اللہ کے ذمے - محمد فیصل شہزاد

’’ارے کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ آبادی کہاں جائے گی… گلی کوچوں میں چلنے کو جگہ نہیں رہ گئی… بچے پیروں میں آتے ہیں… دوسری طرف وسائل ہیں کہ گھٹتے ہی چلے جا رہے ہیں… پانی، بجلی، گیس، پیٹرول ہر چیز ختم ہوئی جا رہی ہے… آخر یہ زمینیں کب تک… کتنا اناج اگلیں گی… پانی، گیس کے وسائل کب تک ساتھ دیں گے… آبادی کا یہی حال رہا تو بس وہ وقت دور نہیں جب انسان، انسانوں کو نوچ کھائیں گے…‘‘

ایسی باتیں اور بحثیں ہم سنتے رہتے ہیں جو نئی نہیں ہیں، برسوں سے ہوتی چلی آ رہی ہیں۔ اخبارات کی فائلیں اٹھا کر دیکھ لیں… تیس پینتیس برس پہلے کے اخبارات میں ایسی رپورٹیں اور’ ماہرانہ‘ تجزیے آپ کو ضرور مل جائیں گے جن میں پیش گوئیاں کی گئی تھیں کہ اگر بڑھتی ہوئی آبادی پر بند نہ باندھا گیا تو آیندہ برسوں میں دنیا کو بدترین قحط سالی کا سامنا ہوگا… پانی پر پوری دنیا میں لڑائیاں ہوں گی… زمین کی کوکھ بانجھ ہو جائے گی، لوگ اناج کے دانے دانے کو ترس جائیں گے… پھل سبزیاں عنقا ہو جائیں گی… مویشی رہیں گے نہ دودھ گوشت میسر ہوگا… تیل کے سوتے خشک، نتیجتاً صنعتی پہیہ بلکہ پورا نظامِ حیات ہی منجمد ہو کر رہ جائے گا وغیرہ وغیرہ۔
مگر آج ان احمقانہ پیش گوئیوں کے برعکس حقیقی صورت حال کیا ہے؟

بے شک دنیا کی آبادی میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے… اور تمام تر انسانی کوششوں اور ’’منصوبہ بندی‘‘ کے باوجود اس اضافے کو روکا نہیں جا سکا (اور روکا جا بھی نہیں سکتا کہ یہ امرربی ہے) مگر بحمداللہ نہ تو دنیا کو کسی قحط سالی کا سامنا ہے… نہ پانی پر جنگیں ہو رہی ہیں (اگر کہیں پانی یا دریاؤں پر جنگ کا اندیشہ ہے تو وہ پانی کی کمی پر نہیں بلکہ ایک فریق کی بد دیانتی اور ظلم کی وجہ سے ہے)… مویشی پہلے سے کہیں زیادہ تعداد میں موجود ہیں… دودھ اور گوشت کی کوئی کمی نہیں… تیل و گیس کے کنویں سینکڑوں گنا استعمال بڑھ جانے کے باوجود خشک نہیں ہوئے… صنعتیں بھی فعال ہیں اور ان سے وابستہ تمام ضرورتیں بخوبی پوری ہو رہی ہیں… زمین اسی طرح غلّہ اگلے جا رہی ہے… اناج سے ذخائر اور بازار بھرے پڑے ہیں اور مہنگائی کی دہائی اپنی جگہ، مگر کسی بھی قسم کی خریداری میں، کسی بھی موقعے پر کوئی کمی نظر نہیں آتی… یعنی دنیا بھر میں وقت کے ساتھ لوگوں کی قوتِ خرید بڑھی اور معیارِ زندگی بہتر بلکہ بدرجہا بہتر ہوا ہے… بلکہ نت نئی ایجادات و اختراعات کی وجہ سے چالیس پچاس برس پہلے جو چیزیں بادشاہوں تک کے خواب وخیال میں نہ تھیں، آج وہ عام لوگوں… بلکہ بالکل ہی غریب عوام کی دسترس میں بھی ہیں۔

بھئی! بات دراصل یہ ہے کہ ’بڑھتی آبادی، گھٹتے وسائل‘ جیسی فکروں میں دبلے ہونے والے دنیا بھر کے بقراط ایک بہت بڑی حقیقت کو بھول بیٹھے ہیں کہ انسانوں کو بہت سے معاملات میں بااختیار بنا دینے والے اللہ میاں نے کئی معاملات خالصتاً اپنے ہاتھ میں ہی رکھے ہیں جن میں ایک اپنی مخلوق کو رزق کی فراہمی بھی ہے… یعنی آبادی اور اسے رزق (وسائل) فراہم کرنے کی پلاننگ یا منصوبہ کسی انسان، قوم یا ملک کے ہاتھ میں نہیں بلکہ سب سے بڑے پلانر اور منصوبہ ساز کے کرنے کا کام ہے جو اس کائنات کا خالق، مالک اور رزاق ہے… ہر چھوٹی سی چھوٹی مخلوق کے رزق کی ذمہ داری اسی کی ہے اور وہ ان کے پیدا ہونے سے پہلے ان کے لیے رزق کا بندوبست کر دیتا ہے… ہم بڑوں سے سنتے ہی رہتے ہیں کہ انسان کا رزق خود اس کے پہنچنے سے پہلے‘ دنیا میں پہنچا دیا جاتا ہے۔

تو بھائیو، دوستو، بزرگو اور بچو! بس ہم سب کا ایمان تو یہ ہونا چاہیے کہ اس دنیا کے آخری انسان کی پیدائش تک، دنیا کے وسائل انسانوں کے لیے کم نہیں ہو سکتے… ہاں البتہ اس حوالے سے جہاں کہیں بھی عدم توازن نظر آتا ہے اور یقینا نظر آتا ہے تو وہ دراصل خود انسانوں کا اپنا پیدا کردہ ہے… انسانیت کے نام نہاد ٹھیکیدار اگر عالم انسانیت سے واقعتاً مخلص ہیں اور اس کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں تو وہ بڑھتی ہوئی آبادی کا رونا رونے اور اس کے لیے سازشیں اور جنگیں برپا کرنے کی بجائے دنیا میں وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنائیں… زمین پر انصاف قائم کریں… یہی ان کا انسانوں پر احسانِ عظیم ہو گا!

Comments

محمد فیصل شہزاد

محمد فیصل شہزاد

محمد فیصل شہزاد کو شوق 10 سال قبل کوچہ صحافت میں لے گیا۔ روزنامہ اسلام اور روزنامہ ایکسپریس میں کالم لکھتے رہے، طبی میگزین جہان صحت، ہفت روزہ خواتین کا اسلام، ہفت روزہ بچوں کا اسلام اور پیام حق کے مدیر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */