ڈاکٹر ذاکر نائیک کی شہریت کی منسوخی - فیض اللہ خان

کسی نے خوب ہی کہا ہے کہ یہ امت بانجھ نہیں ہوئی، بلاشبہ قحط الرجال ہے اور بہت زیادہ ہے، لیکن اس کے باوجود کسی کہسار، صحراء محل اور کسی شہر سے ایسا آہنگ ضرور بلند ہوتا ہے جس کے سامنے بونوں کی آوازیں بونوں جتنی ہی محسوس ہوتی ہیں۔

ڈاکٹر ذاکر نائیک ایسی ہی تو صدا ہے جس نے کسی بندوق، خودکش جیکٹ اور دہشت کے ہتھیار کو استعمال کیے بغیر وہ زلزلہ برپا کیا ہے کہ ہند سرکار کے پاس اس سے شہریت واپس لینے کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں بچا۔

یادش بخیر گزشتہ صدی میں بھی یہ ہوا تھا، جب سعودی بادشاہ شاہ فہد نے خلیج جنگ کے موقع پر اختلاف کرنے والے اسامہ بن لادن سے شہریت چھین لی تھی لیکن ہر ملک ماست کہ ملک خدائے ماست کی مصداق اسامہ بن لادن نے اس کے باوجود اتنی ہی سانسیں پوری کیں جتنی اس کے رب نے لکھ دی تھی۔ ایک کم نہ زیادہ۔

ڈاکٹر ذاکر نائیک کی دلیل اور شائشتہ زبان کا جواب کسی فلمی صنعت، کسی متعصب مسلک پرست، کسی پنڈت، کسی سادھو یا مندر و کلیساء والے کے پاس نہیں تھا۔

ذاکر نائیک کا معاملہ تو اس سے بھی زیادہ دلچسپ اور حیران کن ہے۔ ایک پڑھا لکھا آدمی جو دلیل کی بنیاد پر بات کرتا ہے، ہندوستان، امریکہ اور جاپان، نجانے کہاں کہاں اس دین متین کی دعوت کو لے کر جاتا ہے اور پیچیدہ و مشکل سوالوں کے مسکراتے ہوئے نہ صرف آسان جواب دیتا ہے بلکہ خرد کی گتھیاں سلجھاتا پریشان انسان اسی طبیب حاذق کے ہاتھ پر اس آفاقی دین کو اپنے سینے میں سمو لیتا ہے کہ جس کی بنیاد توحید پہ قائم ہے، کیا مرد کیا خواتین سبھی کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے اس روحانی معالج کو دل دے بیٹھتے ہیں۔
کہتے ہیں کہ ہند دنیا کی سب سے بڑی سیکولر جمہوریت ہے، وہاں ہم جنس پرستوں کو شادی کی اجازت ہے۔ دنیا کی اہم ترین فلمی صنعت وہیں ہے، جہاں خدا اور بھگوان کے تصور کو موضوع بناتی فلمیں اذہان میں سوال اٹھاتی ہیں، اور نازک رشتوں کو پامال کرتی فلمیں پوری معاشرے کو ہیجان میں مبتلا کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   ہندوتوا: بدلتے ہندوستان کی زعفرانی تصویر - عاصم رسول

اسی ہند میں بے شمار بزرگان دین کے مزارات ہیں۔ وہیں دیو بند ہے، بریلی ہے، علی گڑھ ہے، اور ندوۃ العلماء ہے، لیکن شہریت اگر کسی کی منسوخ ہوتی ہے تو اسے ذاکر نائیک کہتے ہیں۔ کسی اور کی شہریت کیا منسوخ ہونی تھی، ایک مکتب فکر ان کے خلاف مدعی، وکیل، منصف سب کے طور پر سامنے آیا اور مودی سرکار سے اس کا مطالبہ کیا.

ڈاکٹر ذاکر نائیک کی دلیل اور شائشتہ زبان کا جواب کسی فلمی صنعت، کسی متعصب مسلک پرست، کسی پنڈت، کسی سادھو یا مندر و کلیساء والے کے پاس نہیں تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اس کی زبان بندی کے واسطے یہ سب کرنا پڑا۔ ذاکر نائیک صاحب ہمیں آپ پر فخر ہے۔ یہ پریشان حال امت آپ کو خوش آمدید کہتی ہے، وہ لٹی ہوئی امت جس کا سفینہ مدت ہوئی طوفان کی زد میں ہے۔

ہم آپ سے محبت کرتے ہیں، ہم عقیدہ ولاء و براء کے ماننے والے ہیں۔ آپ سے کبھی ملے نہ بالمشافہ ملاقات ہوئی، نہ کبھی براہ راست دیکھا اور سنا، لیکن آپ دل میں بستے ہیں۔ آپ ان ان چند لوگوں میں شامل ہیں جو دلوں کے حکمران کہلاتے ہیں۔

آپ پر سلامتی ہو جو اجنبیوں کی صف میں شامل ہوگئے، اس غریب دین کے جھلملاتے ستارے بن گئے۔
دنیا سے دلیل کی بات کرنے والا ڈاکٹر ذاکر نائک برداشت نہیں، بندوق اٹھانے والے تو بلاشبہ بہت بڑے مجرم ہیں اس دنیا کے۔

Comments

فیض اللہ خان

فیض اللہ خان

فیض اللہ خان 11 برس سے رپورٹنگ کر رہے ہیں۔ طالبان سے متعلق اسٹوری کے دوران افغانستان میں قید رہے، رہائی کے بعد ڈیورنڈ لائن کا قیدی نامی کتاب لکھی جسے کافی پذیرائی ملی۔ اے آر وائی نیوز کے لیے سیاسی، سماجی، عدالتی اور دہشت گردی سے متعلق امور پر کام کرتے ہیں۔ دلیل کے ساتھ پہلے دن سے وابستہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.