مدارس کا نظام تعلیم - سید وجاہت

یونیورسٹی میں پڑھنے کے بعد مدرسے کی عظمت اور محبت دل میں اور بڑھ جاتی ہے کہ ہم بلامعاوضہ ایک روپیہ خرچ کیے بغیر کیا کچھ نہیں سیکھتے۔ ان مدرسوں میں، قرآن حدیث، تفسیر ، فقہ ، اصول فقہ ، منطق ، بلاغت ، عربی ، ادب اور نجانے کتنے ہم بلامعاوضہ عزت نفس کے ساتھ مدرسے سے حاصل کرتے ہیں۔ بلاشبہ مدارس کی شکل ہے ہمارے معاشرے میں پھیلے ہوئے یہ ادارے یہ عظیم نعمت ہیں، جہاں امیر و غریب کے بچوں میں کوئی فرق نہیں کیا جاتا، جہاں کسی کو اس وجہ سے پیچھے نہیں کیا جاتا کہ اس کے پاس فیس بھرنے کے لیے پیسے موجود نہیں بلکہ جس طرح ایک ماں اپنے بچوں میں فرق نہیں کرتی، بعینہ اسی طرح یہ مدارس بھی طلبہ میں کوئی فرق نہیں کرتے۔ ہر طالب علم چاہے وہ غریب ہو یا امیر، گورا ہو یا کالا، شہری ہو یا دیہاتی ، کسی بھی قوم قبیلے، ملک کا رہنے والا ہو، مدارس کے دروازے ہر ایک کے لیے یکساں طور پر کھلے ہوئے ہیں۔

میرے ایک دوست جو اس سال مدرسے سے عالم و مفتی بن کر فارغ التحصیل ہوئے ہیں فرماتے تھے کہ جب میں یہاں مدرسے میں داخل ہونے کے لیے آیا تو مجھے اردو بولنا تک نہیں آتی تھی۔ دکان پر جب کوئی چیز لینے جاتا تو اشارہ کرکے مطلوبہ چیز حاصل کرنی پڑتی تھی لیکن آج وہ ہمارے دوست مدرسے سے عالم و مفتی اور کراچی یونیورسٹی سے ایم اے ( بین الاقوامی تعلقات) کی سند لیکر اپنے علاقے کی طرف گئے ہیں ۔ دیکھا جائے تو جب وہ مدرسے میں آئے تھے بالکل اُمّی تھے۔ نہ لکھنا پڑھنا آتا تھا، نہ بولنے کا شعور تھا بلکہ کچھ بھی نہیں تھا۔ یہ مدرسہ ہی تھا جس نے ان کی تربیت کی اور اس قابل بنایا کہ اب وہ معاشرے کا ایک کارآمد حصہ ہیں۔ ہزاروں لاکھوں طلبہ کا بغیر معاوضہ کے معیاری تعلیم دینا بلاشبہ ملک و قوم کی ایک عظیم خدمت ہے۔

ہمارے مدارس کے فضلاء اگر تھوڑی سی توجہ معاشرے میں رائج بول چال اور ان اصطلاحات کو سیکھنے کی طرف دیں ۔ معاشرے میں موجود مکالمہ کی زبان کو سیکھ لیں تو یہ کسی میدان میں بھی پیچھے نہیں رہیں گے۔ ان کے پاس جو علم ہے وہ حقیقی علم ہے، بس مسئلہ یہ ہے کہ اس علم کو پیش کرنے کا طریقہ سیکھنا ہوگا، وہ زبان سیکھنی ہوگی جس کے ذریعے سے آپ اپنے علم کو سامنے والے پر پیش کرسکیں۔

ہوتا یہ ہے کہ آپ اپنی قدیم زبان میں یا ان الفاظ میں بات کرنے کے عادی ہوتے ہیں جو کہ معاشرے میں رائج نہیں ہوتی جس کی وجہ سے آپ کا علم سامنے نہیں آتا ۔ آپ کے علم میں نکھار تب ہی پیدا ہوگا جب آپ معاشرے میں رائج زبان و اصطلاحات سے واقف ہوں گے۔ ورنہ آپ کے علم سے استفادہ عام لوگوں کے لیے ممکن نہ ہوگا۔ میں اسکول کالج اور یونیورسٹی تینوں طرح کے اداروں میں پڑھ چکا ہوں میں بلاجھجک اور بلاتامل یہ کہہ سکتا ہوں کہ مدارس کا نظام تعلیم اور مدارس میں جس محںت و لگن کے ساتھ پڑھایا جاتا ہے ، ان عصری تعلیمی اداروں میں اس کا عشر عشیر بھی موجود نہیں۔