دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی - پروفیسر جمیل چوہدری

سائنس اور ٹیکنالوجی میں بہت تیزی سے تبدیلیاں ہورہی ہیں۔ اگراب سے 100سال پہلے کی دنیا سے آج کا مقابلہ کریں تو ہر شعبہ زندگی نیا محسوس ہوگا۔ ایسے ہی آج سے 100سال بعد دنیا میں ناقابل یقین اور محیرالعقول اشیاء اور طریقے تخلیق پاچکے ہوں گے۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ ایک دہائی کے اندر ہی ٹیکنالوجی کہیں سے کہیں پہنچ جاتی ہے۔ کائنات کے خفیہ راز تیزی سے معلوم ہوتے جارہے ہیں۔

سٹیفن ہاکنگ بھی اپنے مطالعہ اور مشاہدہ کی بنیاد پر کائنات کے بارے بہت سی نئی باتیں بتاتے رہتے ہیں۔ The Grand Designجو ان کی شائع ہونے والی تازہ ترین کتاب ہے، بھی نئے نئے انکشافات پر مشتمل ہے۔ سٹیفن ہاکنگ اب یہ بھی اشارہ کررہا ہے کہ کرۂ ارض اب انسان کے رہنے کے لیے مناسب نہیں رہا۔ لہٰذا انسان کو کوئی نیا مستقر تلاش کرنا چاہیے۔ امریکہ کے نظریاتی طبیعات کے ماہر ڈاکٹر میچیو کاکو بھی مستقبل میں ہونے والی ٹیکنالوجی کی ترقی کے بارے پیشین گوئیاں کرتے رہتے ہیں اور ان کی اب تک بہت سی باتیں درست بھی ثابت ہوئی ہیں۔ ان کی کتابیں امریکہ کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی شمار ہوتی ہیں۔ کتابوں کے علاوہ ان کے بے شمار انٹرویوز، فلمیں اور ریڈیو پروگرامز ہیں۔ نیٹ پر ان کے Blogsبھی شائع ہوتے رہتے ہیں۔ BBC، Discoveryاور History چینل پر ان کی مستقبل کے بارے پیشین گوئیوں کے آجکل بڑے چرچے ہیں۔

انٹرنیٹ اور اس کی Devicesمیں تیزی سے تبدیلیاں اب ہمارے سامنے ہی آرہی ہیں۔ جو کچھ مارکیٹ میں آچکا ہے وہ تو قصہ ماضی ہے۔ عینک میں انٹرنیٹ کی باتیں ہم پڑھتے رہتے ہیں۔ ایسی عینکیں اب آنا شروع بھی ہوچکی ہیں جو کچھ نیا آنے والا ہے وہContact Lenseہیں جو آپ کے Eyeballمیں لگے ہوں گے اور انٹرنیٹ اسی کے اندر ہوگا۔ اور آپ آنکھ جھپکتے ہیOnlineہوجائیں گے۔ جو شخص آپ کو ملنے آئے گا آپ اس کی شخصیت کے بارے فوری طور پر جان لیں گے۔ ملاقاتی اگر آپ کی زبان کے علاوہ کوئی اور زبان بول رہا ہوگا تو یاتو اس زبان کا ترجمہ فوری طورپر ہو رہاہوگا۔ یا آپ خود بھی اسی کی زبان میں آسانی سے گفتگو کررہے ہوں گے۔ جو کچھ مستقبل میں ہوگا وہ آج ہمیں ناممکن ہی محسوس ہوگا۔ لیکن ڈاکٹر میچیو کاکو کے مطابق مستقبل میں بہت کچھ ہونے جارہا ہے۔ ڈاکٹر صاحب آئندہ30سال کے لیے بہت کچھ اپنے انٹرویوز میں بتاتے رہتے ہیں۔ انٹرنیٹ والے کنٹیک لینزز سب سے پہلے طلباء خریدیں گے کیونکہ ان میں انہیں سوالوں کے جوابات بہت جلد مل سکیں گے۔ امریکی سپاہیوں کے پاس ایسے Lenses ہیں جنہیں اگر وہ اپنے ہیلمٹ پر لگائیں تو سامنے سارا میدان جنگ بہت دور تک واضح نظر آتا ہے۔ یہ دوربین سے مختلف چیز ہوگی۔

ڈاکٹر کاکو کے مطابقNanotechnologyکی ترقی سے اور بھی بہت کچھ ممکن ہورہا ہے۔ کئی اشیاء میں ایسے کمپیوٹر ہوں گے جو استعمال کے بعد فضا میں ہی غائب ہوجائیں گے۔ آنکھوں پر لگی ہوئی عینک کے کمپیوٹر سے آپ اپنا 2گھنٹے کام کریں اور پھر کمپیوٹر کو فضاؤں ہی میں غائب کردیں۔ پھر وقت ضرورت وہ دوبارہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوجائے گا۔ ڈاکٹر صاحب یہ بھی بتاتے ہیں کہ مستقبل میں دماغ کو مصنوعی ذہانت مل سکے گی۔ کمپیوٹر چپ دماغ کے قریب ہی چسپاں کردی جائے گیاور انسان کو بہت آسانی سے بے شمار معلومات ملتی چلی جائیں گی۔ ایسے Processesپر کام ہورہا ہے کہ آپ ماضی کی کسی شخصیت سے بات کرسکیں گے۔ کمپیوٹر چپ اگر مریض کے دماغ میں لگادی جائے گی تو بہت سی بیماریوں کے بارے معلومات حاصل ہوسکیں گی۔ مریض کے بیمار سالمے تبدیل کردیئے جائیں گے۔ اور مریض مکمل طورپر صحت مند ہوجائے گا۔ سالمے تبدیل کرنے سے بیماری دوبارہ نہیں آسکے گی۔ Googleوالوں نے ایک کمپنی علیحدہ بنا دی ہے۔ اس میں انسانی جسم کے مختلف حصوں اور سسٹم کے ماہرین کو بھاری مشاہروں پر رکھا گیا ہے۔ کوشش یہ کی جارہی ہے کہ انسان ایک لمبے عرصے تک جوان رہے، طویل عمر پائے اور صحت مند بھی رہے۔ اس کام کے لیے Informative Technologyسے کام لیا جائے گا۔ آخر انسان200سال تک خوشحال زندگی کیوں نہ گزارے ؟ گوگل کے تحت بننے والیCalicoکمپنی کے ذمہ یہی درازی عمر کاکام ہے۔ اگر ماضی کا انسان صدیوں زندہ رہتا تھا تو یہ اب بھی ممکن ہوسکے گا۔ بڑھاپے کی ایک وجہ Oxidationکا عمل ہے۔ اس میں متحرک آکسیجن ہمارے DNAاور لحمیات پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اس ٹوٹ پھوٹ پر قابو پایاجاسکتا ہے۔ دوسرا عنصر جو انسان کی زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے وہ غذا کی نوعیت اور مقدار ہے۔ یہ تجربے بڑے پیمانے پر ہورہے ہیں کہ کم غذا طویل العمری کا سبب بنتی ہے۔ ماہرین نے یہی نتیجہ نکالا ہے کہ سرخ گوشت کی بجائے سبزیاں اور پھل کھانے سے انسان کی عمر میں اضافہ کیاجاسکتا ہے۔ کم غذا دیکر چوہوں کی عمر میں اضافے کے کامیاب تجربات ہوچکے ہیں۔ ایسی چپ بن رہی ہے کہ انسان اسے پانی سے نگلے گا اور اس کے تمام اندرونی مسائل کا پتہ چل جائے گا۔ انسانی یادداشت کو چپ پر محفوظ کرکے اسے بوقت ضرورت چند سیکنڈ کے لئے Recallکیاجاسکے گا۔

مستقبل میں جلد، خون، دل کی شریانیں، جگر اور لبلبہ مصنوعی طریقے سے بہت ہی سستے بنائے جارہے ہوں گے۔ اور یہ پرزے قدرتی پرزوں سے بھی زیادہ اچھی کارکردگی دکھائیں گے۔ مریضوں میں جب کمپیوٹر چپ لگادی جائے گی تو وہ ای میل پڑھ سکیں گے اور ویڈیو گیمز کھیل سکیں گے۔ ڈاکٹر کاکو کہتے ہیں کہ مستقبل میں انسان بہت ہی حساس روبوٹس استعمال کریں گے۔ انہیں آپ کسی بھی جگہ بھیج سکیں گے اور ان کا آپ سے تعلق قائم رہے گا۔ چاند پر بھی ہر انسان روبوٹس روانہ کرسکے گا۔ کمپیوٹر کی رفتار ہر اٹھارہ ماہ بعد دگنی ہورہی ہے۔ مستقبل میں یہ ناقابل یقین حدتک بڑھ چکی ہوگی۔ آپ کے برتھ ڈے کارڈ میں چپ لگی ہوگی جوHappy Birth Dayکا گیت گائے گی۔

سرخ سیارے کے بارے یہ اطلاع کچھ عرصہ پہلے موصول ہوئی ہے کہ وہاں مائع پانی موجود ہے۔ اب انسان وہاں جانے کی تیاری کررہا ہے۔ پہلے بندر کو بھیج کرنتائج حاصل کیے جائیں گے۔ اس کے بعد انسانوں کی پروازیں شروع ہوجائیں گی۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق مریخ پر انسان آسانی سے آباد ہوسکے گا۔ کرۂ ارض کی 7۔ ارب25کروڑ آبادی کو دیکھتے ہوئے یہ کام اب ویسے بھی ضروری ہوگیاتھا۔ آئندہ 30تا40سال میں انسان بالکل مختلف حالات میں رہ رہاہوگا۔ ڈاکٹر میچیو کاکو یہ بھی پیشن گوئی کررہے ہیں کہ انسان کو مستقبل میں بجلی کی ضرورت نہ رہے گی۔ اس کے بہت سے متبادلات آچکے ہوں گے۔ جیسے اب سے 100سال پہلے انسان مختلف حالات میں رہتا تھا۔ آئندہ 100سال میں انسان بے شمار سہولتوں کے ساتھ زندگی گزار رہاہوگا۔ لیکن نظر یہ آتا ہے کہ یہ تمام نئی ٹیکنالوجیز اور طریقے مغرب سے آئیں گے۔ مسلمانوں کا حصہ ان تمام نئے انکشافات اور ٹیکنالوجی میں نہ ہونے کے برابر ہوگا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com