میری تمام دلیلیں رد ہو گئیں - خالد ایم خان

اللہ کے ایک ولی بیان فرماتے ہوئے کہتے ہیں کہ شیطان نے جب مجھ سے پوچھا اللہ پر ایمان لانے کی کوئی ایک دلیل دو۔ میں نے بڑے زعم میں اللہ پر ایمان لانے کی ایک واضح دلیل دی لیکن میں بھول گیا تھا کہ شیطان اپنے وقت کا ایک بہت بڑا عالم تھا۔ ایک ایسا عالم، جسے اُس کے علم وحکمت، عبادات وریاضت کی بنیاد پر اللہ تبارک وتعالیٰ نے زندہ آسمانوں پر اُٹھا لیا تھا اور فرشتوں کی تعلیم پر مقرر کر دیا تھا۔ میں اشرف المخلوقات ہونے کے غرور میں فراموش کر بیٹھا تھا کہ ابلیس نے قسم کھا رکھی ہے قیامت تک اس دنیا میں آنے والے ہر انسان کو صراط مستقیم سے بھٹکانے کی۔ اسی لیے جب میں نے وقت کے سب سے بڑے عالم اور آج کے سب سے معتوب کے سامنے اپنی انسانیت کے زعم میں ایک دلیل دی تو میرے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ شیطان اتنی آسانی کے ساتھ میری اُس جاندار دلیل کو اپنے شیطانی دلائل کی روشنی میں رد کردے گا۔ میں بڑا سٹپٹایا اور فوراً ہی ایک اور دلیل دی لیکن شیطان نے اپنے علم وحکمت کی بنیاد پر اُس کو بھی رد کر دیا میں طیش میں آگیا اور دلیل پر دلیل دیتا چلا گیا لیکن یہ کیا شیطان میری ہر دلیل کو رد کرتا چلا گیا۔ اب کیا کروں؟ اپنے ایمان کو کیسے سلامت رکھوں؟ آج میں اپنی زندگی کے سب سے بڑے امتحان میں فیل ہوئے چلا جارہا ہوں، آج میرا سب کچھ یعنی میرا ایمان داؤ پر لگ چکا ہے، شیطان اپنی چال میں کامیاب ہو چلا ہے، کیسے بچاؤں اپنے ایمان کو جو کہ میرا کل سرمایہ ہے؟ ماتھے پر پسینے کے قطرے نمودار ہو چکے، گھبراہٹ زور پکڑ نے لگی، زبان گنگ ہو چلی، کیسے کیسے یا باری تعالیٰ؟ میری رہنمائی کر! میں تیرا بڑا عاجز بندہ ہوں۔ میری آنکھ سے ندامت کے آنسو کا وہ ایک قطرہ شائد میرے اللہ کو پسند آگیااور ایک روشنی کا جھماکا ہوا میرے دل ودماغ میں اور میرے لبوں سے نکلا"او مردود! میں اپنے اللہ پر بغیر کسی بھی دلیل کے ایمان رکھتا ہوں، مجھے اپنے اللہ پر ایمان لانے کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہے۔" بس اتنا سننا تھا کہ شیطان نے ایک زور دار اور کرب ناک چیخ ماری اور بھاگ گیا۔ آج میرے اللہ نے میرا مان رکھ لیا، میرا بھرم رکھ لیا۔ میرے ایمان کو روز اول کی طرح پھر تروتازہ کردیا اور میرے دل ودماغ میں روشنی بھردی، میں سجدہ ریز ہو گیا بارگاہ الہٰی میں اور آنسوؤں سے تر چہرے کے ساتھ استغفار مانگی اور شکر بجا لایا اپنے رب کا کہ جس نے مجھ جیسے حقیر کو رسوائیوں کی دلدل میں گرنے سے بچا لیا۔

دلیلیں تو بڑی دی تھیں شیطان مردود نے بھی بغداد کے اپنے وقت کے سب سے بڑے اور طاقتور پہلوان جنید کو بھی کہ ایک کمزور اور نحیف شخص کی اتنی ہمت کیسے ہوئی جو تجھ جیسے طاقت کے پہاڑ کو چیلنج کرے؟ اُڑا دے اس کمزور ناتواں جسم کو ایک ہی پھونک سے! لیکن شائد میرے اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا کہ جب ہاتھوں میں ہاتھ پڑے اور لاغر شخص نے جنید پہلوان سے کہا کہ"اے جنید! میں آل رسول سے ہوں، بھوکا ہوں، کمزور ہوں، تجھ سے لڑنے کی مجھ میں تاب نہیں۔ آج سید زادیوں کے لباس جگہ جگہ سے پھٹ چکے ہیں۔ بھوک سے نڈھال قریب کے جنگل میں بے یارومددگار پڑی ہیں۔ میرے دیگر بچے بھی بھوک سے نڈھال ہو چکے ہیں۔ سید زادہ ہوں اس لیے کسی بھی شخص کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ہمت نہ کر سکا۔ تمہارے بارے میں مجھے پتہ ہے کہ تم آپ ﷺ سے بہت پیار کرتے ہو اس لیے اے جنید! آج تو اپنے مان مرتبہ کی قربانی دے۔ آل رسول کی خاطرمیرا وعدہ ہے کہ روز جزا میں اپنے نانا ﷺ کا دامن پکڑ کر تیرے سر پر تاج رکھواؤں گا۔

جنید اُس لاغر شخص کی باتیں سُن کر آبدیدہ ہوگیا اور دل میں ہارنے کا فیصلہ کرلیا۔ کشتی شروع ہو گئی اور خلاف توقع نامی پہلوان جنید چت ہوگیا اور لاغر اور کمزور شخص عوام کے کندھوں پر منتقل ہو گیا۔ انعام اکرام کی بارش شروع ہو گئی وہ کمزور شخص اپنا انعام واکرام سمیٹ کر جنگل کی جانب چل دیا ادھر پہلوان جنید کا مان ومرتبہ مٹی میں مل گیا۔ بڑی رسوائی ہوئی لیکن دل مطمئن تھا، اندر سکون تھا ایسا سکون جو آج سے پہلے جنید پہلوان کو نہ حاصل ہوا تھا۔ رات ہوگئی اور جنید پہلوان سو گیا جیسے ہی آنکھ بند ہوئی روشنی کے جھماکے ہوئے ایک روشنی کا ہیولہ سا اپنے قریب آتا دکھائی دیا۔ کیا دیکھتا ہے کہ آپ ﷺ تشریف لائے ہیں اور پکار رہے ہیں اُٹھ جنید! تیر ے اس قرض کے لیے میں قیامت تک کا انتطار نہیں کرسکتا اور جنید کو اُٹھا کر سینے سے لگا لیا۔ جنید پہلوان کی زندگی ہی بدل گئی اُس کی انکھوں کے آگے سے اندھیرا چھٹ گیا۔ کائنات آنکھوں کے آگے روشن ہو گئی، سارے اسرار ورموز کھل گئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا اے جنید! تو نے میری اور میری آل کی خاطر اپنے مان مرتبہ کی قربانی دی، جا آج سے تو ولایت کا سلطان ہے اور اُس دن کے بعد جنید پہلوان رہتی دنیا کے لیے حضرت جنید بغدادی ؒ قرار پائے۔ ایسی بلندی، ایسا مرتبہ تمام دنیا کی دلیلیں رد کردیتا ہے۔

میری آنکھیں حضرت جنید بغدادی ؒ پر اللہ اور اُس کے رسول کی عنایت پر اشکبار ہو گئیں اور میرے دل سے بھی یکبارگی دعا نکلی ہچکیوں کے ساتھ یا اللہ مجھے بھی عنایات والوں میں شامل فرما، ہدایات والوں میں شامل فرما، میں کمزور ہوں اُسی ناتواں شخص کی مانند۔ مجھے کبھی بھی بے ادب نہ بنانا ابلیس کی مانند کہ جس کی ایک بے ادبی نے اُس کے سارے علوم کو خس وخاشاک کی مانند بہا دیا اور مجھے باادب رکھنا جنید پہلوان کی طرح کے جس کی آپ ﷺ سے محبت نے اُسے قربانی جیسے عظیم فلسفہ پر عمل کرنے کے لیے بنا کسی بھی دلیل کے مجبور کردیا اور دنیا کا ایک نامی پہلوان فقر کی عظیم بلندیوں پر فائز کر دیا گیا، دنیا کی تمام دلیلیں یہاں رد ہو جاتی ہیں۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کو نمرود آگ میں پھنکوا دیتا ہے، آگ گل وگلزار ہو جاتی ہے، دنیا کی تمام دلیلیں یہاں رد ہو جاتی ہیں۔ حضرت موسٰی علیہ اسلام اور اُن کی قوم بنی اسرائیل کودریائے نیل نے راستہ دے دیا، دنیا کی تمام دلیلیں یہاں رد ہو جاتی ہیں۔ آپ ﷺ چاند کو دو ٹکڑوں میں تقسیم اور پھر واپس ملا دیتے ہیں دنیا کی تما دلیلیں یہاں رد ہو جاتی ہیں۔

دنیا بے شمار ایسے حقائق سے بھری پڑی ہے جہاں دنیا کے تمام دلائل بے کار ہوجاتے ہیں۔ یقین جانیے سچے اور پختہ ایمان کے لیے ہمیں کسی بھی دلیل کی کبھی بھی ضرورت نہیں رہی کیوں کہ بعض مواقع انسان کی زندگی میں ایسے ضرور آجاتے ہیں جہاں کوئی بھی دلیل آپ کے کسی کام نہیں آتی آپ بے بس ہو جاتے ہیں۔ مانتا ہوں کہ آج کی سائنسی ترقی کے کرشمات بے مثال ہیں لیکن کیا آج کی اس سائنسی ترقی کو بنیا د بنا کر آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ قدرت سے لڑنے کی اہلیت آپ اپنے اندر پیدا کرچکے ہیں، تو میرا جواب"نہیں" میں ہوگا۔ قدرت آپ کو مواقع ضرور دیتی ہے لیکن اختیار خود باری تعالیٰ نے اپنے ہاتھوں میں رکھا ہوا ہے۔ اس لیے دنیا کا کوئی بھی انسان چاہے وہ کتنا ترقی یافتہ کیوں نہ ہو ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب اُس کی تمام پلاننگ دھری رہ جائے گی، اُس کی تمام دلیلیں رد کردی جائیں گی اور اپنے رب کے سامنے حساب کے لیے کھڑا کردیا جائے گا۔ تمام چوریوں، ڈکیتیوں کے حساب مانگ لیے جائیں گے، اللہ کی مخلوق کو عذاب میں مبتلا کرنے کا جواب دینا پڑ جائے گا، وہاں نہ کوئی سفارش کام آئے گی اور نہ ہی کوئی دلیل!

نہ کر بندیا میری میری، نہ تیری نہ میری

چار دناں دا میلہ دنیا، فیر مٹی دی ڈھیری