عورت اور ہمارے سطحی زاویے - عاطف الیاس

بات ہو رہی ہے کہ جب عورت ہی بن سنور کر بے پردہ نکلتی ہے تو پھر یہ اعتراض کیوں کرتی ہے کہ لوگ ہمیں دیکھتے ہیں۔
یا کہا جا رہا ہے کہ جب عورت ہر میدان میں آئے گی تو اس کی عزت غیر محفوظ ہوگی، لوگوں کی رال ٹپکے گی، اس کی زندگی برباد ہوگی۔ عزت اسی میں ہے کہ انھیں گھر بٹھایا جائے، یہی ان کی جگہ ہے۔
ایک صاحب کے بقول یہ سادہ سے سوالات اور معصوم سا مقدمہ ہے جو بچپن سے سنتے آ رہے ہیں اور پھر جو ان کے سادہ سے جواب دیے، وہ اتنے سادہ ہیں کہ یقین ہوگیا کہ اگر غلط مقدمے کو غلط بنیادوں پر اُٹھایا جائے تو عمارت میں ٹیڑھ ہمیشہ موجود رہے گا۔ اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا!

میں اپنی بات سمجھانے کے لیے پہلے ایک مثال دوں گا۔ ایک مریض علاج کی غرض سے ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے۔ اس کے مرض کی تشخیص اور علاج کے لیے ڈاکٹر تین انداز اپنا سکتا ہے۔
اول بالکل سطحی انداز میں بغیر دیکھے بھالے، صرف مریض کے منہ سے علامات سن کر، دوا دے دے۔ کوئی بھی باشعور انسان ڈاکٹر کے اس سطحی انداز کی تائید نہیں کرے گا کیونکہ یہ انتہائی خطرناک ہوسکتا ہے۔
دوم وہ تھوڑا سا گہرائی کے ساتھ مریض کو چیک کرے اور اسے ایک مرض ڈیکلئیر کر کے، صرف دوا دے دے، اللہ اللہ خیر صلا اور مڑ کر خبر بھی نہ لے۔
سوم یہ ہے کہ وہ پوری روشن فکری کے ساتھ مریض کا معائنہ کرے، اس سے علامات پوچھے، لیبارٹری ٹیسٹ کروائے، ہلکی دوا سے علاج شروع کرے، مثبت نتیجے کی صورت میں اسی علاج کو آگے بڑھائے، دوا کے منفی اثرات پر نظر رکھے، وقتِ ضرورت ان میں تبدیلی کرے، کچھ عرصے بعد پھر لیبارٹری ٹیسٹ کروائے اور اس طرح یہ سلسلہ جاری رکھے۔
اس سارے عمل میں بنیادی چیز صحیح تشخیص ہے۔ اگر بنیاد یعنی تشخیص ہی غلط ہوئی تو ساری عمارت یعنی علاج باعثِ رحمت ہونے کی بجائے باعثِ زحمت بن جائے گا۔

اب چلیے ذرا ان صاحب کے جوابات پر۔ فرمایا کہ یہ تو ایسے ہی ہے جیسے اغوا کار ماؤں سے کہیں کہ اپنے بچے گھر بٹھا کر رکھو۔ ڈاکو مجسٹریٹ سے فرمائیں کہ مٹھائی سامنے کیوں رکھی تھی۔ چور اسلم بھائی سے کہے کہ گاڑی باہر کیوں کھڑی کی تھی۔ لوگ چوری کے ڈر سے مہنگے موبائل نہ رکھیں۔ پانی کی سبیل لگانے والا گلاس کو زنجیر ڈال کر رکھے۔ چھت اگر ٹپک رہی ہے تو برسات پر ایف آئی آر کروانے کی بجائے چھت کی لیکج رکوائیں۔ وغیرہ وغیرہ

غور کیجیے مرض کی تشخیص اس انداز میں ہو رہی ہے جیسے کوئی شخص ڈاکٹر کو آ کر کہے کہ ڈاکٹر صاحب! میری کمر میں شدید درد ہے تو ڈاکٹر صاحب فورا فرمائیں: تمھیں کس نے کہا تھا کہ نواز شریف کو ووٹ دو؟۔ مدعی تھانے چوری کی درخواست جمع کروانے تھانے پہنچے تو تھانیدار صاحب فرمائیں: بھائی آپ کو پہلے اپنے گردوں کا علاج کروانا چاہیے تھا۔
گویا بات مشرق کی ہو رہی ہے، ہم علامات مغرب کی بتا رہے ہیں۔ کہاں مرد اور عورت کے تعلق کی بابت مشکل ترین سوالات اور کہاں اغوا کاروں، مٹھائی کی دکانوں، چور اچکوں اور برسات کا حال۔ مرزا غالب ہوتے تو ضرور نالش کر دیتے۔

یہ بھی پڑھیں:   عورت کی ازدواجی تعلق میں سرد مہری، وجوہات اور حل - حافظ محمد زبیر

پیارے بھائی! آپ کی سادگی اپنی جگہ لیکن یہ مقدمہ اتنا سادہ اور معصوم نہیں۔ اصل سوالات یہ ہیں کہ
معاشرے میں مرد اور عورت کے تعلق کی نوعیت کیا ہونی چاہیے؟
ان کے درمیان اختلاط کی کس حد تک گنجائش ہے اور کہاں سے ریڈ لائن شروع ہوجائے گی؟
مرد اور عورت کو کیسا لباس زیب تن کرنا چاہیے؟
مردوں کے حقوق و فرائض کیا ہیں؟ عورتوں کے حقوق و فرائض کیا ہیں؟
مردوں کو کس حد تک آزادی ہوگی؟ عورتوں کو کس حد تک آزادی ہوگی؟
مردوں کا دائرہ کار کیا ہوگا؟ عورتوں کا دائرہ کار کیا ہوگا؟
کیا مردوں کی طرح معاش کمانا عورتوں کی بھی ذمہ داری ہے؟
کیا عورتوں دوسری ترجیح کے طور پر کاروبار یا ملازمت کرسکتی ہیں؟
کیا عورتوں کو تفریح، کھیل کود کا حق ہے؟ اگر ہے تو کیا اسے مُشرؔفی فکر کے انداز میں نیکر پہنا کر سب کے سامنے بھگانا ہے یا ان کے لیے علیحدہ کھیل کود کا سامان مہیا کرنا ہے؟ وغیرہ وغیرہ

اب اگر آپ ان تمام پیچیدہ سوالوں کے جواب میں ایک سادہ اور معصوم سا جواب یہ دیں کہ عورت کو ہر طرح کی آزادی دے دو، وہ جو چاہے پہنے، نیم عریاں، عریاں یا جو کچھ بھی ہو، اس سے سوال نہ کیا جائے، اسے نیکر پہن کر سب کے سامنے بھاگنے دو، اسے جہاں جی چاہے رات باہر گزارنے دو، وہ کس کے ساتھ آ رہی ہے یا کس کے ساتھ جا رہی ہے، اس کی شخصی آزادی پر سوال نہ اُٹھاؤ۔ اسے اشتہاروں، ڈراموں، فلموں میں برہنہ یا نیم برہنہ اپنے حسن کے لشکارے مارنے دو۔ یعنی پوری طرح مثبت اور منفی پولز کو ایک دوسرے سے رگڑ کھانے دو۔
اور اس سب کے جواب میں ہمیں کیا کرنا ہے؟ ہمیں بس یہ کرنا ہے کہ مردوں کو اخلاقیات سکھانی ہے، انھیں نس بندی کے ٹیکے لگانے ہیں، انھیں سکھانا ہے کہ مرضی سے جو چاہے کر لو لیکن کسی کی مرضی کے خلاف اسے دکھ نہ دو (سیکولر اخلاقیات)۔ انھیں تبلیغی جماعت کے ساتھ چلے لگوانے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ گویا ہمیں پٹرول سڑک پر گرا کر لوگوں کو یہ سکھانا ہے کہ آگ لے کر کیسے صحیح سلامت گزرنا ہے۔ افسوس!

کیا یہ سطحی فکر نہیں؟ کیا یہ معاشرے کے سب سے پیچیدہ مسئلے کے لیے ایک سطحی سا علاج نہیں؟ اور پھر ہم یہ طریقہ علاج جس مغربی فکر سے لے رہے ہیں، وہاں اس کی کامیابی کی شرح کتنی ہے۔ تو سن لیجیے یہ سب کچھ کرنے کے بعد یعنی مرد و زن کو شتر بے مہار آزادی دے کر اور انھیں تھوڑی سی قانونی اخلاقیات سکھا کر، آج مغربی ممالک جس جگہ کھڑے ہیں وہ بھی سن لیں:
1۔ عورت کے خلاف سب سے زیادہ جنسی جرائم امریکہ، یورپ اور انڈیا جیسے ممالک میں ہوتے ہیں۔ جن میں اکثریت اپنے محرم رشتوں کے ہاتھوں نشانہ بنتی ہے۔
2۔ عورت پر تشدد سب سے زیادہ امریکہ اور یورپی ممالک میں کیا جاتا ہے۔
3۔ تیزاب پھینکنے کے واقعات سب سے زیادہ یورپ میں وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ گزشتہ چند ماہ میں صرف لندن میں ایسے 6 سو واقعات رپورٹ ہوئے ہیں.
4۔ عورت بطور جنس کے یعنی طوائف زادیاں سب سے زیادہ امریکہ اور یورپی ممالک میں پائی جاتی ہیں۔
5۔ عورت کی سب سے زیادہ تذلیل بطور شوپیس امریکہ اور مغربی ممالک میں ہوتی ہے۔
6۔ عورت پر دہری ذمہ داریاں یعنی گھر اور معاش کی، امریکہ اور یورپی ممالک میں ہے۔
7۔ ناجائز اولادوں کی سب سے بڑی ذمہ دار عورتیں امریکہ اور یورپی ممالک میں پائی جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   اپنی چلانے والی نہیں، اپنا آپ منوانے والی بنو - سائرہ فاروق

یہ وہ تلخ حقائق ہیں جنھیں ہم نظر انداز کرکے کہ بڑے فخر سے سطحی سا دعوی کرتے ہیں کہ مغرب میں عورت نیم برہنہ بھی پھرے تو کوئی اس کی طرف آنکھ اُٹھا کر نہیں دیکھتا۔ ہم اس پیچیدہ ترین مسئلے کا جواب بالکل ویسے ہی سطحی انداز میں دے رہے ہیں جیسے ایک مٹھائی فروش اپنی شیرینی کو کھلے عام رکھ کر ہاتھ میں ڈنڈا لیے مکھیوں کو اس پر بیٹھنے سے روک رہا ہے۔ ارے بھائی اس آگ اور پٹرول بارے اپنی سطحی سی فکر بیان کرتے ہوئے آپ کیوں بھول جاتے ہیں کہ جنس ایک طاقتور ترین محرک ہے۔ جسے منظم کرنے کے لیے کسی سطحی فکر کی نہیں، ایک روشن فکر کی ضرورت ہے۔ جو اس مسئلے سے جڑے ہوئے ہر باریک اور نازک مسئلے کا جواب شافی انداز میں دے سکے۔

اب دوسری طرف عورت کے حوالے سے ہمارے معاشرے میں پائی جانے والی جاہلانہ رسومات، غیراسلامی روایات اور غیر شرعی طرزِ فکر کا علاج یہ نہیں کہ عورت کو شتر بےمہار آزادی دے کر مردوں کو چِلّے پر بھیج دیا جائے۔ اس مسئلے سے جڑے ہوئے تمام تر سوالات کے جواب ہمیں اپنی ناقص عقل سے ڈھونڈنے کے بجائے اسی سے حاصل کرنے چاہییے جو عقل کل ہے۔ جس نے انسان کو مرد اور عورت کے جوڑوں کی صورت پیدا کیا۔ جو سب سے بہتر جانتا ہے کہ ہمارے لیے کیا صحیح ہے اور کیا غلط۔ تو اسی خالقِ کائنات نے ان تمام پیچیدہ سوالات کے جوابات اسلامی شریعت میں شافی بیان کیے ہیں۔ لیکن ریکارڈ کی درستی کے لیے یہ بتانا ضروری ہے کہ پاکستانی صحیح معنوں میں معاشرہ نہ تو اسلامی معاشرہ ہے اور نہ ہی یہاں اسلامی تصورات کلّی طور پر مروج ہیں، اس لیے اسے بنیاد بنانے کے ضرورت نہیں۔ ہمیں اس حل کی طرف بڑھنے کی ضروروت ہے جو معاشرہ اور فرد سے متعلق اسلامی شریعت نے دیا ہے۔

Comments

عاطف الیاس

عاطف الیاس

عاطف الیاس ایک نجی کالج میں پڑھاتے ہیں. لکھنے پڑھنے، پھرنے پھرانے اور ٹریکنگ کے شوقین ہیں. عالم، فاضل یا دانشور جیسے الفاظ انھیں زیب نہیں دیتے اس لیے محض اپنی طالب علمانہ رائے کا اظہار کرتے ہیں، لیکن بالیقین نظریاتی طور پر عالم اسلام اور تمام انسانیت کے مسائل کا حل اسلام کے عملی نفاز میں دیکھتے ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.