہوگا، اور اُن سے پاکستان کی عوام کی خون پسینہ سے کمائی گئی دولت کو ہڑپنے کا حساب لینا ہوگا۔ یقیناً مجھے بہت افسوس ہوا تھا اُس دن جب ایک کرپٹ آدمی کو اس ملک میں سونے کا تاج پہنایا گیا تھا، جب ایک مجرم کو ملک سے باہر جانے دیا گیا تھا، جب کھربوں ڈالر کی کرپشن کرنے والے کی ضمانت چند لاکھ روپوں میں منظور کرلی گئی تھی، اُس دن میں سمجھا تھا کہ اس ملک میں عدلیہ کا جنازہ نکل چکا ہے لیکن آج جس انداز میں آپ نے اپنے زندہ ہونے کا احساس دلایا ہے اس ملک کی عوام کو اُس نے ہمارے دلوں میں ایک امید کی کرن جگا دی ہے، ایک ایسی نور کی کرن جو ہمارے دل ودماغوں پر چھائے اندھیرے کو روشنی سے بدل سکے۔ ان شاء اللہ!

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */