معاشرتی اصولوں پر بھی کوئی سمجھوتہ ہونا چاہیے - شاہد یوسف خان

اگر آپ شہر کے کسی فلیٹ میں چند دوستوں کے ساتھ رہتے ہیں اور آپ کے کچھ دیگر شہری دوست بھی ہیں تو ایک گزارش ہے کہ انہیں دن میں کوئی وقت دیجیے ورنہ رات ایک بجے آ جائیں اور باقی ہم کمرہ سو بھی رہے ہوں تو ان کے ہلے گلے، نعروں اور شور شرابے کے لیے یہی کافی ہے کہ آپ جاگ رہے ہیں۔ چاہے رات کے تین بج جائیں لیکن دن بھر کی کار گزاری وہ ضرور پیش کریں گے چاہے کوئی سننے پر راضی ہو یا نہ ہو۔

یہ صرف میرے نہیں بلکہ اکثر لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ کئی مرتبہ برداشت کیا لیکن دو روز پہلے ایسا ہوا تو اٹھ بیٹھا اور ان فنکاروں کو مشورہ دیا کہ بھائی! آپ کے گھر والے اگر یہ باتیں رات کے اس پہر سننا گوارا نہیں کرتے تو ہمارا سکون کیوں برباد کر رہے ہو؟ وہ چل دیے لیکن اگلے دن پھر وہی صورت حال! دوبارہ گزارش کی کہ آپ لوگوں کی گریجویشن کی ڈگریاں کسی کام کی نہيں جب تک آپ کے اندر اخلاقیات کے جراثیم پیدا نہ ہوں۔ ہم دیہات سے آنے والے اکثر اس لیے بھی خاموش رہتے ہیں کہ کہیں پڑھے لکھے معاشرے میں ماڈرن لوگ ہمیں حقارت الفاظ "پینڈو" یا "جانگلی" سے نہ نوازیں۔ خیر، اخلاقیات کا جنازہ تو اب شہروں اور دیہاتوں میں برابر نکل چکا ہے، انیس، بیس سے زیادہ کاف رق نہیں۔ اسکول ہوں یا مساجد، دوستوں کی صحبت یا سیاسی سے مذہبی جماعتوں تک کے افراد، ان پڑھ یا اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد، اکثریت اخلاق سے عاری ہوتی جا رہی ہیں۔ والدین، اولاد، بہنوں، بیٹیوں اور ہمسایوں کے حقوق سے نابلد، انسانی قدروں کی اہمیت صفر بلکہ منفی۔ اب عزت قدر منزلت کا معیار یا تو پھر اپنی سیاسی پارٹی کا حامی ہونا رہ گیا ہے یا پھر ہم مسلک بندہ!

یہ بھی پڑھیں:   کیا ہم کبھی قوم بن بھی پائیں گے ؟ - شبیر بونیری

مساجد میں خطبوں کے دوران بزرگوں کے قصے کہانیاں سنائے جاتے ہیں لیکن ان کی تعلیمات نہیں دی جاتیں۔ توحید بیان کی جاتی ہے لیکن اللہ کے ان احکامات کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے جو معاشرتی رویوں میں تبدیلی لا سکیں۔ مساجد میں بیٹیوں کے حقوق اور ان کی وراثت پر بات سننے کا موقع ملتا ہے اور نہ ہی ہمسایوں اور غریبوں گے حقوق پر بات ہوتی ہے۔ شہروں میں بھی مساجد میں اپنے، اپنے عقائد کو پختہ کرنے کے درس ملتے ہیں حالانکہ اسلام میں اخلاقیات کی اہمیت بنیادی ہے اور ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہو سکتا جب تک حقوق العباد ادا نہ کیے جائیں۔ یہی حال سکولوں کا بھی ہے جہاں آکسفورڈ زدہ انگریزی اور سائنس کی تعلیم دی جا رہی ہے لیکن افسوس کہ اخلاقیات کا درس بہت کم ملتا ہے۔ یونیورسٹیوں میں پڑھنے والوں کے منہ سے اکثر گندی گالیاں سننے کو ملتی ہیں اور بڑے خوشی خوشی گالی دے اور سن کر یارانے نبھا رہے ہوتے ہیں۔ مدارس والوں کو زبانی کم سننے کا موقع ملا ہے لیکن فیس بک اور سوشل میڈیا پر مخالفین کے خلاف ان کی گالیاں دیکھ کر اندازہ ہوا ہے کہ ان کا "ذخیرہ الفاظ" خاصہ جامع ہے۔

ڈسکہ میں مبینہ چور خواتین کے ساتھ بدسلوکی ہماری معاشرتی گراوٹ کا ایک اور کھلا ثبوت ہے۔ بظاہر دیندار نظر آنے والے سیٹھ صاحبان نے عورتوں کو چوری کے مبینہ جرم کے بعد جس طرح پیٹا اس سے تو یہی لگتا ہے کہ ان کی نظر میں چادر کی کوئی عزت نہیں۔ افسوس کہ ہمارا اسلام اب محض انفرادی عبادات اور مسلک کی بنیادوں کو مضبوط کرنے تک رہ گیا ہے، اخلاقی اصول اور انسانی حقوق پرانے زمانے کی باتیں ہوگئی ہیں۔