"انکل! کشمیر چھوڑ کیوں نہیں دیتے؟" احسان کوہاٹی

سیلانی نے ریشمی بالوں والے لڑکے کی جانب غور سے دیکھا جسے غالباً کاندھے اچکا چکا کر بات کرنے کی عادت تھی
"آپ کا خیال بالکل غلط ہے، اچھایہ بتائیں کہ تقسیم کیوں ہوئی تھی؟" سیلانی نے اس سے پوچھا
"تقسیم ؟" اس نے وضاحت طلب اند از میں دوہرایا اور امداد طلب نظروں سے اپنے دائیں بائیں بیٹھے دوستوں کی جانب دیکھا جیسے کہہ رہا ہو یہ تقسیم کیا بلا ہوتی ہے ؟ سیلانی اس کی مشکل بھانپ گیا وہ بھول گیا تھا کہ وہ اس وقت پاکستان کے اس طبقے کے نوجوانوں سے مخاطب ہے جہاں راوی چین ہی چین لکھتا ہے،جن کی ڈکشنری میں بھوک غربت افلاس کے سامنے معنوں کا خانہ خالی رہتا ہے جنہیں سالگرہ پر ہزار سی سی کی اسپورٹس بائیک کی چابی ملتی ہے اور جو اپنی انگریزی کی دھار لگوانے گرمیوں کی چھٹیوں میں یورپ سدھار جاتاہے ۔ یہ طبقہ کراچی میں کلفٹن کے لِلی برج کے اُس پار خیابانوں کے جال میں رہتاہے۔ ان کے گھروں تک سڑکیں نہیں خیابان شمشیر،خیابان راحت اور خیابان محافظ جیسی شاہ راہیں جاتی ہیں۔ دوسرا طبقہ ایم اے جناح روڈ،یونیورسٹی روڈ،برنس روڈ،جمشید روڈ جیسی سڑکوں کے اریب قریب بستا ہے اور تیسرا طبقہ بے نامی ادھڑے روڈوں کے آزو بازو ٹنڈ منڈ گلیوں میں بسیراکئے ہوئے ہے۔ ان تینوں طبقے کے رہن سہن ،پہناوے ہی میں نہیں بول چال ڈھال اور سوچ کے انداز میں بھی فرق ہے۔اس وقت سیلانی پہلے والی کلاس کے نوجوانوں کے سامنے تھا۔ یہ عبدالہادی فاتح، تیمور سروراور ارمغان نجیب تھے۔ ان میں سے ارمغان نجیب سے سیلانی کی جانے کب ملاقات ہوئی تھی اسے تو یاد نہیں، البتہ ارمغان کا کہنا ہے کہ وہ پانچ سال پہلے اپنے دادا جانی کے ساتھ ملا تھا ۔

ارمغان اپنے دونوں دوستوں کے ساتھ کراچی کے ایک بڑے ہوٹل میں سوئمنگ کرکے فریش جوس پینے لابی کی طرف آیا تو اس کی نظرسیلانی پر پڑی۔ سیلانی اس وقت پاکستان علماء کونسل کے سیکرٹری اطلاعات حافظ محمد طیب قاسمی کو کرید رہا تھا کہ انہوں نے حضرت جناب طاہر اشرفی صاحب دامت برکاتہم جیسی بھاری بھرکم شخصیت کو کونسل سے نکالا کیسے؟ ان کے لیے تو مشہور ہے کہ وہ جس کے ساتھ ہم نوالہ اور ہم پیالہ ہوجاتے ہیں پھراس کی جان نہیں چھوڑتے کمبل ہوجاتے ہیں۔ اسلام آباد کے مہنگے ہوٹلوں کا عملہ حضرت والا کے مشاغل اور دلچسپیوں کا گواہ ہے۔ ان دلچسپیوں کے سلسلے کو جاری و ساری رکھنے کے لیے علماء کونسل سے اچھی چھتری کیا ہوسکتی تھی؟سو وہ اس چھتری تلے رات دیردیر تک اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھے کہ علماء کونسل نے ا نہیں دکان آگے بڑھا نے کو کہہ دیااور صرف کہا ہی نہیں بلکہ عمل بھی کروادیا۔ اشرفی صاحب نے بہتیراہاتھ پیر مارے لیکن ایک نہ چلی۔قاسمی صاحب یہی راز کی بات بتا رہے تھے کہ اشرفی صاحب جیسا جثہ رکھنے والی شخصیت کو ہلانے کے لیے پانچ چھ سو علماء نے مل کر کوشش کی تب کہیں جا کر پہاڑ اپنی جگہ سے ہلااور ان کے ہلنے کے بعد ہی کونسل میں بھی کچھ ہل جل ہوئی۔ اب کونسل ماہ اگست کو ماہ استحکام کے عنوان سے منا رہی ہے جس میں پورے ملک میں پاکستان کے استحکام کے حوالے سے پروگرام ہوں گے دینی مدراس میں پاکستان کے حوالے سے تقریبات ہوں گی اورقومی پرچم بھی لہرائیں جائیں گے ۔"

سیلانی نے قاسمی صاحب سے بات کرکے فون کان سے ہٹایاہی تھا کہ ایک خوبصورت سا نوجوان مسکراتا ہوا سیلانی کے پاس آگیا
"سیلانی انکل؟" اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا
"جی"
"وہ جو دیکھتا گیا لکھتے ہیں ،ہیں ناں؟"
سیلانی نے دوبارہ اثبات میں جواب دیا تو اس نے مسکراتے ہوئے مصافحے کے لیے اپنا ہاتھ بڑھا دیا "میں پانچ سال پہلے دادا جی کے ساتھ آپ سے ملا تھا ،دادا جی آپ کا کالم بہت شوق سے پڑھتے تھے۔ میری اردو کمزور تھی ناں تو انہوں نے طریقہ یہ نکالا کہ مجھ سے کہتے تھے کہ سیلانی کو پڑھ کر سناؤ۔ آپ بہت مشکل مشکل لکھتے تھے ،مجھ سے پڑھا نہیں جاتا تھا ۔۔۔" سیلانی نے اس کی بات کاٹی اور ہنس کر کہا
"یار! میں مشکل لکھتا ہوں تو پھر مشکل کیا ہوتا ہوگا، میں تو بہت آسان لکھتا ہوں۔"
"لکھتے ہوں گے لیکن اردو پڑھنا اور لکھنابہت مشکل ہے بس بولنا آسان ہے" اس نے جھینپتے ہوئے بتایا اور اپنے دوستوں سے سیلانی انکل کو ملوانے لگا۔ ارمغان کے دوست خاصے تمیز داراور کچھ پڑھاکو قسم کے تھے ۔ تیمور کو انگریزی ادب سے خاصا لگاؤ تھا اور اس نے آکسفورڈ یونی ورسٹی سے انگریزی تھیٹر پڑھنے کا پروگرام بنا رکھا تھا۔ ان میں عبدالہادی کو کرنٹ افیئرز سے دلچسپی تھی اس کا ارادہ تھا کہ وہ ہارورڈ یونی ورسٹی سے انٹرنیشنل ریلیشنز پڑھے۔ ہادی نے بتایا کہ اس کے چچا امریکہ میں کسی یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں ۔

وہ تینوں لڑکے گیلے بالوں کے ساتھ سیلانی کے آس پاس بیٹھ گئے ،وہ سوئمنگ کرچکے تھے اور اب ان کا ارادہ فریش جوس پینے کا تھا جو فی الوقت انہوں نے موخر کر دیااور وہ سیلانی سے باتیں کرنے لگے۔ عبدالہادی سیلانی سے پاکستانی میڈیا کے بارے میں جاننے لگا وہ پوچھ رہا تھا کہ نیوز اینکر اتنا چیخ چیخ کر کیوں بات کرتی ہیں اور پاکستانی میڈیا اتنی سنسنی کیوں پھیلاتا ہے؟ اس کی بات سن کر سیلانی مسکرادیا، کہہ تو وہ سچ رہا تھا۔

"سچ یہ ہے کہ پاکستان کے تمام نیوز چینلز بھارت کے نیوز چینلز کی کاپی ہیں،ہم ان سے متاثر ہیں بلکہ متاثر کیا ہیں جب ہمارے یہاں پرائیوٹ چینلز کو لائسنس ملے تو انہوں نے اپنے اسٹاف کو تربیت دینے کے لیے پڑوس سے ہی رابطہ کیا اور پھر انہوں نے ہمیں اپنے انداز میں رنگ دیا۔"
"آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں میں نے دیکھا ہے انڈین چینلز کے اینکر بھی اسی طرح چیخ چیخ کر بات کرتے ہیں، وہ خبر کوبہت بڑا کرکے کیا کہتے ہیں اسے۔۔۔۔"
"بڑھا چڑھا کر" سیلانی نے لقمہ دیا
"یس سر !وہی وہی وہ ایسا ہی کرتے ہیں" عبدالہادی خاموش ہوا تو تیمور نے کاندھے اچکا کر کہا "اس میں کوئی ایسا غلط بھی نہیں کامیاب لوگ ہی مثال بنتے ہیں ،ان کی فلم انڈسٹری کو دیکھ لیں ان کے سسٹم کو دیکھ لیں "
"ہاں کچھ شک نہیں کہ ان کے یہاں سسٹم ہم سے بہتر ہے" سیلانی کا یہ کہنا تھا کہ تیمور نے جھٹ سے کہا "سر!وہ ہر لحاظ سے ہم سے آگے ہیں، سو کروڑ کی آبادی ہے، بہت بڑی فوج ہے ،بہت بڑی انڈسٹری ہے، لٹریسی ریٹ زبردست ہے ،ان کا جی ڈی پی بھی بہت اچھا ہے،سافٹ وئیر میں تو ان کا ایشیا میں مقابلہ نہیں"
"اب ایسا بھی نہیں ہے،مقابلہ تو ہے اور ہر میدان میں ہے اور ہم سے ہے آپ ارفع کریم کو بھول گئے؟نو سال کی مائیکرو سوفٹ انجینئر۔ ہم سو کروڑ کے مقابلے میں بیس کروڑ ہیں لیکن ہیں اور یہی ہماری کامیابی ہے کہ ہم چار جنگیں لڑنے کے بعد بھی "تھے" نہیں ہیں۔"
"سر!مگر ہم جنگ ہی کیوں لڑیں،کیا ہم بھارت کو ختم کر سکتے ہیں؟ نہیں نا تو ہمیں اپنی اسٹیٹ پالیسی تبدیل کرنی ہوگی ،ہم جو رقم ڈیفنس پر لگا رہے ہیں،وہ اپنی ترقی پر کیوں نہ لگائیں"

سیلانی سمجھ گیا کہ تیمور بھی ان نوجوانوں میں سے ہے جن کے ذہن شاطر براہمن نے مسخر کر لئے ہیں۔ سیلانی نے ایک معنی خیز ہنکارہ بھراا ور تیمور سے کہا "اصولی طور پرچھوٹے کو بڑے سے لڑتے ہوئے سو بار سوچنا چاہیے۔ ہم بھی سوچتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہم بھارت کو ختم کرنا نہیں چاہتے، یہ بیماری اسے ہے اور " تقسیم" سے پہلے کی ہے۔
"تقسیم " اس نے نہ سمجھنے کے انداز میں دوہرایا
"انگریزو ں کے جانے کے بعدیہ سارا علاقہ پاکستان اور انڈیا میں تقسیم ہو ا تھا، اسے بٹوارہ یا تقسیم کہا جاتا ہے۔ یہ تقسیم ہی اسی بات پر ہوئی تھی کہ ہم ہندوؤں کے ساتھ نہیں رہ پا رہے تھے، ہم ان کے ساتھ غیر محفوظ تھے، اسی لئے پاکستان بنا اور آپ کو پتہ ہے کہ پہلی جنگ ہم نے نہیں بھارت نے چھیڑی تھی اور وہ بھی پاکستان بننے کے اگلے سال،48ء میں جنگ کے لیے آگیا تھا" سیلانی نے باری باری تینوں کے چہروں پر نظر ڈالی اور تینوں کے چہرے کورے تھے۔
"48ء میں بھارت نے کشمیر میں فوجیں داخل کر لی تھیں یہ جو آزاد کشمیر ہے ،یہ ہم نے اس سے چھینا تھا،جنگ جاری تھی کہ بھارت اقوام متحدہ پہنچ گیاکہ لڑائی رکوا دیں۔ یہ سب حقائق ہیں بیٹا! آپ کو کیوں نہیں پتہ؟ آپ اسکولوں میں کون سی تاریخ پڑھتے رہے ہو؟"
"سر! ویسے ایک بات ہے کہ کشمیر کی وجہ سے ایک کروڑ بیس لاکھ لوگوں کی زندگی کو خطرہ ہے تو ہم ہی دل بڑا کرکے اسے چھوڑ دیں، یہ بھی تو ایک opinion ہے" یہ بات عبدالہادی نے کہی۔

"کشمیریوں سے بدترین بےوفائی کرکے ہم نے کشمیر چھوڑ دیا تو آپ کا پنجاب ریگستان بن جائے گا۔ ہمارے سارے دریا کشمیر سے آتے ہیں اور تھوڑی دیر کے لیے مان بھی لیا تو پھر بھی بھارت کو آرام نہیں آئے گااس کا مقصد پاکستان کا خاتمہ ہے۔ یہ دیکھو" سیلانی نے ان کے سامنے اپنا سیل فون کردیا جس میں ہند بلوچ فورم کی تصاویر تھیں۔ "بھارت نے بلوچستان میں پاکستان مخالف قوتوں کی کمر تھپتھپانے کے لیے ہند بلوچ فورم بناڈالا ہے ،فیس بک پر اس کا پیج بنا دیا گیا ہے ٹوئٹر پر اکاؤنٹ بن چکا ہے ،پون سنہا صدر ہیں ،آگرہ میں اس کا ایک سمینار بھی ہو چکا ہے ،کیا خیال ہے؟ یہ فورم پاکستان میں بجلی کے مسئلے کے حل کے لیے بنا ہوگا۔اسی سال اپریل میں مودی بنگلہ دیش گیا تھا اور اس نے اعتراف کیا تھا کہ وہ مکتی باہنی کا رضاکار تھا پاکستان توڑنے میں عملی طور پر شریک تھا،بھارت کی سوئی ہماری بربادی پر اٹکی ہوئی ہے ،وہ چین سے نہیں بیٹھے گا،اس کو اپنی سرحدوں سے صرف اسی صورت میں دور رکھا جا سکتا ہے کہ ہم تیاررہیں ۔"

تیمور، عبدالہادی نے سیلانی سے سیل فون لے لیا اور ہند بلوچ فورم کی تصاویر دیکھنے لگے، وہ کچی عمر کے تازہ تازہ بالغ ہوئے لڑکے تھے ۔ اس عمر میں انسان آنگن میں مرغی کے اس چوزے کی طرح ہوتا ہے جس کی حفاظت نہ کی جائے تو چیل جھپٹ کر لے جاتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس متمول طبقے کے بچوں کو ہم نے بالکل ہی کھلا چھوڑ دیا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارا میڈیا ویسے ہی بھارت کے مقابلے میں معذرت خواہانہ رویہ رکھے ہوئے ہے، لے دے کر پرنٹ میڈیا پاکستان کے لیے کچھ چھاپ دے تو چھاپ دے لیکن اس کا فائدہ یوں نہیں کہ اردو اخبارات برج پار اس متمول آبادی میں بہت کم پڑھے جاتے ہیں اور یہاں جوہاکر انگریزی اخبارات ڈال کر جاتا ہے ان کا حال یہ ہے کہ وہ بھارت کے غاصبانہ قبضے میں جانے والے کشمیر کے ساتھ "مقبوضہ " کا لفظ بھی لکھنا گوارہ نہیں کرتے، "بھارت کے زیر انتظام کشمیر" لکھ کر خبر دیتے ہیں اور جانے کن کو خوش کرتے ہیں؟ ایسے میں ان باثر خاندانوں کے بچوں تک کوحقائق کون پہنچائے اور کیسے پہنچائے؟انہیں بھارتی پروپیگنڈے سے کیسے بچایا جائے کیا یہ خطرے کا الارم نہیں کہ اب اس طبقے کے بچے امن سے رہنے کے لیے کشمیر چھوڑ دینے کی باتیں کرنے لگے ہیں۔ سیلانی یہ سوچتا ہوا سامنے بیٹھے نوجوانوں کو فکرمندی سے تکنے لگا اور دیکھتا رہا دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا۔

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */