پانامہ کیس کا عوامی اور تاریخی رُخ - مجیب الحق حقی

ملک کی فضاء میں پانامہ کیس کی وجہ سے جو گرماگرمی ہے، اس کا اختتام اب غیر معمولی ہی ہونا ہے۔ اس کی وجہ نہ صرف میڈیا کی حد سے زیادہ دلچسپی بلکہ خود معزز جج حضرات کے تیز اور تند ریمارکس ہیں۔ وکلاء اور جج صاحبان کے آپس کے مکالمے تو معمول کی بات ہیں، لیکن ان کا جس طرح میڈیا میں تذکرہ کیا گیا، اور ان پر جس طرح وکلاء اور نامور صحافیوں نے تبصرے کیے، اس نے ایک متوازی غیر مرئی عوامی عدالت بھی قائم کردی، جس میں عوام نے پیش کردہ شواہد کی روشنی میں عمومی دانش کے دائرے میں ایک مضبوط رائے قائم کرلی ہے۔

یہ بات اچھی ہے کہ فریقین نے عدالت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، پاکستان میں عدالتوں پر اعتماد کا اعلان ایک اخلاقی فرض ہے جو نظریہ ضرورت کے تحت ہی کیا جاتا ہے۔ عدلیہ پر اعتماد کا اظہار ایک جبر ہے جو ہر حال میں ہر ایک کو کرنا پڑتا ہے کہ اس سے مفر نہیں، اس جبر کا ثبوت فیصلے کے بعد کی ڈھکی چھپی تنقید ہوتی ہے۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ قانون بہت باریکیاں لیے ہوتا ہے اور وکلاء جج کو انھی قانونی باریکیوں کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔ آپ کو یاد ہوگا کہ میڈیا کے مطابق اسی مقدمے میں ایک جج نے کسی وکیل سے کہا تھا کہ آپ بتائیں کہ ہم کن قوانین کے تحت کارروائی کر سکتے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا ان کو معلوم نہیں کہ کون سا قانون لاگو ہوتا ہے، مگر مقصد یہی ہوتا ہے کہ مدّعی اور مدّعا علیہ کے وکلاء مختلف قوانین کی نشاندہی کریں تاکہ سارے نکات تحریراً بھی ریکارڈ پر آجائیں کیونکہ ساری کارروائی قلمبند ہو رہی ہوتی ہے۔ پانامہ لیکس کے حوالے سے وزیر اعظم اور ان کے خاندان کی بیرون ملک جائیدادیں اور آف شور کمپنیوں کا مقدمہ تو ویسے ہی بہت حسّاس تھا، لیکن فاضل جج حضرات کے ریمارکس کی عوام میں بےجا تشہیر نے عدالتوں کے وقار اور جج حضرات کی قابلیت کو ایک امتحان سے دوچار کر دیا ہے۔

یہ کیس صرف قانونی ہی نہیں اخلاقی اور شرعی بنیاد بھی رکھتا ہے اور غالباً ایک مدّعی تو آرٹیکل 62 63 کی بنیاد پر عدالت سے فیصلے کا طلب گار بھی ہے۔ اتنے ہائی پروفائل حسّاس مقدمے کی کارروائی کو بغیر کسی حدبندی کے پبلک کرنے سے خود عدالت پر بھی دباؤ آیا ہے، کیونکہ عمومی دانش کی روشنی میں وزیراعظم کی غلط بیانی اور اس کو نااہل کردیتی ہے. اب اگر عدالت کسی فنی بنیاد پر ان کو ریلیف دیتی ہے تو وہ قانونی طور شاید درست ہو سکتا ہو، لیکن عوامی سطح پر اس کو لوگ دوسرا رنگ دیں گے۔ اسی طرح دستاویزات میں ہیر پھیر تو اتنا واضح ہے کہ اس کو نظرانداز کرنا عدالت کی غیر جانبداری کو متاثر کر سکتا ہے۔ بدقسمتی سے آئے دن بدلتے بیانات نے حکمرانوں کو مشکل میں ڈالا ہے۔ حقائق کے سامنے آنے پر مجھے بھی ذاتی طور پر صدمہ اور دکھ ہوا۔ دنیا میں آف شور کمپنیوں کا رواج ہے ہی ٹیکس سے بچنے اور کالے دھن کو چھپانے کے لیے جس میں دنیا کے لاکھوں افراد ملوّث ہیں، ہنڈی کے ذریعے رقوم کی منتقلی تو عام بات رہی ہے، ہاں مگر کسی سرکاری عہدے دار کا اس معاملے میں ملوّث ہونا یقیناً سوالات لیے ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ سرے محل کے حوالے سے بھی کسی آف شور کمپنی کی بازگشت سنی گئی تھی۔ سوئس عدالتوں کا ریکارڈ ہمارے ایک معزز ہائی کمشنر بذات خود بےچینی سے وصول کرتے دیکھے گئے، جس کی ویڈیو شاید آج بھی مل جائے مگر پانامہ لیکس کے حوالے سے حکمرانوں پر ان کے تنقیدی مضامین پڑھ کر لطف ہی آیا۔

یہ بھی پڑھیں:   نظام انصاف کی ایک ناقابل یقین کہانی - مسزجمشیدخاکوانی

یہ تو ظاہر ہے کہ قانون کا کوئی دل نہیں ہوتا کہ جذبات سے فیصلہ کیا جائے لیکن میڈیا نے بےپایاں کوریج سے اس کو عوامی سطح پر جذبات کے حوالے تو کر دیا ہے۔ یہ مقولہ ایک پیچیدہ نظریہ ہے کہ انصاف ہوتا نظر بھی آئے۔ موجودہ صورتحال میں یہ لاکھ روپے کا سوال ہے کہ عدالت ملکی اور بین الاقوامی حالات کے جبر میں ایسا کیا فیصلہ صادر کرتی ہے کہ قطعی انصاف ہو بھی اور عوام کو ہوتا نظر بھی آئے۔ یہ یاد رہے کہ اس تاریخی دوراہے پر کیا جانےوالا فیصلہ انتہائی دور رس نتائج کا حامل ہوگا۔ ایک وزیراعظم کی نااہلی کا فیصلہ اپنے لازمی اور ممکنہ ردعمل کی طویل فہرست لیے ہوگا جبکہ دوسری صورت میں انصاف کے غیرجانبدار ہونے کا تاثر دینا آسان نہیں ہوگا۔ پہلی صورت میں اسی طرح کی کارروائی کا دائرہ لازماً بڑھے گا جو ہر اہم ادارے کو اپنی لپیٹ میں لے گا۔ دونوں فریق کو دو مختلف مقدمات میں ایک سی سزا دے کر بھی واہ واہ ہوسکتی ہے یا کم از کم کسی عوامی ردّ عمل کے غبار کو تحلیل کیا جاسکتا ہے لیکن اس میں قباحت یہ ہے کہ ایسے فیصلے سیاسی رنگ اختیار کر کے عوام میں بد دلی یا منفی ردعمل پیدا کر سکتے ہیں۔ ایسے فیصلوں کا تاثر انصاف کا سودا یا کمپرومائز ہی ہوگا۔ سوئس مقدمات، سرے محل کے تذکرے، ایان علی، ڈاکٹر عاصم، امریکی ایجنٹ اور کچھ امیر زادوں کے مقدمات کے فیصلوں نے قانونی ہیر پھیر کی کارستانیوں کے بموجب قوانین کی خامیاں، عدلیہ کی آزادی اور انتظامیہ کی قوّت کو اچھی طرح آشکارا کر دیا ہے۔

اس مقدمے کی وجہ سے عوام اور سیاسی پارٹیاں واضح طور پر دو حصوں میں بٹ چکے ہیں۔ گرما گرمی میںاخلاقیات و اصول طاقِ نسیاں ہوئے اور انا اور ذاتیات نے ہر دو فریق کے ذہن پر قبضہ جما لیا ہے یہاں تک کہ کچھ علماء بھی سیاسی وابستگی پر کھلے جھوٹ کو جواز دے کر غلط کو صحیح کہہ رہے ہیں۔ ایسے موقع پر اہل منبر و محراب کی غیرجانبداری اور خاموشی بہتر ہوتی کیونکہ جھوٹ اور جعلسازی کی حمایت کسی بھی بنیاد پر کرنا مناسب نہیںاس کا الٹا نقصان ہی ہونا ہے کیونکہ اس کے طعنے تو اب ہمیشہ ملیں گے۔کیا ہم اب صحیح اور غلط کا فیصلہ دوست اور دشمن کا چہرہ دیکھ کر کریں گے؟

یہ بھی پڑھیں:   لٹتی انسانیت اور ہمارے لیے کرنے کا کام - ابراہیم جمال بٹ

یہ بات اہم ہے کہ ایک عام انسان جو ذاتی حیثیت میں کوئی غیر قانونی کام کرتا ہے، وہ جرم کسی طرح بھی اس شخص کے ہم پلّہ نہیں ہوسکتا، جو وہی جرم سرکاری عہدے پر متمکّن ہوتے ہوئے کرے۔ سابقہ اور موجودہ حکمرانوں کی خطیر رقم کا باہر ہونا کہ ان کی ملکیت کے چرچے بھی میڈیا پر عام ہوں، ایک غیر معمولی بات ہے جس کا موازنہ کسی عام یا خاص شخص کے ملتے جلتے مبینہ جرم سے کرنا، جو حکومت میں نہ رہا ہو، دیانت سے دور ہے۔ یہاں کسی کی بےجا طرفداری مقصود نہیں بلکہ ہر غیر قانونی کام پر مناسب قانونی کارروائی میرٹ پر سب کے ساتھ اور یکساں ہونی چاہیے۔

اب ایک طرف مصلحت ِوقت ہے اور دوسری طرف بےلاگ انصاف! یہ ایسا موڑ ہے جہاں ایک سیاسی خاندان اور ایک ریاستی ادارے کی ساکھ دا‌ؤ پر لگ چکی ہے یعنی اب عوام میں کسی ایک کی ساکھ پر حرف آنا لازمی ہے، کیونکہ بیچ کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ لیکن قابل غور یہ بات ہے کہ اگر اس وقت مصلحت کے تحت نظریۂ ضرورت کا استعمال کیاگیا تو ہم بدعنوانی کے خلاف ایکشن کے حوالے سے کہیں لامتناہی جمود کا شکار نہ ہوجائیں کہ جس میں پہلے ہی کسی حد تک غلطاں ہیں؟ اس جمود کو توڑنے کا یہی بہترین وقت ہے کہ ہر مصلحت سے بالاتر ہوکر حقیقی انصاف کی طرف جرات سے پیش قدمی کی جائے تاکہ ایک صحیح اسلامی فلاحی مملکت کا خواب شرمندہ تعبیر ہو اور ابتدائی اسلامی دور کے ویسے ہی انصاف کی رونقیں اس ملک میں جاری ہوں جب ایک بارعب خلیفہ کا دامن ایک عام انسان تھام کر جواب طلب کرسکتا تھا۔ کیا ہم اپنی تاریخ کے اُس درخشاں باب کی طرف پلٹنے کی تمنّا اور حوصلہ رکھتے ہیں؟ اس کا جواب ہمارے پاس تو نہیں مگر ریاست کے اہم ستون کے تین ذمّہ داران کے سر پڑ گیا ہے۔ اس تاریخی مقدمے کافیصلہ اب عدالت کو کرنا ہے اور اسی پر کرپشن فری اسلامی فلاحی ریاست پاکستان کے مستقبل کا دارومدار ہے کہ آیا سب کچھ ویسا ہی رہنا ہے یا سب کچھ بدل جانا ہے۔

Comments

مجیب الحق حقی

مجیب الحق حقی

مجیب الحق حقّی پی آئی اے کے ریٹائرڈ آفیسر ہیں۔ اسلام اور جدید نظریات کے تقابل پر نظر ڈالتی کتاب Understanding The Divine Whispers کے مصنّف ہیں۔ اس کتاب کی اردو تشریح " خدائی سرگوشیاں اوجدید نظریاتی اشکال " کے نام سے زیر تدوین ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.