" جی لے ہر پل" - عبدالمتین

"یار جے لے، پیار جی لے، سوچتا کیوں ہے کیا ہوگا کل؟ " اس گانے کا ہر ہر بول چیخ چیخ کر لبرل ازم کا پرچار کررہا ہے اور یہی نہیں بلکہ میوزک اور پر سوز ترنم کے سہارے ہر نوجوان کے دل پر دیر پا نقش کی طرح مضبوط ہوتا جارہا ہے۔لیکن شکر ہے کہ ہمارے معاشرے میں غور و فکر اور تدبر کی صلاحیت ناپید ہے ورنہ یہ سب نوجوان اس گانے کو نہ صرف گنگناتے بلکہ اس کے نظریے کو قبول بھی کرتے جاتے۔

لبرل ساہوکار اپنی تن من دهن کی کوششیں، صلاحیتیں اور سرمایہ لگانے کے باوجود اپنی پیاس کو بجھا نہیں پارہے اور "ھل من مزید" کا شکار ہوکر خوب سے خوب ایسے نظریات کو پروان چڑھا رہا ہے۔

"یار جی لے" تو سمجھ آرہا ہے لیکن "سوچتا کیوں ہے کیا ہوگا کل؟" یہ کیا ہے؟ آپ کس کل کی بات کر رہے ہیں؟ آیا کل سے مراد ہمارا دنیوی کل ہے؟ وہ تو ہماری روز و شب کا منبع اور محور ہے ہی اور اسی تصور کے تحت ہماری کل کائنات گردش کر رہی ہے کہ کل میرا گھر کیسا ہو؟ میری گاڑی؟ میرے بچے؟ ان سب کی نوعیت کیا ہوگی؟ آیا یہ سب میرے پاس ہوں گے اور اگر ہوں گے تو کس درجے کی آسائش کے ساتھ؟ اگر کل سے مراد یہی "کل" ہے تو الگ بات لیکن ایسے ساہوکاروں کے لیے مثبت سوچ عبث ہے۔ کہیں یہ ہمیں اس کل کی سوچ سے تو فارغ نہیں کر رہے کہ جس کی اساس پر ہمارا نظریات حیات قائم ہے؟ جسے ہم توحید و رسالت کے بعد آخرت کا نام دیتے ہیں۔ ہمارا حقیقی اور اٹل کل!

الحمد للہ اس عظیم نظریے کے بل پر ہی ہماری مجموعی اساس کھڑی ہے اور اسی کی برکت سے ہمارا نظام عدل،سماج اور ذاتی حقوق کی ادائیگی کا تصور مضبوط اور قابل عمل بنتا ہے۔ اسی کے بل پر ہم خوف خدا کی مبارک اصطلاح کا استعمال کرتے ہوئے خود میں سے ہر ایک کو اس عدالت کی یاد دلاتے ہیں کہ جس کا عدل غیر متزلزل ہے اور جس کا جاری کردہ ہر فیصلہ حق اور سو فیصد اطمینان پر مشتمل ہوگا۔

اس لیے ضرورت ہے کہ ہم چیزوں کو ان کی حدود تک محدود رکھیں اور موسیقی کے فن کا جو مقصد ہے کہ شور و شغل اور لا ابالی پن کے فروغ اور اس کے ذریعے عارضی حس کا اطمینان، اسے اسی تک محدود رکھیں اور بلا وجہ اسے مذہبی اقدار کو ٹھیس پہنچانے کا ذریعہ نہ بننے دیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */