اونٹ رے اونٹ تیری کونسی کل سیدھی - احوز صدیقی

پہلے کہا جاتا تھا محبت اور جنگ میں سب جائز ہے اور اب کہا جاتا ہے سیاست اور منافقت میں سب جائز ہے۔ بلکہ یوں کہہ لیں کہ اب منافقت، سیاست کا دوسرا نام ہے جو جتنی ہوشیاری اور ڈھتائی سے منافقت کرتا ہے وہ اتنا اچھا اور بڑا سیاسی گھوڑا ہے اور جب اس کی منافقت کھول کر سامنے آجائے تو کہا جاتا ہے یہی تو سیاست ہے۔

پاک سرزمین پارٹی یعنی پی ایس پی کے رہنما مصطفیٰ کمال صاحب جب آئے یا لائے گئے تو انہوں نے آنے سے پہلے قرآن پاک پڑھا، اسے سمجھا اور اپنے ایمان کو زندہ کیا یا یوں کہہ لیں کہ دوبارہ مسلمان ہوئے۔ مصطفیٰ کمال اور ان کے سا تھیوں نے ایم کیو ایم کے تمام رہنماؤں کو وہ سب کہہ دیا جو ایم کیو ایم کے سیاسی مخالفین بھی نہ کہہ سکتے تھےحالانکہ مصطفیٰ کمال صاحب کی پہچان بھی ایم کیو ایم تھی۔ ان کا سیاسی قد بھی ایم کیو ایم قائد الطاف حسین نے بڑھایا تھا۔ تو کیا ہوا جب ایمان تازہ ہوجائے تو اور بہت کچھ بولا جاسکتا ہے۔ خیر سے یہی ایک بڑی وجہ تھی کہ مصطفیٰ کمال اس مرتبے پر پہنچے کہ وہ آج ایک سیاسی گروہ کی سربراہی کررہے ہیں یا یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اہنے سربراہی کے لئے چنا گیا اور ٹاسک دیا گیا کہ وہ اپنے محسنوں کی پگڑیا ں اچھالیں۔ البتہ کس حد تک کامیاب ہوئے یہ ابھی بھی زیر بحث ہے۔

میں معذرت چاہتا ہوں میں نے ایک گروپ کہا مگر سیاسی پارٹی کیسے کہوں؟ کیوں کہ آپ نے ابھی تک عوام کو نہ ہی سیاسی منشور دیا ہے اور نہ ہی سیاسی پارٹی کا جھنڈا بنایا ہے۔ اگرچہ عوا م میں ان کی سیاسی مہم کو پذیرائی ملی یا نہیں، یہ سوال قبل ازقت ہے کیونکہ مشکل سے کمال صاحب کو ڈیڑھ سال ہوا ہے البتہ مایوسی گناہ ہے کمال صاحب کو اپنی کوشش جاری رکھنی چاہیے۔ اب آپ کہیں گے مایوسی کیسی ؟ تو اس کا جواب بہت ہی آسان ہے کہ آپ نے نشتر پارک میں ایک بڑا سیاسی جلسہ کرنے کی کوشش کی، اس کے اشتہار پر کروڑوں روپے خرج کیے گئے لیکن نشترپارک کو بھرنے میں ناکام رہے۔ آپ نے کراچی پریس کلب کے باہر کئی ہفتے دھرنا دیا لیکن عوام کی عدم دلچسپی اور سندھ حکومت کی ہٹ دھرمی کے باعث آپ کو دھرنا اپنا ختم کرنا پڑھا۔ آپ نے ملین مارچ کیا جس میں مشکل سے چار، پانچ ہزار لوگ شامل تھے۔ عوام کی طرف سے پذیرائی نہ ملی اور حالانکہ آپ کے مطالبات سب کے سب جائز تھے اور عوام کے دیرینہ مطالبات تھے۔

یہ بھی پڑھیں:   نصف ایمان بچانا ہوگا - عنایت کابلگرامی

مصطفیٰ کمال صاحب! جب آپ نے خود کو متعارف کرایا تھا اور کئی پریس کانفریس کیں، انٹرویو دیے ٹاک شوز میں بیٹھے تو آپ نے الطاف حسین کو برا بھلا کہا ہی تھا لیکن آپ نے یہ بھی کہا تھا کہ میں پاکستانی عوام خصوصاً مہاجر قوم کو آگاہی دینے آیا ہوں اور میں عوام کو بتانا چاہتا ہوں کہ ایم کیو ایم کے لوگوں نے مہاجر قوم کو دھوکا دیا ہے۔ پھر 22 اگست کے بعد آپ نے کہا کہ فاروق ستار ایک بزدل اور ڈرپوک انسان ہے، یہ الطاف حسین کا ایجنٹ ہے، یہ کیا ایم کیو ایم چلائے گا؟ فاروق ستار اور اس کے ساتھی ملک دشمنوں کے سہولت کار ہیں وغیرہ وغیرہ۔

اب مصطفیٰ کمال نے فاروق ستار کو مل کر کام کرنے کی دعوت دی ہے، یعنی ایک "بزدل" اور "ڈرپوک" لیڈر کو۔ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے، یہ سیاست ہے یا منافقت؟ گو کہ مل کر کام کرنے میں برکت ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر آپ قومی سطح پر سیاست کرنی ہے اگر آپ کو مل کر کام کرنے کا خیال آیا تو یہ دعوت آپ پاکستان پیپلز پارٹی کو دیتے، مسلم لیگ ن کو دیتے، تحریک انصاف کو دیتے یا جماعت اسلامی کو دیتے۔ یہ وہ جماعتیں ہے جو پاکستان بھر میں کا م کر رہی ہیں۔ ان کے ملک کے ہر کونے میں سیاسی اور تنظیمی یونٹس موجود ہیں۔ فاروق ستار ہی آخر کیوں؟ یہ تو صرف سندھ کے شہری علاقوں تک محدود ہیں، یہ تو لسانیت کی بات کرتے ہیں، یہ تو شاید ملک دشمنوں کے آلہ کار تھے۔ آپ ہی نے کہا تھا یہ چھوٹو گینگ ہے۔ اب فاروق ستار کے ساتھ مل کر کا م کرنے کی بات عوام سمجھ نہیں پا رہے۔

کیا آپ سمجھ رہے ہیں کہ فاروق ستار عوام میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو رہے ہیں اور آئندہ الیکشن میں کوئی اپ سیٹ کرسکتے ہیں یا مصطفیٰ کمال صاحب اپنی سیاسی بقاء کے لئے فاروق ستار سے ملنا چاہتے ہیں؟ شاید آپ کو لگتا ہے کہ شاید آپ عوام میں جگہ بنانے میں ناکام ہوگئے ہیں اور جو تھوڑی بہت مقبولیت تھی شاید وہ بھی دن بدن کم ہورہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کراچی چرس پینے والا دنیا کا دوسرا بڑا شہر

مصطفیٰ کمال صاحب ! یہ سوال عوام کے ہیں، میں معذرت چاہتا ہوں۔