صلاحیتوں کو پہچاننا، منوانا - محمد رضی الاسلام ندوی

مکہ فتح ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے اعلانِ امن سے فائدہ اٹھانے والوں میں عَتَّاب بن اَسيد بھی تھے. ظہر کی نماز کا وقت ہوا تو آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اشارہ پا کر حضرت بلال رضی اللہ عنہ خانہ کعبہ پر چڑھ گئے اور اذان دی. مکہ کا جاہلی سماج اب تک اونچ نیچ کی آلائشوں میں گرفتار تھا. ایک غلام کی اتنی عزّت افزائی اس کے تصوّر سے بالاتر تھے، چنانچہ حضرت بلال کو خانہ کعبہ پر چڑھ کر اذان دیتے دیکھ کر عتّاب کی زبان پر یہ جملہ آگیا: "اچھا ہوا، میرا باپ یہ منظر دیکھنے سے پہلے ہی مرگیا.''

حضرت عتّاب کو جلد ہی اسلام قبول کرنے کی توفیق مل گئی. اس وقت ان کی عمر بیس اکیس برس سے زیادہ نہ تھی. فتحِ مکہ سے فارغ ہونے کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم معرکہ حنین کے لیے روانہ ہوئے تو آپ نے انھی کو مکہ کا گورنر نامزد فرمایا. اس ذمے داری پر وہ اپنی وفات تک فائز رہے. کہتے ہیں کہ ان کی وفات خلافتِ صدیقی کے اواخر یا خلافتِ فاروقی میں جواں عمری میں ہوگئی تھی.

حضرت عتّاب نے مکہ کا نظم و نسق بہترین انداز میں چلایا. فتح مکہ کے بعد پہلا حج انھی کی امارت میں ہوا. اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے اخراجات کے لیے روزانہ 2 درہم مقرر کیے تھے. وہ آخر تک اسی پر قانع رہے. کہا کرتے تھے: "جو پیٹ 2 درہم میں نہیں بھرتا اللہ تعالی اسے کبھی آسودہ نہیں کرے گا." ہدایا و تحائف سے انھوں نے اپنا دامن بچائے رکھا. نماز با جماعت کے معاملے میں بہت سخت تھے. دوسروں کو بھی اس کا پابند بنانے کے لیے سخت تنبیہ کرتے رہتے تھے _

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ذریعے حضرت عتّاب کے امیرِ مکہ بنائے جانے سے جہاں یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دور رَس نگاہ لوگوں کی صلاحیتوں کو پہچان لیتی تھی. آپ صلی اللہ علیہ وسلم کم عمری کی پروا کیے بغیر باصلاحیت افراد کو اہم ذمے داریوں پر فائز کرتے تھے، وہیں اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ باصلاحیت افراد اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوالیتے تھے، اپنے سربراہوں کی امیدوں پر کھرے اترتے تھے، اور ذمے داری کو امانت سمجھ کر انجام دیتے تھے.

موجودہ دور میں یہ پہلو بہت پامال ہوا ہے. اب عموماً نہ ذمے داریاں صلاحیتوں کو دیکھ کر دی جاتی ہیں اور نہ ان پر فائز ہونے والے ان کی ادائیگی میں امانت دار ہوتے ہیں، بلکہ ذمے داریاں عیش و عشرت سے زندگی گزارنے کا ذریعہ بن گئی ہیں. اس معاملے میں تمام اجتماعی ادارے برابر ہیں، چاہے وہ سیکولر اور غیر دینی ہوں یا خالص دینی. پھر بھی دعوی ہے کہ ہم اسوہ رسول پر عمل پیرا ہیں.

Comments

ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

محمد رضی الاسلام ندوی نے ندوۃ العلماء لکھنؤ سے فراغت کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے BUMS اورMD کیا. ادارہ تحقیق و تصنیف اسلامی ہند کے رفیق رہے. سہ ماہی تحقیقات اسلامی کے معاون مدیر اور جماعت اسلامی ہند کی تصنیفی اکیڈمی کے سکریٹری ہیں. قرآنیات اور سماجیات ان کی دل چسپی کے خاص موضوعات ہیں. عرب مصنفین کی متعدد اہم کتابوں کا اردو میں ترجمہ کیا ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.