"شاہراہِ زندگی پر کامیابی کا سفر"، ایک مطالعہ - فیصل اقبال

"شاہراہِ زندگی پر کامیابی کا سفر" زندگی کے جملہ معاملات میں اپنائے جانے والے طرزعمل پر ایک بہترین کتاب ہے۔ کتاب کے مصنف محمد بشیر جمعہ نے بہت سلیقے سے اور تجربات کی روشنی میں رہنمائی کے اصول فراہم کیے ہیں جو شاہراہِ زندگی پر انسان کو کامیابی سے ہم کنار کرنے میں معاون اور مفید ثابت ہوسکتے ہیں۔ مصنف نے تقریباًسبھی چیزوں کی نشاندہی کی ہے جو شاہراہ ِ زندگی پر ناکامی کا سبب بن سکتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے انسانی زندگی کو وجود بخشا اور انسانی زندگی کے مقاصد اپنی آخری کتاب قرآن مجید میں بیان فرمائے ہیں۔ ان ہی مقاصد میں ایک یہ بھی بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موت اور زندگی کو تخلیق کیا تاکہ دیکھا جا سکے کہ کون اچھا عمل کرتا ہے؟ عمل کا حسُن اللہ تعالیٰ کے قُرب کا ذریعہ بنتا ہے اور مخلوقِ خدا میں بھی پذیرائی حاصل ہوتی ہے۔ یہ حسُنِ عمل ہی ہے جس کی وجہ سے زندگی کے جملہ اعمال، انفرادی ہو ں یا اجتماعی درست نہج پر جاتے ہیں اور دنیا و آخرت میں اچھے نتائج کا ذریعہ بنتے ہیں۔ اسی اہم اور حساس موضوع کی نشاندگی مذکورہ کتاب کے مصنف نے اپنی اس نادر تصنیف میں بیان کی ہے۔ کتاب"شاہراہِ زندگی پر کامیابی کا سفر " کے مصنف محمد بشیر جمعہ کی شخصیت علمی حلقوں میں مشہورومعروف ہے۔ انہوں نے اپنی دینی ومذہبی لگن اورعلمِ نفسیات سے خصوصی شغف کی وجہ سے اہلِ علم طبقے میں اپنی شناخت بنائی ہے۔ محمد بشیر جمعہ کی ان خوبیوں کی وجہ سے ان کی تحریر وں میں حلاوت وشیرینی اور دل چسپی پیداہو گئی ہے۔

محمد بشیر جمعہ پیشے کے لحاظ سے چارٹرڈ اکاؤٹنٹ ہیں۔ انہو ں نے کراچی کے گورنمنٹ کالج آف کامرس اینڈ اکنامکس سے بی۔ کام کیااور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹس سے سی۔ اے کیاہے۔ موصوف1974 ءسے 1985ء تک پاکستان کی ایک بڑی کمپنی ’ایف فرگوسن کمپنی‘ میں مختلف عہدوں پر بھی فائزرہے ہیں۔

محمد بشیر جمعہ اگرچہ حساب وکتاب کے اکاؤنٹ کے شعبے سے تعلق رکھتے ہیں۔ تاہم پڑھنے لکھنے سے ان کا رشتہ برابر قائم رہا۔ آپ ’روزنامہ جنگ‘ اور پاکستان کے دوسرے اخبارات ورسائل میں اصلاحی، معاشرتی، سماجی اور نفسیاتی موضوعات پر مسلسل لکھتے رہے ہیں۔ آپ کے متعدد مضامین ریڈیو پاکستان سے بھی نشر ہوچکے ہیں۔ "شاہراہِ زندگی پر کامیابی کاسفر" موصوف کی وہ مقبولِ عام کتاب ہے جو وقت کے بہتر استعمال، کاہلی، تضیعِ اوقات سے بچنے، منصوبہ بندی کرنے، شخصیت شناسی، گفتگو کے فن، افراد سے تعلقات، تقسیمِ امور اورتفویضِ امورکے سلسلے میں بہترین رہنمائی کرتی ہے۔ کتاب کی اہمیت کا اندازہ ترتیب کتاب سے ہوجاتا ہے۔ صاحب کتاب نے انفرادی یا اجتماعی ذمہ داریوں کے لگ بھگ سبھی پہلوؤں کا احاطہ کیا ہے۔ کتاب میں موضوعات کی ترتیب کچھ یوں ہے۔ ۱۔ وقت کی اہمیت، ۲۔ انفرادی منصوبہ بندی اورکیرئیر پلاننگ، ۳۔ مؤثر شخصیت، ۴۔ فنِ گفتگو، ۵۔ اجتماعی ودفتری زندگی، ۶۔ عملی میدان میں کامیابی، ۷۔ انفرادی صلاحتیں، ۸۔ فارمز اور چارٹس کے ذریعے اپنی ذات کی تنظیم۔

مصنف کا مانناہے کہ ہر نئی صبح غریب، امیر، چھوٹے، بڑے، مرد، عورت ہر ایک کو ملتی ہے اور اسی اندازسے ہرزندہ شخص کو رات کے لمحات بھی ملتے ہیں۔ گویا عزم کی صبح اور احتساب کی رات ہر فرد کو ملتی ہے۔

کتاب"شاہراہِ زندگی پر کامیابی کا سفر" میں مصنف نے دین و دنیا کے اہم اور روزمرہ کے حالات پر ایک بہت اچھی گائیڈ لائن فراہم کی ہے۔ اسلاف کی زندگیوں سے واقعاتِ قرآن مقدس اوررسولﷺکی زندگی سے رہنمائی کے ساتھ ساتھ مصنف نے مینجمنٹ کے حوالے سے مسلم اور غیر مسلم ماہرین کی آرااور تجربات سے بھرپور مثالیں پیش کی ہیں۔ ”شاہراہِ زندگی پر کامیابی کا سفر“کتاب کا موضوع انسان اور انسان کی کامیابی، ترقی اور بلندی ہے۔ کتاب کواچھوتے اور منفرد انداز سے ترتیب اور دل کو چھو لینے والے اقتباسات سے مزیّن کیا گیا ہے۔ چند ایک نمونے ذیل میں پیش کیے جاتے ہیں۔ ...."سوئے کو جگانا آسان ہے لیکن جاگتے کو جگانا مشکل ہے۔ " (صفحہ6) دوسری جگہ لکھتے ہیں "ہم میز، کرسیوں، فائلوں، نوٹس، خلاصوں، رپورٹوں، نفع، سیٹھ، افسراور صاحب کے غلام ہو کر رہ گئے ہیں۔ ہماری مصروفیات محض انہیں خوش رکھنے کی حد تک محدود رہ گئی ہیں۔ ہم نے ان کی دنیا بنانے کے لیے اپنی آخرت کو تباہ کرنے کا راستہ اپنا لیا ہے۔ " (صفحہ10) "ابنِ رُشد اپنی شعوری زندگی میں صرف دو راتوں کومطالعہ نہیں کرسکے۔ " (صفحہ13)

ایک اور جگہ لکھتے ہیں : "عام دنوں میں اخبارات، رسائل، ٹی وی اور دوسرے ذرائع سے معلومات حاصل کرتے ہیں مگر امتحان کے دنو ں میں ہم ان میں سے بہت سی مصروفیات کو ترک کر دیتے ہےں یانسبتاًکم کردیتے ہیں۔ اس لیے کہ اس مرحلے پرنصب العین، مقصداورترجیحات واضح ہوتی ہیں۔ لہٰذا ان کے پیش نظر ہم ان کتابوں کامطالعہ کرتے ہیں جن کے باعث امتحان میں کامیابی کے حصول میں آسانی ہوتی ہے اور دوسری جانب اخبارات، رسائل اور دیگر کتابوں کا مطالعہ کر دیتے ہیں۔ بس اسی سوچ کے ساتھ ہم اپنی زندگی کے دوسرے معاملات کا جائزہ لیں اور ترجیحات مقرر کرلیں تو ہم وقت کے ضائع کرنے کی عادت کو کم کر سکتے ہیں۔ " (صفحہ25)

"شاہراہِ حیات پر جب سرخ سگنل نظر آئے تو اسے ناکامی مت سمجھئے، چند لمحے آرام کیجئے اور سبز سگنل کا انتظار کیجئے۔ مشکلات ہمیشہ نہیں رہتیں، یہ تو قُرب خداوندی کا باعث ہوتی ہیں۔ حبس سے مت گھبرائے، بارش آنے والی ہے۔ بس عزم کیجئے، اپنے مقاصدحاصل کیجئے۔" (صفحہ111)

غرض ایسی مثالوں اور حکمت بھرے موتیوں سے کتاب بھری پڑی ہے، اس سے ایک انسان کے لیے شاہراہِ زندگی پر چلنا آسان ہوتا ہے۔ طوالت کی وجہ سے مزید اقتباسات پیش کرنے سے گریز کیا جاتا ہے اورکتاب میں ایسے موتی قاری خود تلاش کر سکتے ہیں۔

کتاب"شاہراہِ زندگی پر کامیابی کا سفر" 342صفحات پر مشتمل ہے اور اسے مرکزی مکتبہ اسلامی پبلیشرز نئی دلّی نے دیدہ ذیب ٹائٹل اور معیاری طرز پر چھاپا ہے۔ کتاب کے آخر میں سبھی کوششوں اور کاوشوں کے باوجود کامیابی کا سبب اللہ تعالیٰ کے دربار میں دعاؤں کوٹھہرایا گیا ہے۔ اس لیے دعاؤں کا فلسفہ، اہمیت اور دعاؤں کا مجموعہ بھی شاملِ کتاب کیا گیا ہے۔ کتاب کے آخری باب میں شاہراہِ زندگی پر کامیابی کے سفر کے لیے مختلف مواقع اور نوعیت کے فارمزاورپروفیشنل چارٹز اور فارمز پیش کیے گئے ہیں۔ جو کہ 28صفحات پر پھیلے ہوئے ہیں اور انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ کتاب چونکہ پروفیشنل اور تکنیکی انداز سے لکھی گئی ہے اس لیے لگاتار یا ایک ہی نشست میں پڑھنے سے بہت بوجھل معلوم ہوتی ہے۔ اس لیے گائڈ بک کی حیثیت کتاب کو پورے سال یا پوری زندگی میں بار بار مواقع اور ضرورت کی نسبت سے مطالع میں رکھنے کی ضرورت ہے۔

کتاب پروف کی غلطیوں سے پاک ہے اور اچھی طباعت کا نمونہ ہے کتاب کی اہمیت اور افادیت کے پیش نظر اسلامی جمعیت طلبہ جموں وکشمیر نے اپنے وابستگان کے لیے رواں میقات کے نصاب میں شامل کیا ہے۔ جوکہ ایک مستحسن قدم ہے "شاہراہِ زندگی پر کامیابی کا سفر" کتاب ہر اس شخص کے لیے مفیداور کارآمدہے۔ جو زندگی کو منظم، متوازن، موثراور با مقصد گزارنے کا خواہش مند ہے۔ اس لیے کہ ایسے ہی لوگوں کو کامیابی بھی تلاش کرتی ہے۔ آپ بھی اسے پڑھئے اوردیکھئے ممکن ہے کامیابی آپ کے دروازے پر کھڑی ہو۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com