دوسرے شہروں کی دلہنیں - آفاق احمد

ہریانہ اور راجھستان (انڈیا) میں مغربی بنگال، بِہار اور کیرالہ سے دلہنیں لانے کا رواج پنپ رہا ہے، پچاس ہزار سے لے کر ایک لاکھ روپے تک یہ دلہنیں بآسانی مل جاتی ہیں۔
وجہ کیا ہے؟؟؟
جی، وہی پرانی وجہ، پہلے بچیاں زندہ درگور کی جاتی تھیں، اب جدید دور ہے، الٹراساؤنڈ سے جنس کی تشخیص کی جاتی ہے اور بچی ہونے کی صورت میں بچی جدید طریقے سے درگور کر دی جاتی ہے، ابارشن کی شکل میں یا دوسرے طریقے، اس طرز میں ڈاکٹرز اور دیگر طبی عملہ بھی شامل ہے، یعنی جاہلیت کا مسئلہ نہیں بلکہ معاشرے کا سب سے پڑھا لکھا طبقہ بھی اس ناجائز فعل میں برابرکا شریک ہے، صرف غریب ہی یہ کام نہیں کر رہے بلکہ امیر بھی اس کام میں مصروف ہیں۔

آپ یقیناً حیران ہوں گے کہ روز دوہزار بچیاں اس کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں، 2011 ء کی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ پچھلی تین دہائیوں میں 12 ملین بچیاں اس طرز پر درگور کی جاچکی ہیں، یعنی ایک کروڑ سے بھی زیادہ۔

اس کے نتیجے میں کچھ علاقوں میں لڑکوں کی تعداد لڑکیوں سے زیادہ ہوچکی ہے، ہریانہ میں یہ فرق 1000 لڑکے اور 871 لڑکیوں پر آچکا ہے جبکہ پورے ہندوستان کا ایوریج فرق 1000 لڑکے اور 940 لڑکیاں ہیں، یہ بھی چھ سال پرانی مردم شماری کے اعداد و شمار ہیں۔

نتیجہ یہ ہے کہ لڑکوں کے لیے دلہنیں میسر نہیں، لڑکیوں کے خلاف جرائم کا تناسب بھی بڑھا ہے، کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں چالیس سال سے بڑے کنوارے "لڑکے" موجود ہیں اور انہوں نے کنوارا یونینز بھی بنا رکھی ہیں اور "دلہن دو، ووٹ لو" کا موٹو بھی اختیار کرتے ہیں۔

لڑکیوں کی اس کمی کا حل یہ ڈھونڈا گیا کہ اب دوسرے علاقوں سے دلہنیں امپورٹ کی جارہی ہیں، پچاس ہزار سے ایک لاکھ روپے تک یہ دلہنیں میسر ہیں، شادی کے بعد انھیں غلام کی صورت ہی دی جاتی ہے، نہ کوئی وراثتی حقوق، عمریں بھی بیس سال سے کم ہوتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   لڑکیاں بھی انسان ہوتی ہیں - عمارہ خان

اور پھر کیا ہوتا ہے؟
جن وجوہات کی بنا پر یہ لانے کا باعث بنیں یعنی بچیوں کا قبل از پیدائش جدید قتل، وہ ہی ان کی بچیوں کے ساتھ بھی کیا جاتا ہے اور الٹراساونڈ میں جنس کی تشخیص کے ساتھ ہی معاملہ ختم کردیا جاتا ہے۔
...............................................
یہ ہے قدرت کے قوانین سے چھیڑ خوانی کا نتیجہ کہ سارا معاشرتی نظام اور توازن ہی ہچکولے کھانا شروع ہوجاتا ہے۔
لیکن ٹھہریے! ہم بھی اتنے معصوم نہیں، یہ کام ہم بھی کررہے ہیں۔
کس طرح؟؟؟
اس طرح کہ ہمارے معاشرے میں یہ تناسب الٹ ہوچکا یعنی لڑکیوں کی تعداد لڑکوں سے بڑھ چکی، 1998ء کی مردم شماری میں یہ تناسب 48/52 کا تھا یعنی باون فیصد خواتین، اگر یہ تناسب چالیس سال سے کم عمر خواتین کا لگایا جاتا تو یقیناً یہ تناسب ساٹھ فیصد نکلتا، اب حالیہ مردم شماری اس تناسب کا تازہ عدد بتا سکے گی۔

اب جو زائد لڑکیاں ہوچکیں ، ان کا جوڑ کہاں سے ملایا جائے؟؟؟
لڑکیوں کا زیادہ تناسب ہونے کا حل تو اسلام بتا چکا لیکن اس میں ہماری ہٹ دھرمی آڑے آجاتی ہے، کچھ مالی مشکلات بھی۔

کچھ ساتھیوں نے نکاحِ ثانی کی ہمت کی تو پہلی بیویوں نے ایسی مشکلات پیدا کیں کہ حیران کن، کچھ لیکن کم جگہوں میں دوسری بیوی نے بھی ناک میں دم کیے رکھا جبکہ کچھ معاملات میں شوہر کی ناانصافیاں بھی خرابی کی وجہ ٹھہریں۔

بہرحال اس کا حل تو ہے اور پوری دنیا میں نومولود بچوں میں موت کا تناسب لڑکوں میں زیادہ ہے یعنی لڑکیاں نومولود زیادہ بچ جاتی ہیں تو قدرتی طور پر لڑکیوں کا تناسب زیادہ ہوتا ہے، دوسری طر ف عورتوں کے بیوہ ہونے کا تناسب بھی ہمیشہ زیادہ رہا ہے۔

ایک طوفان کا ہندوستان کا سامنا ہے لیکن ان میں کہیں نہ کہیں اس کے خلاف آوازیں اُٹھتی دکھائی دیتی ہیں اور ایک خاموش طوفان کا پاکستان کو سامنا ہے، ہر دوسرے گھر میں تیس سال سے اوپرغیر شادی شدہ لڑکی اس کا ثبوت ہے لیکن ہم شترمرغ کی طرح ریت میں سر دبائے بیٹھے ہیں۔