سب مر جائیں گے لیکن میں نہیں مروں گا - عادِل سُہیل ظفر

آپ اِس عنوان کو دیکھ کر حیران یا پریشان مت ہوں، یہ عنوان میری اور آپ کی ز ُبان ءِحال سے ادا ہوتا ہے، جی ہاں، یہ بات ہمارے عمل سے ظاہر ہوتی ہے سوائے اُس کے جسے اللہ محفوظ رکھے۔ دُنیا میں صِرف ایک ایسی حقیقت ہے جِس پر کِسی بھی اِختلاف کے بغیر ہر ایک اِنسان یقین رکھتا ہے اور اِس سے اِنکار کی کوئی گنجائش نہیں پاتا، اور وہ اکیلی متفق علیہ حقیقت ہے، موت!

موت ایسی حقیقت جِس کا سامنا ہر کِسی کو کرنا ہی کرنا ہے، اور جِس سے کوئی بھی جان خود کو بچا نہیں سکتی اور نہ ہی کِسی اور کو اُس سے بچا سکتی ہے۔ موت جو اپنی راہ چلتی ہی جاتی ہے، جسے اُس کے رب کے عِلاوہ کوئی نہیں روک سکتا، جِس پر کسی چیخ و پکار کا اثر نہیں ہوتا، جس پر کِسی آہ وفُغاں کوئی تاثیر نہیں رکھتی، جسے کِسی کے حُزن و ملال کی پرواہ نہیں ہوتی، جسے کِسی چھوڑ کر جانے والے کا درد محسوس نہیں ہوتا، جسے کِسی پیچھے رہ جانے والا کا دُکھ محسوس نہیں ہوتا۔

موت ایسی طاقتور چیز جو عظیم سے عظیم جان والی طاقتور مخلوق کو بھی اُسی آسانی سے قابو کر لیتی ہے جس آسانی سے کسی ننھی سی جان والی انتہائی کمزور مخلوق کو، موت جسے کوئی طاقت روک نہیں سکتی، سوائے اُسے چلانے والے کے حُکم کے، پھر بھی کوئی اُس کے بارے، اُس کی قوت و قُدرت کی بارے میں سوچتا نہیں جِس کے حکم سے موت چلتی ہے !!!

عموماً ہوتا یہ ہے کہ جب بھی ہم لوگ موت کو یاد کرتے ہیں، یا موت کی سوچ آتی ہے تو کِسی اور کی موت کے سبب آتی ہے کہ ہاں فلاں مر گیا، فلاں بھی مر گیا، فلاں بھی مر جائے گا، کِسی نے یہاں نہیں رہنا، سب ہی کو موت آئے گی وغیرہ وغیرہ، لیکن، یہ سب کچھ سوچتے ہوئے اور بڑے اندازسے یہ سب باتیں کہتے ہوئے کہیں شاید ایک لمحے کے لیے بھی ہماری دِلوں یا اذہان میں خود ہماری اپنی موت کا کوئی تصور نہیں اُبھرتا۔

اگر کبھی آبھی جائے تو اُس کے ساتھ ہم ماں باپ، بھائیوں بہنوں، بیوی بچوں، دوستوں رشتہ داروں، دُنیا کے آرام و آسائش اور رنگینیوں کے فراق کے خوف میں گم ہوجاتے ہیں۔ شاید ہی کوئی ایسا ہوتا ہے جو یہ سوچے کہ مرنے کے بعد کے لیے میں نے کیا کر رکھا ہے ؟

ہم دُوسروں کی موت کے بارے میں سوچتے ہیں تو ہمیں یہ سب کیوں یاد نہیں آتا؟

ہم اِن سب اُمور کے بارے میں کیوں نہیں سوچتے ؟

ہم اپنی ہی موت کے بارے میں کیوں نہیں سوچتے ؟

کیا ہم اِس اِنتظار میں ہیں کہ ہم اپنی خواہشات پوری کر لیں، دُنیا کی تمنائیں مکمل کر لیں، تو پھر اپنی موت کے بارے میں سوچیں گے ؟

کیا ہم اِس اِنتظار میں ہیں کہ بوڑھے ہو جائیں تو پھر ہم اپنی موت کے بارے میں سوچیں گے ؟

کیا ہماری صحت مندی ہمیں ہماری موت کے بارے میں سوچنے سے روکے ہوئے ہے ؟

کیا لوگوں کے بارے میں ہماری یہ خام خیالی کہ وہ ہمیں مرنے کے بعد فائدہ دیں گے، ہمیں ہماری موت کے بارے میں سوچنے سے روکتی ہے ؟

گو کہ موت کے بارے سوچنے یا نہ سوچنے سے موت پر، اُس کے آنے کے وقت اور مُقام پر کوئی فرق نہیں واقع نہیں ہوتا، وہ اُس کے لیے مُقرر شُدہ وقت پر، مُقرر شدہ مُقام پر آ کر ہی رہے گی اور جسے مرنا ہے اُسے مرنا ہی ہے۔

وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌ فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لَا یسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً وَلَا یسْتَقْدِمُونَ اور ہر ایک گروہ کے لیے موت کا ایک وقت مقرر ہے پس جب وہ آجاتا ہے تو وہ اُس میں ایک لمحہ بھی نہ تو دیر کر سکتے ہیں اور نہ ہی جلدی ۔ (سورت الأعراف(7) /آیت 34)

اپنے اِرد گِرد نظر کیجیے، اور کچھ نہیں تو اپنے کمپیوٹر یا موبائل فون کی ایڈریس بک یا اپنی فون نمبرز والی ڈائری کو ہی دیکھیے تو آپ کو کسی ایسی شخصیت کا نام نظر آہی جائے گا جو موت کا لقمہ بن چکی ہو۔

سوچیے کہ موت ہمیں کِسی بھی وقت آن دبوچے گی، اُسے نہ تو ہماری خواہشات کے پورے ہونے کی فِکر ہے اور نہ ہی ہماری تمناؤں کی تکمیل کا انتظار، اِسے نہ ہی ہمارے بڑھاپے کے آنے کا انتظار ہے، اور نہ ہی ہماری صحت مندی اُسے روک سکتی ہے اور نہ ہی کوئی ہماری موت کے بعد ہمیں پیش آنے والے حالات میں مدد دے سکتا ہے، سوائے اُس کے جِسے اللہ کِسی سفارش کی اِجازت دے دے، اور اجازت اُسے ملے گی جِس کے پاس اللہ کی طرف سے اِس اِجازت کے لیے کوئی وعدہ ہو، کوئی حسب نسب، کسی سے کوئی نِسبت، کسی کی درگاہی، کسی کی خانقاہی، کسی کے نام کا طوق، کسی کا جانور ہونے کا پَٹّہ کچھ کام نہ آئے گا، نہ ہی یہ سب کچھ اور نہ ہی وہ لوگ جِن سے عقیدت میں یہ سب کچھ اختیار کیا جاتا ہے۔

مَنْ ذَا الَّذِی یشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ کون ہے جو اللہ کے ہاں اللہ کی اجازت کے بغیر سفارش کر سکے (آیت الکرسی، سورت البقرہ (2)/آیت 256)

لَا یمْلِكُونَ الشَّفَاعَةَ إِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًا (تو لوگ)کسی کی سفارش کا اختیار نہ رکھیں گے سوائے اُس کے جس نے رحمٰن (اللہ)سے اِقرار لیا ہو (سورت مریم (19)/آیت 87)

وَاتَّقُوا یوْمًا لَا تَجْزِی نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَیئًا وَلَا یقْبَلُ مِنْهَا عَدْلٌ وَلَا تَنْفَعُهَا شَفَاعَةٌ وَلَا هُمْ ینْصَرُونَ
اور بچو اُس دِن (کی سختی اور عذاب )سے جس دِن کوئی جان کسی جان کو کسی چیز سے کوئی فائدہ نہ دے سکی گی اور نہ ہی کسی جان سے کوئی بدل قبول کیا جائے گا، اور نہ ہی کسی جان کو کوئی سفارش فائدہ دے گی اور نہ ہی اُن کو مدد مل سکے گی ۔ (سورت البقرہ (2) /آیت123)

جب ہم اُس موت کی آمد کا اور اُس کی آمد پر اپنے ممکنہ حال کے بارے میں سوچیں کہ ہمیں اس اٹل حقیقت کا سامنا کس حال میں کرنا ہے تو اِن شاء اللہ یہ سوچ ہم پر بہت بڑا فرق ڈالنے والی ہو گی، اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ أَكْثِرُوا ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ لذتوں کو کاٹنے والی کا ذِکر زیادہ کیا کرو(سنن ابن ماجہ/حدیث 4258 /کتاب الزُھد /باب31، سنن النسائی، سنن الترمذی و غیرھا، درجہءصحت، حَسن صحیح)

جی ہاں! ان اور ان جیسی معلومات کی روشنی میں جب ہم اپنی موت کے بارے میں غور کریں گے تو ہماری شخصیات اور ہمارے اعمال پر یہ فرق پڑے گا کہ ہمیں اپنے پاس دُنیاوی چیزوں کی کمی کا احساس نہ ہوگا، موت کی سوچ ہمیں یہ یاد کرواتی رہے گی کہ جو کچھ تمہارے پاس ہے بہت زیادہ ہے کہ کچھ پتہ نہیں کب مجھے یہ سب کچھ چھوڑنا ہے، یعنی مجھے اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ میں جو کچھ میرے پاس ہے اسے استعمال کر سکوں گا۔ اور اگر دُوسرے پہلو سے دیکھیے تو بھی اگر ہم دُنیا کے امیر ترین لوگوں میں سے ہوں تو موت کی سوچ ہمیں یہ یاد کرواتی رہے گی کہ اگر میں نے اس مال و متاع سے اپنی آخرت نہ کمائی تو یہ سب مال و متاع مجھے کچھ فائدہ دینے والا نہیں میرے لیے بے کار ہے۔

ہمیں چاہیے اور یقیناً چاہیے کہ ہم اپنی ذات کے ساتھ کچھ تنہائی اختیار کریں اور اپنے اندر جھانکیں اور اپنے اندر والی جان سے پوچھیں کہ ہمارے پاس اپنی موت کا سامنا کرنے کے لیے کیا ہے ؟ ہمارے پاس اپنی موت کے بعد کے لیے کیا ہے ؟ اِن شاء اللہ ہمیں جواب میں ایسے بہت سے حقائق ملیں گے جِن سے ہم غافل ہیں۔ لیکن انہیں جاننا ہماری دُنیاوی اور اُخروی دونوں ہی زندگیوں کی کامیابی کے لیے بہت ضروری ہے، کہ اس طرح ہم اپنی موت کے استقبال اور دُنیا سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہو کر اپنے رب کے سامنے خوشی سے حاضر ہونے کی ہمت او رسامان حاصل کرسکتے ہیں، کچھ ایسا معاملہ بن سکتا ہے کہ گویا ایک محبوب دوسرے محبوب کے پاس جا رہا ہے، کچھ ایسا معاملہ بن سکتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا کہ

ولدتك أمك یابن آدم باكیا والناس حولك یضحكون سرورا

فأجهد لنفسك أن تكون إذا بكوا فی یوم موتك ضاحكاً مسرورا

اے آدم کے بیٹے تمہاری ماں نے تمہیں جنم دیا تو تم رو رہے تھے

اور تُمہارے اِرد گِرد والے لوگ خوش اور مُسکرا رہے تھے

اب تم اپنے لیے کوشش کرو کہ جب یہ لوگ رو رہے ہوں

تُمہارے مرنے پر تو تُم خوش اور مُسکرا رہے ہو

اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ موت کی سختیاں ہم پر آسان فرمائے، اُن میں سے بنائے جن کو نفس مطمئنہ کہہ کر اللہ کی جنت میں داخلے کی دعوت دی جائے گی، اور اُن میں سے نہ بنائے جن کے چہروں اور کمروں پر مار مار کر اُن کی روحیں قبض کی جاتی ہیں، ہمارے خاتمے اِیمان پر فرمائے، بُرے خاتمے اور بُرائی پر خاتمے سے ہمیں بچا لے، اور ہماری قبروں کو ہمارے لیے جنت کے باغات میں سے باغ بنائے، جہنم کے گڑھوں میں سے نہ بنائے، اور جب ہم تیرے سامنے حاضر ہوں تو وہ تُو ہم سے راضی ہو۔ اس مضمون کو اپنے دُوسرے بھائی بہنوں تک بھی ضرور پہنچائیے گا، اور اپنی دعاوں میں یاد رکھیے گا۔