سوشل میڈیا کے معاشرے پر اثرات - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

یہاں ہر ایک سب کہہ دینے کے لیے آزاد ہے، وہ بھی جو اپنے گھر، خاندان یا اپنے قریب ترین دوستوں سے بھی نہ کہہ پائے. اس لحاظ سے سوشل میڈیا کے آزادی اظہار کے نمبر 100 فیصد ہیں.

کوالٹی یا معیار سب کا یکساں نہیں. بہت سے سنگریزے ہیروں کے بھاؤ تلتے ہیں اور بےشمار جواہر اپنی ناقدری پر شکوہ کناں ہیں. ایسا کوئی ذریعہ نہیں کہ جو ایک معیار قائم کر سکے کہ اچھا برا، بہتر یا بہترین کیا ہے. لیکن یہیں ایک مثبت نکتہ یہ بھی ہے کہ جس کو جو پڑھنے دیکھنے یا سننے کی طلب ہو، وہ اس سے ایک فنگر ٹچ کے فاصلے پر میسر ہے.
ہر قسم کی سائٹ پر easy access سے دو مختلف بلکہ متضاد نکات سامنے آتے ہیں. مثبت بات یہ ہے کہ علم کا سمندر موجزن ہے، جو جتنا ظرف اور پیاس رکھتا ہے، اتنا ہی علم اپنی جھولی میں بھر سکتا ہے. مذہب، سماج، تاریخ، جغرافیہ، سیاست، ریسرچ اور سائنس غرض کچھ بھی چاہیے، سب حاضر ہے. لیکن اس علم کی بےہنگم زیادتی نے طالب علم کو الجھا دیا ہے، کیونکہ علم موجود ہے استاد ندارد، دلیل موجود ہے حوالے مشکوک ہیں. بھانت بھانت کی بولیاں ہیں اور سچ کی پہچان مشکل ترین امر بن گئی ہے. اخیر قسم کا کٹھا میٹھا سا ذائقہ بن گیا ہے. بچوں کی تعلیم کے لیے اس کالم کے واسطے سے ایک اچھے پروگرام سے آپ کا تعارف کروانا چاہتی ہوں. آپ کا بچہ کچھ بھی پڑھ رہا ہے، آپ نیٹ پر اسے خانز اکیڈمی (Khan's academy) جوائن کروا دیجیے. آپ کا بچہ اپنا مطلوبہ مضمون سرچ کرے اور گھر بیٹھے فری ٹیوشن پڑھے.

سوشل میڈیا پر موجود مواد کا منفی نکتہ یہ ہے کہ علم کے شفاف سمندر کے برعکس اسی جہان فیس بک میں غلاظت کے جوہڑ بھی ابل رہے ہیں اور ان جوہڑوں میں تیراکی کے شوقین بھی کم نہیں. مکمل رازداری کی گارنٹی بھی موجود ہے سو اس دشت کے سیاح بڑھتے چلے جا رہے ہیں. اس پر قدغن لگانے کی ضرورت ہے.

ویب سائٹس یا فیس بک adult content یا پی جی 18 لکھ کر بری الذمہ ہو بھی جائیں، تب بھی ٹین ایج بچے پراکسی آئی ڈیز کے ذریعہ کسی بھی سائٹ پر چلے جاتے ہیں، مسئلہ یہ بھی ہے کہ آج کل کے بچے اپنے والدین سے زیادہ اس ٹچ ٹیکنالوجی کے ماہر ہیں اور ان کے لیے اپنے بڑوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنا جتنا آسان آج ہے، اتنا کبھی نہ تھا.

یہ بھی پڑھیں:   بے ربط خیالات - بشارت حمید

ذاتی طور پر میں نے فیس بک کے استعمال کو مثبت پایا ہے لیکن اسی معاشرے میں رہتے بستے اس کے منفی استعمال اور اس سے پیدا ہونے والے خطرناک ترین نتائج بھی دیکھے ہیں. خواہ کم عمر بچوں کا اغوا برائے تاوان ہو، ہوس کے درندے گھات لگا کر شکار پر جھپٹنے کے لیے صبر سے وقت کا انتظار کرتے ہوں، یا محبت کے نام پر دھوکا کھاتے مرد و زن، جن میں شادی شدہ یا کنوارے کی بھی کوئی تخصیص نہیں. گھر بسنے سے زیادہ اجڑنے آسان ہو گئے ہیں. پورنو گرافی تو باقاعدہ پیشے کی صورت اختیار کر چکی ہے، جس کی روک تھام کے لیے مؤثر قانون سازی کی اشد ضرورت ہے.

آنر کلنگ کی وجوہات میں سوشل میڈیا جلد ہی پہلا نمبر حاصل کر لے گا. نیٹ فراڈز بھی بے حد عام ہیں. کسی مجبوری، بیماری یا اچھے مقصد کے لیے چندے کی اپیل پر چند دردمند بھولے لوگ ضرور لبیک کہتے ہیں، غلام قاسم المعروف عائشہ خاتون تو ابھی کل کا واقعہ ہے. نیت کا اجر رب کے ذمے ہے لیکن دھوکے کا پول کھلنے کے بعد دلبرادشتۃ ہونے والے لوگ دوبارہ لٹنے کے ڈر سے کسی ضرورتمند کی مدد بھی شاید نہ کریں. سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنے گھر، گلی، محلے اور شہر سے سماجی خدمت کا آغاز کریں. ورچوئل فرینڈز سے زیادہ حقدار آپ کا اپنا ملازم یا پڑوسی ہے.

سب کہہ دینے کی آزادی نے ایسی تربیت کر دی ہے کۃ صاف گوئی کے نام پر بچے والدین کے سامنے یا بیوی شوہر کے سامنے چپ رہنا بھول چکی ہے. رشتہ توڑنا ان فرینڈ کرنے اور بلاک کرنے جتنا اہم رہ گیا ہے.

اس پلیٹ فارم پر روزانہ کا ملنا جلنا اور ہر ضروری یا غیر ضروری موقع پر کمنٹ کر دینے سے انسان کی شخصیت کا بھرم قائم نہیں رہ پاتا. خصوصا کسی بھی شدید جذبے کے زیر اثر آپ فیس بک پر ایسی سچ بیانی بھی کر جاتے ہیں جو آپ کی بنی بنائی شخصیت کے امیج میں دراڑ ڈال سکتا ہے. مفت مشورہ ہے کہ ایسی کیفیات میں فیس بک استعمال مت کیجیے.

یہ بھی پڑھیں:   منگیتر کوئی رشتہ نہیں ہے - نیر کاشف

عوام کی اجتماعی ذہن سازی کے لیے سوشل میڈیا ایک مؤثر پلیٹ فارم ہے. لیکن ذہن سازی کون کر رہا ہے، اس پر غور کیا جائے. نورین لغاری کی مثال ہم سب کے سامنے ہے.
آپ ایک تجربہ کیجیے، گوگل پر کسی خاص چیز کو سرچ کیجیے مثلا کوئی برانڈڈ شوز یا ڈیجیٹل کیمرے. اب گوگل سے واپس آئیں اور فیس بک کھولیں. آپ کو فیس بک آپشنز دینے لگے گی کہ یہ برانڈ دیکھ لیں یہ کیمرے دیکھیے، شاید اس سائٹ کو آپ پسند کریں. فیس بک پر دور کہیں، کوئی بیٹھا نہ صرف ہمارے روز و شب پر نظر رکھ رہا ہے، بلکہ وہ ہمیں اپنی مرضی کے خیالات تک سوچنے پر مجبور کر رہا ہے. تجربہ شرط ہے.

یہی پلیٹ فارم فزیکل دھرنے کے بجائے ورچوئل طور پر مشترکہ مفادات کے لیے اکٹھا بھی کر سکتی ہے. جس کی ایک مثال فروٹ بائیکاٹ مہم ہے. یہی پلیٹ فارم انسان کو انسان سے دور بھی کر سکتا ہے. اپنے ٹی وی لاؤنج میں بیٹھے تمام فیملی ممبرز کے ہاتھوں میں موجود ٹیبلٹس پر نظر ڈالیے اور دیکھیے کہ کئی آپ سب لوگ ایک ساتھ ہیں یا دور دور. اس پلیٹ فارم پر جب عوام اکٹھے ہونا شروع کر دیں گے تبھی سب سے بڑا خطرہ نیک نیتی سے شروع کی جانے والی مہم کے ہائی جیک ہونے کا ہوگا. ایسے مشہور لوگ جو بظاہر آپ کا ساتھ دینے کے لیے آپ کے ساتھ جڑیں گے، رفتہ رفتہ ان کی بھاری بھر کم شخصیت آپ کی مہم پر حاوی آ جائے گی، نتیجتا وسیع مقاصد کے لیے آغاز کرنے والی ٹیم خود کو کسی بڑے نام کا طفیلیہ محسوس کرنے لگے گی. سو محتاط رہیے.

میں آپ کو آخری ٹیک ہوم میسج یہ دینا چاہتی ہوں کہ کوئی بھی کام کرتے ہوئے جب آپ کو خوف محسوس ہو کہ کوئی دیکھ نہ لے، کوئی جان نہ جائے، کوئی سمجھ نہ لے تو بس وہیں رک جائیں! اپنا احتساب کریں. آپ کچھ غلط کر رہے ہیں. اس کام سے تائب ہو کر کچھ ایسا کیجیے کہ جس میں ایسا کوئی خوف نہ ہو یعنی کوئی مثبت کام اپنائیے.
موبائل یا کمپیوٹر کو پاسورڈ تبھی لگانا پڑتا ہے جب آپ کے پاس دنیا سے چھپانے کے لیے کچھ ہوتا ہے. سوچیے ذرا.

Comments

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.