پاکستان ایک سعودی صحافی کی نظر میں - سید معظم معین

معروف ویب سائٹ "سعودی گزٹ" میں گزشتہ دنوں سعودی عرب کے سینئر صحافی خالد المعینہ نے پاکستان اور پاکستانیوں پر ایک مضمون لکھا۔ اس کی روشنی میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بیرونی دنیا کے لوگ ہمارے متعلق کیسا سوچتے ہیں۔ بہت ساری ویب سائٹس پاکستان کے متعلق شائع ہونے والے منفی مضامین کو تو خاطر خواہ جگہ دیتی ہیں لیکن کچھ اچھا چھپنے والا نجانے کیوں ان کی نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔ (ذیل میں اس انگریزی مضمون کا اردو ترجمہ پیش کیا جاتا ہے۔)

دو ہفتے قبل میں نے ایک مضمون لکھا جس میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کو اپنے روایتی حریف بھارت کو کرکٹ کے میدان میں شکست دینے پر میں نے مبارک دی تھی اور ان کی تعریف کی تھی۔ اس پر مجھے اپنے دو پڑھنے والوں کے کمنٹ موصول ہوئے جنھوں نے مجھے سخت حیران کیا۔

ایک مغرب سے تھا جبکہ دوسرا ایشیائی تھا، دونوں نے مجھے پاکستان کی تعریف کرنے پر شرمندہ کرنے کی کوشش کی، یہ کہہ کر کہ پاکستان ایک ناکام ریاست ہے، اور یہ کہ اس کے پلے چونکہ اور کچھ نہیں تو اس لیے صرف ایک معمولی کامیابی پر تم اس کی تعریف میں رطب اللسان ہو۔

لیکن کوئی فیصلہ کن رائے قائم کرنے سے پہلے کیوں نہ اس ملک پر ایک گہری نظر ڈالی جائے۔

پاکستان کو BRICS ممالک (برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ) کے ساتھ گیارہ ممالک کی فہرست میں درج کیا گیا ہے جن میں 21 ویں صدی میں دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل ہونے کی خاطرخواہ صلاحیت ہے۔

گزشتہ پانچ سالوں میں، پاکستان کی شرح خواندگی 250 فیصد بڑھی ہے جو دنیا کے کسی بھی ملک میں سب سے زیادہ ہے۔ دنیا کے 125 ممالک میں کیے جانے والے یورپین انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کے سروے کے مطابق پاکستان دنیا بھر میں "چوتھے سب سے زیادہ ذہین افراد" کا ملک ہے۔ اے لیول اور او لیول کے امتحانوں میں پاکستان کے طالب علموں نے کئی ریکارڈ قائم کیے ہیں جو تاحال ناقابل تسخیر ہیں۔ دنیا کے سب سے کم عمر مائیکروسافٹ پروفیشنل کا اعزاز ارفع کریم اور بابر اقبال نے حاصل کیا ہے جو پاکستان سے ہیں۔ اسی طرح پاکستان سائنسدانوں اور انجینئروں کا دنیا کا ساتواں سب سے بڑا حب ہے۔ اس کے علاوہ دنیا کا چوتھا بڑا براڈبینڈ انٹرنیٹ سسٹم پاکستان میں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا اب امریکہ کی باری ہے؟ ارشدعلی خان

پاکستان ایٹمی طاقت حاصل کرنے والا دنیا کا پہلا اور واحد اسلامی ملک ہے۔ اس کے پاس دنیا کی بہترین تربیت یافتہ فضائی طاقت اور ماہر پائلٹوں کی کھیپ ہے۔ اس کے پاس دنیا کی بہترین میزائل ٹیکنالوجی ہے اور بڑی تعداد میں مختلف اقسام کے میزائل ہیں، یہ سب چیزیں اسے دنیا کی چھٹی سب سے بڑی فوجی قوت بناتے ہیں۔

چین کے تعاون سے پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس (پی اے سی) نے جی ایف 17 تھنڈر ہوائی جہاز تیار کیا ہے جو ایک کم وزن، سنگل انجن، کثیر رولنگ جنگی جہاز ہے۔ JF-17 فضائی بحالی، زمین پر حملے اور ہوا سے ہوا میں مخالف جہاز کو مار گرانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے نام میں جے ایف Joint Fighter کا مخفف ہے۔

پاکستان نے گوادر میں گرم پانی کی ایک بڑی بندرگاہ تعمیر کی ہے۔ اس کا تربیلا ڈیم دنیا کا سب سے بڑا مٹی سے بنایا جانے والا ڈیم ہے۔ چین اور پاکستان سے منسلک شاہراہ قراقرم دنیا کی سب سے بلند بین الاقوامی سڑک ہے۔ کھیوڑہ میں دنیا کی دوسری سب سے بڑی نمک کی کان ہے۔ دنیا کا سب سے بڑا آب پاشی کا جال پاکستان میں موجود ہے۔ یہ زرعی زمین کے 14.4 ملین ہیکٹر رقبے کو سیراب کرتا ہے۔ آبپاشی نظام کو دریائے سندھ سے پانی مہیا کیا جاتا ہے۔

پاکستان دنیا کی پرانی تہذیبوں کی سرزمین (سندھ کی وادی اور موہنجو دوڑو) بھی ہے۔ پاکستان ایک کثیر زبانی ملک ہے جس میں 60 سے زائد زبانیں بولی جاتی ہیں۔ یہ دنیا میں چھٹا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے، اور دوسرا سب سے بڑا مسلم اکثریتی ملک ہے۔ یہاں ایدھی فاؤنڈیشن ہے جو پاکستان میں غیر منافع بخش سماجی فلاح و بہبود کی بےمثال تنظیم ہے۔ ایدھی فاؤنڈیشن 1956ء میں عبدالستار ایدھی مرحوم نے قائم کی تھی، اس کے تحت دنیا کا سب سے بڑا ایمبولینس نیٹ ورک اپنی خدمات سرانجام دیتا ہے۔ یہ ملک دنیا کے سب سے کم عمر سول جج محمد الیاس کا بھی ملک ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر کی خودمختاری کی کہانی - اے جی نورانی

پاکستان دنیا میں جراحی آلات کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہے۔ پاکستان میں دنیا کے تقریبا 50 فیصد فٹ بال بنائے جاتے ہیں۔ نیسلے پاکستان دنیا کے بڑے دودھ پروسیسنگ پلانٹس میں سے ایک ہے جس میں ہر سال بڑی مقدار میں دودھ پروسیس کیا جاتا ہے۔

پاکستان میں دنیا کے بڑے پہاڑی سلسلے ہیں جو اسے قدرت کا عظیم عطیہ ہیں۔ دنیا کا دوسرا سب سے بڑا پہاڑ K2 اور نویں بلند ترین چوٹی نانگا پربت پاکستان میں ہیں۔ صحرائے تھر دنیا کا سب سے بڑا نیم حاری ریگستان ہے۔ یہاں دنیا کا بلند ترین پولو میدان شندور 3،700 میٹر کی اونچائی پر ہے.

1994ء میں پاکستان دنیائے کھیل کے بیک وقت چار عالمی اعزازات جیتنے والا پہلا ملک بن گیا تھا جس میں کرکٹ، ہاکی، اسکواش اور سنوکر شامل تھے.

ایک عالمی سیاحتی جریدے Lonely Planet نے پاکستان کو آئندہ کے ایک بڑے سیاحتی مقام کے طور پر یاد کیا ہے، لیکن عالمی میڈیا چیزوں کو ہمیشہ متنازع بنا کر پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

شاید میرے ناقدین بھی عالمی میڈیا کے یکطرفہ پروپیگنڈہ اور ناانصافی سے متاثر ہوئے ہیں۔ میں ان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ فیصلہ کرنے سے پہلے اس ملک پر ایک مختلف نظر ضرور ڈالیں کہ درحقیقت خوبصورتی دیکھنے والے کی نظر میں ہوتی ہے.

Comments

سید معظم معین

سید معظم معین

معظم معین پیشے کے اعتبار سے مہندس کیمیائی ہیں۔ سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ مشینوں سے باتیں کرتے کرتے انسانوں سے باتیں کرنے کی طرف آئے مگر انسانوں کو بھی مشینوں کی طرح ہی پایا، وفا مگر مشینوں میں کچھ زیادہ ہی نکلی۔ دلیل کے مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں