شناختی کارڈکی تصویرِ عبرت - رفاقت حیات

انسان کو اس کی اوقات یاد دلانے کے لیے صرف اس کا شناختی کارڈ ہی کافی ہے۔ جو خود کوپتہ نہیں کیا کیا سمجھ رہے ہوتے ہیں صرف ان سے شناختی کارڈ ہی مانگ لیا جائےتو ا ن کی اکڑ فوں ہوتے دیر ہی نہیں لگے گی۔ یقین جانیے اگر شہزادہ سلیم کے دور میں 'نادرا' والے ہوتے تو انار کلی نے شہزادے کی تصویر دیکھ کر ہی خودکشی کر لینی تھی اور لیلیٰ نے مجنوں کی تصویر دیکھتے ہی پہلی فرصت میں داعی اجل کو لبیک کہہ دینا تھا۔ اس سے ایک بات واضح ہوتی ہے کہ جب جب نادرا والے نہیں تھے تب تب لیلیٰ مجنوں، شیریں فرہاد اور ہیر رانجھا جیسے جان چھڑکنے والوں کی داستانیں وجود میں آتی گئیں لیکن جب سے نادرا والے آئے ہیں اس وقت سے لیکر آج تک نہ کوئی ہیر پیدا ہوسکی نہ رانجھا۔ اب صرف عبرت کے قصے بنتے ہیں۔

لوگ کہتے ہیں کہ ڈی اسی ایل آر کیمرے سے کوئی کیسا بھی خوفناک ہو وہ بہت پرکشش نظر آئے گا۔ انہیں بندہ آئی ڈی کارڈ کی تصویر دکھائے اور پھر پوچھے کہ "اب بتا! یہ بھی تو اس موئے ڈی ایس ایل آر سے کھینچی گئی ہے، دکھا کہاں ہے کشش؟ زکوٹا جن ہی نظر آرہا ہے۔

یہ "اہل ِ نادرا "اچھے بھلے انسان کےچہرے کا بیڑہ غرق کردیتے ہیں جو دس سالوں تک منہ چھپائے پھرتا رہتا ہے۔ آئی ڈی کارڈ کے لیے تصویریں اتارنے والا شخص ایک نمبر کا اناڑی ہوتا ہے۔ اسے صرف کیمرہ آن کرنا آتاہوتا ہے تصویریں کھینچنی نہیں آتیں۔ تصویر میں کسی کا منہ کھلا نظر آتا ہے تو کسی کی آنکھیں پھٹی پھٹی نظر آتی ہیں۔ کسی کی شکل ایسی بنی ہوتی ہے جیسے وہ ابھی ابھی کنوئیں سے نکل رہا ہو۔ کسی کا سر پیچھے کو ڈھلکا ہوا ہوتا ہے ایسے لگتا ہے کہ جیسے وہ خط کروانے کے لیے نائی کے سامنے کرسی پر ٹیک لگائے بیٹھا ہو۔ کسی کے کالر اٹھے ہوئے ہوتے ہیں تو کسی کے بال ایسے کھڑے ہوتے ہیں جیسے ہیلی کاپٹر کے پروں کی جگہ اسے گھمایا گیا ہو۔ ارے اللہ کے بندے نادرا کے "کیمرہ مین" !کم از کم اگلے بندے کو ان تمام خوفناک صورتحال سے آگاہ تو کردیا کرو، بندہ کم از کم اپنے وجود پر ہاتھ ہی مار کے تھوڑی سی سیٹنگ کرلے تاکہ آئندہ دس سالہ ممکنہ شرمندگی سے بچا جاسکے۔

یہ بھی پڑھیں:   اس تصویر کے پیچھے چھپی کہانی رونگٹے کھڑے کردے گی

میں نے جب کارڈ بنوایا تو تصویر دیکھتے ہی اپنے پرخچے اڑتے نظر آئے۔ ایک دفعہ تو میرا تراہ نکل گیا کہ یہ کونے میں پتہ نہیں کسی چیز کی تصویر لگا دی؟ غور کیا تو یہ عقدہ کھلا کہ یہ تو میرے بقلم خود کی تصویر ہے۔ میں غش کھاتے کھاتے بچا۔ میں نے اپنے آپ کو ماننے سے انکار کردیا ہوتا اگر فوراً میرے ذہن میں اپنی فیس بک کی تصویر نہ آئی ہوتی۔ آئی ڈی کارڈ کی تصویر نے میرا بنابنایا امیج میرے ہی سامنے ملیا میٹ کردیا۔ میری ذہنی تصویر کی کرچیاں کرچیاں کر ڈالیں، اور دل کی گہرائی سے کہیں کوئی آہ نکلی جس نے دماغ کو لرزا دیا۔ جیسے تیسے کرکے آئی کارڈ جیب میں ڈالا اور چپ سادھ لی۔ اب جب بھی کوئی کارڈ مانگتا ہےتو تصویر کے اوپر انگوٹھا رکھ کے دیتا ہوں۔ اس کے بعد سے انگوٹھے کی اہمیت بھی واضح ہوگئی، جسے ہم ٹھینگا کہہ کر اس کا مذاق اڑاتے تھے، اب یہی انگوٹھا مشکل میں کام آیا۔ بلاشبہ انگوٹھا ہزار نعمت ہے۔