یہ 62،63 کو اکھاڑ کر پھینک کیوں نہیں دیتے - شاہد یوسف خان

ہمارے گاؤں میں ایک بزرگ کبھی کبھار ایسے ازراہ مزاح جملے کہہ جاتے تھے جو جب بھی یاد آتے ہیں تو ہنسی نکل جاتی ہے اور خصوصاً ویسی جگہ پر۔ ایک مرتبہ ہم مسجد میں عصر کی جماعت کے لیے کھڑے ہوئے تو مولوی صاحب نے کہا کہ اپنے پائنچے ٹخنوں سے اوپر کردیجیے، اور یہ جملہ تقریباً تین مرتبہ کہا تو بزرگ مرحوم نے بالآخر یہ کہا کہ "شلوار اتار نہ دیں"!۔ بس یہ جملہ پوری نماز میں ہم باجماعت ہنستے رہے اور وہ آج بھی جب کبھی مولوی صاحب پائنچے اونچے کرنے کا کہتا ہے تو وہ بات یاد آجاتی ہے۔ خیر یہ تو تھی ہنسی والی بات!

کچھ دیر پہلے آئین کی دفعہ 62،63 کی تعریف کو دوبارہ پڑھنے کا سوچا حالانکہ پہلے امتحان کے لیے سلیبس میں پڑھ چکا تھا جو ممبران پارلیمنٹ کی طرح بھول چکا تھا۔ دونوں دفعات کا اکثر تذکرہ آپ کو چند سیاستدانوں کے انقلابی جلسوں سے ضرور ملتا ہے مگر اس پر عمل کرنا تو دور، ہونا ہی ناممکن ہے۔ ویسے تو ان دونوں آرٹیکلز کی کوئی بیس، پچیس شقیں ہیں لیکن دو جو سب سے اہم ہیں ان کا تذکرہ کردیتا ہوں جی تو آرٹیکل 62 کے مطابق صرف وہی شخص مجلس شوریٰ یا پارلیمنٹ کا حصہ بن سکتا ہے جو:

  • اچھے کردار کا حامل ہو اور عام طور پر احکامِ اسلامی سے انحراف میں مشہور نہ ہو
  • اِسی آرٹیکل کی شِق (ہ) کے تحت وہ اسلامی تعلیمات کا خاطر خواہ علم رکھتا ہو اور اسلام کے منشور کردہ فرائض کا پابند ہو، نیز کبیرہ گناہ سے اجتناب کرتا ہو
  • جبکہ شق (و) کے مطابق وہ سمجھدار ہو، پارسا ہو، ایماندار اور امین ہو اور کسی عدالت کا فیصلہ اِس کے برعکس نہ ہو

اگر ان شقوں کو ایمانداری سے رائج کیا جائے تو یہ ممبران پارلیمنٹ میں کوئی بھی ایسا نہیں بچتا۔ تو ایسی شقوں کا کیا فائدہ جس کے مطابق ملک عزیز کے ممبران حلف اٹھا کر پارلیمنٹ میں پہنچ جاتے ہیں اور خود کو عین آئین و قانون کے مطابق ایک بہترین ذمہ دار گردانتے ہیں۔ ایمانداری تو اب یہی ہے کہ آئین کی ان شقوں کو آئین کی کتاب سے اکھاڑ کر دریا برد کردیا جائے اور جیسا نظام چل رہا ہے چلتا رہے۔ ویسے بھی کونسی قسم پوری کرنی ہوتی ہے؟

آجکل میاں نواز شریف و اہل و عیال کے خلاف پانامہ کیس کا دور دورہ جہاں ہے تو صادق اور امین کا تذکرہ بھی بڑا زور و شور سے کیا جارہا ہے۔ معروف کالم نگار وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ صادق اور امین کے لقب کو ان سیاستدانوں سے بچا کر بخش دیں کیونکہ صادق اور امین تو نبی کریم ﷺ کے بعد نہ کوئی آیا ہے نہ آئے گا۔ یہ صادق اور امین جیسے عظیم لفظوں کو بھی رہنے دیں ساتھ میں 62،63 کے آرٹیکل جو پتہ نہیں کس اسلامی انقلابی سوچ کے تحت آئین میں جمع کیے گئے تھے جن کا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں بنتا۔ حالانکہ اکثر آئین تو انگریزی دور حکومت والا رکھا ہوا ہے پھر آئین بنانے والوں کو بھی سیلوٹ کرنا چاہیے کہ انہوں نے ایسے نیک لوگ اس ملک میں کیسے ڈھونڈ لیے تھے جن سے کبھی کوئی گناہ کبیرہ نہ ہوا ہو اور اسلامی تعلیمات کا مکمل ادراک رکھتے ہوں۔

بدقسمتی یہ ہے کہ شہریوں پر وہ قوانین ابھی تک رائج ہیں جو انگریزوں نے ہندوستانی غلام قوم کے لیے بنائے تھے۔ مجلس شوریٰ یعنی پارلیمنٹ کے لیے آئین عین اسلامی بنایا گیا ہے اور ان اراکین کسی ایک کو بھی بڑی مشکل سے مانتے ہیں۔ ملک کے وزیراعظم کے خلاف کرپشن کا کیس چل رہا ہے۔ اپوزیشن اپنے اقتدار کے لیے ایک دوسرے کے ورکرز چھین کر فاتح بننے جا رہی ہے۔ ملک میں جو صاحب اختیار ہو وہ چاہے تو بندے جلا دے یا اپنی گاڑیوں کے نیچے لتاڑ دے بھلا کس نے پوچھنا ہے۔ پھر ایسی شقوں کو آئین کا حصہ بنانے والوں کے تو شاید جو بھی مقاصد تھے وہ بنا گئے حالنکہ وہ بھی بخوبی اس دور سے واقف تھے لیکن آنے والوں کے لیے شاید اچھی امیدیں رکھتے تھے جس طرح ہم اپنے سیاسی رہنماؤں کے بچوں کے ساتھ اچھی امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہیں لیکن ان شقوں کو ان دونوں آرٹیکلز کے صفحے اکھاڑ کر پھینک دینے چائہیں جو قابل قبول تو دور قابل عمل ہونے کا بھی کوئی امکان نہیں رکھتے۔