اپنے اپنے حصار - شعیب طیار

كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ

قرآن کریم کی یہ آیت اس دور میں اتری جب لوگ نہ فیس بک سے آشنا تھے اور نہ ہی یوٹیوب اور ٹویٹر کا کوئی وجود تھا۔ رابطے کا ذریعہ ملاقات کے سوا کچھ اور نہ تھا، اور افکار و نظریات کی من و عن ترسیل کے لیے قبیلوں، علاقوں اور محلّوں میں خود ہی جانا ضروری تھا، سفر کے لیے نہ تو ایئر کنڈیشنڈ گاڑیوں کی سہولت تھی اور نہ ہی کولتار کی چکنی سڑکیں تھیں۔ کچے راستے تھے، جن پر سفر بھی محفوظ نہ تھا، پھر بھی افکار و نظریات کی ترویج و اشاعت ہوتی تھی۔ گو دیر سے ہی سہی، لوگ اپنی سوچ و فکر، دوسروں تک پہنچا ہی دیا کرتے تھے۔ قرآن کے اس فرمان کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ ہر جماعت اور گروہ اپنی اپنی فکر، اپنے علم اور اپنے دین و مذہب پر نازاں ہے، اور اسے ہی حق سمجھتا ہے، جو حصار انہوں نے خود قائم کیا ہوا ہے اس سے باہر نکل کر دیکھنے کے لیے تیار نہیں۔ وہیں اس آیت کے ضمن میں یہ بات بھی سمجھی جا سکتی ہے کہ ہر فکر، مسلک و مشرب، فلسفہ و طریقہ اور ذہنی اپج کی پذیرائی کرنے والے دو چار دس لوگ مل ہی جاتے ہیں، شاید ہی کوئی مفکر اس حوالے سے یتیم رہا ہو، بالخصوص اِس دور میں جبکہ ہماری فنگر ٹپس پر فیس بک اور ٹویٹر جیسی سہولیات ہوں تو بھلا افکار کو اڑان بھرتے وقت ہی کتنا لگتا ہے۔ اور بے چارہ مفکر؟ دس بیس لائکس کے بعد خود کو کسی مفکر دوراں اور علامہ زماں سے کم نہیں سمجھتا۔ شاید ہمارا احساس ذمہ داری بھی مفقود ہوا جاتا ہے کہ ہم کبھی کبھار کسی بکواس اور فضولیات پر اس لیے بھی لائک کر دیتے ہیں کہ "چلو اپنا ہی بھائی بندہ ہے"۔

تعصب اور تنگ نظری ایک ناسور ہے جو سماج کو گُھن کی طرح کھا جاتا ہے۔ ہم کئی بار ایسی باتیں کہہ اور لکھ دیتے ہیں جو حق و انصاف اور تحقیق کے معیار پر کھری نہیں اترتیں۔ کمال دانشمندی یہ ہے کہ غلطی کا اندازہ ہونے پر فوراً اس سے رجوع کر لیں یا کم از کم کسی کے احساس دلانے پر اسے غلط مان کر اس کا تدارک کر لیں، لیکن بھلا ہو ہماری انا کا جو ہمیں اِس سے باز رکھتی ہے، اور کبھی کبھار ضمیر کا زور چل بھی جاتا ہے تو ہمارے وہ ہمدردان و بہی خواہان جنہوں نے ہماری اس غلطی پر 'نادانستہ' ہی سہی، اپنا لائک ثبت کیا تھا، ان کا خیال ہمیں اس عمل سے باز رکھتا ہے۔ پھر آنکھوں پر پٹی باندھ لی جاتی ہے، باطل کو حق ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور صرف کیا جاتا ہے، دلائل 'ڈھونڈے' جاتے ہیں اور ساری دنیا میں اس کا چرچا کیا جاتا ہے، یوں کل تلک جو محض ایک غلطی تھی، اب وہ 'حقیقت' کا روپ اختیار کر لیتی ہے، حصار در حصار قائم کیے جاتے ہیں اور کوئی بھی اپنے کھودے گئے گڑھے سے باہر نکل کر دیکھنے کے لیے تیار نہیں ہوتا ہے، یہ ایک پورا عمل ہے جس کا نتیجہ "كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ‏" کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔

حصار ایک ایسا پہیہ ہے جو ہمیشہ پیچھے کی جانب چلتا ہے، جو قومیں حالات و ظروف اور وقت کی ضرورت کے مطابق خود کو تبدیل نہ کر سکیں، داستانِ ماضی بن کر رہ گئیں، تنگ نظری جان لیوا ہے، آبا و اجداد اور 'بڑوں' کی جامد تقلید، ایک ایسا جام ہے جو بادی النظر میں تو بڑا خوشنما معلوم ہوتا ہے، مگر وہ ایسے زہر سے پُر ہوتا ہے جو رگوں میں دوڑتے خون کو منجمد کردے، تب تحقیق و جستجو کی عینک دھندلی ہو جاتی ہے اور آنکھوں پر ایسا پردہ پڑ جاتا ہے جو باہر سے آنے والی کسی روشنی کو راستہ نہیں دیتا۔

پھر عذاب کو آزمائش سے تعبیر کر لیا جاتا ہے اور دل کی تسلی کے لیے ہر اس چیز کے معنی بدل دیے جاتے ہیں جس سے ہمارے قائم کردہ حصار پر ضرب پڑتی ہو۔

یہ زوال کی پوری تاریخ ہے جو بار بار دہرائی جاتی ہے، کمال یہ ہے کہ ہم اِس آئینے میں اپنا عکس دیکھ پاتے ہیں یا نہیں!!!