پخ - خالد ایم خان

ایبٹ آباد کے نواح میں ایک پہاڑی علاقہ ہے جس میں راقم کا ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔ جہاں ایک مثل مشہور ہے کہ "کھوتی لونے آن گئی ہے" یعنی گدھی نمک کے لیے گئی ہے۔ گاؤں کے ایک کمہار کے پاس چند گدھے اور گدھیاں تھیں۔ وہ کہیں سے "لون" یعنی نمک اُن پر لاد کر لایا کرتا تھا۔ تمام جانور ٹھیک ٹھیک وزن لاتے تھے لیکن ایک گدھی کا وزن ہمیشہ یا تو ہوتا ہی نہیں تھا یا پھر نہ ہونے کے برابر ہوتا۔ مالک پریشان تھا اور ہونا بھی چاہیے تھا کہ صرف اس گدھی پر موجود وزن ہمیشہ کیوں کم ہو جاتا ہے؟ تنگ آکر مالک نے گدھوں کی نگرانی کی۔ معلوم ہوا کہ جس راستے سے گدھے سامان لاد کر آتے ہیں وہاں چھوٹی سے پانی کی نہر آتی ہے۔ تمام گدھے اس نہر میں سے آرام سے گزر جاتے لیکن گدھی بڑے سکون سے نہر کے پانی کے درمیان بیٹھ جاتی تھی جس سے اس کی کمر پر لدا تمام نمک پانی میں گھل جاتا اور سارا وزن ختم ہو جاتا۔ پھر گدھی بڑے مزے سے اپنی منزل کی جانب رواں ہو جاتی۔ مالک بہت حیران ہوا اور غصہ بھی آیا جس میں گدھی کو سبق سکھانے کی ٹھان لی۔ اگلے روز اس نے نمک کی مانند سفید روئی اس گدھی پر لاد دی۔ گدھے اپنی منزل کی جانب رواں ہوئے اور راستے میں نہر بھی آئی۔ گدھی بڑی تیزی سے بھاگ کر نہر میں جا بیٹھی۔ لیکن یہ کیا؟ آج وزن کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ گیا۔ تمام گدھے گزر گئے اور گدھی دہرے وزن کی وجہ سے ہل بھی نہیں پا رہی تھی۔ اب مالک نے زبردستی اسے اٹھایا اور اسی وزن کے ساتھ گاؤں تک لایا۔

کچھ یہی مثال موجودہ حالات پر بھی صادق آ رہی تھی۔ کل تک حکومت عیاشیاں کر رہی تھی تو "لونے آن گئی سی" اور آج جب پانامہ میں الجھے ہیں، یعنی روئی کی گانٹھ کا دگنا وزن سر پر آیا ہے تو سازش یاد آگئی۔

ہم تو بس اتنا ہی کہیں گے کہ کاش آپ لوگ اللہ کے خوف کے سائے میں پاکستان کی عوم کے دکھ اور درد کے بوجھ کو محسوس کرسکیں۔ کاش آپ پاکستان کی عوام کی اُن تکالیف کے اُس بوجھ کو جان پائیں، جو کہیں غربت وافلاس کی شکل میں تو کہیں بے روزگاری اور مہنگائی کے جن کی شکل میں پاکستان کی عوام کا ناطقہ بند کیے ہوئے ہے۔ پینے کے صاف وشفاف میٹھے پانی کی کمی کا عذاب، بڑھتی لوڈ شیڈنگ کا عذاب، بھوک ہی بھوک، گندگی ہی گندگی۔ خاص کر کراچی اور سندھ کے لوگ فضلہ ملا پانی پینے پر مجبور ہیں، کیوں؟ آخر کیوں؟ یہاں ہم صرف حکمرانوں کو ہی قصور وار نہیں ٹھہرائیں گے، اس میں ہماری بھی غلطیاں ہیں کیونکہ ہم نے بلا سوچے سمجھے، اپنا اور اپنی آنے والی نسلوں کے مستقبل کا بوجھ ان کے ناتواں کاندھوں پر لاد دیا، اور یہ بھی نہ سمجھا کہ وہ اس بوجھ کو اُٹھا پانے کی اہلیت بھی رکھتے ہیں یا نہیں۔ یہی ایک غلطی پاکستان کی عوام بار بار دہرا رہی ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ کیسے پاکستان کی عوام ایسے لوگوں کو اپنے گھر کا مالک بنا کر سب کچھ اُن کے ہاتھوں میں تھما دیتی ہے جو کچھ ہی دنوں میں اللہ کے کسی عذاب ہی کی مانند اُسی عوام پر قہر بن کر ٹوٹ پڑتے ہیں؟

یہ بھی پڑھیں:   پُورا منٹو اور تاریخِ پاکستان - امجد اسلام امجد

عوام الناس سے میرا ایک سوال ہے کہ میں کہتا ہوں کہ میں آپ سب کی امانتوں کا محافظ بنوں گا، میں آپ تمام لوگوں کی جان ومال کا محافظ بنوں گا، آپ تمام لوگ اپنا اپنا کاروبار اور اپنا تمام مال میرے حوالے کردیں۔ کیوں کریں گے؟ دیں گے اپنی تمام مال ودولت مجھے؟ تو پھر سوچیں کہ یہ ملک بھی تو ہمارا گھر ہے کیسے اس کا نظم ونسق ایک ایسے شخص کے سپرد کردیا جاتا ہے جو اس کا انتظام کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا؟

اسی بات کو دوسرے انداز میں سمجھیں۔ آپ ایک فیکٹری کے مالک ہیں اور آپ کے پاس ایک کم پڑھا لکھا نوجوان نوکری کی درخواست لے کر آتا ہے تو کیا آپ اُسے اپنی کرسی پیش کردیں گے کہ بھائی! آؤ آج سے تم مالک ہو اس فیکٹری کے؟ یا پھر آپ اُسے فیکٹری میں اُس کی اہلیت کی بنیاد پر نوکری فراہم کریں گے؟ جہاں وہ سیکھے گا، ٹریننگ لے گا، محنت کرے گا اور اگر قابل ہو گا تو ضرور ایک دن اپنی قابلیت کے بل بوتے ترقی کی منازل طے کرے گا۔ دوستوں اس ملک کو بھی ایک فیکٹری ہی سمجھ لیں کہ کیسے آپ کسی راہ چلتے کو اُٹھا کر ملک کا حکمراں بنا دیتے ہیں،جس کو دنیا کی خارجہ پالیسیوں کی الف، ب بھی نہیں آتی۔ جن کو دنیا کے حکمرانوں کے بیچ کھڑے ہونے کا ڈھنگ تک نہیں آتا جو ہر جگہ ہمارے لیے، پاکستان کے لیے صرف شرمندگی کا باعث بنتے ہیں۔ کیسے، مجھے بتائیں کیسے؟

گدھا گاڑی تو سب نے دیکھی ہوگی اور اُس گدھا گاڑی میں جُتے گدھے کے ساتھ پخ کے طور پر لگے ایک دوسرے گدھے کو بھی سب نے نہ سہی بیشتر لوگوں نے تو ضرور دیکھا ہوگا۔ کبھی سوچا آپ لوگوں نے کہ اسے کیوں باندھا جاتا ہے اس پخ کو اصل گدھے کے ساتھ؟ تاکہ وہ ٹریننگ حاصل کر سکے، سیکھ سکے، راستوں پر چلنے، وزن اُٹھا کر گاڑی کو کھینچنے کے طریقوں کو۔ جب اس ملک کا ایک عام مزدور،ایک گدھا گاڑی والا، ایک غریب محنت کش اچھی طرح اس بات کو سمجھتا ہے کہ بغیر ٹریننگ حاصل کیے وہ گدھا اس کے لیے بیکار ہے تو آپ لوگ؟

یہ بھی پڑھیں:   پُورا منٹو اور تاریخِ پاکستان - امجد اسلام امجد

دنیا کے بیشتر ممالک میں یہی طریقہ کار اپنایا جاتا ہے۔ دور جانے کی ضرورت نہیں۔ چین کے صدر سی جن پنگ کو دیکھ لیں جنہوں نے بیس، پچیس برس اپنے حکمرانوں کے کے ساتھ کام کیا۔ دنیا کی خارجہ پالیسیوں کو سمجھا اور آج دنیا کے تمام بڑے ممالک کی پالیسیوں کے ساتھ کھیلتے نظر آتے ہیں۔ ہلیری کلنٹن نے اپنے شوہربل کلنٹن سے لے کر براک اوباما تک ہر حکمران کی خارجہ پالیسی میں اپنا کردار ادا کیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ تو خیر ہمارے صدر صاحب جیسے ہی حکمران لگتے ہیں۔ یہ تو کمال ہے امریکی تھنک ٹینکوں کا جو اب تک ماہرانہ انداز سے ٹرمپ کی بے وقوفیوں کو عقل مندیوں میں تبدیل کرتے نظر آتے ہیں۔ ہمارے ہاں تھنک ٹینک والا کوئی تکلف پالا ہی نہیں جاتا۔ پھر روس کے صدر ولادیمر پیوتن ہیں جو میرے پسندیدہ حکمرانوں میں سے ایک ہیں۔ وہ کمال ہوشیاری سے دنیا کی خارجہ پالیسیوں کے ساتھ کھیلتے ہی۔ انہیں دیکھ کر کچھ جلن سی ہوتی ہے کہ ہمارے پاس ایسے حکمرانوں کی کمی کیوں ہے؟ ہمارے نصیبوں میں کبھی دہی بڑے والا تو کبھی؟

یہاں قانون داغدار ہو چکا ہے۔ ہر حکمران کرپ اور جعل ساز نکلتا ہے۔ مستقبل میں کوئی ایسا نظر نہیں آتا جو دنیا کے ساتھ آنکھیں ملا کر بات کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔ سب کھ جانے والوں نے اس ملک کی تقدیر کے ساتھ ایسا کھیل کھیلا ہے کہ الامان الحفیظ!

ان لوگوں نے ضرورت ہی محسوس نہیں کی پخ کی کیونکہ یہ لوگ آج کی تاریخ میں زندہ ہیں اور انہیں پتہ ہے کہ ان کا کل اس ملک میں نہیں، تو کل کیا کیا سوچنا؟ ان کے مطابق آنے والا کل اگر ان کا ہوا تو دیکھا جائے گا، ورنہ پاکستان جانے اور پاکستان کی عوام!

اس سے بڑا جُرم میری نظر میں شاید کوئی اور ہو، کیونکہ مال ودولت تو آنے جانے والی چیزیں ہیں، آج نہیں تو کل آہی جائے گا لیکن مستقبل کی خوش حالی یا پھر مستقبل کے اندھیرے اس سے بہت فرق پڑنے والا ہے۔ ہمیں سوچنا ہوگا، سمجھنا ہوگا، غور وفکر کرنا ہوگا، ایک ایسا انسان یا ایک ایسی نسل ضرور تیار کرنی ہوگی جو آنے والے مستقبل میں دنیا کی ہر پل رنگ بدلتی سیاست کو، ہر دن، ہر لمحہ رنگ بدلتی خارجہ پالیسیوں کو سمجھ سکے اور ان کے مطابق اپنے ملک کی خارجہ پالیسیوں کو مرتب کرسکے، اس لیے ضروری ہے کہ کسی قابل انسان کو وزیر خارجہ نامزد کیا جائے اور اُس کے ساتھ ایک پخ ضرور لگائی جائے جو مستقبل میں اُس کی جگہ لے سکے۔