قطر بائیکاٹ - فرحان سعید خان

ایک چھوٹا سا لیکن دنیا کا امیر ترین ملک قطر 1971ء میں برطانیہ سے آزاد ہوا۔ اس کے تین اطراف میں پانی ہے جبکہ زمینی سرحد صرف سعودی عرب سے ملتی ہے۔ جون 2013ء میں شیخ تمیم بن حماد والد کی وفات کے بعد قطر کے خلیفہ بنے۔ 35 سالہ شیخ تمیم برطانیہ کی رائل فورس اکیڈمی کے گریجویٹ ہیں

قطر کی کل آبادی تقریباً 23 لاکھ ہے۔ جس میں مقامی باشندوں کی آبادی صرف 15 فیصد ہے۔ باقی 40 فیصد ہندوستانی، 18 فیصد پاکستانی، 17 فیصد ایرانی، 10 فیصد فلپائنی، نیپالی اور سری لنکن وغیرہ شامل ہیں۔ مقامی 15 فیصد آبادی میں سے 13 فیصد سے زیادہ کروڑ پتی ہیں اسی لیے اسے "ارب پتیوں کا ملک" بھی کہا جاتا ہے۔ قطر میں بے کار لوگوں کی تعداد 1 فیصد سے بھی کم ہے اسی لیے آج قطر میں ایک بھی غریب آدمی نہیں ہے اور 1971سے اب تک کے انتہائی قلیل عرصے میں قطر دنیا کے امیر ترین ممالک میں سرِ فہرست نظر آتا ہے۔ قطر خلیج تعاون کونسل کااہم رکن ہے۔

قطر میں پیسے کی اتنی ریل پیل ہے کہ ہر وقت تعمیری کام چلتا رہتا ہے۔ ایشیا کے تمام ممالک میں سب سے زیادہ اچھی تنخواہیں قطر میں دی جاتی ہیں اور ایک اندازے کے مطابق ہر قطری شہری کی سالانہ آمدنی ایک لاکھ امریکی ڈالر ہے۔ قطر کی آمدنی کا بڑا ذریعہ تیل اور قدرتی گیس ہیں۔ ملک کا سیکیورٹی نظام امریکہ اور برطانیہ کے پاس ہے جو پہلے سعودی عرب کے پاس تھا۔ قطر سالانہ355 .2ملین ڈالر امریکہ کو دفاع کے لیے ادا کر رہا ہے۔ انتہائی چھوٹا ملک ہوتے ہوئے بھی قطر 2022ء میں فیفا فٹ بال ورلڈ کپ آرگنائز کرے گا۔ اس ورلڈ کپ کے لیے قطر میں شاندار اسٹیڈیمز بنائے جارہے ہیں جوکہ اس کے لیے بہت بڑے اعزاز کی بات ہے۔

گزشتہ ماہ کے اوائل میں یہ خبر سامنے آئی کہ 6 عرب ممالک سعودی عرب، مصر، یمن، لیبیا، بحرین اور متحدہ امارات نے دہشت گردی کی حمایت کا الزام لگا کر قطر کا سفارتی بائیکاٹ کردیا ہے۔ پھر قطر کے بحری، بری اور سمندری راستے بھی بند کر دیے۔ سعودی عرب، متحدہ امارات اور بحرین نے قطریوں کو واپس جانے کے لیے 2 ہفتوں کا ٹائم دیا ہے جبکہ قطری سفارت کاروں کو 48 گھنٹوں کا دیا۔ یوں عرب اتحاد پارہ پارہ ہوگیا۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق تعلقات ختم کرنے کا فیصلہ دہشت گردی سے لاحق خطرات کے پیشِ نظر کیا ہے۔ قطر نے داعش اور القاعدہ جیسے دہشت گرد اور فرقہ وارانہ گروپوں کی حمایت کی اور اپنے میڈیا کے ذریعے دہشت گرد گروپوں کے پیغامات اور اسکیموں کی تشہیر کی۔

قطر اور دوسرے ممالک کی خرابی چند دنوں کی بات نہیں بلکہ یہ حالات سالوں سے خرابی کی طرف بڑھ رہے تھے۔ ہفنگٹن پوسٹ نے اس بارے میں بہت سے مضامین بھی شائع کیے۔ انہی کی ایک رپورٹ کے مطابق یوسف العتیبہ متحدہ عرب امارات کے سفیر جو کہ 9 سال سے واشنگٹن میں تعینات ہیں، نے قطر کے خلاف گھیرا تنگ کرنے میں اہم کردار ادا کیا تاکہ قطر کو ایک کرپٹ اور ناقابلِ اعتبار ملک کے طور پر پیش کیا جاسکے۔ ان کی یہ بھی کوشش رہی کہ امریکہ قطر سے اپنا فوجی اڈا بھی ہٹا لے۔ ان کے مطابق امارتی سفیر قطر کو تنہا کرنے کے لیے کئی سال سے کچھ امریکی حکام اور تھنک ٹینکس کے ساتھ ملکر لابنگ کر رہے تھے۔ وہ واشنگٹن میں ایسا ماحول بنانے کی کوشش کررہے تھے کہ جس سے قطر میں 2022ء کا فیفا عالمی فٹ بال کپ بھی کھٹائی میں پڑ جائے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق قطر اور عرب امارات کے تعلقات 2011 سے خراب ہونا شروع ہوئے جب مصر میں حسنی مبارک کے فوجی اقتدار کا زوال ہوا تو قطر نے وہاں اخوان المسلمین کی حمایت کی۔ جبکہ متحدہ عرب امارات اخوان المسلمین اور اس کے اتحادیوں کے سخت خلاف رہا ہے اور انہیں دہشت گرد تصور کرتا رہا ہے۔ عرب امارات کو قطر سے یہ بھی شکایت رہی ہے کہ وہ خطہ میں عرب مفادات کے فروغ کی بجائے اپنی آزاد پالیسی پر گامزن رہا ہے۔ پھر وہ شام اور عراق میں جاری لڑائی ہو یا پھر ایران کے ساتھ دہائیوں سے جاری تنازع۔ قطر کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ہمیشہ ایسے ممالک سے تعلقات استوار کیے جن سے دیگر عرب ممالک کو تحفظات تھے۔

سفارتی بائیکاٹ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورۂ سعودی عرب کے بعد کیا گیا جبکہ امریکہ خود دونوں طرف کھیل رہا ہے۔ قطر اور سعودی عرب دونوں کے ساتھ اس کے تعلقات بہت اچھے ہیں۔ امریکہ قطر میں العبید ائیر بیس استعمال کررہا ہے۔ اس بیس پر امریکہ کے دس ہزار فوجی تعینات ہیں۔ جبکہ دوسری طرف ٹرمپ دورے پرسعودی عرب نے امریکہ کے ساتھ اسلحہ کی خریداری کے لیے 110 ارب ڈالر کے معاہدے سمیت 350 ارب ڈالر کے دوسرے معاہدے بھی کیے ہیں۔

گو کہ قطر امیر ترین ملک ہے لیکن جغرافیائی مجبوریوں کی وجہ سے اس بائیکاٹ کا اس پر گہرا اثر پڑا۔ بائیکاٹ کے ساتھ ہی ہی قطر سٹاک مارکیٹ 7.2فیصد تک گر گئی ۔ کیونکہ قطر کی غذائی ضروریات کا 40 فیصد سعودی عرب مہیا کرتا تھا اس لیے تعلقات کی خرابی کی وجہ سے قطر کے شہریوں نے خوراک ذخیرہ کرنا شروع کردی اور اب بھی ہنگامی صورتحال چل رہی ہے

بے شک قطر کے پاس تیل اور گیس کے وسیع ذخائر موجود ہیں لیکن اس بائیکاٹ سے قطر کو بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا جبکہ عرب اتحاد بھی متاثر ہوگا جس کے سنگین اثرات سامنے آئیں گے۔ اس کے علاوہ سب سے اہم بات کہ عرب اتحاد کا خاتمہ اسلام دشمنوں کے لیے بہت حوصلہ مند ہوگا۔ جو کہ اسلام اور مسلمان دونوں کے لیے نقصان دہ ہے اور یہ حالات مسلم امہ کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔