یورپ اور ترکی کی ترقی، آنکھیں نم کیوں؟ - شاہد یوسف خان

کبھی کبھی تو دل کرتا ہے کہ پاکستان سے اٹھ کر، بلکہ پورا گاؤں اٹھا کر، ترکی چلا جاؤں یا پھر یورپ۔ جہاں کی عظیم کہانیاں اور کامیابیوں کے قصے ہمیں سنائے اور پڑھائے جاتے ہیں اور دل کی حسرت یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ بس چلتا تو ملک عزیز پاکستان کو کسی کامیاب ریاست میں ہی ضم کردیتا۔ سرحدیں ملیں یا نا ملیں لیکن کبھی یہ خیال بالکل ہی نہیں آیا کہ خود کو تبدیل کرنے کا سوچوں، تبدیل ہونے کی تگ و دو تو ایک طرف۔ ترک کی جمہوریت ہو یا اسلامی حکومت کا قیام ان کے جتنے بھی کارناموں میں ہمیں یہ باور کرایا جاتا ہے کہ ہم خوش قسمت ہیں اور ہم پھر پاگلوں کی طرح خوشی خوشی جھوم جاتے ہیں۔ ایک دوسرا گروہ وہ ہے جو مغرب کو قبلہ بنائے پھر رہا ہے اور ان کا ایمان اسلام کو چھوڑتا ہوا مغرب کی قانونیت اور جمہوریت پر اٹکا ہوا ہے۔ اس کی ترقی کی مثالیں روزابہ کی بنیاد پر پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ رونا دھونا آج کا نہیں ہے بلکہ ہندوستان پر انگریزوں کے قبضے سے چلا آرہا ہے۔ انگریز ہمیں چھوڑ کر فرار ہو چکے لیکن ہم انہی مثالوں اور شاندار ماضی میں کھوئے جا رہے ہیں۔

ترکی کی کامیاب حکومت پر اور مغرب کی "عظیم" جمہویت پر ہم ٹسوے بہائیں یا خوشی سے جھومیں، لیکن حقیقی خوشی اس وقت نصیب ہو سکتی ہے جب وہ نظام آپ کو ملے، چاہے اسے خلافت، جمہوریت، آمریت یا کوئی اور نام دے دیں۔ اب نہ تو ترکی ہمارے ملک کے مسائل حل کرنے میں اتنی دلچسپی رکھتا ہے، نہ یورپ و امریکہ اور سعودی عرب۔ یہاں ہم صرف اور صرف 'عبداللہ دیوانے' بنے پھرتے ہیں۔

بلاشبہ امت سے محبت کرنی چاہیے لیکن سب سے پہلے تو اسلام نے اپنے قرب و جوار کو ترجیح دی ہے۔ کہیں اگر عشر زکوۃ دینے کا حکم ہے تو اس میں اپنے قریبی رشتے دار یا ہمسایوں کو مصارف بتایا گیا ہے لیکن ہم اپنی قوم کے لیے صرف مثالیں پیش کرنے کو کامیابی کا زینہ سمجھ بیٹھے ہیں۔ اپنے وطن کی اگر کوئی اچھائیاں ہیں، انہیں جان بوجھ کر بھی ظاہر نہیں کرنا چاہتے کیونکہ اس سے ہمارے مذہبی، مسلکی یا سیاسی نظریات کی توہین ہوتی ہے اور جو خرابیاں ہیں ان کو اپنے تئیں بدلنا ہی نہیں چاہتے، بس سب اپنے دانشورانہ تبصروں پر یقین کیے ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   یہ بھی کرپشن ہی ہے-کرن وسیم

کرپشن کے حوالے سے ہماری یہ صورتحال ہے کہ ہمارا حکمران طبقہ ہمیشہ اس ھوس نا مراد میں ہاتھ پاؤں مارتا رہا ہے اور ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ اس وقت کا حاکم بھی اپنے خاندان سمیت اس 'مہان پاپ' کے چکر سے خود کو بچانے کی تگ و دو میں ہے۔ ویسے پانامہ پیپرز میں صرف ایک وزیراعظم یا ان کے خاندان کا نام نہیں آیا تھا بلکہ 259 پاکستانیوں کے نام ہیں ۔ صرف نواز شریف صاحب اس لیے مشہور ہوئے وہ وزیراعظم تھے اور عمران خان کے لیے ایک اہم مسئلہ بھی تھے، ورنہ باقی ڈھائی سو افراد تو کسی کام کے نہیں سمجھے گئے۔

ہم نے اجتماعی طور پر ہی بدلنے کی ہمیشہ کوشش کی ہے لیکن اس میں ہر دور میں ناکام ہوئے۔ جس کسی نے انفرادیت کو قبول کر کے خود کو بدل لیا اور اگر استقامت پر رہا، یقین کیجیے اس نے بنیاد ضرور ڈال دی ہے۔ لازم ہے کہ اس کی انفرادیت سے اس کے خاندان والے یا ساتھی متاثر ضرور ہوئے ہوں گے اور یہ تبدیلی مستقبل میں ایک نا ایک دن ضرور کام آئے گی۔

جس ترکی کی مثالیں روزانہ پڑھنے کو ملتی ہیں تو ان کی اس جمہوریت تک پہنچتے ہوئے تقریباً ایک صدی کا عرصہ گزر گیا اور بالآخر وہ کامیاب ہوئے۔ ترک قوم کے چند لوگوں سے پیدا ہونے والی تحریک نے مصطفیٰ کمال کے سیکولر ازم کا اثر و رسوخ بھی مٹایا اور آمرانہ نظام کے بھی ٹکڑے کیے ہیں۔ ایک سال پہلے جب ترک فوج نے دوبارہ شب خون مارنے کی جسارت کی تو اسی ترک قوم نے اپنی فوج کو اپنے زور بازو سے روکا اور تنبیہہ کردی کہ دوبارہ آمریت کی طرف ہرگز مائل نہ ہونا۔

مغرب کی تاریخ ہے کہ جہاں اس نے دنیا پر قابض ہونے کی کوشش کی ، وہیں علم و تحقیق بھی جاری رکھی لیکن ہمارا علم اب بھی صرف انگریزی زبان پر اٹکا ہوا ہے۔ مغرب کی موجودہ ترقی کا موازنہ کیا جائے تو دوسری عالمی جنگ کے بعد ہی ترقی ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں:   معاشی ترقی کیلئے کرپشن کا خاتمہ ناگزیر - رانا اعجاز حسین چوہان

خیر، یہ سب مثالیں دینے سے فرق بھی کیا پڑتا ہے؟ ہم تو خود قانون توڑنے کے نت نئے طریقے ڈھونڈتے ہیں۔ ہماری تعلیم، صحت، روزگار، رہن سہن سب میں ایک طبقاتی تقسیم ہے جبکہ مغرب، ترکی اور ترقی یافتہ ممالک میں سب کو برابری دی جاتی ہے۔ حکومت نے لاہور، کراچی، اسلام آباد میں سڑکوں پر سو، سو میٹر پر کچرے کے ڈبے لگائے ہوئے ہیں لیکن ہم عادتاً سڑکوں پر کچرا پھینکنے، سگریٹ کے ٹوٹے ڈالنے، پان تھوکنے کو ترجیح دیتے ہیں اور پھر فاتح دیبل کی طرح اپنے قانون کو لتاڑتے ہوئے مسکرا رہے ہوتے ہیں۔ رشوت ہمارا نصب العین بن چکا ہے، لینے میں بھی دینے میں بھی۔ اس طرح کے روزمرہ کے اور کافی معاملات ہیں جن میں ہم کرپشن کرتے ہیں اور ذاتی طور پر جانتے بھی ہیں۔ پھر بھی انہیں درست کریں نہ کریں، کشمیر، افغانستان، فلسطین، شام وغیرہ کو آزاد کرانے شدید دلچسپی رکھتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ہمیں خود کو بدلنا ہوگا ورنہ حکمران اور سیاستدان تو صرف اپنے اپنے نعروں کے لیے ہمیں سردی، گرمی میں چوک چوراہوں میں اپنے اپنے اقتدار کے لیے دھرنے اور احتجاجوں پر لگائے رکھیں گے اور ہماری آنکھیں نم ہوجائیں گی یورپ اور ترکی کی کامیابیوں پر۔