ہمارا مسئلہ پانامہ نہیں - شاہد یوسف خان

شہر میں زندگی گزارنے کے بعد جب دیہاتوں میں جانا ہوتا ہے تو دو قسم کےاحساسات ہوتے ہیں ایک تو یہ کہ اس زندگی اور ماحول سے بالکل الجھن اور چڑ ہونے لگتی ہے یا پھر اس ماحول کا احساس اور دکھ ہونے لگتا ہے۔ شہر میں پلنے بڑھنے والوں کے لیے تو دیہات کی گرمی میں ایک دن بھی گزارانا بہت ہی کٹھن ہے۔ چند دن پہلے لاہور سے اپنے ضلع ڈیرہ غازی خان میں اپنے گھر اور گاؤں جانا ہوا۔ دو نوجوان رشتہ دار خواتین کے انتقال کا پتہ چلا تو بتایا گیا کہ دونوں کی موت زچگی کی وجہ سے ہوئی ہے۔ ایک ماں کا بچہ بھی ساتھ گیا جبکہ ایک ماں اپنا بچہ چھوڑ گئی۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اب بھی پاکستان کے بیشتر دیہاتوں میں وہی پرانا دائی سے زچگی کروائی جاتی ہے بوجہ غربت، دوسرا سرکاری ہسپتالوں اور سہولیات کی عدم فراہمی ہے۔ ٹی وی، اخبارات اور سوشل میڈیا پر خواتین کی زچگی کی آگاہی کے نام پر جو کروڑوں کے اشتہارات چلائے جاتے ہیں ان کا غریب کی صحت، غربت اور سہولت پر رتّی برابر بھی اثر نہیں پڑتا کیونکہ وہ غریب مزدور اور کسان اور شہروں سے چالیس پچاس کلومیٹر دور کسی گاؤں میں رہتے ہیں تو عین موقع پر وہ بھی شہر کسی صورت نہیں پہنچ سکتے، چاہے وہ پیسوں کا انتظام بھی کرلیں۔ روزانہ اخبارات اٹھائیں زچگی اور دیگر بیماریوں سے تحفظ کے طریقے پڑھیں اور ساتھ اسی اخبار میں چھوٹی سی دیہات کی مانند سرخیوں میں ایسی خواتین کے مرنے کی خبریں پڑھیں تو یقین آجائے گا کہ ہماری حکومت نے صحت کے لیے جو کچھ کیا ہے وہ یا تو ٹی وی کی حد تک ہے یا پھر کچھ ہے تو بڑے شہروں میں ہے، ورنہ دیہات کے ڈنگروں کے لیے سوائے حقارت کے اور ہے کیا؟

اس واقعے کا مجھے اس لیے بھی افسوس ہوا کہ وہ قریبی رشتہ داروں میں سے تھیں، ورنہ ایسے کئی کیسز روزانہ کی بنیاد پر ہوتے ہیں جن کی ہمیں کوئی بھنک ہی نہیں پڑتی۔ جس طرح ہمیں احساس نہیں کسی دوسرے کا تو قومی سیاست دانوں کو کیسے ہوگا؟ ان "ہستیوں" کا ان دیہاتی ڈنگروں اور ان کی عورتوں سے کیا لینا دینا؟ چاہے ان کی خون پسینے کوسستے داموں گندم، کپاس اور مزدوری عوض خریدا بھی جائے یا پھر ان سے "بوقت ضرورت" ووٹ بھی طلب کیا جائے۔ ان کا احساس ہوجاتا تو کم از کم ان کسانوں اور مزدوروں کے بچوں کو اچھے ہسپتال تو دے دیتے تاکہ ان کی بیٹیاں جو بچے جنتے ہوئے موت کے منہ میں چلی جات رہی ہیں ان کو تو بچا لیں۔ یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سالانہ ایک لاکھ میں سے 178 خواتین دوران زچگی موت کا شکار ہو جاتی ہیں۔ ان اموات میں دیہاتی خواتین کی تعداد 80 فیصد ہوتی ہے جبکہ ان دیہاتوں میں پیدا ہونے والے بچوں کے بارے یہ بھی صحت کے تحقیقاتی ریورچ رپورٹس میں موجود ہے کہ دیہاتوں میں پیدا ہونے والے بچے بھی پانچ سال کی عمر تک کسی نہ کسی بیماری اور کمزوری کی وجہ سے بڑی تعداد میں مو ت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

حکومت پہلے دو سال دھرنوں میں پھنسی رہی اور افسر شاہی موجوں میں رہی۔ اپوزیشن حرام حلال کرنے میں رہی اب جبکہ میڈیا کے تعاون سے گزشتہ ایک سال سے پانامہ کیس کا فیصلہ کیا جا رہا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ عوام کے دیرینہ مسائل مسلسل نظر انداز ہو رہے ہیں۔ کسی غریب ریڑھی بان، مزدور اور کسان سے کبھی اس پانامہ بارے سوال کر کے پوچھ کر دیکھ لیں کہ ان کا مسئلہ پانامہ ہے یا گھر؟

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com