کافر اعظم کا فتویٰ اور سید مودودیؒ - ڈاکٹر زاہد شاہ

مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کے بارے میں چند حلقوں کی جانب سے یہ بات بڑی شدومند کے ساتھ پھیلائی گئی ہے کہ آپ نے قائد اعظم محمد علی جناح کو کافر اعظم کہا تھا۔ اس حقیقت کو جانتے ہوئے بھی کہ مولانا نے کبھی کسی مسلمان کو کافر نہیں کہا بلکہ وہ سرے سے اس تکفیر کے کلچر کے خلاف تھے۔ دنیا میں مولانا مودودیؒ, مولانا گوہر رحمٰن اور دیگر علماء ایسےہیں جنہوں نے اپنے معاصرین کے حوالے سے انصاف اور اعتدال کا دامن کبھی نہیں چھوڑا ورنہ یہ غلطی تو کئی بڑے ناموں سے ہوئی۔ بلکہ فی زمانہ خود مولانا مودودی کے حوالے سے کیا کچھ نہیں لکھا گیا؟ پھر بھی مولانا مودودی نے اس کا جواب نہیں دیا۔ آپ کی 133کتب اور ایک ہزار بیانات اس بات کے گواہ ہیں کہ اپ نے کسی کو کافر نہیں کہا۔

درحقیقت، قائد اعظم کے حوالے سے سید مودودی کو بدنام کرنے کے لیے یہ بات قیام پاکستان کے 10 سال بعد مشہور کی گئی اور اسے بارہا شدت کے ساتھ دہرایا گیا۔ حتیٰ کہ محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ سے منسوب کتاب "مفاہمت" میں بھی زور و شور سے بیان کی گئی۔ اس کتاب کا اکثر حصہ ناقص معلومات پر مبنی ہے۔ بے نظیر صاحبہ کی شہادت کے فوراً بعد منظر عام پر آنے کی وجہ سے یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ یہ واقعی ان کی تصنیف ہوگی۔ پھر اس میں یہ بھی کہا گیا افغانستان پر روسی حملے، 29 دسمبر 1979ء ، کے بعد چندہ اکٹھا کرنے اور جنگجو بھرتی کرنے میں ضیاء الحق نے مودودی کی مدد کی۔ حالانکہ سید مودودی اس سے پہلے ہی 22 ستمبر 1979ء کو وفات پا چکے تھے۔ اسی طرح بھارت کے پہلے دستور، انتخابات، اخوان، مولانا کی کتب کا سمندر میں ڈالنا وغیرہ قومی، بین الاقوامی واقعات اور معلومات قطعاً درست نہیں۔

بہرحال، قائد اعظم کے حوالے سے یہ معیوب الفاظ احراری لیڈر مظہر علی اظہر ایڈوکیٹ کے تھے جنہوں نے اپنی ایک نظم میں یہ کہا تھا۔ اس کا باقاعدہ اقرار انہوں نے عدالت کے سامنے بھی کیا تھا۔ دراصل 1953ء میں جسٹس محمد منیر اور جسٹس ایم آر کیانی پر مشتمل دو رکنی کمیٹی نے اس معاملے کی تحقیقات کی تھی جس کے دوران مظہر کو کمیٹی کے سامنے پیش کیا گیا۔ انکوائری کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں لکھا تھا کہ

The author of the couplet

ایک کافرہ کے واسطے اسلام کو چھوڑ ا

یہ قائد اعظم ہے کہ ہے کافر اعظم

is attributed to Maulana Mazhar Ali Azhar, a leading Personality in the Ahrar Organization, Who had the audacity to assert before us he still held the view.
(انکوائری کمیٹی رپورٹ، ص10،11)

یعنی یہ شعر مظہر علی کا ہے جو احرار تنظیم میں عہدہ دار ہے، جس نے کمیٹی کے سامنے بڑی گستاخی کے ساتھ اقرار کیا اور اب تک اس پر قائم ہے۔

لیکن افسوس ہےکہ اسے مولانا مودودیؒ کی طرف منسوب کیا گیا حالا نکہ دونوں کے درمیان عقیدت کا ایسا رشتہ تھا جس کے تحریری ثبوت موجود ہیں۔ اس پروپیگنڈے میں وہ مکتب فکر بھی ملوث ہے جس نے قائد اعظم سے لے کر علامہ اقبال اور ابو الکلام آزاد کے ساتھ ساتھ تمام اہل حدیث، دیو بند اور دیگر مسلمانان اہل ہند کو کافر و مرتد اور خارج از اسلام قرار دیا، جس پر اب بھی ان کی کتب گواہ ہیں لیکن اصل مدعیوں کے بجائے بے گناہوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ الیس فیکم رجل رشید؟

1936ء میں بعض علماء نےشبلی نعمانیؒ اور حمیدالدین فراہیؒ پر کفر کا فتویٰ لگایا تو مولانا مودودیؒ نے فوراً اس کے جواب میں اپنے رسالے میں لکھا تھا کہ "مؤمن کو کافر کہنے میں اتنی ہی احتیاط کرنی چاہیے، جتنی کسی شخص کے قتل کا فتویٰ صادر کرنے میں کی جاتی ہے، بلکہ یہ معاملہ اس سے بھی زیادہ سخت ہے۔ کسی کو قتل کرنے سے کفر میں مبتلا ہونے کا خوف تو نہیں ہے، مگر مومن کو کافر کہنے میں یہ خوف بھی ہے کہ اگر فی الواقع وہ شخص کافر نہیں ہے، اور اس کے دل میں ذرّہ برابر بھی ایمان موجود ہے، تو کفر کی تہمت خود اپنے اوپر پلٹ آئے گی۔ پس، جو شخص اللہ تعالیٰ کا خوف اپنے دل میں رکھتا ہو، اور جس کو اس کا کچھ بھی احساس ہو، وہ کبھی کسی مسلم کی تکفیر کی جرأت نہیں کر سکتا۔ جو شخص، مسلمان کی تکفیر کرتا ہے، وہ دراصل اللہ کی اُس رسی پر قینچی چلاتا ہے، جس کے ذریعے سے مسلمانوں کو جوڑ کر ایک قوم بنایا گیا ہے۔ اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ علمائے دین میں کافروں کو مسلمان بنانے کا اتنا ذوق نہیں، جتنا مسلمانوں کو کافر بنانے کا ذوق ہے"۔ (ماہ نامہ ترجمان القرآن، جولائی 1936ء)