احتساب، ڈرامہ اور "میری ہمدم، مری دوست" - عبید اللہ عابد

پاکستان میں صرف ایک ہی گروہ (جماعت اسلامی) ہے جو احتساب کی مخلصانہ خواہش اور کوشش کر رہا ہے، ورنہ احتساب کے نعرے لگانے والے باقی لوگ اور گروہ اپنے مخصوص ایجنڈوں پر گامزن ہیں۔

یقینا نوازشریف اور ان کے خاندان کے معاملات صاف اور شفاف نہیں ہیں اور یہی ان کی سب سے بڑی کمزوری ہے جو ان کے مخالفین کے ہاتھ لگی ہوئی ہے۔
تاہم
ایک "نادیدہ قوت" احتساب چاہتی ہے محض اپنے کچھ مطالبات منوانے کے لیے، صرف اسی لیے وہ نوازشریف کا بازو مروڑنا چاہتی ہے۔

عمران خان بھی احتساب چاہتے ہیں لیکن ان کا احتساب کا آئیڈیا نوازشریف تک ہی محدود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق سے استدعا کرتے ہیں کہ "احتساب سب کا" کے بجائے شریف خاندان کے احتساب تک ہی محدود رہیں۔ اگرعمران خان احتساب کے باب میں مخلص ہوتے تو سب سے پہلے اپنی پارٹی کے لوگوں کا احتساب کرتے۔ اگرنوازشریف کے والد کی پیدائش سے لے کر آج تک احتساب ہو سکتا ہے تو جہانگیرترین، شاہ محمود، بابراعوان، فردوس عاشق، نذرگوندل کی پیدائش سے آج تک، ان کا احتساب کیوں نہیں ہوسکتا؟ عمران خان ان کا احتساب کرسکتے ہیں، وہ اپنے پارٹی میں مقتدر ہیں، ویسے جہاں (خیبرپختونخوا) وہ مقتدر ہیں وہاں احتساب کمیشن کو عرصہ ہوا تالہ لگا ہوا ہے۔ اگلے روز وفاقی وزیراطلاعات و نشریات محترمہ مریم اورنگ زیب نے اسی تالے کا انھیں طعنہ دیا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا احتساب کمیشن کا تالہ کھول کر اپنے منہ کو لگا لیں۔ وزیراعلیٰ خٹک سے لے کر نچلی سطح تک کرپشن کا پورا بازار گرم ہے۔ عمران خان کرپشن کے خلاف ہوتے، احتساب کے متمنی ہوتے تو خیبرپختونخوا کو صاف وشفاف بناتے۔

رہی بات پیپلزپارٹی کی، وہ نہیں چاہتی تھی کہ پانامہ والا معاملہ مقدمہ کی صورت میں سپریم کورٹ میں دائر ہوتا، کیونکہ اسے ڈر تھا کہ اگر واقعی احتساب ہونے لگا تو زرداری اور بھٹو کے گھرانوں کا رخ نہ کر لے۔ یہ پارٹی ہے ہی سو فیصد کرپشن۔ ان کی پھوپھو جان ترقیاتی منصوبوں کے نام پر اربوں روپے خزانے سے وصول کرتی ہے اور اپنے پرس میں ڈال کر چلتی نظر آتی ہیں۔ اب پیپلزپارٹی بھی شریف خاندان کے احتساب کی بات کرے، نوازشریف سے استعفیٰ کی بات کرے تو اس کا ایجنڈا بھی سمجھ میں آتا ہے۔ وہ ایک نئی باری حاصل کرنے کے لیے نوازشریف سے استعفیٰ کا مطالبہ کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان اور ان کی حکومت کے گلے پر رکھی ہوئی دو تلواریں - شاہنواز فاروقی

اس لیے دوستو!
مجھے ایسا محسوس ہوتاہے کہ شاید کسی روز سراج الحق احتساب کی مہم میں تنہا ہوجائیں گے۔ پاکستان کے تمام ادارے اور تمام سیاسی و غیرسیاسی قوتیں اپنا مطلب نکلنے پر احتساب کو بھول جائیں گی اور اس وقت جماعت اسلامی کے لوگ حیران ہوں‌گے کہ کرپشن کے نام پر ایک اور ڈرامہ۔

ہاں! ایک اور بات!
جب یہ ڈرامہ ختم ہوگا تو اس کے کچھ کردار ہمیشہ ہمیشہ کے لیے گم ہوجائیں گے۔ ایک کردار پاکستان مسلم لیگ قائداعظم گروپ کے بانی میاں محمد اظہر کی طرح راول ڈیم اسلام آباد یا پھر اچھرہ والی نہر لاہور کے کنارے اپنے گھر کی روشنیاں گُل کرکے گم ہوجائے گا۔ دوسرا کردار دبئی یا لندن میں‌ کسی حسینہ کی زلفوں کا سہارا لے کر فیض احمد فیض کے خیالوں کو توڑتے مروڑتے ہوئے اس نازنین سے کہہ رہے ہوں‌گے کہ
میری ہمدم! مری دوست!!
مرے دل کی تھکن، میری آنکھوں کی اداسی ، مرے سینے کی جلن اور میری دل جوئی، ترے پیار سے مٹ جائے گی۔ تیرا حرف تسلّی وہ دوا ہے جس سے جی اٹھے گا پھر مرا اجڑا ہوا بے نور دماغ، میری پیشانی سے دھل جائیں گے یہ تذلیل کے داغ، میری بیمار جوانی کو شفا ہو جائے گی۔
بس! روز و شب، شام و سحر مجھے بہلاتی رہ، مجھے گیت سناتی رہ، ھلکے، شیریں، آبشاروں کے بہاروں کے، چمن زاروں کے گیت، آمدِ صبح کے، مہتاب کے، سیّاروں کے گیت۔