قوم بھنگڑے ڈالتی رہے گی - احسان کوہاٹی

سیلانی آپ کو کو سپریم کورٹ کے کمرہ نمبر ایک میں لیے چلتا ہے۔ کمرہ مکمل طورپر لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا ہے سب کی نظریں بار باراس دروازے کی طرف اٹھ رہی ہیں جہاں سے 67 سالہ وزیر اعظم نوازشریف کی سیاسی قسمت کا فیصلہ کرنے والے پانچ ججوں نے آنا ہے۔ عدالت کی نشستوں پر بیٹھے لوگ بے چینی سے بار بار پہلو بدل رہے ہیں، کچھ کے چہرے مرجھائے ہوئے ہیں اور کچھ کے چہرے انجانی خوشی سے تمتما رہے ہیں۔ ان کے چہرے دیکھ کر ہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ "نون " والے ہیں یا "جنون" والے۔ ایک نشست پر وہ شخص بھی پنے چند ساتھیوں کے ساتھ براجمان ہے جس کی صداقت اور امانت کی گواہی معزز عدالت عظمٰی ہی کے ایک جج نے یہ کہہ کر دی تھی کہ اگر ایسا احتساب ہوا تو پھر صرف سراج الحق ہی باقی بچیں گے۔ عدالت عظمٰی کی ویب سائٹ سے بتایا گیا تھا کہ ساڑھے گیارہ بجے فیصلہ سنایا جائے گا۔

اب سیلانی آپ کو یہیں روک کر 1993ء میں اسی کمرہ عدالت کا حال سناتا ہے۔ اس وقت ایوان صدر میں غلام اسحاق خان اور وزیر اعظم ہاؤس میں میاں نوازشریف مکین تھے۔ کہنے کو تو ایوان صدر سے وزیر اعظم ہاؤس کا فاصلہ چند کلومیٹر کا ہے لیکن دلوں کے فاصلے اتنے بڑھ چکے تھے غلام اسحاق خان میاں نوازشریف کو دیکھنے کے رواداربھی نہ تھے۔ پھر یہ کھنچاؤ اتنا بڑھا کہ تعلقات کی ڈور ہی ٹوٹ گئی اور یہ ٹوٹی ڈور تمام اخبارات کومیاں صاحب کا تختہ الٹنے کی شہ سرخی دے گئی۔ عجیب اتفاق یہ کہ تب بھی میاں صاحب پر بدعنوانی کا الزام ہی تھا۔ میاں صاحب نے صدر مملکت کایہ اقدام عدالت عظمٰی میں چیلنج کر دیا۔ فیصلے کا دن آیا اوریہ بھی خوب اتفاق ہے کہ اسی کمرہ ء عدالت نمبر ایک میں فیصلہ سنایا جانا تھا اور فیصلہ بھی کون سنا رہا تھا؟اس وقت کے چیف جسٹس نسیم حسن شاہ جو آج فیصلہ سنانے والے جسٹس آصف سعید کھوسہ کے سسر تھے تب سسر نے میاں صاحب کی حکومت بحال کردی تھی اور آج داماد نے میاں صاحب کو ناہل قرار دے کر بے حال کر دیا۔

پانامہ کا فیصلہ آگیا، سیلانی ان کروڑوں لوگوں میں سے ہے جس نے یہ فیصلہ ٹیلی ویژن کی اسکرین پر چرب زبان نیوز اینکر کی زبانی سنا۔ نجی نیوز چینلز نے رات ہی سے ماحول بنا دیا تھا۔ خصوصی طور پر کارٹون تیار کر لیے گئے تھے،اسکرین کے لیے گرافکس بنالی گئی تھیں، رپورٹروں سے رپورٹیں تیار کروا لی گئی تھیں، کچھ نے تو کاؤنٹ ڈاؤن کی گھڑی بھی اسکرین کے ایک کونے رکھ دی تھی جس میں اوپر نیچے ہوتے ہندسے بتا رہے تھے کہ پانامہ اسکینڈل کے فیصلے میں کتنا وقت سرک گیا ہے اور کتنا رہ گیا ہے۔ پھر ساڑھے گیارہ بھی بج گئے مگر فیصلہ نہیں سنایا گیا۔ سب ہی کی طرح سیلانی بھی ٹیلی ویژن اسکرین کے سامنے جما ہوا تھا نیوزاینکر اور تجزیہ نگار اپنی اپنی ہانک رہے تھے خود کو زیادہ سے زیادہ باخبر ظاہر کررہے تھے اور سیلانی کو بور کر رہے تھے آخر کا ر نیوز اینکر چیخی۔ وہ واقعتا چیخی ہی تھی کہ جج صاحبان کمرہ عدالت میں تشریف لے آئے ہیں اب انتطار کی گھڑیاں ختم ہونے کو ہیں۔ دھک دھک کرتے دل کے ساتھ سیلانی ٹیلی ویژن کے کچھ اور قریب ہو گیا۔ کچھ ہی دیر میں بڑا فیصلہ ہوا چاہتا تھا اور ہو گیا۔ عدالت نے نوازشریف کوجھوٹا قرار دے کر وزارت عظمٰی کے منصب کے لیے نااہل قرار دے دیا۔ پانچ ججوں میں سے ایک نے بھی میاں صاحب کے حق میں دو لفظ نہیں لکھے، متفقہ فیصلہ سنایا گیا اور میاں صاحب کے مخالفین کے چہرے خوشی سے تمتمانے لگے،مٹھائیاں تقسیم ہونے لگیں،بھنگڑے ڈالے جانے لگے،کہیں لوگوں کے چہرے اتر گئے، زبانیں تالوؤں سے لگ گئیں۔ مشرف صاحب کے دور حکومت میں ان کی ناک کے بال بنے ہوئے دانیال عزیز صاحب جو اب نونئے ہو کر روز ٹیلی ویژن پر حق نمک اداکرتے دکھائی دیتے تھے ڈھوندنے سے بھی نہیں ملے۔ مخالفین کے لتے لینے والے طلال چوہدری بھی کیمروں کے سامنے طلوع نہیں ہوئے۔ عابد شیر علی دھاڑتے تو کیا منمناتے ہوئے بھی دکھائی نہیں دیئے۔

سچی بات ہے سیلانی کے دل میں ٹھنڈ سی پڑ گئی اسے سکون سا مل گیا۔ بے وجہ قرار سا آگیااور اس نے کرسی کی پشت سے پشت لگا کر آنکھیں موندلیں۔ وہ میاں صاحب کے حامیوں میں سے ہے نہ مخالفین میں سے لیکن اسے ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے یہ کیس اس کا ہو۔ وہ اس کیس میں فریق ہواور یہ کیس اس نے جیتا ہو۔ سیلانی آنکھیں موندے ہوئے کرسی پر نیم دراز تھا کہ اب کیا ہوگا؟ کیا واقعی اب کرپٹ ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ہوا کریں گی؟کیا اب ہم صاف ستھری قیادت اسلام آباد بھجوا سکیں گے؟کیا اب ہمارے دلدر دور ہوجائیں گے؟موبائل فون پر ایک دوست کی کال آگئی، اسکا بجھا بجھا لہجہ بتا رہا تھا کہ پانامہ فیصلے نے اس کا دل دکھا دیاہے

" یہ عدالتوں کا کیا ہوگیا ہے، میاں صاحب منتخب وزیراعظم ہیں، انہیں قوم تین بار منتخب کر چکی ہے،عدالت نے فیصلہ ٹھیک نہیں دیا"

" اسی عدالت نے اسی شہر میں کچھ مہینے پہلے میاں صاحب کو نااہل نہ کیے جانے کا حکم دیا تھا تو تب عدالت اور جج ٹھیک تھے،یعنی میٹھا میٹھا ہپ ہپ اور کڑوا کڑوا تھو تھو،یار! عقل سے کام لو۔۔۔" دوسری جانب سے یہ سنتے ہی فون رکھ دیا گیادوست کے اس فون کے بعد واٹس ایپ اور سیل فون پر پیغامات پڑھنے لگا، واٹس اپ پرلطیفے، کارٹون، دکھی شاعری اور وہ تصاویر آنے لگیں جنہیں دیکھ کر یار دوستوں کے "ہاسے" نکل جاتے ہیں، سیلانی یہ پیغامات پڑھ کر بلاول ہاؤس جانے کی تیاری کرنے لگا۔ پیپلز پارٹی کے نوخیز،نوعمر چیئرمین کی صدارت میں پارٹی کے انکلز کا اہم اجلاس ہورہا تھا۔

سیلانی اٹھ رہا تھا کہ ایک دوست کے واٹس ایپ پر آنے والے پیغام نے اسے کچھ سوچنے پر مجبور کردیا
1990ء میں بے نظیر حکومت گری۔۔۔اس قوم نے بھنگڑے ڈالے
1993ء میں نوازشریف کی حکومت گری۔۔۔قوم نے بھنگڑے ڈالے
1996ء میں پھر بے نظیر کی حکومت فارغ گئی۔۔۔قوم نے
1999ء میں میاں صاحب کی حکومت کو لال جھنڈی دکھائی گئی۔۔۔قوم نے بھنگڑے ڈالے
2008ء میں جرنیل مشرف ہوئے۔۔۔قوم نے بھنگڑے ڈالے
2013ء میں پیپلز پارٹی الیکشن ہاری۔۔۔قوم نے بھنگڑے ڈالے
اور اب
2017ء میں میاں صاحب کو پھر فارغ کیا گیا۔ ۔۔قوم ناچ رہی ہے
قوم کے نام پر اس ہجوم کو ناچنے کی عادت ہوگئی ہے

بات کڑوی لیکن سچی ہے۔ سیلانی کا بھی یہی حال ہے ہرفارغ کی جانے والی حکومت پر وہ شکر ادا کرتا ہے اور اس کی وجہ وہ جھوٹ، مکر، فریب، جھوٹی آس اور راگ پاٹ ہے جو یہ سیاسی راہنما ہمیں سناتے ہیں۔ وہ خوشحالی کے وہ سبز باغ، ترقی کے وہ سراب ہمیں دکھا کرخودجیٹ جہاز کی رفتار سے ترقی کر جاتے ہیں۔ سیلانی اپنے اردگرد دکھ تکلیف اور آہوں سسکیوں کے سوا دیکھتا ہی کیا ہے ؟وہ دیکھتا ہے تواسے کراچی پریس کلب کے گیٹ کے سامنے جگر کے عارضے میں مبتلا زرد آنکھوں والے دیدار دکھائی دیتا ہے۔ اس کاباپ اس کے علاج کے لیے ایک ایک سے منتیں کرتا پھرتا ہے لیکن کہیں شنوائی نہیں ہوتی اور وہ بالآخر باپ کی گود سے گور کی گود میں جا سوتا ہے۔ سیلانی دیکھتا ہے تو اسے وہ مجبورماں دکھائی دیتی ہے جو بچے بیچنے کے لیے کراچی کے فٹ پاتھ پر آبیٹھتی ہے۔ وہ دیکھتا ہے تواسے اسلام آباد میں وزرات داخلہ کے اس چوکیدار کی لاش دکھائی دیتی ہے جو بیٹے کی ملازمت کے لیے دفتر کی چھت سے کود کر خودکشی کرلیتاہے کہ اسکے جیتے جی سن کوٹے پر اس کے بیروزگار بیٹے کو ملازمت نہیں مل سکتی۔ وہ دیکھتا ہے تواسے اس ماں کی لاش دکھائی دیتی ہے جو بھوک سے بلکتے بچوں کو زہر دے کر خود بھی زندگی کا خاتمہ کر لیتی ہے۔ وہ دیکھتا ہے تو اسے ایمبولینس میں کراچی یونی ورسٹی کی وہ طالبہ تڑپتی دکھائی دیتی ہے جسے پرویز مشرف کے پروٹوکول کی وجہ سے ٹریفک میں پھنسی ہوتی ہے اور تڑپ تڑپ کر وہیں دم دے دیتی ہے۔ اسے آس پاس بھوک افلاس دکھ بیماریاں اور آہیں سسکیاں ہی سنائی دیتی ہیں ان کا ذمہ دار حکمرانوں کے سوا کوئی اور کیوں ہو سکتا ہے ؟پھر جب ان کا تختہ الٹتاہے انہیں الٹیاں ہوتی ہیں تو دل کو عجیب سا سکون ملتا ہے وہی 1990ء میں بھی ملاتھا اور وہی سکون آج 2017ء میں بھی ملا ہے اورتب تک ملتا رہے گا جب تک ہمارا حکمران ہماری بھوک میں ہمارا ساجھے دار نہ ہو ہمارے دکھوں پر اس کی آنکھوں میں اشک نہ ہوں،اس کے بچے بھی ہمارے بچوں کے ساتھ اسکول میں پہل دوج کھیلیں اور بستہ اٹھا کر گھر کو پہنچیں، وہ بیمار پڑے تو لندن اور دبئی نہیں انہی اسپتالوں میں سے کسی ایک بسترپر ہو جہاں ہم ہوتے ہیں۔ جب تک ایسا نہیں ہوگا لوگ ہر حکومت کے خاتمے پریونہی بھنگڑے ڈالتے اور مٹھائیاں بانٹتے رہیں گے۔ سیلانی یہ سوچتے ہوئے میز سے اپنا سامان اٹھایا اورجاتے جاتے ٹیلی ویژن اسکرین پر پانامہ کا ہنگامہ دیکھتا رہا دیکھتا رہا ور دیکھتا چلا گیا!

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */