قاتل - پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

میں شہر لاہور کی سب سے بڑی جیل میں تھا میرے اطراف میں مسجد سے جوتے چوری کر نے والے سے لے کر انسانوں کو قتل کرنے والے قیدی بکھرے ہو ئے تھے، اور میں انہیں اِس نظر سے دیکھ رہا تھا کہ کس طرح یہ جرم کرتے ہیں؟ تمام جرائم تو کسی حد تک ہضم ہو جاتے ہیں لیکن کسی زندہ انسان کو موت کے گھاٹ اتار دینا یہ عمل ہر لحاظ سے ناقابل قبول ہے۔ کسی کو قتل کردینا، اُس سے اُس کی زندگی چھین لینا، یہ میرے اور سب کے لیے نا قابل قبول ہے لیکن ہر روز ٹی وی چینل اور اخبارات قتل کی ہو لناک خبروں سے بھرے نظر آتے ہیں ۔

ہم الحمدللہ مسلم ملک میں رہتے ہیں، ہمیں بچپن سے بتایا جاتا ہے کہ ایک انسان کو قتل کرنا پوری انسانیت کو قتل کرنے کے برابر ہے۔ دنیا کے ہر معاشرے میں، اخلاقیات میں جرم اور قتل کو ناپسندیدہ ترین عمل قرار دیا جاتا ہے لیکن پھر بھی انسان یا قاتل کی زندگی میں ایسا کون سا لمحہ آجاتا ہے کہ وہ کسی کی جان لے لیتا ہے؟ یہ سوال میری طرح ہر انسان کو تنگ کر تا ہے۔ اِسی سوال کے جواب کے لیے اب میں نے سپرنٹنڈنٹ صاحب سے درخواست کی کہ اب میں قاتلوں کو دیکھنا چاہتا ہوں۔ ان کے بار ے میں جاننا چاہتا ہوں کہ وہ قتل کر نے کے بعد پچھتاتے ہیں یا اپنے عمل پر مطمئن اور خوش رہتے ہیں تو سپرنٹنڈنٹ صاحب نے میری طرف مسکرا کر دیکھتے ہوئے کہا کہ جناب! زیادہ تر قاتل قتل کر نے کے بعد مطمئن اور خوش ہی رہتے ہیں کہ ہم نے قتل کر کے ٹھیک کیا۔ مجھے سپرنٹنڈنٹ صاحب کی یہ بات بالکل بھی ہضم نہ ہوئی۔ میں نے کسی خوش اور مطمئن قاتل سے ملنے کی خوا ہش کا اظہار کیا کہ میں اپنی آنکھوں سے یہ مشاہدہ کر نا چاہتا ہوں کہ کسی دوسرے کی جان لے کر کسی کی سانسیں چھین کر بھی کوئی کس طرح خوش رہ سکتا ہے؟ تو سپرنٹنڈنٹ صاحب نے اپنے عملے سے کہا کہ فلاں قیدی کو لے آؤ۔ ساتھ ہی میری طرف دیکھ کر کہا جناب! زیادہ تر قتل مجبوری میں کئے جاتے ہیں جب کسی کو مجبور کردیا جاتا ہے کہ وہ قاتل بنے ۔ میں حیرت سے اُن کی باتیں سن رہا تھا کہ انسان جو کسی کیڑے مکوڑے یا پرندے کو بھی مارنے سے گریز کر تا ہے، آخر انسان کو قتل کر نے پر کیوں تیار ہو جاتا ہے؟

اِسی دوران ایک قاتل قیدی کو میرے سامنے لا کر بیٹھا دیا گیا ۔ قیدی کی عمر 25سال کے لگ بھگ تھی، اُس نے چھوٹی سی داڑھی رکھی ہوئی تھی۔ بالکل بھی نہیں لگ رہا تھا کہ یہ چار زندہ انسانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر آیا ہے ۔ ابتدائی سلام دعا کے بعد میں نے اپنی حیرت کا اظہا ر قیدی سے کیا کہ تم نے آخر کیسے زندہ انسانوں سے اُن کی زندگیاں چھین لیں؟ تو وہ میری طرف دیکھ کر مسکرایا، سر! میری جگہ کوئی بھی ہوتا تو وہ یقیناً یہی عمل کر تا۔ سر! میرا تعلق معاشرے کے غریب اور پسماندہ طبقے سے ہے جس کو مزارع، کمی کمین کہا جاتا ہے۔ ہم نسل در نسل وڈیروں کی غلامی میں جی رہے تھے ۔ ہمیں انسان نہیں جانور سمجھا جاتا ہے۔ میرے گھر میں علم کی شمع روشن ہوئی میں نے کسی نہ کسی طرح گریجویشن کرلی۔ علم کے نور سے مجھے انسان ہو نے کا احساس ہوا کہ میں بھی آزاد اسلامی ملک کا شہری ہو ں جس کو سر اٹھا کر جینے کا پورا حق ہے اور یہی میری غلطی تھی۔ میں نے ٹیوشن پڑھا کر غلامی کی زنجیریں توڑنی چاہیں۔ گاؤں کے زمیندار کی بیٹی کو بھی پڑھاتا تھا میری قسمت بری کہ زمیندار کی بیٹی میری محبت میں گرفتار ہو گئی۔ مجھے اپنی اوقات کا اچھی طرح احساس تھا کہ صدیوں کی غلامی رگوں میں خون کی جگہ دوڑ رہی ہے اور ہمارا پاکستانی معاشرہ ابھی اِس قابل نہیں ہوا کہ ذات پات کی دیوار چین کو گرا سکے۔ میں نے فوری طور پر اُس کو ٹیوشن پڑھا نابند کر دیا۔ میرے اِس عمل سے لڑکی مجھ سے دور نہ ہوئی بلکہ وہ میرے عشق کے جنون میں اندھی ہو گئی۔ اب اُس نے میرا تعاقب کر نا شروع کردیا، مجھے پیغامات بھیجنے شروع کر دیے، جب وہ اِس میں کامیاب نہ ہوئی تو زبردستی میرے گھر آنا شروع کردیا اور برملا میرے ساتھ عشق کا اظہار کر نا شروع کردیا۔ میں اُس سے جتنا بھاگ رہا تھا اُس کے پاگل پن میں اتنا ہی اضافہ ہو تا جا رہا تھا۔ جب وہ میرے ہزار با ر روکنے پر بھی باز نہ آئی تو میں نے اُس سے مل کر اُس کو سمجھانا چاہا ۔ میں نے گاؤں کے باہر ایک جگہ پر اُس کو بلایا تا کہ اُس کو سمجھا سکوں۔ کیونکہ وہ پاگلوں کی طرح میری کھوج میں تھی فوری مقررہ جگہ پر آگئی۔ میں نے اُس کو سمجھانے کی بہت کو شش کی لیکن اُس کے سر پر جو عشق کا بھوت سوار تھا وہ نہ اُتراوہ اپنی ضد پر قائم تھی لیکن میں نے صاف انکار کر دیا اور وہاں سے چلا آیا لیکن ہم دونوں کو وہاں اکھٹے بیٹھے کسی نے دیکھ لیا۔ اُس نے جا کر زمیندار کو بتایا کہ تمہا ری بیٹی سرعام کمی کے بیٹے سے ملتی ہے۔ لڑکی کو بہت مارا گیا تو اُس نے میرے عشق کا اقرار کر لیا بلکہ بضد ہوئی کہ میں اُس کے ساتھ بھاگ جاؤں گی، اُس کو کبھی نہیں چھوڑوں گی۔ لڑکی نے یہ بھی بتایا کہ اِس میں اُس کا کوئی قصور نہیں یہ یکطرفہ عشق ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   آسٹریلیا ، آزادی اظہار رائے اور قانون - نعمان خان مروت

اب زمیندار نے سازش تیار کی اور چند دنوں میں ہی اپنی بیٹی کی شادی ملک کے دور دراز علاقے میں کر دی۔ اب اُس نے اپنی سازش پر عمل کر نے کا ارادہ کیا مجھے اپنے ڈیرے پر بلا یا اور اپنے بد معاش نوکروں کے حوا لے کر دیا۔ انہوں نے مار مار کر میری حالت بگا ڑ دی اب میری سزا کا اعلان ہوا کہ آج رات ہی گاؤں چھوڑ کر بھا گ جاؤں۔ اس ساری کارروائی کا انچارج زمیندار کا اوباش بیٹا اور اُس کے عیاش دوست تھے۔ میرے کپڑے اتار کر میرے جسم کو جگہ جگہ سے داغا گیا اور پھر مجھے رسیوں سے با ندھا گیا، میرے اوپر پیشاب کیا گیا، ڈنڈوں سے مارا گیا، ڈنڈوں پر کپڑا باندھ کر آگ لگا کر میرے جسم کو جلا یا گیا۔ جب اُن کا ظلم حد سے بڑھ گیا تو میں نے ظلم کی وجہ پوچھی تو کہا گیا تم نے میری بہن کو غلط نظر سے دیکھا ہے۔ میں نے احتجاج کیا کہ میں نے کچھ نہیں کیا وہ میرے پیچھے پڑی ہوئی تھی۔ اِس بات پر وہ آگ بگو لا ہو گیا گو لیاں مار کر مارنے پر تیار ہو گیا تو اُس کے دوست نے کہا اِس طرح تو یہ مر جائے گا، اِس نے جو بکواس کی ہے اِس کی سزا زیادہ ہے جو جلدی اِس کو دے دی جا ئے گی۔ اُس نے کان میں کچھ کہا اور پھر مجھے چھو ڑ دیا گیا میں زخموں سے چور واپس گھر آگیا کہ میر ی سزا کا باب ختم ہو گیا لیکن اصل سزا تو رات کو شروع ہوئی جب آدھی رات کے بعد زمیندار کا بیٹا اپنے تین اوباش دوستوں کے ساتھ میرے گھر پر آیا مجھے اور میرے باپ کو رسیوں سے باندھ کر میرے سامنے میری بہن کی آبروریزی کر تے رہے ۔ میرے بوڑھے با پ نے رو رو کر ترلے ڈالے، منتیں کیں، میری بو ڑھی ماں کتوں کے قدموں سے لپٹی لیکن وحشی درندوں کو رحم نہ آیا۔ ظلم و جبر وحشت بربریت کا شیطانی عمل کر کے میری بہن کو نیم مر دہ حالت میں میرے منہ پر تھو ک کر چلے گئے۔ جاتے جاتے یہ حکم دے گئے کہ رات کے اندھیرے میں نکل جاؤ ورنہ کل رات پھر یہی عمل دہرایا جائے گا اور پھر رات اندھیرے میں ہم زندہ لا شیں اُس گاؤں سے نکل آئے۔ کیا عدالت؟ کیا وکیل؟ سب زمیندار کے غلا م تھے۔ پیسہ میرے پاس نہ تھا میں گھٹ گھٹ کر مر رہا تھا۔ میری سانسیں روز بہن کو دیکھ کر گھٹتی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں:   عدالت سے پہلے عدالت کا سلسلہ کب تک؟ حبیب الرحمن

جب کرب میری برداشت سے باہر ہوا تو میں اشتہاری مجرموں کے گروپ میں شامل ہو گیا۔ انہوں نے میرا دکھ سنا تو بدلے کا فیصلہ کیا اُن چاروں کو جال میں پھنسانے کی ٹھان لی۔ ایک زمیندار جو اشتہاریوں کا دوست تھا اُس کے اڈے پر اُن کو مُجرے کے لیے بلا یا گیا وہاں راستے میں اُن کو اغوا کر کے اُن کے ساتھ وہی عمل دہرایا گیا جو انہوں نے میرے ساتھ کیا تھا۔ پھر اُن کے سینوں میں گو لیاں اتار کر میں نے سکون کا سانس لیا اور خود کو پولیس کے حوالے کر دیا۔ اُس دن سے آج تک میں سکون کی نیند سوتا ہوں، مجھے اپنے کئے پر کوئی ندا مت نہیں ہے۔ اب میں کمی نہیں غیرت مند بیٹا اور بھائی ہوں، اب علاقے میں میری شہرت کے ڈنکے بجتے ہیں۔ اب لو گ میرے نام سے کانپتے ہیں اگر ملک میں تھانہ عدالت انصاف پر قائم ہو جائیں تو کبھی کوئی جرم نہ کرے ۔ جب تک تھا نے عدالتیں با اثر لوگوں کی لونڈیاں ہوں گے، اُس وقت تک ہر روز میرے جیسے قاتل قانون کو ہا تھ میں لیتے رہیں گے ۔