احتساب سب کا - راؤ اسامہ منور

تحریک انصاف کا پہلا دھرنا جاری تھا، عمران خان صاحب سٹیج پہ کھڑے ہاتھ ہلا ہلا کر نیچے موجود 'لاکھوں' ٹائیگرز سے خطاب کر رہے ہوتے تھے، یہ خطاب روزانہ "میرے نوجوانو، تبدیلی آ نہیں رہی آ گئی ہے" سے شروع ہو کر "اوئے نوازشریف، بس تیرا شو ختم ہوگیا، صبح تک تیری وکٹ گر جائے گی" پر ختم ہو جاتا تھا۔ خان صاحب کا روزانہ کا یہی معمول تھا اور ان کے ساتھ کھڑے پاک صاف لیڈران چیئرمین صاحب کے کانوں میں کُھسر پھسر کر رہے ہوتے کہ خان صاحب، بس آپ ڈٹے رہیں، عوام آپ کے اس قدم سے بہت خوش ہے اور بہت جلد یہ 'لاکھوں' کا مجمع 'کروڑوں' میں تبدیل ہونے والا ہے، اور حکومت___ حکومت تو جناب اب گئی کہ تب گئی۔ اس سارے منظر نامے میں کچھ خیرخواہوں نے سمجھایا کہ یہ کام ایسے نہیں ہوتا، ہائی فائی ساؤنڈ سسٹم کی دھمک پہ تھرکتے بدن اور پھسلتے قدم تمھیں دھوکا دے رہے ہیں، یہ کام ان کے بس کا روگ نہیں، اس کے لیے حکومت کے ہرکاروں کے ڈنڈے کھانے والے لوگ چاہییں، اور جب یہ کام شروع ہو تو تمھیں سٹیج چھوڑ کر اگلی صف میں جانا پڑے گا۔ لیکن خان صاحب نے ماننا تھا نہ مانے، میڈیا بھی خوراک دیکھ کر زبان نکالے کوریج کو پہنچا ہوتا تھا، کل ملا کر نتیجہ یہ نکلا کہ وہ جو سمجھانے اور اصولوں کے مطابق چلانے آئے تھے، الٹا انہیں 'وکٹ کے دونوں طرف کھیلنے والے' اور منافقین کہہ کر بھگا دیا گیا۔

پھر سب نے دیکھا اور آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھا کہ بات وہ نہیں تھی جو دکھائی جارہی تھی، بلکہ بات تو انھی درویشوں کی تھی جو درد دل کے ساتھ سمجھانے آئے تھے۔ لیکن اگر یہ بات تسلیم کرلیں تو شان میں کمی نہ آجائے۔

خیر قصہ مختصر، دھرنے کی بات دھرنے میں رہ گئی، نہ انگلی اٹھی، نہ وکٹ گری، اور نہ ہی کوئی تبدیلی آئی.

یہ بھی پڑھیں:   جماعت اسلامی "احتساب سب کا" کا نعرہ کیوں نہ لگائے؟ - عادل فیاض

پانامہ لیکس کا مسئلہ کھڑا ہوا تو ایک مرتبہ پھر اکھاڑہ تیار ہوگیا، اب کی بار وینیو سپریم کورٹ تھا، لہٰذا 'تبدیلی' اپنا بوریا بستر اٹھا کر سپریم کورٹ کے آگے آگئی، اب کی بار وینیو مقدس سا تھا لہٰذا ناچ گانے کے بجائے 'زبان' سے تیر برسنا شروع ہوئے۔
"اس کو پکڑ لو، اس کو مار دو، فلاں کو گھیر لو، یہ تو ہے ہی چور، وہ تو چوروں کا باپ ہے، چوروں کے سارے خاندان کو پھانسی لگا دو"
گویا کسی سیاسی جماعت کے قائدین نہیں، تھانہ پیر ودھائی کے ڈھنڈورچی چیخ رہے ہوں۔

اب کی بار بھی درد رکھنے والے ہی چپ چاپ آئے، پٹیشن دائر کی، اور کہا کہ یہ جو اقتدار کا ایوان ہے ناں، اسی نے غریب عوام کو کچھ دینا ہے، لہٰذا اس میں کرپٹ لوگ ہم برداشت نہیں کرسکتے۔ ہمارا نعرہ ہے 'احتساب سب کا'، جو ساتھ چلنا چاہے، اس کو خوش آمدید، لیکن یہ کیا؟ جیسے ہی ہر کرپٹ بندے کے احتساب کی بات ہوئی، وہ جو قوم کے دردمند بنے پھرتے تھے، یکایک آئیں بائیں شائیں کرنے لگے۔
"دیکھیں جی حکمران کا احتساب ہونا چاہیے، دیکھیں احتساب تو اس کا ہونا چاہیے جو زیادہ کرپٹ ہے، ارے جی اب یہ چند ارب کی کرپشن ہماری پارٹی کے لوگ کر بھی رہے ہیں تو کیا ہوا، کرپشن ہی ہے ناں، سبھی تو کرتے ہیں ہم نے کرلی تو کیا ہوا"
مطلب کہ حد ہی ہوگئی ناں__

اب کی بار بھی خیر خواہوں نے کرپٹ لوگوں کو بےنقاب کرنے کا وعدہ کیا، اپنے اصول وضع کیے، اور ان پہ چلتے ہوئے سارا کیس لڑا، لیکن یہاں بھی میڈیا نے ہاتھ دکھایا اور ایک چھوٹا سا ٹِکر 'پانامہ کیس میں پہلی پٹیشن جماعت اسلامی نے دائر کی' چلا کر باقی سارا کریڈٹ اپنی پسند کی گود میں ڈال دیا۔

اس سب کے باوجود خیرخواہوں کا نعرہ آواز پکڑتا جا رہا ہے، ان کے مطالبے میں شدت آرہی ہے، ہم آواز لوگوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے، کیونکہ مجموعی طور پہ قوم شعور کی سیڑھیاں طے کرتی جا رہی ہے اور اس کو زبانی کلامی خیرخواہی کرنے اور حقیقت میں تبدیلی چاہنے والوں کا علم ہوتا جا رہا ہے۔
وقت بہت ظالم ہے، آج جو بدخواہی کریں گے، کل کو یہ ان پر اپنا ظلم ڈھائے گا، اور جن کی قسمت میں سرخروئی لکھی ہے، کامیاب وہی ہوں گے۔ ان شاءاللہ