ہمارا معاشرہ اور خلع یا طلاق - ملک محمد عمران مانی

ہمارے ملک میں سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اب تک جتنے قوانین بنائےگئے ہیں یا پھر بنائے جاتے ہیں وہ سب کے سب انگریزوں کے بنائے ہوئے قوانین کی تجدید ہوتے ہیں یا پھر ان کا نام تبدیل کرکے پیش کر دیئے جاتے ہیں۔ پچھلے کئی سالوں یہ بات زیر غور ہے کہ ہمارا معا شرہ جس سمت میں جا رہا ہے وہ دن دور نہیں کہ جب ہم دیکھیں گیے کہ ہماری نسلیں تباہ ہو گئیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہ ہوگا۔ اس میں سب سے زیادہ جو پریشان کن بات وہ طلاق یاپھر کورٹ سے خلع لینا ہے۔ ہمارے معاشرے میں کورٹ میرج جو کہ عام ہو چکی ہے اور زیادہ تر ناکام ہی ہوتی ہےاور اس کا نتیجہ صرف خلع ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ عورت کی ہر بات اگر شوہر نہیں مانتا ہے تو ہر بات پر تکرار اور مار پیٹ شروع ہو جاتی ہےاور آخر کار معاملہ طلاق یا پھر خلع تک پہنچ جاتاہے۔ ہمارے معاشرے کا یہ بھی المیہ ہے کہ ہم میں برداشت ختم ہوچکی ہے، جو کہ خلع یا پھر طلاق کی سب سے بڑی وجہ بنتی ہے۔

خلع لیناویسے تو عورت کا حق ہے مگر ایسی عورت کا، جس کا اپنے شوہر کے ساتھ کسی وجہ سے گزاراممکن نہیں تو وہ اپنی مرضی سے خلع لے سکتی ہے، مگراس میں بھی مرد کا طلاق دینا ضروری ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ ہمارے پاکستان میں چلائی جانے والی فلمیں اور ڈرامے ہیں جس میں اپر کلاس فیملیز کی 'ہا ئی سٹینڈرڈ' والی زندگیاں دکھائی جاتی ہیں جن کا حقیقی زندگی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اکثر نوجوان لڑکیاں اسی طرح کے سہانے خواب آنکھوں میں سجا کر جب حقیقی زندگی میں قدم رکھتی ہیں تو وہ ان کے خوابوں کے برعکس ہوتا ہے اور وہ اس کو اپنی مرضی کے مطابق نہیں گزار سکتیں۔ بالآخر معاملات خلع یا پھر طلاق تک جا پہنچتے ہیں۔ اس میں بھی زیادہ تر غلطی عورت کی ہوتی ہے جو کہ بد اخلاق ہوتی ہے اور ہر بار ہر بات پر جواب دینا اپنا حق سمجھتی ہے۔ خیر غلطی جس کی بھی ہو نقصان تو دونوں کا ہوتا ہے کسی کا ما لی نقصان تو کسی کا اخلاقی نقصان ہوتا ہے اور اگر بچے ہوں تو ان کا مستقبل بھی خطرے میں پڑ جاتا ہے۔

ایک اندازے کےمطابق پنجاب میں پچھلے کچھ عرصے میں لاہور ہائی کورٹ لاہور میں خلع کے رپورٹ ہونے والےکیسز کی تعداد کچھ یوں ہے: 2012میں13,299کیسز، 2013 میں14,243کیسز، 2014 میں16,942کیسز اور2016 میں 18,901کیسز رپورٹ ہوئے جو اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں طلاق اور خلع کی شرح میں کس قدر اضافہ ہو رہا ہے۔

ایک سچا مسلمان ہونے کے ناطے ہمارا حق بنتا ہے کہ ہم اپنی اخلاقیات کے دائرے میں رہیں ، اپنے اندر صبر اور استقامت پیدا کریں، حقیقی زندگی کو سمجھنے کی کوشش کریں اصل زندگی مسلمان کے لیے تو آخرت کی زندگی ہے، اس کی بھر پور طریقے سے تیاری کریں اور ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہیں۔