اٹھو کہ تازہ بہاروں کا اہتمام کریں - یاسر اسعد

ایک آئینہ ہوتی ہے جس میں قومیں اپنا ماضی دیکھ کر مستقبل کے اندازے لگاتی ہیں، اس کے لیے سامان سفر تیار کرتی ہیں اور انہی خطوط پر آنے والے "کل" کی بنیاد رکھتی ہیں۔ تاریخ کی تعلیم وتدریس بھی اسی لیے ہوتی ہے کہ نسل نو اپنے ایام رفتہ کو سامنے رکھ کر آنے والے مراحل کے لیے اپنے آپ کو تیار کرے۔تاریخ صفحۂ احتساب ہے، صرف فخر ومباہات کی آماجگاہ نہیں اور نہ ہی فقط باعث حسرت ویاس، بلکہ یہ حوصلہ دیتی ہے۔ کسی بھی قوم کی تاریخ اچھی بھی ہوسکتی ہے اور بری بھی، تاریخ اگر اچھی ہو تو پڑھنے والوں کے لیے حوصلہ افزا ہوتی ہے، اور اچھی نہ ہو تو بھی مستقبل کو اچھا بنانے کا اشارہ دیتی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ الگ الگ نظریات رکھنے والوں کے حساب سے تاریخ بہتر یا بدتر ہوتی ہو۔

یہ المیہ ہے کہ ہماری تاریخ بھی عجیب منافرت کا شکار رہی ہے، اور یہ منافرت از خود نہیں پیدا ہوئی بلکہ پیدا کی گئی ہے، یہ اسی "ڈیوائڈ اینڈ رول" پالیسی کی دین ہے جو برصغیر میں حکمرانی کے لیے انگریزوں نے اختیار کی۔ انگریز تو چلے گئے، مگر جس فرقہ واریت کے بیج انہوں نے یہاں بوئے تھے، افسوس کہ گزرتے ایام کے ساتھ وہ سوکھنے کی بجائے تناور درخت کی شکل اختیار کر گئے۔بات صرف ہندو-مسلم کشیدگی کی نہیں، بلکہ دو مسلم بھائیوں کے درمیان نفرت کی ہے، اور اسی پر کچھ عرض کرنا مقصود ہے۔

15 اگست آنے کو ہے، اہل پاکستان کے لیے وہ 14 اگست ہے اور ہمارے لیے 15 ، یوم آزادی، ظالم فرنگیوں کے پنجۂ استبداد سے آزادی کا دن۔ ہمارے لیے یہ دن غم آمیز مسرت لاتا ہے، خوشی اور غمی کی ملی جلی کیفیت سے ہمکنار کراتا ہے۔ ہمیں آزادی تو نصیب ہوئی مگر خاک وخون میں لتھڑی ہوئی، دس لاکھ معصوموں کی جان کی بنیاد پر آزادی کی عمارت کھڑی ہوئی۔ لال قلعہ پر یوم آزادی کی صبح ہندو-مسلم اتحاد کے عظیم داعی امام الہند دیگر قائدین کے ساتھ حسرت وافسوس کی تصویر بنے کھڑے تھے، چہرے سے مایوسی عیاں تھی گویا زبان حال سے کہہ رہے ہوں

یہ داغ داغ اجالا، یہ شب گزیدہ سحر

وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں

یہ ہمارے جذبات تھے، ممکن ہے آپ اس سے اتفاق نہ کریں، کیونکہ آپ کا نظریہ ایک علیحدہ مسلم حکومت کا تھا جس کا قیام آپ "لا الہ الا اللہ" کی بنیاد پر کرنا چاہ رہے تھے۔ آپ کا وہ خواب شرمندۂ تعبیر ہوگیا، ہمارا ہندو- مسلم اتحاد کا خواب حقیقت میں نہ بدل سکا، یوں پاکستان وجود میں آگیا۔ آزادی کے اس موقع پر جو رنج ونقصان سہنا پڑا وہ کسی ایک فریق کے حصے میں نہیں آیا۔ دونوں ملکوں کے مسلمان اس اذیت کا شکار ہوئے۔ جنہیں پاکستان جانا تھا وہ چلے گئے، جنہیں وطن عزیز تھا انہوں نے یہیں قیام کو ترجیح دی۔ یہی ہماری تاریخ ہے۔ عظیم الشان آٹھ سو سالہ ہماری حکمرانی کے بعد دونوں جگہوں پر مسلمانوں کی جو حالت ہوئی ہے وہ کسی سے مخفی نہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ پاکستان "اسلامی" بنا اور نہ ہی ہندوستان کے مسلمان اپنے ملک میں چین سے رہے۔ یہ ہمارا نقطۂ اتفاق ہے۔ ہمارا اختلاف فقط اس امر میں ہے کہ کیا واقعی تقسیم ملک صحیح تھی، یا پھر اس میں مسلمانوں کا نقصان ہی ہوا؟ یہ اختلاف شاید ہمیشہ باقی رہے۔

دراصل عرض یہ کرنا تھا کہ ہماری یوم آزادی کو فی الوقت ہمارا یوم احتساب ہونا چاہیے۔ تقسیم درست تھی یا نہیں، گاندھی، آزاد، نہرو اور جناح میں کون مسلمانوں کا سچا ہمدرد تھا اور کون نہیں؟ ان سب پر بہت بحثیں ہوچکیں۔ سوشل میڈیا پر اہل ہندوپاک کے درمیان لا تعداد مناظرے ہوچکے، کیا اب وقت نہیں ہوا چاہتا کہ اس سلسلے کو موقوف کردیا جائے، تاریخ کے اس ورق کو بند کردیا جائے، ایک دوسرے کو ہلاکت وبربادی کا ذمہ دار ٹھہرا کر مطعون کرنے کا سلسلہ روک دیا جائے۔

آئیں، اپنی صلاحیتیں اس سمت میں لگائیں کہ ان ستر سالوں میں ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا؟ جس وطن کی تعمیر وترقی اور اس کو پنجۂ استبداد سے نکالنے کے لیے ہمارے بزرگوں نے انتھک کوششیں کیں، کیا اب اس کی تعمیر وترقی ہمارا فریضہ نہیں بنتی؟ ابو الکلام آزاد اور محمد علی جناح کو مورد الزام ٹھہرا کر اب ہمیں کیا حاصل؟ اہل ہند کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اگر ابو الکلام آزاد نے تقسیم کی مخالفت کی تھی، تو اس کے بننے کے بعد حقیقت سے منہ نہیں چرایا بلکہ اسے کھلے دل سے تسلیم کیا اور بحسن وخوبی اسے پروان چڑھانے کی تلقین کی۔ اہل پاکستان بھی اس حقیقت کو نظر انداز نہ کریں کہ ہندوستان میں بسنے والے مسلمان بھی ان کے بھائی ہیں، مظلومیت کی دوہری مار جھیل رہے ان اخوان کی تکلیف دو چند ہوجاتی ہے جب وہ یہ سنتے ہیں کہ ان کے پڑوسی ہی انہیں مسلمان تک ماننے کو تیار نہیں۔

آئیے تاریخ کی ورق گردانی برائے احتساب کریں، نہ کہ برائے فخر ومباہات یا برائے طعن وتشنیع، 14 اگست /15 اگست سے آگے کا ورق الٹیں۔ جائزہ لیں کہ 70 ل یعنی 840 مہینوں یعنی 25 ہزار 200 دنوں کی اس طویل مدت میں کیا واقعی ہم آزادہوئے؟ اگر ہوئے تو کس سے آزاد ہوئے، اور کس سے آزادی ابھی باقی ہے۔

تم آؤ گلشن لاہور سے چمن بردوش

ہم آئیں صبح بنارس کی روشنی لے کر

ہمالہ کی ہواؤں کی تازگی لے کر

پھر اس کے بعد یہ پوچھیں کہ کون دشمن ہے

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */